بتانِ رنگ و خوں کو توڑ کر ملت میں گم ہو جا…تحریر : پروفیسر رفعت مظہر

فرقوں، گروہوں اور نسلی امتیاز میں بَٹی اُمتِ مسلمہ جس ملغوبی اور انحطاط سے آج گزر رہی ہے، پوری اسلامی تاریخ میں اِس کی مثال نہیں ملتی۔ عالمِ اسلام جبرِمسلسل کی زَد میں ہے جس کی بنا پر شیرازہ بکھری مِلّت پارہ پارہ۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کافلسطین پر ”معاہدہ امن” ملّتِ اسلامیہ کو قبول مزید پڑھیں

کشمیر کی پکار…تحریر : پروفیسر مظہر

چار عشرے گزرنے کے باوجود ”سقوطِ ڈھاکہ” کا دکھ سلامت، زخم ہرے اور شہیدوں کے لہو کی خوشبو نَس نس میں سمائی ہوئی۔ وہ 16 دسمبر 1971ء کادرد میں گندھا دن تھا جب ڈھاکہ کے پلٹن میدان میں ہماری عظمتوں کی دھجیاں اُڑیں اور ایک بازو کٹ کر بھارت کی جھولی میں جا گرا۔ تب مزید پڑھیں

دُخترِ کشمیر کی پکار۔۔۔پروفیسررفعت مظہر

بھارت 1948ءسے مقبوضہ کشمیر میں آبادیات کا تناسب بدلنے کی کوشش کر رہا ہے۔ 1948ءہی میں بھارت خود کشمیر کا تنازعہ لے کر اقوامِ متحدہ میں گیا اور وہاں یہ مان کر آیا کہ کشمیریوں کو اِستصواب رائے کا حق دیا جائے گا۔ اُس وقت کے بھارتی وزیرِاعظم پنڈت جواہرلال نہرو کا خطاب آج بھی مزید پڑھیں

اب کِس کی باری۔؟؟۔۔۔پروفیسررفعت مظہر

ہم نے 23 مارچ کو ”یومِ پاکستان“بھرپور قومی جوش وجذبے سے منایا۔ برادر اسلامی ملک ملائیشیا کے وزیرِاعظم مہاتیر محمد یومِ پاکستان کی مرکزی تقریب کے مہمانِ خصوصی تھے ۔ یہ دِن زیادہ جوش وجذبے سے منانے کی ایک وجہ یہ بھی تھی کہ ہم نے تازہ تازہ بھارت کی ریشہ دوانیوں کا مُنہ توڑ مزید پڑھیں

کتّے صرف بھونکتے ہی ، نہیں کاٹتے بھی ہیں۔۔۔پروفیسررفعت مظہر

عظیم مزاح نگار، لکھاری، شاعر، ڈرامہ نگار اور دورِحاضر میں اُردو ادب کی آن بان شان، محترم عطاءالحق قاسمی کا کالم ”کتوں کو بھونکنے دیں“ پڑھ کر تحریک ہوئی کہ ہم بھی اُستادِ گرامی کے اِس کالم کا ”چربہ“ لکھیں۔ ہم چونکہ ”اقراری مجرم اور ”وعدہ معاف گواہ بننے کے لیے تیا رہیں، اِس لیے مزید پڑھیں

تالی ایک ہاتھ سے نہیں بجتی ۔۔۔پروفیسر رفعت مظہر

سات عشروں سے جاری کشمیریوں کی جدوجہدِآزادی پر عالمی ضمیر تو بے ضمیری کی ”بُکل“ مارے سوتا رہا لیکن اِس جنت نظیر وادی کے باسیوں کے بہتے لہو نے بھارت اور کشمیر کے درمیان خون کی ایسی لکیر کھینچ دی ہے جسے عبور کرنا اب بھارت کے بس کا روگ نہیں۔ یہی وجہ ہے کہ مزید پڑھیں

ہوا ہے شاہ کا مصاحب ۔۔۔پروفیسر رفعت مظہر

کشکول لے کر دَر دَر گھومنے والی بھکاریوں کی حکومت میں اندرونی ”پھَڈے ہی پھَڈے“۔ تحریکِ انصاف میں جہانگیرترین اور شاہ محمود قریشی کے بڑے گروپ تو پہلے ہی سے موجود تھے، اب کئی چھوٹے چھوٹے گروپ بھی بن چکے ہیں۔ پچھلے دنوں وفاقی وزیرِاطلاعات ونشریات اور سرکاری ٹی وی بورڈ کی آپس میں ٹھَن مزید پڑھیں

نوازلیگ کا ویلنٹائن ڈے۔۔۔پروفیسررفعت مظہر

  یورپ اور امریکہ میں ویلنٹائن ڈے دھوم دھڑکے سے منایا جاتا ہے۔ ہمارے ہاں شہروں میںاِس رسمِ بَد کا رجحان ”برگر فیملیز“ اور ”نودولتیوں“ کے ہاں تو ایک حد تک ہے لیکن، دیہاتوں میں بسنے والے 70 فیصد عوام ابھی تک اِس سے بچے ہوئے ہیں۔ اِن ”اونچی بستیوں“ میں تہذیبِ مشرق سے نفرت مزید پڑھیں

کیا صحافت اِسی کا نام ہے…تحریر : پروفیسر رفعت مظہر

قلم کی حرمت کا احساس ہی صحافت کی اصل روح لیکن پاکستان میں یہ روح زخموں سے چور۔ انگلیوں پہ گِنے چند تجزیہ نگاروں کے سوا سبھی کا اپنا اپنا قبلہ اور اپنا اپنا کعبہ۔ صحافت میں کثافت کا عنصر بدرجۂ اتم اور ”بکاؤ مال” جابجا لیکن یہ بھی عین حقیقت کہ سبھی بکاؤ نہیں مزید پڑھیں

جنت نظیر وادی کشمیر خونم خون۔۔۔پروفیسررفعت مظہر

بھارتی ”سورماو¿ں“ کو نہتے اور معصوم کشمیریوں پر آگ برساتے، ظلم وستم کے پہاڑ توڑتے اوروحشت وبَربریت کی انتہاو¿ں کو چھوتے سات عشروں سے زائد گزر چکے۔ وادی میں آج بھی جنازے اُٹھتے ہیں، گھر گھر میں صفِ ماتم بچھتی اور دَر دَر پہ نَوحہ خوانی ہوتی ہے لیکن عالمی ضمیر مُردہ ہوچکا۔ پاکستان مقدور مزید پڑھیں