غریب عوام کی حالت زار

مکرمی!

ہمارے پیارے ملک میں غریب عوام کی حالت روز بروز بدسے برتر ہوتی جارہی ہے ہماری اشرافیہ جمہوریت کے خوش کن نام پر عوام کی زندگی اجیرن بنارہی ہے۔غریب غریب تر اور امیر امیر تر بنتا جارہا ہے۔حکمران طبقہ جمہوریت کے نعرے لگا کر عوام کا خون چوس رہے ہیں۔ ایک خبر کے مطابق آمر جنرل مشرف کے دور میں فی کس قرضہ چالیس روپیہ پی پی پی کے دور میں اسی ہزار روپیہ اور موجودہ جمہوری حکومت کے ساڑھے چار سال میں یہ قرضہ ایک لاکھ میں ہزار تک پہنچ گیا ہے۔آمر کے دور میں ڈالر کی قیمت ساٹھ روپے اور موجودہ جمہوری حکومت میں پلس سو روپیہ ہے کیونکہ جمہوریت میں سیاستدانوں کی ایک فوج ظفر موج اس لوٹ کھسوٹ میں ملوث ہے اور ہر کرپٹ کو بچانے کے لیے ایک تگڑا سیاستدان فعال ہوتا ہے۔ سیاستدانوں کے کرپشن پر کوئی کماحقہ،ہاتھ نہیں ڈالتا اور اگر کہیں ڈالا جائے تو اینٹ سے اینٹ بجانے کی دھمکی،عدالتوں پر حملے اور کیوں کی گردان شروع ہوجاتی ہے۔اپنے مالی کرپشن کو چھپانے کے لیے حکمران طبقہ آئے روز غریب عوام پر مختلف قسم کے ٹیکس اور مہنگائی کا بوجھ ڈالتا رہتا ہے۔جس کی حالیہ مثال آئی ڈی پیز کیس ہار نے پر اربوں روپے کے جرمانے کی رقم پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ سے حکومت کا ایک ماہ میں دس ارب روپے کمانا ہےاس طرح ریکوڈک کے کیس میں پاکستان پر اربوں روپے کا جرمانہ ہوا تھا۔وہ بھی کسی نہ کسی صورت عوام سے پورا کیا گیا ہوگا یاقرضہ لیا گیا ہوگا۔عمران خان کا کہنا کہ یہ عوام سے پچاس پچاس فیصد منافع کمارہے ہیں حقیقت پر مبنی نظر آتا ہے۔ ستم طریفی ہے کہ حکمرانوں کی غلطیوں اور اللوں تللوں کا بوجھ غریب عوام پر ڈالا جارہا ہے۔ کاش کوئی منصف ان ناانصافیوں کا سوموٹو نوٹس لیکر ان خساروں کی رقم متعلقہ وزیر یا متعلقہ وزارت کے افراد سے وصول کرتا۔

(آنریری کیپٹن ر شاہ جہان خٹک جنڈ )

اپنا تبصرہ بھیجیں