زینب جیسے جرائم پر پردہ پوشی عاقبت نا اندیشی ہے

مکرمی!

دوسرے محکموں کی طرح محکمہ پولیس میں جہاں دیانتدار اور انسانیت کا دکھ درد رکھنے والے پولیس افسران موجود ہیں وہاں نیچے کے عملہ میں رشوت خور کالی بھیڑوں کی بھی ایک خاصی تعداد موجود ہے جس کے باعث زینب جیسے روح کو شل کر دینے والے افسوس ناک واقعات پر پردہ پوشی کی جاتی ہے۔ معصوم کلی کا لہولہان چہرہ کانچ کے ٹکڑے بن کر انسانیت کا درد رکھنے والوں کی آنکھوں اور جسم وروح کو چھلنی چھلنی کرتا رہے گا۔ جب تک کہ معصوم زینب کا قاتل درندہ پکڑا نہیں جاتا۔ حکومت اور عدالتیں مل کر کوئی ایسا قانون ترتیب دیں جس میں اسلام کی روشنی کھل کر دکھائی دے۔ ورنہ اگر کہیں عوام بپھر گئے اور ان کے جذبات کا آتش فشاں پھٹ گیا تو حالات مزید خراب ہو سکتے ہیں۔ بدقسمتی سے ہمارے ہاں قوانین تو بنائے جاتے ہیں لیکن ان پر عملدرآمد نہیں ہوتا۔ قصور شہر میں زینب پر ہو نے والے ظلم نے ملک کے چپے چپے میں ماتم کی چادر بچھا دی۔جنسی درندے اِس حد تک جا سکتے ہیں۔کوئی سوچ بھی نہیں سکتا ! (چودھری محمد طارق سابق میٹرو پولیٹن کونسلر گڑھی شاہو لاہور)

اپنا تبصرہ بھیجیں