مسئلہ کشمیر ایک بارپھر فلیش پوائنٹ ۔۔۔انعام الحسن کاشمیری

پیپلز ڈیمورکریٹک پارٹی اور بی جے پی کے اشتراک سے قائم ریاستی حکومت میں شریک دونوں جماعتوں کے رہنماﺅں کے مابین کشمکش کانقطہ عروج آخرکارگورنر راج کی صورت میں رونما ہوا۔ یہ کشمکش اور ریاستی حکومت کے خاتمے کے بعد گورنر راج کانفاذ کرتے ہوئے جموں وکشمیر کو براہ راست دہلی کی نگرانی میں لینے کا ایک واضح مقصد تھا ۔ اگرچہ اس کی گونج متواترا ور ہمہ وقت سنائی دے رہی تھی اور صاف معلوم پڑتا تھا کہ جلد یا بدیر (کہ جوں ہی موقع ملا) اس گونج کے تھیلے میں سے بلی نکال کرباہر لائی جائے گی اور آخرکار یہ موقع بھی آن پہنچا، جس کے لئے سارے تانے بانے بُنے جارہے تھے اور جس دن کے لئے ساری سازشیں، سارے منصوبے اور ساری کارروائیاں روبہ عمل تھیں۔ اگرچہ 2014ءکے انتخابی منشور میں بی جے پی نے صاف اور واضح طور پر کہہ دیا تھا کہ وہ جموں کشمیر سے متعلق اپنے مقاصد کو بہرصورت عملی جامہ پہناکررہے گی جن کی تکمیل کے لئے وہ اس سے قبل کانگریس کی صورت میں قائم حکومتوں پر دباﺅڈالتی رہی ہے۔ چنانچہ جب اُسے حکومت سازی کا موقع ملا تو پہلی فرصت میں ہی کشمیر سے متعلق آئین کی خصوصی دفعات کو ختم کرنے کی طرف قدم بڑھایاگیا۔ دراصل یہ صرف بی جے پی کا ہی منشور یا مقصد نہیں تھا بلکہ بنیادی طور پر پوری ہندوتوا اس کی حامی اور خواہشمند تھی۔ 1947ءمیں جب کشمیر پر فوج کشی گئی ، تب بھارت میں کانگریس برسراقتدار تھی، 1952ءمیں جب جموں وکشمیر میں ریاستی اسمبلی کے لئے انتخابی عمل کا آغاز ہوا تب بھی کانگریس ہی تھی اور اس کے بعد بھی حتیٰ کہ 1988ءمیں جب کشمیریوں نے مجبور ہوکر آخری حربے کے طور پر مسلح جدوجہد کا آغاز کیا تب بھی یہ کانگریس ہی کی ریشہ دوانیوں کانتیجہ تھا۔ بعد میں بی جے پی بھی حکومتی منظرنامے میں ابھرکرسامنے آئی چنانچہ 1990ءکی دہائی اور اس کے بعد کے برسوں میں بی جے پی نے بہت جلد کشمیر کے تنازع کو جڑ سے اکھاڑپھینکے کی جانب تیز ترین عملی پیش رفت کرتے ہوئے ایسے تمام اقدامات کرنے کی ٹھانی جن کی بدولت جموں وکشمیر پکے ہوئے پھل کی طرح بھارت کی جھولی میں جاگرتا اور دنیا انگشت بدنداں رہ جاتی۔
بی جے پی نے نریندراسنگھ مودی اورامیت شاہ کی قیادت میں5اگست کو کچھ ایسا ہی کیا۔ وہ کسی بھی صورت میں اور کسی بھی قیمت پر کشمیرکوچھوڑنے اور اس مسئلے کو کشمیری عوام کی خواہشات کے مطابق حل کرنے کے روادار نہیں تھے ۔ بھارت کے بنیادی پالیسی ساز بھی ایسا ہی چاہتے تھے چنانچہ اسی وجہ سے مذاکرات سے ہمیشہ راہ فرار اختیار کی جاتی رہی تاکہ بھارت کا اصل منصوبہ کھل کرسامنے نہ آسکے اور وہ مذاکرات کا ڈول ڈالتے ڈالتے کشمیر کی اصل حیثیت اور جغرافیائی پوزیشن کو ہی تبدل کرڈالے۔ اس5اگست کوتاریخ کے ایک سیاہ ترین دن کے طور پر ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔ اگرچہ بھارت نے اپنے چہرے پر اس اقدام کی کالک مل لی ہے لیکن دوسری جانب اُس نے اپنے ہاتھوں سے جموںو کشمیر کو ایک بین الاقوامی مسئلہ بنانے کی جانب بھی قدم اٹھالیاہے۔ اگرچہ پہلے کشمیر کو قانون تقسیم ہند کے تحت ایک تنازعہ سمجھتے ہوئے اِسے اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق حل کرنے پر زور دیاجارہاتھا لیکن پچھلے تقریبا ً بیس پچیس دنوں کے دوران پوری دنیا پر یہ آشکارہوچکا ہے کہ کشمیر کا مسئلہ اصل میں ہے کیا اور یہ کہ اس چھوٹی سی ریاست میں دنیا کی ایک بڑی جمہوری قوت انسانی حقوق کی کس قدر دھجیاں بکھیررہی ہے۔ پانچ اگست کے بعد سے کشمیر میں مسلسل کرفیونافذ ہے۔ شہریوں کو اشیائے خورونوش کی فراہمی اور دیگر ضروریات زندگی کی تکمیل کے لئے زبردست رکاوٹوں اور مصائب کا سامناہے۔ احتجاجی مظاہرین پر فوج کی جانب سے براہ راست فائرنگ اور اس کے نتیجے میں شہادتوںکے واقعات عام ہیں ۔ذرائع نقل وحمل انتہائی مسدود ہیں ۔ ذرائع ابلاغ ، انٹرنیٹ پر سخت پابندیاں عائد ہیں ۔ سینئرحریت قیادت سمیت تمام مخالف سیاسی قائدین نظربند ہیں۔ ساڑھے سات لاکھ فوج کے ساتھ ایک لاکھ فوجی مزید تعینات کیے جارہے ہیں ۔ اس طرح اوسطاً ہربارہویں تیرھویں کشمیری پر ایک فوجی نگران بنتاہے۔ ان اضافی فوجیوں کو بھارت سے کشمیر میں لاکربسائے جانے والے ہندوپنڈتوں کی حفاظت پر مامور کیاجائے گا۔ ایسے علاقوں کی تیزی کے ساتھ نشاندہی کی جارہی ہے جہاں ہندوپنڈتوں ، ریٹائرفوجیوں اور کشمیر میں پہلے سے عارضی طور پر مقیم غیرریاستی افراد کو مستقل طور پر بسائے جانے کے بعد انہیں فوری طور پر ڈومیسائل اور سٹیٹ سبجیکٹ فراہم کرتے ہوئے باشندہ درجہ اول کا مقام، حقوق اور مراعات دی جاسکیں۔ اس کے ساتھ ساتھ مسلم اکثریتی تناسب کو بدلنے کے لئے ایک اور مزموم ہتھکنڈہ اختیارکرتے ہوئے نسل کشی کی منصوبہ بندی جارہی ہے۔ ایمنسٹی انٹرنیشنل ، جینوسائیڈواچ اور انسانی حقوق کے دیگر عالمی اداروں کے علاوہ حریت رہنماﺅں، کشمیری سیاسی قائدین اور پاکستان کی جانب سے اقوام متحدہ اور عالمی برادری کو مسلسل آگاہ کیاجارہاہے کہ بھارت 1984ءکے آپریشن گولڈن ٹیمپل کی طرزپر وادی میں بھی ایک اورفوجی آپریشن کی تیاریاں کررہاہے۔ اس کے ساتھ شنید ہے کہ کنٹرول لائن کے قریب بسنے والے کشمیریوں کو آزادکشمیر اور پاکستان کی جانب دھکیل دیاجائے۔ جموں میں آبادی کا تناسب ڈوگروں کے حق میں ہے۔ وادی یعنی کشمیر میں مسلمانو ں کی بھاری اکثریت آباد ہے اور سب سے زیادہ تحریک آزادی کا لاوہ یہیں سے پھوٹتاہے۔ لداخ میں بدھ مت کے پیروکارآباد ہیں۔ چنانچہ وادی میں چند لاکھ مسلمانوں کو شہید کرکے اور چند لاکھ غیرمسلموں کو لاکر بسادینے سے یہ تناسب یکسر تبدیل ہوجائے گا۔
بھارت کے پانچ اگست کے اقدام کے خلاف پوری دنیا میں شدید مخالفت کی گئی۔ پاکستان کی درخواست پر بلائے گئے سلامتی کونسل کے اجلاس نے بھارتی اقدام کو یکسرمسترد کرتے ہوئے واضح کردیا ہے کہ کشمیر ایک عالمی مسئلہ ہے اور اسے اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق ہی حل ہوناچاہیے۔ دنیا کے دیگر مہذب ممالک نے بھی بھارتی اقدام کوغلط قراردیتے ہوئے کشمیریوں کی تحریک آزادی اورمطالبہ حق خودارادتی کی حمایت کی ہے۔ اس سلسلے میں جہاں دنیا بھر میں بھارت کے خلاف احتجاج ہواہے وہیں کئی ممالک میں کشمیریوں کے حق میں قراردادیں بھی منظور کی جارہی ہیں۔ پاکستان میں اگرچہ 5 فروری کو یوم یکجہتی کشمیر بڑے جوش وجذبے کے ساتھ منایاجاتاہے لیکن اس بار 14اگست کو ”کشمیربنے گاپاکستان “ کا قومی سلوگن تخلیق کرکے اور 15اگست کو یوم سیاہ مناتے ہوئے جس طرح کشمیریوں کے ساتھ اظہاریکجہتی کا عظیم الشان مظاہرہ کیاگیا، اس کی تاریخ میں نظیرنہیں ملتی۔ پورے ملک میں آزادکشمیر کے قومی پرچم کی بہاریں اترپڑی تھیں ۔ ایسا لگ رہاتھا جیسے پاکستانی ، کشمیری بن چکے ہیں۔ ایسا کیوں نہ ہو! کشمیر میں لوگ بندوقوں اور سنگینوں کے سائے تلے پاکستان کا قومی پرچم لہرانے کوجرا¿ت مندی اور اس پرچم میں لپٹ کر دفن ہونے کو سب سے بڑااعزاز سمجھتے ہیں۔ ان کی اصل منزل بھی یہی ہے کہ یہ قومی پرچم ہمیشہ کے لئے ان پر سایہ فگن ہوکر رہ جائے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں