ڈیلس میں کشمیر کانفرنس…مظہر بر لاس

ایک مہینے کی امریکہ یاترا کے بعد قطر کی ایئر لائن سے اسلام آباد پہنچ چکا ہوں۔ یہاں بوندا باندی ہے۔ مجھے قطریوں کے بزنس پر حیرت ہے، وہ اپنی ایئر لائن کے ذریعے امریکہ، یورپ اور افریقہ سے مسافروں کو دوحہ میں اکٹھا کرتے ہیں اور پھر انہیں دہلی، اسلام آباد اور ٹوکیو روانہ کر دیتے ہیں۔ روس، چین، ایران اور وسطی ایشیائی ریاستوں کے راہرو بھی دوحہ سے منازل کا رخ کرتے ہیں۔ انہوں نے ساری دنیا کے بڑے شہروں میں بڑے جہاز اتارنے کا کیا شاندار منصوبہ بنایا ہے، ہم کہیں پیچھے رہ گئے، کہیں پیچھے کھو گئے ورنہ عربوں کو جہاز اڑانے کی تربیت ہم نے دی تھی، آج وہ کہاں ہیں اور ہم کہاں؟ چالیس برس کے جمہوری بخار نے کھلڑی اتار دی ہے، ہمارے جہاز تو نہ اترے مگر معیشت کا پہیہ اتر گیا۔

میں اچھا بھلا پینٹاگون اور واشنگٹن ڈی سی میں میل ملاقاتیں سمیٹ کر نیویارک پہنچ چکا تھا کہ فرینڈز آف کشمیر کی چیئرپرسن غزالہ حبیب نے پھر سے یاد کیا، انہوں نے ڈیلس میں ایک کشمیر کانفرنس رکھ دی۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم آزاد کشمیر اس کانفرنس کی صدارت کر رہے ہیں، آپ کو یہاں لازمی بولنا ہے اور ڈونلڈ ٹرمپ کے مشیر ساجد تارڑ بھی آپ کے ذمہ ہیں، وہ کانفرنس کے مہمانِ خصوصی ہوں گے۔ میں نے ساجد تارڑ کو فون کیا مگر منڈی بہائو الدین کا جاٹ بھی عجیب شرطیں رکھتا ہے، کہنے لگا ’’میں ایک شرط پر ڈیلس جائوں گا کہ آپ واشنگٹن میں تین روز قیام کریں، ہم یہاں سے ڈیلس جائیں گے، صبح جا کر شام کو لوٹ آئیں گے‘‘۔ یہ تمام شرطیں قبول ہوئیں اور اٹھارہ اگست کی صبح پانچ بجے ہم ایئرپورٹ کو روانہ ہوئے چونکہ سفر کے لئے ہمیں چار بجے اٹھنا پڑا۔ اس روز میں نے راستے میں کہا کہ آج میں تمہاری کامیابی کا راز سمجھ گیا ہوں، تم کاہل آدمی نہیں ہو، سستی تمہارے نزدیک نہیں آتی، تم بہت محنتی ہو، اب ہم ساڑھے تین گھنٹے کی فلائٹ سے ڈیلس پہنچیں گے، کانفرنس میں شریک ہوں گے، پاکستان ڈے کی واک پر جائیں گے اور شام کو پھر ساڑھے تین گھنٹے کے فضائی سفر کے بعد واپس آئیں گے کیونکہ اگلی صبح آپ کی اور مصروفیات ہیں۔ میری باتیں سن کر وہ خاموش رہا اور پھر عابد عتیق بٹ کی طرف دیکھ کر کہنے لگا ’’میری ماں کی دعائیں میرا پیچھا کرتی ہیں، منڈی بہائوالدین کی آپاں جی ہمیشہ مجھے دعائوں میں یاد رکھتی تھیں‘‘۔

امریکی ریاست ٹیکساس کے شہر ڈیلس پہنچنے پر پاکستانی سوسائٹی آف نارتھ ٹیکساس کے صدر عابد ملک اور خزانچی عابد بیگ نے خوش آمدید کہا۔ کچھ دیر گپ شپ کے بعد ڈیلس پام پہنچے، یہ وہی جگہ تھی جہاں چند روز پہلے مشاعرہ ہوا تھا، جہاں نوشی گیلانی، وصی شاہ، یونس اعجاز، طارق ہاشمی اور مجھ سمیت کئی شعراء نے اپنا منتخب کلام سنایا تھا۔ آج پھر ڈیلس میں مبشر وڑائچ، مبینہ جنجوعہ اور نازیہ خان سمیت کئی لوگوں سے ملاقات ہوئی۔ اس کانفرنس کی خاص بات یہ تھی کہ اس میں شرکت کرنے والے شرکاء بھی بڑے خاص لوگ تھے، سب کمیونٹی لیڈرز تھے۔ محمد اصیل خان، امیر روپانی، برکت بسیریا، ڈاکٹر ریاض حیدر، شاہ رخ صدیقی، ڈاکٹر کامران رائو، ڈاکٹر ندیم کلیر اور ندیم اختر کے علاوہ پی اے ٹی ٹی کے ڈاکٹر عامر سلیمان، پاک پیک کے ڈاکٹر عبدالجلیل، اے پی پیک کے ڈاکٹر عامر قریشی، پاک امریکن بزنس فورم کے حافظ ریاض، منہاج القرآن کے ڈاکٹر منصور، سردار فاروق اور کشمیری رہنما راجہ مظفر خان۔

اس کانفرنس میں ٹیکساس اسٹیٹ کی نمائندہ خصوصی ٹیری میزہ بھی شریک ہوئیں۔ ابتدا ہی میں عابد بیگ اور مبشر وڑائچ نے ’’کشمیر بنے گا پاکستان‘‘ کا نعرہ بلند کر دیا تھا، اگرچہ بعد میں یہ نعرہ ہیوسٹن میں پاکستان کے ڈپٹی قونصل جنرل علی فراز نے بھی بلند کیا لیکن دبنگ آواز عابد عتیق بٹ ہی کی تھی۔ وزیراعظم آزاد کشمیر راجہ فاروق حیدر نے مودی کی بے وقوفیوں کے کئی قصے سنائے۔ انہوں نے واضح کیا کہ ’’چونکہ مقبوضہ کشمیر میں ریاستی اسمبلی نہیں ہے، وہاں کوئی منتخب قیادت نہیں ہے، میں چونکہ آزاد کشمیر کا منتخب وزیراعظم ہوں اور اب میں آزاد اور مقبوضہ کشمیر دونوں کا وزیراعظم ہوں، پورے خطے کا وزیراعظم ہونے کے ناتے میری امریکہ اور عالمی اداروں سے درخواست ہے کہ وہ میرے خطے میں بھارتی افواج کی ظالمانہ کارروائیاں روکیں، کشمیریوں کی نسل کشی کو بند کروائیں۔ نریندر مودی کی شکل میں ہٹلر کا دوسرا جنم ہوا ہے، کنٹرول لائن پر بھی بھارتی فوج اندھا دھند فائرنگ کرتی ہے، مسئلہ کشمیر اقوام متحدہ میں موجود ہے، بھارت کے پانچ اگست کے اقدامات غیر قانونی ہیں، مسئلے کا سلامتی کونسل میں زیر بحث آنا خوش آئند ہے، کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کا نوٹس لیا جائے‘‘۔

راجہ فاروق حیدر چونکہ راوین ہیں لہٰذا انہیں گفتگو کا ڈھنگ آتا ہے، امریکی صدر کے مشیر ساجد تارڑ نے کانفرنس میں بڑے دبنگ انداز میں کہا کہ ’’امریکہ مسئلہ کشمیر کا پُرامن حل چاہتا ہے، یاد رکھنا ڈونلڈ ٹرمپ جیسے لیڈر ہی دیرینہ تنازعات حل کروا سکتے ہیں، امریکی صدر کی مسئلہ کشمیر کے حل میں خصوصی دلچسپی ہے، امریکی عوام کے علاوہ امریکی میڈیا بھی اس سلسلے میں اپنا کردار ادا کرے گا‘‘۔ کانفرنس کے حاضرین نے ساجد تارڑ کی باتوں کو بہت سراہا۔ کشمیر کانفرنس میں ہر مظاہرے میں شریک ہونے والی دو بچیوں ارجمند حیات اور حائقہ خان کو خصوصی شیلڈز دی گئیں لیکن دوستو! اس کانفرنس کے وہ لمحات بڑے نمناک تھے جب سرینگر کی ایک نوجوان لڑکی مہرین شاہ داد نے دکھ کی بپتا بیان کی، دکھوں سے لبریز آواز میں اس نے کہا ’’بارہ دنوں سے میرا، میرے خاندان سے کوئی رابطہ نہیں، پتا نہیں وہ زندہ بھی ہیں یا نہیں، بھارتی افواج نے کشمیریوں پر زندگی کے دروازے بند کر رکھے ہیں، کشمیر کی وادی میں بارود برس رہا ہے، زندگی قید ہے، موت کے پہرے ہیں، پتا نہیں میری دھرتی کا کیا بنے گا، وہاں ہر طرف ظلم ہی ظلم ہے‘‘۔

خلیجی حکمرانوں کے حالیہ رویے نے کوفہ کے سارے منظر یاد کروا دیئے ہیں، اُس وقت بھی اشرفیوں کا کھیل تھا، آج بھی اشرفیوں کا کھیل ہے مگر یاد رکھنا حق کی آواز کو بھارتی فوج نہیں دبا سکتی، کشمیر آزاد ہو کر رہے گا کہ ؎

فوج حق کو دبا نہیں سکتی

اپنا تبصرہ بھیجیں