انجام بد!۔۔۔سمیع اللہ ملک

یورپ پرکئی صدیاں ایسی گزری ہیں جب ،،وہی قاتل ہیں، وہی منصف وہی مخبرٹھہرے،،کاتاریک دورتھا۔ہرملک میں جابجاایسی عدالتیں قائم تھیں جنہیں احتساب عدالتیں کہا جاتا تھا۔حکومتوں کے کارندے گلیوں گلیوں دندناتے پھرتے اورجس کی گفتگو،چال ڈھال یاحرکات وسکنات سے انہیں ذراسابھی شک ہوتاکہ یہ حکومت وقت کے مفادات کے خلاف کام کررہاہے،اس کالہجہ بادشاہ کیلئے توہین آمیزہے،یہ احتساب عدالت کے ججوں کے بارے میں ہرزہ سرائی کرتاہے تواسے اٹھالے جاتے اوروہ ایک طویل عرصے تک منظرسے غائب ہوجاتا۔نہ اس کے رشتے داروں کواس کاکچھ علم ہوتانہ دوستوں کو۔اس سارے عرصے میں اسے خفیہ طور پرایک بھیانک تفتیش کے عمل سے گزرناپڑتا۔
قیدمیں لوگوں سے دوراس شخص کومخصوص جلادوں کے حوالے کیاجاتاجواقبال جرم کروانے کے ماہرتھے۔ان کے ظلم،تشددکے طریقے رونگٹے کھڑے کر دیتے ہیں۔تہہ خانوں میں قیدیہ شہری دنوں روشنی کوترستے اورتہہ خانے کی بدبوانہیں بدحواس کردیتی۔ مسلسل کیڑے مکوڑے اوربڑے بڑے چوہے ان پرحملہ آورہوتے۔اکثراوقات انہیں دیوارکے ساتھ باندھ کرکھڑارکھاجاتایاپھرسینے پربھاری پتھر رکھ کربوجھ تلے لٹادیاجاتا۔جلاد باری باری ان افرادکواقبال جرم کروانے کیلئےاپنی زورآزمائی کرتے۔1631میں ایک عورت کو اقبال جرم کے دوران صرف ایک دن کیلئےجس تشددسے گزناپڑااس کی تفصیل اس قدرخوفناک ہے کہ پڑھتے پڑھتے دل دہلنے لگتاہے اورآنکھوں کےسامنےاندھیراچھاجاتاہےاورآنسوں پرقابورکھنامشکل ہوجاتاہے۔ و¿
یہ عورت حاملہ تھی۔ سب سے پہلے اسے شکنجے میں کس دیاگیا۔کسنے پربھی اس نے اقبال جرم نہ کیاتواسے دوبارہ کساگیا۔اس دوران اس کے ہاتھ باندھے گئے، بال کاٹ دئیے گئے اورسرپربرانڈی ڈال کرآگ لگادی گئی۔پھرجلادنے اس کی بغلوں میں سلفرڈالی اورآگ لگادی۔اس کے ہاتھ پیچھے باندھ دئیے گئے،اسے چھت تک بلند کردھڑام سے نیچے پھینکاگیا۔یہ عمل کئی گھنٹوں تک کیاگیاپھرجلاداوراس کے ساتھی کھاناکھانے چلےگئے۔واپس آنے پرتازہ دم جلادنے پھراس کے ہاتھ پشت پرباندھے،اس کی کمرپربرانڈی چھڑک کرآگ لگائی،زخمی پیٹھ پردیرتک بھاری بوجھ لادا گیا،پھردوبارہ شکنجے میں کساگیا،اسے ایک کیلوں والےتختے پر لٹاکرچھت تک اوپراٹھاکرپٹخاگیا۔اس کے پاﺅں باندھے گئے اوران کے ساتھ پچاس پاﺅنڈکاوزن لٹکادیاگیا۔جلادکامقصدپورانہ ہواتواس کے پاﺅں شکنجے میں اتنے زورسے کسے گئے کہ ناخنوں سے خون نکلنے لگا۔پھراس کے جسم کومختلف سمتوں میں کھینچااورلوہے کے اوزاروں سے نوچاگیا۔اس سب کے بعداسے ہاتھوں سے باندھ کرچھت سے لٹکادیاگیااورایک آدمی کومسلسل چابک سے مارنے پرمامورکیاگیا۔آخری چھ گھنٹوں میں اسے مسلسل شکنجے میں کس دیاگیاتاکہ وہ اقبال جرم کرے۔یہ صرف ایک عورت کے ایک دن کی رودادہے جواب تاریخ کاحصہ ہے۔
اگرآپ ان آلات کودیکھیں جوان تفتیشی جلادوں کے زیراستعمال تھےاورآج عجائب گھروں کی زینت ہیں توتشدداوربربریت کی کتنی داستانیں آپ کی آنکھوں کے سامنے عیاں ہونے لگیں گی۔انگوٹھے کسنے والا آلہ،ناخن کھینچنے کازنبور،سرخ گرم سلاخیں، کیلوں والے تختے،زنجیریں،شکنجے،تابوت جن کے اندرچاروں طرف چاقولگے ہوتے اوران میں مجرم کوپھینک کربندکردیاجاتاتاکہ اس کاپوراجسم چھلنی ہوجائے۔
اس سب کے بعداقبال جرم کرنے والے مجرموں کواپنی مرضی کی عدالتوں میں پیش کیاجاتا۔یہ جج حکمرانوں کی مرضی اورمنشاکے مطابق ان کرسیوں پر سرفرازہوئے تھےاس لیے وہ سزادینے کیلئے صرف اقبال جرم کودیکھتے،نہ دلیل نہ گواہ،سزاسنادی جاتی اورمجرم کوملک وقوم کاغدارقراردیکرکیفرکردارتک پہنچادیاجاتا۔یہ جج کبھی مجرم سے یہ سوال نہ کرتے کہ تمہیں تشددکانشانہ تونہیں بنایاگیا۔لوگ مہینوں بلکہ سالوں غائب رہتے مگرکوئی یہ نہ پوچھتاکہ انہیں کیوں پکڑاگیا،کیسے پکڑاگیا،کب پکڑاگیا،ان کاجرم کیاتھا۔ایسے ہی جج اورایسی ہی عدالتیں حکمرانوں کواچھی لگتی تھیں کہ اس سے ان کارعب قائم ہوتاتھا،مخالف قابو میں آتے تھے اورجس کوجب چاہاغداری،شیطانیت اورملک دشمنی کا الزام لگاکرپکڑا،غائب کیا، اس پرتشددکیاجومان گئے انہیں عدالت سے سزادلوادی اورجونہ مانے وہ منظرسے ایسے غائب ہوئے کہ کسی کوان کی خبرتک نہ ہوسکی۔
جلاد،تفتیشی اورعدالتوں کایہ گٹھ جوڑآپ کوتاریخ میں ہراس ظالم حکمران کے دورمیں ملے گا جس کے خلاف لوگ ایسے اٹھے کہ ان کے عبرتناک انجام کومثال بنادیاگیا۔یورپ کے جس ملک کی کہانی میں نے بیان کی ہے وہ فرانس تھاجس کے انقلاب کی داستان آج بھی ظالموں کے سامنے سنادی جائے توان کی ٹانگیں کانپنے لگتی ہیں۔بادشاہ،جلاد،جج یابادشاہ کے وفادارفوجی سب کی گردنیں لوگ ایسے کاٹ رہے تھے جیسے پکی ہوئی فصل درانتی سے کاٹی جاتی ہے یاقصائی اپنے بغدے سے کسی بکری کے بچے کی گردن کوتن سے جداکردیتا ہے ۔ایسے ہی جلاد،ایسے ہی تفتیشی اورایسی ہی عدالتیں زارِروس اورشاہ ایران کے زمانے میں بھی موجود تھیں بلکہ ظلم وزیادتی اورتشددکے نئے طریقے ایجادہو چکے تھے۔بڑے بڑے اونچی دیواروں والے قیدخانے بن گئے تھے۔تشددکے جدیدہتھیارآگئے تھے۔ٹارچرکے نئے طریقے دریافت ہوگئے تھے مگربادشاہ یاحکمران وفاداری کاحلف اٹھانے والے جج ایسے ہی تھے،روسی عدالت ہویاایرانی دادگاہ سب ایک ڈھنگ میں آنکھوں پرپٹیاں باندھ کر فیصلے سناتی تھیں۔دنیا میں ان تینوں انقلابوں کی کہانیاں زبان زدعام ہیں اورظلم وتشدد اوربربریت کی تاریخ میں ایک بات مشترک ہے کہ ان سب نے اپنے تشددکوروااوراپنے ظلم کوجائز بنانے کیلئے اپنی مرضی کی عدالتیں قائم کیں اورمرضی کے جج مقررکیےپھربادشاہ، فوج اورعدالت کاایک ایساگٹھ جوڑبناکہ لوگوں کوسانس لینامشکل ہوگیا۔
ایسے حالات میں ان طوفانوں نے جنم لیاجسے کبھی فرانس کے بادشاہ نے،روس کے زارنے اورایران کے شاہ نے سوچاتک نہ تھا۔یہ سب توفقط ایک دن پہلے تک خوش گپیوں میں مصروف تھے،کاسہ لیسوں کے تبصرے سن رہے تھے کہ سب ہمارے کنٹرول میں ہے،رٹ قائم ہے،لوگ خوفزدہ ہیں فوج ساتھ ہے،عدالتیں قابو میں ہیں۔تاریخ بتاتی ہے کہ یہ تبصرے کرنے والے رنگین ماحول میں روشنیوں کے جلومیں تبصرے کررہے تھے اورباہرکھولتے ہوئے ہجوم کی صورت موت ان کاانتظارکررہی تھی۔نہ فوج انہیں بچاسکی،نہ جلاداور نہ ہی عدالتیں،سب اس سیلاب میں خس وخاشاک کی طرح بہہ گئے۔
سفاک مودی کی حالیہحماقت کے بعدوقت بڑی تیزی کے ساتھ کشمیرمیں ایسے ہی چوتھے انقلاب کی طرف بگٹٹ بھاگ رہاہے جہاں مظالم کی کہانیاں پہلے تینوں انقلاب سے کہیں زیادہ خوفناک ہیں۔ایک لاکھ سے زائدجانوں کی قربانی،ہزاروں بیٹیوں اوربہنوں کی عصمت دری،سینکڑوں افرادکی اجتماعی قبریں اورہزاروں کی تعدادمیں نوجوان جنہوں نے زندان کوآبادرکھاہواہے،کشمیرمیں آزادی کے انقلاب کی تاریخ رقم کررہاہے۔پچھلے مودی دورمیں شہید کئے گئے افرادکی چیخ وپکار اب عالمی ایوانوں میں بھی سنائی دینے لگی ہیں۔ مزیدقابض فورسز کی آمدبھی کشمیر کے ابترحالات کوکنٹرول کرنے میں ناکام ہوچکی ہے اورصہیونی پروگرام پرعملدرآمدکروانے کیلئے بے تحاشہ ظلم وستم توڑ رہی ہے۔بھارتی فوج بلا ناغہ کشمیریوں کوشہیداورشدید زخمی اورسینکڑوں کونامعلوم مقامات پرعقوبت خانوں میں تشددکررہی ہےلیکن کشمیری نوجوان پھربھی آزادی کی شمع کوروشن رکھنے کیلئے اپنےلہوکانذرانہ پیش کررہے ہیں۔
اس تحریک کوسبوتاژکرنے کیلئے بھارت ایک دفعہ پھرچھتی سنگھ پورہ یاپلوامہ جیساکوئی خطرناک واقعہ سرزدکرکے کشمیریوں کی اس تحریک کوبدنام کرسکتا ہے۔اس لئے بہت ضروری ہے کہ عالمی برادری کونہ صرف خبردارکریں بلکہ کشمیریوں پرہونے والے مظالم کی تحقیقات کیلئے اقوام متحدہ فوری طورپرایک کمیٹی تشکیل دیکر اس جنت نظیرجس کوبھارت نے اپنے مظالم سے جہنم بنادیاہے،کشمیرروانہ کی جائے۔
تم سے پہلے جو اک شخص یہاں تخت نشیں تھا
اس کو بھی اپنے خدا ہو نے پہ اتنا ہی یقیں تھا
کوئی ٹھہرا ہو جو لو گوں کے مقا بل تو بتا
وہ کہاں ہیں کہ جنہیں ناز بہت اپنے تئیں تھا

اپنا تبصرہ بھیجیں