قادیانی زندیق اور مرتد ہے…تحریر : ڈاکٹر تصور حسین مرزا

شکر الحمدللہ ! ہم مسلمان ہیں مسلمان ہونابہت بڑی بات ہے۔ مسلمان کون ہے؟جو اللہ پاک کو واحدلاشریک اور حضرت محمد ۖ کوسردارالانبیاء اور خاتم النبیین دل دماغ اور عملی طور پر مانے۔ اگر کوئی اللہ تعالیٰ کی ذات پر ایمان رکھتا ہے تو اچھی بات ہے۔ اگر کوئی نبی کریم غفورو رحیم کو اللہ کا نبی مانتا ہے تو یہ اس سے بھی اچھی بات ہے مگر مسلمان اسی وقت ہوگا جب حضرت محمد ۖ کو اللہ تعالیٰ کا آخری نبی اور رسول مانے گا۔ اورآپ ۖ کو نبیوں اور رسولوں کا سردار بھی مانے گا/ گی۔

نبوت اور رسالت کا روحانی اور نورانی سلسلہ حضرت آدم علیہ السلام سے شروع ہو کر حضور خاتم النبیین حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر ختم ہوگیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعدکوئی شخص منصب نبوت پر فائز نہ ہوگا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی رسالت و نبوت کادور قیامت تک رہیگا۔ اس سچائی کو قرآن و سنت کی روشنی میں” عقیدہ ختم نبوت” کہتے ہیں۔ بے شک یہ عقیدہ دین اسلام کی بنیاد اور ایمان کی روح ہے۔تاریخ گواہ ہے جب مسیلمہ کذاب نے نبوت کا دعویٰ کیا تو صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی پوری جماعت نے اس گستاخ کومتفقہ طور پر کافرو مرتد اور واجب قتل قرار دیکر اسے اس کی جماعت سمیت جہنم رسید کیا۔ہر دور میں جھوٹے مدعیان کے فتنے آئے لیکن ہر دور کے مسلمانوں نے ان فتنوں کو ختم کر کے اپنے اوپرجنت واجب کر لی۔

انگریز نے جہا د کو ختم کرنے اور امت کو تقسیم کرنے کے لیے ایک انگریزی نبی بنانے کا منصوبہ بنایا۔ اس کا م کے لیے اس نے سیالکوٹ کچہری کے ایک منشی مرزا غلام احمد قادیانی کا انتخاب کیا جس کا خاندان انگریزی حکومت کا وفادار تھا۔ مرزا غلام احمد قادیانی نے انگریز کے اجرتی ڈاکو کا کردار ادا کرتے ہوے” فتنہ قادیا نیت ”کی بنیاد رکھی۔ آج یہ قادیانی آٹھ حصوں میں بٹ چکے ہیں ۔ یہ آٹھ فرقے یا آٹھ قادیانی گروپ سب کے سب امت مسلمہ کے لئے سرکان ( CANCER ) ہے ۔دنیا بھر کے علماء کرام اور عاشقان رسول ۖ اس بات پر متفق ہے کہ قادیانی یہودیوں کے آلہ کار، امریکہ کے تربیت یافتہ، اسرائیل اور بھارت کے ایجنٹ ہیں۔ان کی شریانوں میں توہین اسلام کا وہ گندا خون ہے جس کی بناء پر یہ کینسر سے زیادہ خطرناک ہیں۔ قادیانیت کا وجود امت مسلمہ کے لیے ایک ناسور اور ایمان کیلئے زہر قاتل ہے،قادیانیت حضو ر صلی اللہ علیہ وسلم سے بغاوت وعناد اور ختم نبوت پر ڈاکہ زنی کا دوسرانام ہے۔

قادیانی عام کافر نہیں جیسا کہ یہودونصریٰ ہندوؤں یا سکھ وغیرہ ہے ۔ قادیانی وہ کافر ہے جو باقی تمام کافروں سے زیادہ برا ، زندیق اور مرتد ہے ۔اس کا جواب کسی مفکرِ اسلام اور علماء کرام نے کچھ یوں بیان کیا ہے کہ قادیانی زندیق ہیں، مرتد وہ ہوتا ہے جو اسلام کو ترک کر کے کوئی اور مذہب اختیار کر لے۔اور زندیق وہ ہوتا ہے جو اپنے کفریہ عقائد کو اسلام کا نام دے، لہذا یہ لوگ اسلام کے باغی ہیں،اور جس طرح کسی ملک کاباغی کسی رو رعایت کا مستحق نہیں ہوتا بلکہ جو لوگ ان لوگوں کے ساتھ میل جول رکھیں وہ بھی قابل گرفت ہوتے ہیں، ٹھیک اسی طرح چونکہ قادیانی بھی زندیق ہیں تو اسلامی تعلیمات کی رو سے کسی رو رعایت اور میل ملاپ کے مستحق نہیں۔ دوسرے کافر اپنے کفر کا اعتراف کرتے ہیںاور اپنے آپ کو غیر مسلم اور مسلمانوں سے الگ قرار دیتے ہیں، جبکہ قادیانی اپنے کفریہ عقائد پر ملمع سازی کرکے مسلمانوں کو دھوکا دیتے ہیںمثال سے یہ بات سمجھئے۔سب کومسئلہ معلوم ہے کہ شریعت میں شراب ممنوع ہے۔

شراب کا پینا، اس کا بنانا، اس کا بیچنا تینوں حرام ہیں۔اب ایک آدمی وہ ہے جو شراب فروخت کرتا ہے یہ بھی مجرم ہے، اور ایک دوسرا آدمی ہے جو شراب فروخت کرتا ہے اور مزید ستم یہ کرتا ہے کہ شراب پر زمزم کا لیبل چپکاتا ہے یعنی شراب بیچتا ہے اس کو زم زم کہہ کر، مجرم دونوں ہیں لیکن ان دونوں کے جرم کی نوعیت میں زمین و آسمان کافرق ہے۔ ایک حرام کو بیچتا ہے۔ اس حرام کے نام سے، جس کے نام سے بھی مسلمان کو گھن آتی ہے اور دوسرا اسی حرام کو بیچتا ہے۔

حلال کے نام سے، جس سے ہر شخص کو دھوکہ ہوسکتا ہے۔ٹھیک یہی فرق یہودیوں، عیسائیوں، ہندوئوں، سکھوں کے درمیان اور قادیانیوں کے درمیان ہے۔کفر ہر حال میں اسلام کی ضد ہے لیکن دنیا کے تمام کافر اپنے کفرپر اسلام کا لیبل نہیں چپکاتے اور اپنے کفر کو اسلام کے نام سے پیش نہیں کرتے مگر قادیانی اپنے کفر پر اسلام کا لیبل چپکاتے ہیں اور مسلمانوں کو دھوکہ دیتے ہیں کہ یہ اسلام ہے۔دنیا میں قادیانیوں سے بڑا ظالم کون ہے۔ یہ اللہ پاک اور اللہ پاک کے انبیاء کرام اور نبی اکرم ۖ کے گستاخ اور چور ہیں سب جانتے ہیں یہ زندگی چند روزہ ہے اس کے بعد اصل زندگی جہاں ہمیشہ ہمیشہ رہنا ہے یہ زندگی ایسے ہی جیسے روڈ پر مسافر خانے ہوتے ہیں کسی کی گاڑی جلدی کسی کی گاڑی کچھ دیر بعد آتی ہے مگر سب مسافروں کو مسافر خانہ چھوڑنا ہی پڑتا ہے ۔ ایسے ہی کوئی آج کوئی کل اس دنیا فانی سے کوچ کرتا ہے۔ اصل منزل موت کے بعد ہے۔ اس لئے ہر مسلمان کوآخرت کی فکر ہوتی ہے۔

ضرورت اس امر کی ہے کہ فتنہ قادیانی کو اپنی نسلوں سے بچانے کے لئے ہر شخص کو اپنے حصے کا کام کرنا ہوگا۔
کسی بھی فقہ کا عام مسلمان ہے یا عالم پیر ہے یا فقیر ، پڑھا لکھا ہے یا ان پڑھ ہے اپنے اپنے حصہ کا رول ادا کرنا ہوگا آج کے نازک دور میں اسلامی جموریہ پاکستان کے صدر وزیر اعظم اور چیف آف آرمی اسٹاف سمیت اعلیٰ احکام سے گزارش ہے کہ قادیانیوں کو اپنے نام کے ساتھ ” احمدی ” لکھنے سے بھی روکا جائے کیونکہ خاتم النبیین نبی کریم ۖ کا دنیا میں نام مبارک محمد ۖ ہے جبکہ آسمانوں میں نام مبارک احمد ۖ ہے۔

پاکستان کے متفقہ قانون میں جو پابندیاں قادیانیوں پر ہیں ان پر سختی سے عمل درآمد کروایا جائے۔ نیز جماعت اول سے ماسٹر ڈگری تک ” سیرت النبی ۖ کو نصاب میں شامل کیاجائے۔ اور قادیانیوں کی پاکستان میں جو حثیت ہے اس کو بھی میڈیا اور نصاب میں شامل کیا جائے تاکہ سادہ ان پڑھ مسلمان ان ظالموں گستاخوں کے ہاتھوں اپنا ایمان برباد نہ کر سکیں کیونکہ قادیانی زندیق اور مرتد ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں