ریاست مدینہ۔۔۔اور عمران خان۔۔۔نسیم الحق زاہدی

سعادت حسن منٹو سے کسی نے پوچھا کیا حال ہے آپ کے ملک کا ؟کہنے لگا :بالکل ویسا ہی جیسا جیل میں ہونے والی نماز جمعہ کا ہوتا ہے اذان فراڈایا دیتا ہے ۔امامت قاتل کراتا ہے اور نمازی سب کے سب چور ہوتے ہیں ۔منٹو ذہین انسان تھا جو اتنی سچی بات اتنے خوبصورت انداز میں کر گیا ۔امام غزالی ؒ فرماتے ہیں ”شخصیت پرستی بت پرستی سے زیادہ خطرناک ہوتی ہے کیونکہ بت کا دماغ نہیں ہوتا جو خراب ہوجائے لیکن جب تم انسان کی پوجا کرتے ہو تو وہ فرعون بن جاتا ہے“رب تعالیٰ بھی اس قوم کی کبھی حالت نہیں بدلتا جنہیں خود احساس نہ ہو اپنے بدلنے کا۔اس وقت ہر بندہ مہنگائی ،غربت ،ظلم ،جبر افلاس کا رونا رو رہا ہے ۔اور حکمرانوں کو کوس رہا ہے جبکہ جیسی روح ہوتی ہے ویسا ہی فرشتہ ہوتا ہے ۔ہم نے کبھی یہ سوچنے کی جسارت کی ہے کہ مٹھی بھر لوگ ہم پر سالوں سے مسلط کیوں ہیں ہم نسل در نسل غلام کیوں ہیں جبکہ ہماری ماﺅں نے تو ہمیں آزاد جنا تھایہ احساس زندہ قوموں کو ہوتا ہے مردہ عوام کو نہیں ۔تاریخ کا ادنیٰ سا طالب علم ہونے کے ناطے میں نے بہت سے انقلابات کے بارے میں پڑھا ہے کہ تیونس،مصر،فرانس کے عام باہمت نہتے شہریوں نے کس طرح صدیوں سے قائم ظالمانہ نظام حکومت کو جڑسے اکھاڑ پھینکا تھا اور وہاںاپنی عوامی حکومتیں قائم کیں ۔شخصیت پرستی کا عالم تویہ ہے کہ ہم قوم کے چوروں،لٹیروں ،راہزنوں کو اپنا قائد مانتے ہیں اور انکی شان میں راگ آلاپنتے ہیں ۔وزیر اعظم عمران خان نے پاکستان کو ریاست مدینہ کی طرز کی ریاست بنانے کے بلند وبانگ دعوے کیے مگر شاید ریاست مدینہ کا مطالعہ کرنا بھول گئے دنیا کی تاریخ میں کسی ریاست کا قیام تھوڑی بہت قوت استعمال کیے بغیر شاید ہی ہوا ہو ،لیکن یہ تاریخ کی کتنی بڑی حقیقت ہے کہ جناب حضرت رسولنے بالکل اجنبی ماحول میں باہم متضاد ومنتشر عناصر کے تعاون سے نہ صرف ریاست بلکہ ایک نظریاتی ریاست کوقائم فرمایا اور پھر خاص بات یہ ہے کہ اس تعاون کو آپ نے کسی طاقت وتشدد یا جبر وظلم کے بل بوتے پر نہیں بلکہ محض ایک نوشتہ کے ذریعے حاصل کیاتھا۔ریاست مدینہ نے اپنے وجود وقیام کو پوری طرح ثابت کردیا اور یہ ظاہر کیا کہ وہ دنیا کی ہر مخالفت اور منفی کوشش کا بھر پور مقابلہ کر کے اپنی سا لمیت وخودمختاری کی بخوبی حفاظت کرسکتی ہے۔نبی رحمتنے ریاست کی نبیادہی عدل وانصاف پر رکھی ۔ آپ نے کبھی بھی اپنے فرائض اور ذمہ داریوں کو ادا کرنے میں کوئی کوتاہی نہ برتی جو بحیثیت رسول اللہ و بحیثیت حکمران کے آپ پرعائد ہوئیںتھیں ۔آپ نے ایک ریاست کے لیے جو سنہری اصول بنائیں آج تک انکی نظیر نہیں ملتی ۔اسلام کے نزدیک ریاست کی ذمہ داری ہے کہ وہ دیکھے کہ قانون کہیں مجروح تو نہیں ہو رہا رہے ۔رسول کریم کا ارشاد پاک ہے۔ ”امام نگران ہے ۔اس سے اسکی رعیت کے بارے میں سوال ہوگا (متفق علیہ) راعی چرواہے اور نگران کو کہا جاتا ہے ۔مطلب یہ کہ جس طرح ایک چرواہا بکریوں کے ریوڑکا ذمہ دار ہوتا ہے اسی طرح امام بھی اپنی رعیت کا ذمہ دار ہے ۔اس کی حیثیت کسی مطلق العنان بادشاہ یا جابر وقاہر حاکم کی نہیں بلکہ چرواہے کی ہے ،جو یہ دیکھتا رہتا ہے کہ کہیں کسی پر ظلم تو نہیں ہو رہا اور اور اس کے ساتھ ناانصافی تو نہیں ہورہی ہے ۔ریاست کا فرض ہے کہ اس بات کی نگرانی کرتی رہے کہ کسی کا حق ضائع نہ ہو نے پائے اور اسے کسی پہلو سے نقصان نہ پہنچے ۔ریاست مدینہ کی چند خصوصیات درج ذیل ہیں ۔1۔معاشرہ میں دولت اور دیگر وسائل ثروت کی عادلانہ تقسیم کا بندوبست کیا گیا ۔زکوةاور انفاق فی سبیل اللہ کی ترغیب کے ذریعہ دولت کا رخ امراءسے غربا کی طرف پھیرا گیا ۔ایسے ذرائع اور طریقوں پر پابندی لگائی گئی جس سے کسی خاص طبقے کے ہاتھ میں دولت کے ارتکاز کا امکان تھا ۔مثلاًسود ،احتکار،ذخیرہ اندوزی،ناجائز منافع خوری وغیرہ ۔اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ چند ہی سالوں میں دولت صالح خون کی مانند پورے معاشرے میں گردش کرنے لگی اور خوش حالی کا دور دور ہوگیا ۔2۔رعایا کے لیے خوراک ،لباس ،صحت اور تعلیم کا مناسب انتظام کیا گیا شیر خوار بچوں تک کے لیے ریاست کی طرف سے وظائف کے انتظامات کی مثالیں بکثرت ملتی ہیں۔3۔قانون کا احترام سب کے لیے لازم قرار دیا گیا حکمران اور رعایا کے درمیان فرق ختم کیا گیا لوگوں کے لیے اپنے خلیفہ ،گورنر یا امیر تک رسائی انتہائی آسان بنائی گئی ۔4۔کاروبار ،تجارت ،صنعت وحرفت ،زراعت غرض ہر میدان میں کام کرنے کے کھلے مواقع فراہم کیے گئے ۔رسل ورسائل کے ذرائع وضع کیے گئے ۔راستے محفوظ ہوگئے ۔بدامنی ،بے چینی اور ڈاکہ زنی کا قلع قمع کردیا گیا ۔5۔زکوة،صدقات ،اموال فے اور دیگر مدات میں جمع ہونے والی رقوم کو رعایا کی فلاح وبہبود اور خدمت خلق کے دیگر کاموں پر خرچ کیا گیا اور چند سالوں میںصورت حال یہ ہوگئی کہ صدقات دینے والے تو موجود تھے لیکن لینے والا کوئی نہ رہا ۔6۔نہ صرف انسان کی زندگی میں اس کی کفالت کاانتظام کیا بلکہ مرنے کے بعد بھی اسکی جانب سے رہ جانے والی ذمہ داریوں کی ادائیگی کا انتظام کیا۔7۔انسان تو کجا ،جانوروں اور نباتات کے بارے میں بھی واضح احکامات جاری کیے گئے درختوں کے کاٹنے کو ناپسند کیا گیا ۔حضرت عمرؓنے فرمایا فرات کے کنارے بھوکا،پیاساکتا بھی مر گیا تو خدشہ ہے کہ عمرؓ سے اس کا حسا ب لیا جائے گا۔محترم وزیر اعظم پاکستان آپ نے پاکستان کو ریاست مدینہ کی طرز کی ریاست بنانے کا دعویٰ کیا تھا کیا آپ سمجھتے ہیں کہ آپ اپنے دعوے کی پاسداری کرپارہے ہیں ؟؟؟آپکو علم ہے کہ آپکی دور حکومت میں بھی لوگ افلاس کے ہاتھوں لقمہ اجل بننے پر مجبور ہیں ۔بے شک کرپشن نے ملک کو کھوکھلا کردیا ہے آپ نے بہت سے مثبت اقدامات اٹھائے ہیں کرپٹ لوگوں کو زندان میں ڈالا ہے ۔مگر ان سے ملکی لوٹی ہوئی دولت واپس تو نہیں نکلوائی ؟آپ نے اس قدر ٹیکسزلگا دئیے ہیں ایک غریب بندہ ایک وقت کی روٹی نہیں پوری کرسکتا معذرت کے ساتھ سابقہ حکمرانوں کی طرح آپ کے وعدے بھی صرف وعدوں کی حد تک نکلے ،کسی نے روٹی ،کپڑا اور مکان کا وعدہ کر کے غریبوں کا استحصال کیا تو کسی نے خادم اعلیٰ کا لیبل لگا کر بے بس ،لاچاروں کی تضحیک کی اور اب آپ نے تبدیلی کے نام پر ایک سال کے اندر مہنگائی کا اژدھا جوغریبوں پر چھوڑا ہے۔ یقین جانیے اب تو شہر میں زہر بھی نایاب ہوچکا ہے ۔محترم وزیر اعظم پاکستان عوام آپ سے بہت سی امیدیں اور توقعات وابستہ کرچکی ۔آپ انکے سابقہ دکھوں کا مداوا بنتے ہوئے اورخلفائے راشدین کے نقش قدم پر چلتے ہوئے اس ریاست کو حقیقی معنوں میں ریاست مدینہ کی طرز کی ریاست بنائیں پھر دیکھیں کہ کس طرح مدد کو آسمان سے فرشتے اترتے ۔۔۔
ہم کو شاہوں کی عدالت سے توقع تو نہیں آپ کہتے ہیں تو زنجیر ہلا دیتے ہیں

اپنا تبصرہ بھیجیں