پاک فوج اور غیر روایتی جنگ ۔۔۔ملک شاہد حنیف

امن ہو یا جنگ ، پاک فوج کے سنگ
سرخ ہمیں پسند ، لہو ہو یا رنگ
پاک فوج الحمد للہ مکمل طور پر غیر روایتی جنگ لڑنے کے لئے تیار ہے اور پاکستانی قوم پاک فوج کے ساتھ قدم سے قدم ملا کر چل رہی ہے ہمارے ازلی دشمن کے تمام ہربے پاک فوج نے ناکام بنا دیئے ہیں اور دشمن اپنی ناکامی تسلیم کر چکا ہے۔ دشمن نے اِس پاک سر زمین کے خلاف جو بھی چال چلی اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے پاک فوج نے اسے دشمن کے خلاف ہی استعمال کر کے دکھا دیا ۔ موجودہ دور میں مختلف ہتھکنڈے استعمال کئے گئے لیکن ہر قسم کی انتہا پسندی کا پاک فوج نے دلیری سے مقابلہ کیا اور دشمن کے دانت کھٹے کئے۔
پاک فوج دشمنوں کے اعصاب پر سوار ہو چکی ہے اس لئے دشمن نے آسان ہدف سمجھتے ہوئے نوجوانوں کو اکسانے کے لئے سوشل میڈیا پر پاک فوج کے خلاف پراپیگنڈہ شروع کر دیا ہے۔تاکہ اُبھرتے ہوئے نوجوانوں کو ماڈرن ازم کے نام پر بے وقوف بنا کر پاک فوج کے خلاف منفی پراپیگنڈہ کیا جاسکے۔ سوشل میڈیا پر نت نئے انداز میں پاک فوج کے خلاف نفرت پھیلانے کیلئے مواد شیئر کیا جارہا ہے ہماری صفوں میں موجود دشمن بھی اِس پراپیگنڈے میںبڑھ چڑھ کر حصہ لے رہے ہیں۔ جن کیلئے ”جس کشتی کے سوار اُسی میں سوراخ “ کی مثال صادر آتی ہے۔ کبھی مذہبی معاملات میں پاک فوج کو دھکیلنے کی کوشش کی جاتی ہے تو کبھی لسانیت کو ہوا دینے کے لئے پاک فوج کو بدنام کرنے کی بھونڈی کوشش کی جاتی ہے۔ تو کبھی فرقہ ورانہ فسادات بھڑکانے کیلئے مواد سوشل میڈیا پر ڈالا جارہا ہے۔
پاکستان کے دشمنوں نے پاکستان کے استحکام کو نقصان پہنچانے کے لئے مختلف ہتھیار استعمال کئے ہیں۔ سلطان صلاح الدین ایوبی کا قول ہے کہ جس قوم سے جنگ نہ جیتی جارہی ہو اس قوم کے نوجوانوں کو عیاشی پر لگا دو۔ فوج اور نوجوانوں میں دوریاں پیدا کرنے کے لئے نفرت پھیلا دی جائے تو وہ قوم آسانی سے جنگ ہار جاتی ہے۔ وطن عزیز کے دشمنوں نے نوجوان نسل کو گمراہ کرنے کے لئے سوشل میڈیا کو ہتھیار کے طور پر استعمال کرنا شروع کر دیا ہے اور نوجوان نسل کو پاک فوج کے خلاف اُکسانے کے لئے اپنی چالیں چلنا شروع کر دی ہیں۔
اسی لئے وہ نوجوان نسل کو مغربی کلچر میں بدلنا چاہتی ہے اور مشرقی کلچر کو بوسیدہ کلچر اور پتھر کے زمانے کے کلچر کا نام دے کر نوجوانوں کو روشن خیالی کا لالی پاپ دے رہے ہیں۔
دورِ حاضر میں ہر گھر کے افراد کی تعداد کے برابر سمارٹ فون (انڈرائیڈ) موجود ہیں اور سکول کو کالجز کے بچے بچیوں کے پاس بھی سمارٹ فون موجود ہونا عام سی بات ہے۔لیکن ہم نے ان بچوں کی اخلاقی تربیت کے بغیر اور اپنی ذمہ داری سے جان چھڑوانے کے لئے موبائل خرید دیتے ہیں۔ لیکن کبھی والدین نے یہ زحمت تک گوارا نہ کی ہے کہ بچوں کے موبائل فون میں موجود میموری کارڈ کا ڈیٹا چیک کریں اور سول میڈیا پر ان کی ایکٹیوٹیز کا جائزہ بھی لیں والدین اور بچوں میں رابطے کی کمی کا فائدہ دشمن اُٹھا سکتے ہیں اور سوشل میڈیا پر پاک فوج کے خلاف جھوٹی اور من گھڑت خبروں کی وجہ سے بچوں کی سوچ شدت پسندی کی طرف بھی جاسکتی ہے۔
پاک فوج کے سربراہ جنرل قمر جاوید باوہ کا یہ کہنا ہے کہ غیر روایتی جنگ کے خلاف پوری قوم پاک فوج کے شانہ بشانہ کھڑی ہے اور مل کر اس غیر روایتی جنگ کا مقابلہ کریں گے ۔ غیر روایتی جنگ کا مقابلہ پاک فوج کے ساتھ ساتھ پوری قوم اور خاص کر والدین اور تمام تعلیمی اداروں سمیت گورنمنٹ اور پرائیویٹ اداروں کی بھی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ آگاہی پروگرام شروع کریں تاکہ نوجوان نسل حقائق کو سمجھ سکیں اور سوشل میڈیا پر غیر متعلقہ مواد اور پاک فوج کے خلاف ہر پوسٹ کو شیئر اور کومنٹ کرنے کی بجائے مکمل طور پر ڈیلیٹ کر دیے۔کچھ سادہ لوح افراد سوشل میڈیا پر اپنی لا علمی کی وجہ سے بھی فرقہ ورانہ اور لسانی اور سماجی بغاوت کا مواد آگے اس غرض سے شیئر کرتے ہیں۔ کہ اس پر لعنت بھیجی جائے یا شیئر کر کے اس شخص کا پتہ لگایا جائے۔
یہاں عرض کرتا چلوں کہ یہ دشمن کی چال ہوتی ہے تاکہ یہ مواد زیادہ سے زیادہ شیئر کیا جاسکے اور اس قسم کے سوشل میڈیا تمام اکاﺅنٹس جعلی ہوتے ہیںجن کا مقصد صرف اور صرف ملک میں انتشار پھیلانا اور پاک فوج اور عوام میں نفرت پیدا کرنا ہوتا ہے اور اصل مقصد سی پیک کو روکنا ہے جس کے لئے مختلف طریقے آزمائے جارہے ہیں۔ لوئر اورکزئی اور اب چینی قونصل خانے پر حملہ بھی اسی کی ایک کڑی ہے ۔ لیکن انشاءاللہ تعالیٰ پاک فوج ان دہشت گردوں کی بنیادوں کو ختم کرے گی اور شہر قائد میں چینی قونصل خانے پر حملے کو ناکام بنانے میں وطن کے بیٹوں نے اپنی جانیں وطن عزیز پر قربان کر کے دلیری کی مثال قائم کی۔
دشمن کے ایجنٹ ہمارے معاشرے میں موجود ہوتے ہیں جن کی وہ مالی معاونت کرتے ہیں تاکہ زیادہ سے زیادہ مذہبی ، لسانی اور فرقہ ورانہ فسادات کروائے جاسکیں اور پاک فوج کو بدنام کیا جاسکے۔
دشمن نے جس غیر روایتی جنگ کا آغاز کیا ہے اس جنگ کو جیتنے کے لئے صرف شعور بیدار کرنے کی ضرورت ہے ۔ نوجوان نسل میں شعور بیدار کرنے کے لئے ہر شعبہ ہائے زندگی کے افراد کو اپنی ذمہ داری ادا کرنا ہو گی اور دشمن کو یہ باور کروانا ہو گا کہ پوری قوم غیر روایایت جنگ میں بھی پاک فوج کے سنگ ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں