میرا لیڈرروایت شکن وزیر اعظم عمران خان… پیر علامہ ڈاکٹر سید ایاز ظہیر ہاشمی

عمران خان نیازی 71سالوں میں پہلا وزیر اعظم آیا ہے جس نے اپنے پہلے خطاب سے ہی یہ ثابت کر دیا کہ بلاشبہ وہ اسلامی جمہوریہ پاکستا ن کو بطور سربراہ ترقی کی نئی راہ پر گامزن کر سکتے ہیں اور ایک نئی مثبت تبدیلی لاکر کرپشن سے پاک ، مفلسی و غربت سے آزاد، ایک انصاف پسند اسلامی فلاحی ریاست بنا سکتے ہیں اور مدینہ جس کا ماڈل ہو گا۔
قومی اسمبلی کے تاریخی اجلاس میں جب عمران خان کو ملک کا 22 واں وزیر اعظم منتخب کیا گیا تو انہوں نے اپنے خطاب کا آغاز حسب معمول سورہ فاتحہ کی آیت سے کیا اور کہا کہ، میں آج اللہ کا اور قوم کا شکر ادا کرتا ہوں کہ اس نے مجھے پاکستان میں وہ تبدیلی لانے کا موقع دیا جس کا یہ قوم ستر سال سے انتظار کر رہی تھی، ہم قوم سے وعدہ کرتے ہیں کہ وہ تبدیلی لے کر آئیں گے جس کے لیے یہ قوم ترستی رہی ہے۔اس ملک میں ہم نے سب سے پہلے کڑا احتساب کرنا ہے، ایک ایک کو نہیں چھوڑیں گے، جنہوں نے قوم کو لوٹا ہے اور قوم سے وعدہ کرتا ہوں کہ ملک لوٹنے والوں کو پکڑیں گے، میں 22 سال کی جدوجہد کے بعد آج کسی سیاسی تجربے، خاندانی سپورٹ کے بغیر کڑی جدوجہد کے بعد یہاں پہنچا ہوں اور مجھے اس بات کا فخر ہے، میرے ہیرو قائداعظم ہیں جنہوں نے چالیس سال کڑی جدوجہد کی۔ میرا وعدہ ہے کہ ملک لوٹنے والوں کو واپس لے کر آئیں گے اور میں خود مہینے میں دو بار پرائم منسٹر ٹائم میں یہاں کھڑا ہو کر سب کے سوالوں کا جواب دوں گا۔ اس ملک کا اصل ایشو وہ پیسہ ہے جو اس ملک کی فلاح و بہبود پر لگنا تھا وہ جن جن کی جیبوں میں گیا ہے ان سب کا احتساب کریں گے اور ایسا نظام بنائیں گے کہ پیسہ یہاں پر اکٹھا ہو اس کے لیے باہر ہاتھ نہ پھیلانا پڑے اور قوم کو اپنے پیر پر کھڑا کریں گے۔
تاہم قوم سے پہلے خطاب میں کہا کہ پاکستان تمام ہمسایہ ممالک کے ساتھ تعلقات کو بہتر بنائے گا ، سعودی عرب نے ہمیشہ ہر مشکل میں پاکستان کا ساتھ دیا ، تعلقات کو مزید مضبوط بنائیں گے ، ایران اور افغانستان بھی اہم پڑوسی ممالک ہیں ، چین کے ساتھ تعلقات کو بھی مزید مستحکم بنایا جائے گا ۔بھارت کو چاہیے کہ مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں بند کردے ، بھارتی میڈیا نے میرے خلاف بہت پروپیگنڈا کیا ، کسی کو انتقام کا نشانہ نہیں بنائیں گے ، احتساب وزراء سے ہوتا ہوا نیچے جائے گا ، بیرون ملک پاکستانیوں کو سرمایہ کاری کی دعوت دیں گے ، شفاف ترین الیکشن ہوئے تمام پاکستانی متحد ہو جائیں ، ہماری حکومت اداروں کو مضبوط کرے گی اور تمام لوگوں کیلئے مساوی قانون بنایا جائے گا، عمران خان نے کہا مجھے شرم آئے گی کہ میرے عوام خط غربت سے نیچے زندگی گزاریں اور میں وزیراعظم ہاؤس رہوں ، وزیراعظم ہاؤس تجارتی مقاصد کیلئے استعمال ہوگا ، احتساب مجھ سے شروع ہوگا ، خلفائے راشدین جیسا نظام حکومت چاہتا ہوں ، عمران خان کا یہ خطاب ان کی شخصیت کے نرم صلع جو اور شائستہ پہلو کو سامنے لایا ہے۔
بلا شبہ ہمارے لئے مدینہ منورہ کی اسلامی ریاست ایک بہترین ماڈل ہے جہاں قرآن و سنت کی تعلیمات کی روشنی میں فلاحی نظام وضع کیا گیا۔ اْس بابرکت اسلامی ریاست کی چند خصوصیات یہ تھیں معاشرہ میں دولت اور دیگر وسائل ثروت کی عادلانہ تقسیم کابندوبست کیا گیا۔ زکوٰۃ اور انفاق فی سبیل اللہ کی ترغیب کے ذریعہ دولت کا رْخ امراء سے غرباء کی طرف پھیرا گیا۔ ایسے ذرائع اور طور طریقوں پر پابندی لگائی گئی جس سے کسی خاص طبقے کے ہاتھ میں دولت کے ارتکاز کا امکان تھا۔ مثلاً سْود، احتکار ، ذخیرہ اندوزی ، ناجائز منافع خوری وغیرہ۔ اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ چند ہی سالوں میں دولت صالح خون کی مانند پورے معاشرے میں گردش کرنے لگی اور خوش حالی کا دور دورہ ہو گیا۔
رعایا کے لیے خوراک ، لباس ،صحت اور تعلیم کا مناسب انتظام کیا گیا۔ شیر خوار بچوں تک کے لیے ریاست کی طرف وظائف کے انتظامات کی مثالیں بکثرت ملتی ہیں۔ اور اگر عمران خان ثابت قدم رہیں تو وہ ضرور کا میاب ہوں گے ۔ کرکٹ کی دنیا میں عالمی شہرت اور مقبولیت حاصل کرنے والے پاکستانی کھلاڑی عمران خان نے ایسے وقت میں ملک کی باگ ڈور سنبھالی جب وہ داخلی اور خارجی سطح پر بے شمار مسائل سے گھرا ہوا ہے۔ بدعنوانی، اقرباء4 پروری اور لوٹ کھسوٹ کو ختم کرنے کے لئے پاکستانی عوام نے ان پر جس اعتماد کا اظہار کیا ہے، وہ اس پر کتنے کھرے اتریں گے، یہ آنے والا وقت بتائے گا ۔پاکستانی کرکٹ ٹیم میں سب سے تیز گیند بازکھلاڑی کے طورپر شہرت حاصل کرنے والے عمران خان نے 1996 میں کرکٹ کو الوداع کہہ کر سیاست کے میدان میں قدم رکھا تھا۔ اس دوران انہیں کئی تلخ تجربات سے گزرنا پڑا۔ درمیان میں کئی ایسے مرحلے بھی آئے جنہیں دیکھ کر محسوس ہوتا تھا کہ وہ سیاست کی پرخار وادی میں بری طرح ناکام ہوجائیں گے۔ لیکن جس چیز نے انہیں وزیراعظم کی کرسی تک پہنچایا، وہ درحقیقت ان کی ثابت قدمی تھی۔ تمام تر سیاسی نشیب وفراز اور کردارکشی کی خطرناک مہم کے باوجود وہ اپنے پیروں پر کھڑے رہے۔ انہوں نے موجودہ انتخاب جس ’نئے پاکستان‘ ‘ کے نعرے پر جیتا ہے، وہ دراصل بدعنوانی سے آ زاد ایک خوش حال پاکستان کا تصور ہے۔ درحقیقت عمران خان کے اس تصور میں رنگ بھرنے کا کام ان پناما دستاویزات نے کیا ہے جس کی زد میں وزیراعظم نواز شریف نے اپنا سب کچھ گنوادیا ہے۔ پا ناما دستاویزات کے افشا کے بعد نواز شریف کو بدعنوانی اور منی لانڈرنگ کے الزام میں نہ صرف وزیراعظم کی کرسی گنوانی پڑی بلکہ وہ سلاخوں کے پیچھے پہنچادیئے گئے۔ جس وقت عمران خان وزیراعظم کی کرسی پر براجمان ہورہے ہیں تو سابق وزیراعظم نواز شریف جیل میں دس سال کی سزا کاٹ رہے ہیں۔ نواز شریف کے ساتھ ان کی جواں سال بیٹی مریم نواز بھی منی لانڈرنگ کے کیس میں سلاخوں کے پیچھے ہیں جبکہ ان کی اہلیہ بیگم کلثوم نواز لندن کے ایک اسپتال میں کینسر سے جنگ لڑرہی ہیں۔ سیاست کے یہ کیسے نشیب وفراز ہیں کہ کل تک پاکستانی سیاست کا سب سے مضبوط کردار سمجھے جانے والے دولت مند ترین سیاست داں نواز شریف اس وقت اپنی اور اپنے خاندان کے بقاء کی جنگ لڑرہے ہیں۔ سیاسی تبدیلی تو آ گئی ہے مگر معیشت کوبحران سے نکالناا تنا آسان اور سادہ نظر نہیں آ رہا۔ اس وقت جہاں ڈالر کی قدر روپے کو کوڑیوں کے دام پر لے آئی ہے، جب پیٹرول صرف لوگوں کو خودکشی کے لئے ہی میسر آنے کی نوبت آ گئی ہے، جب تجارتی خسارا جون 2018 تک 33 ارب ڈالر سے تجاوز کر چکا ہے، جب گذشتہ چار سال کے دوران پاکستان کے بیرونی قرضے 31 ارب ڈالر کے اضافے کے بعد 91 ارب ڈالر تک پہنچ گئے ہیں، سونے پر سہاگہ یہ کہ ماہرین نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ یہ قرض آئندہ چند ماہ میں ایک سو ارب ڈالر کو عبور کرسکتا ہے، جس قرض کو اتارنے کے لئے پاکستان کو سال 2022۔23 تک 31 ارب ڈالر کی ضرورت ہوگی، موجودہ صورتحال میں سٹیٹ بینک کے پاس محض 9 ارب ڈالر کے زرمبادلہ ذخائر رہ گئے ہیں۔ ان مشکل ترین حالات میں کوئی چارہ نہیں رہ گیا کہ وہ قرض دینے والے عالمی مالیاتی اداروں سے قرض لے اور اس قرض کے ساتھ بہت سی ایسی شرائط بھی ماننی پڑیں گی جو کہ نئی حکومت کے معاشی ایجنڈے سے میل نہ کھاتی ہوں۔ دوسری جانب عوام نے تواقعات تبدیلی کی لگائی ہوئی ہیں۔ ایسے میں اگر پاکستان تحریک انصاف ان کی امیدوں پر پوری نہیں اتری تو جو شعور کی لوزیر اعظم نے جگائی ہے وہ جلد بجھ جائے گی۔ پاکستان عمران خان نے وزیر اعظم ہاوس کی جگہ ریسرچ یونیورسٹی کے قیام کا اعلان کر تے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان کو حقیقی اسلامی فلاحی ریاست بنانا میرا مقصد ہے، وزیر اعظم ہاوس میں محض دو ملازم کے ساتھ دو گاڑیاں اپنے لیے رکھ کر بلٹ پروف سمیت دیگر تمام اضافی گاڑیاں نیلام کر ینگے، حاصل شدہ رقم قومی خزانے میں جمع کرائی جائے گی۔عمران خان نے کہا کہ پاکستان میں صاحب اقتدار، اشرافیہ اور حکمرانوں کا رہن سہن کیا ہے؟ وزیراعظم کے 524 ملازم ہیں، وزیراعظم کی 80 گاڑیاں جس میں 33 بلٹ پروف ہیں، ہیلی کاپٹر اور جہاز ہیں، گورنر ہاوسز اور وزیر اعلیٰ ہاوسز ہیں جہاں پر کروڑوں روپے خرچ ہوتے ہیں، ایک طرف قوم مقروض ہیں اور دوسری طرف صاحب اقتدار ایسے رہتے ہیں جیسے گوروں کے دور میں تھے۔ اب ہمیں اپنا طور طریقہ اور رہن سہن بد لنا ہو گا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں