عجب ماحول ہے کوئی بھی خوش نہیں ہے…مزمل سہروردی

جو بھی ہوا ہے اچھا نہیں ہوا ہے۔ کسی کو بھی اپنے کیے پر کوئی فخر نہیں ہے۔ کسی کو کچھ نہیں ملا ہے۔ نیوز ویک نے اپنے ٹائٹل پر پاکستان کو عراق سے بھی خطرناک ملک قرار دیا ہے۔ لیکن مغرب کی کیا بات کر یں۔ ملک میں بھی کوئی خوش نہیں ہے۔ اس حد تک اطمینان ضرور ہے کہ مسئلہ پرا من طریقہ سے وقتی طور پر حل ہو گیا۔ لیکن میں فواد چوہدری سے متفق ہوں کہ یہ حل کوئی مستقل حل نہیں۔ یہ معاہدہ کوئی مسئلہ کا حل نہیں۔ بلکہ اس معاہدہ نے مسائل کو مزید پیچیدہ کر دیا ہے۔

میں ن لیگ کے اس منطق سے بھی متفق ہوں کہ تحریک انصاف کے لیے یہ صورتحال مکافات عمل سے کم نہیں ہے۔ انھوں نے جو بویا ہے وہ وہی کاٹ رہے ہیں۔ آپ اپنے ہی دام میں صیاد آگیا ہے۔ یہ امر نہایت افسوسناک ہے کہ ماضی میں اس ملک میں توہین رسالت جیسے نازک اور حساس معاملات پر سیاست کی گئی ہے۔ تحریک انصاف نے بلاشبہ اپنے سیاسی مفادات کے لیے ہر جائز اور ناجائز حربہ استعمال کیا ہے۔ شاید آج تحریک انصاف کو اندازہ ہو گیا ہوگا کہ کل جب زاہد حامد کے استعفیٰ کی حمایت کی جا رہی تھی تو ملک کی کوئی خدمت نہیں کی جا رہی تھی۔ پاکستان کے سنجیدہ لوگ نہ کل اس کے حق میں تھے نہ آج ہیں۔ لیکن کل ن لیگ کو گرانے کے لیے جو فصل بوئی گئی تھی آج کاٹتے ہوئے خون کے آنسو نکل رہے ہیں۔

شکر ہے کہ پاک فوج نے معاملات کی حساسیت کو بروقت سمجھا۔ پاک فوج کے ترجمان کے بیان نے بگڑتی صورتحال کو سنبھالا۔ انھوں نے محاذ آرائی اور تناؤ کی صورتحال کو کم کیا۔ پاکستان کی عوام سیاسی مفادات اور سیاسی نظریات سے بالاتر ہو کر پاک فوج سے محبت کرتے ہیں۔ لوگ انفرادی طور پر کسی بھی سیاسی جماعت سیاسی نظریہ مسلک یا گروہ سے تعلق رکھتے ہوں۔ پاک فوج کے لیے ان کی حمایت اور محبت یکساں ہے اور یکساں ہونی چاہیے۔ پاکستان کی سیاسی جماعتوں اور خود پاک فوج کو بھی اس بات کا خاص خیال رکھنا چاہیے کہ وہ اندرونی تنازعات سے دور رہے۔ یہی ملکی مفاد ہے۔

وزیر اعظم پاکستان عمران خان کی تقریر نامناسب تھی۔ اس کا لب و لہجہ بھی ٹھیک نہیں تھا۔ الفاظ کا چناؤ بھی درست نہیں تھا۔ کسی بھی طرح یہ ایک وزیر اعظم کی تقریر نہیں تھی۔ وہ تو طبل جنگ بجا رہے تھے۔ جس کی کوئی ضرورت نہیں تھی۔ تقریر میں انتہائی حساس معاملات پر نہایت غیرذمے داری سے بات کی گئی۔ جس کا فائدہ کم اور نقصان زیادہ ہوا ہے۔ مجھے سمجھ نہیں آرہی کہ کس نے یہ تقریر کرنے کا مشورہ دیا۔ اس کا سکر پٹ کس نے لکھا۔ اس کا لہجہ اتنا سخت رکھنے کا کس نے مشورہ دیا۔

جن باتوں کا سارے فسانے میں ذکر ہی نہیں تھا انھیں بیان کرنے کا مشورہ کس نے دیا ہے۔ کون آپریشن کرنے کا مشورہ دے رہا تھا۔ کیا وزیر اعظم کو اندازہ نہیں تھا کہ اس طرح یکدم اعلان جنگ نہیں کیا جا سکتا۔پہلے مذاکرات ہوںگے۔ دھرنے دینے والے وزیر اعظم کو دھرنوں سے نبٹنے کے طریقہ کار کا علم ہی نہیں تھا۔ شاید وہ دل سے جانتے تھے کہ ان کے دھرنے اتنے کمزور تھے کہ اگر آپریشن کیا جاتا تو وہ ایک دن نہیں کھڑے ہو سکتے تھے۔لیکن شاید انھیں سیاسی حکومتوں کی کمزوریوں کا اندازہ نہیں تھا۔

میرے لیے تو اعلیٰ عدلیہ کا ہر فیصلہ قابل احترام ہے۔ لیکن ساتھ ساتھ میں سمجھتا ہوں کہ محترم چیف جسٹس صاحب کو نظام انصاف کی خامیوں کو دور کرنے کے لیے ہنگامی اقدامات کرنے چاہیے۔ مقدمات میں غلط تفتیش کا بھی تو کسی کو ذمے دار ہونا چاہیے۔ مجھے علم ہے کہ یہ کہا جا سکتا ہے کہ نظام انصاف میں ہزاروں مقدمات میں روز ایسا ہوتا ہے۔ مجھے علم ہے کہ قانون دانوں کے پاس ایک نہیں سیکڑوں نہیں لاکھوں مثالیں موجود ہیں۔ لیکن کیا یہ سب مثالیں اس نظام کو جائز قرار دینے کے لیے کافی ہیں۔ کبھی نہ کبھی کہیں نہ کہیں تو ٹھیک کرنے کا عمل شروع کرنا ہوگا۔ میں مقدمہ کے کسی ایک فریق کی طرف سے بات نہیں کرنا چاہتا۔ میں کسی ایک فریق کو غلط اور دوسرے کو درست نہیں کہنا چاہتا۔ میرے لیے تو ہر مقدمہ اہم ہے۔ مرنے کے بعد لوگوں کو انصاف دینا۔ تاریخ پر تاریخ کا کلچر۔ نظام انصاف پر سوالیہ نشان ہیں۔

میں مانتا ہوں کہ ڈیم پاکستان کی زندگی ہیں۔ میں مانتا ہوں کہ پانی کے بغیر کوئی زندگی نہیں۔ میں مانتا ہوں کہ آرٹیکل 62کے بغیر جمہوریت نہیں چل سکتی۔ مجھے علم ہے کہ منی لانڈرنگ کے مقدمات اور ان کی جے آئی ٹی بہت اہم ہیں۔ مجھے یقین کامل ہے کہ پاناما ملک کا سب سے بڑ امسئلہ تھا اور ہے۔ مجھے یقین ہوگیا ہے کہ سیاسی جماعتوں کے اندر کرپشن کے گینگ بیٹھے ہیں۔ لیکن میں چاہتاہوں کہ نظام انصاف عام آدمی کو انصاف دینا شروع کر دے۔ بیگناہ پہلے قدم پر ہی بے گناہ ہو جائے اور گناہ گار آخری دم تک گناہ گار ہی رہے۔ ماتحت عدلیہ بھی سپریم کورٹ کی طرح کام کرے۔ لوگ ماتحت عدلیہ کے فیصلوں کو بھی سپریم کورٹ کے فیصلوں کی طرح عزت و احترام دیں۔

ملک میں سیاسی افہام و تفہیم کی ضرورت ہے۔ حالیہ حالات نے شاید حکومت کے اندر احساس پیدا کیا ہے کہ انھیں قدم بقدم اپوزیشن کی چھوٹی بڑی جماعتوں کی ضرورت ہوگی۔ حکومت کو اپوزیشن کی بڑی جماعتوں کا شکریہ ادا کرنا چاہیے کہ انتہائی نازک حالات میں حکومت سے سخت ناراضی کے باوجود انھوں نے ذمے داری کا ثبوت دیا۔ ورنہ حکومت کی اپنی حالت تو یہ تھی کہ خود ہی کورم کی نشاندہی کر کے قومی اسمبلی کا اجلاس ملتوی کروا دیا۔ لیکن پھر بھی اپوزیشن نے حکومت کا ساتھ دیا ہے۔

کوئی بھی دھرنے میں جا کر نہیں بیٹھا۔ کسی نے ان کی حوصلہ افزائی نہیں کی۔ لیکن یہ سوال تو جائز ہے کہ اگر تحریک انصاف اپوزیشن میں ہوتی تو کیا کرتی۔ عمران خان اور تحریک انصاف کے ماضی کے ٹوئٹس سب کے سامنے ہیں۔ ایک دوست نے عمران خان کا ماضی کا ایک ٹویٹ بھیجا ہے جس میں وہ کہہ رہے تھے کہ ملک میں آگ لگی ہوئی ہے اور وزیر اعظم بیرونی دورے پر چلے گئے ہیں۔ مجھے ماضی کا یہ ٹوئٹ منٹو کے افسانوں کی طرح آج بھی حسب حال ہی لگا۔ بس ناموں کا فرق ہے۔ لیکن آج کی اپوزیشن ایسے ٹوئٹس نہیں کر رہی ہے ۔ بس یہی تبدیلی ہے ۔ یہی نیا پاکستان ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں