افغان ہلاکواپنے انجام تک۔۔۔سمیع اللہ ملک

بالآخردوبارتوسیع کے بعد20اکتوبرکوافغانستان میں دوسوپچاس اراکین پارلیمان کے انتخاب کیلئے ووٹنگ کاسلسلہ اپنے انجام کوپہنچ گیا۔افغانستان کی تاریخ میں پہلی مرتبہ بائیو میٹرک ووٹنگ سسٹم استعمال ہوا،بائیومیٹرک کے علاوہ کوئی بھی ووٹ قبوول نہیں کیاگیا۔افغان پارلیمان کیلئے حزب اسلامی اورشمالی اتحادکے درمیان کانٹے کامقابلہ جاری ہے تاہم اس مرتبہ بھی حسبِ معمول افغانستان میں سرداروں،قبائلی عمائدین کاان انتخابات میں اہم کردارہوگا۔افغان حکومت نے ان انتخابات کی سیکورٹی کیلئے 54ہزارمسلح پولیس کے نوجوان مقررکئے ہیں جن کی نگرانی اورسخت ترین پہرہ میں انتخابات ہوئے ہیںجبکہ امریکانے فضائی اورزمینی دستوں کوبھی ہائی الرٹ کرنے کی ہدایات جاری کررکھی تھیں۔پاک افغان کیلئے امریکی نمائندے زلمے خلیل زادانتخابات میں نہ صرف دلچسپی لے رہے ہیں بلکہ اس حوالے سے انہوں نے افغان حکومت کوگائیڈلائن بھی دے رکھی تھی کہ ان انتخابات میں جنگجوو¿ں کی بجائے صرف سیاسی پارٹیوں کوانتخابات میں موقع دیناچاہئے اوران کی کلی سیکورٹی حکومت کی ذمہ داری ہے تاکہ افغانستان کے مستقبل کاآئندہ فیصلہ پارلیمان کے ذریعے نکالاجاسکے کیونکہ امریکاافغانستان کے مسئلہ کاحل پارلیمان کے ذریعے نکالناچاہتاہے۔قوی امکان ہے کہ ان پارلیمانی انتخابات میں حزبِ اسلامی اوران کے اتحادی پارلیمان میں واضح اکثریت حاصل کرلیں گے تاہم اس مرتبہ آزادامیدوارکی تعدادزیادہ ہے۔
پختون علاقوں میں طالبان کے اثرورسوخ اوردہمکیوںکے بعد شمالی اتحادکوانتخابات میں اپنے اہم امیدواروں کی کامیابی کی امیدہے کیونکہ شمالی اتحادکے زیراثرعلاقوں میں افغان طالبان کااثرکچھ کم ہے۔دوسری جانب افغان طالبان نے افغانستان میں ہونے والے پارلیمانی انتخابات کوسبوتاژکی دہمکی دیتے ہوئے انتخابات کے روزووٹرزکوگھرمیں رہنے کی اپیل کررکھی تھی اورطالبان نے دہمکی دی تھی کہ انتخابات کوناکام بنانے کیلئے وہ بھرپورکوشش بھی کریں گے۔طالبان نے نہ صرف انتخابات کوڈھونگ بلکہ امریکی قبضے کے دوران ان انتخابات کوامریکی منصوبہ قراردیاہے جس کے ذریعے وہ افغانستان میں اپنے قیام کونہ صرف قانونی اور مزیدقیام کاراستہ ہموارکرناچاہتاہے بلکہ اپ نی رسواکن شکست پربھی پردہ ڈالناچاہتاہے۔طالبان نے اپنی ان دہمکیوں پرعمل کرتے ہوئے پہلی بارہلمندمیں انتخابی مہم کونشانہ بنایاجس میں انتخابی امیدوارصالح اچکزئی اپنے آٹھ ساتھیوں سمیت مارے گئے۔اس کے بعدانتخابات کے دن کابل کے کئی پولنگ اسٹیشن پرخودکش حملوں کرکے 10/افرادکوہلاک کردیا جبکہ افغان حکومت کے مطابق الیکشن والے دن اب تک 28افرادہلاک ہوچکے ہیں۔افغانستان میں کئی مقامات پرانتخابات مکمل ہوچکے ہیں لیکن ان حملوںمیں انتخابات میں 10/امیدواربھی مارے جاچکے ہیں۔
افغانستان کے صوبے قندھار میں افغان طالبان کی جانب سے کیے گئے ایک حملے میں صوبے کی پولیس کے سربراہ عبدالرازق اور افغان خفیہ ادارے این ڈی ایس کے صوبائی سربراہ ہلاک ہو گئے جبکہ امریکی فوج کے کمانڈر بال بال بچ گئے۔حکام کے مطابق حملہ آور باڈی گارڈ کے روپ میں تھا اور اس نے سیکورٹی افسران کے میٹنگ سے باہر نکلنے کے بعد ان پر فائرنگ کردی۔نیٹو کے مطابق امریکی فوج کے کمانڈر جنرل سکاٹ ملر واقعے میں بچ گئے لیکن ان کے ساتھ موجود تین اور امریکی شہری شدید زخمی ہوئے ہیں۔مقامی حکام سے حاصل ہونے والی غیرمصدقہ اطلاعات کے مطابق جنرل ملر بظاہر حفاظتی جیکٹ کے باعث محفوظ رہے۔ابتدائی اطلاعات کے مطابق حملہ آور کو بھی ہلاک کر دیا گیا ہے۔حکام کے مطابق دو ہینڈ گرنیڈ کے دھماکے بھی ہوئے۔افغان طالبان نے اس حملے کا ذمہ داری قبول کرنے کا دعویٰ کیا ہے اور کہا ہے کہ اس حملے کا حدف جنرل ملر اور جنرل رازق تھے۔ طالبان کی جانب سے جاری کردہ بیان میں جنرل رازق کو ظالم پولیس چیف کہہ کر مخاطب کیا گیا ہے۔اطلاع کے مطابق افغانستان میں تعینات امریکیوں نے ایک مرتبہ پھرمکمل انخلاءکیلئے پینٹاگون کوتحریری طورپرآگاہ کیاہے۔
افغان اور بین الاقوامی سکیورٹی حکام کا کہنا ہے کہ جنرل رازق جب ملاقات کے بعد جانے لگے تو ان پر پیچھے سے فائرنگ کی گئی اور وہ زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے چل بسے۔ قندھار کی صوبائی کونسل کے سربراہ جان خاکریزوال کا کہنا تھا کہ ”گورنر سمیت دیگر صوبائی اہلکار، پولیس چیگ اور دیگر حکام غیرملکی مہمانوں کی ہمراہ جہاز کی طرف جارہے تھے جب فائرنگ کی گئی۔“نیٹو کے ترجمان کرنل نٹ پیٹرز نے کہا کہ امریکی شہری حملہ آور کی فائرنگ کی زد میں آگئے لیکن اب انھیں وہاں سے نکال لیا گیا ہے۔ اس حملے کا نشانہ بننے والے طالبان اور پاکستان کے خلاف انتہائی سخت موقف رکھنے کی وجہ سے مشہور پولیس سربراہ جنرل عبدالرازق کی تین بیویاں اور 13بچے تھے۔ اگرچہ ان پر انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کا بھی الزام تھا لیکن افغان عوام نہ صرف ایک ظالم اورسفاک آدمی سمجھتے تھے بلکہ اس جلادصفت انسان اپنے دشمنوں کوتہہ تیغ کرنے کے مختلف ظالمانہ طریقوں کابھی ذکرکرتے ہیں کہ کس طرح یہ زندہ افرادکے جسم میں بڑے بڑے کیل ٹھونک کران کواذیت پہنچاتاتھا۔سوشل میڈیا پر جنرل رازق کے بہت ساری ایسی ویڈیوز مشہور ہیں جس میں وہ کھلم کھلا طالبان کی مبینہ حمایت پر پاکستان کے خلاف بیانات دیتادکھائی دے رہاہے اور اکثر بیانات میں تو وہ طالبان سے زیادہ پاکستان مخالف نظر آتاہے۔
ایک انٹرویو میں اس نے کہا تھا کہ اگر مجھ پر ایک ہزار حملے بھی کیے جائیں، جب تک زندہ ہوں، پنجاب اور پاکستان کا دشمن رہوں گا۔ ان کا الزام تھا کہ پاکستان افغانستان کا سب سے بڑا دشمن ہے اور طالبان پاکستان کی مدد کے بغیر کچھ نہیں ہیں۔افغان میڈیا کے مطابق جنرل رازق پاکستان اور افغانستان کے درمیان متنازع ڈیورنڈ لائن پر باڑ لگانے کا بھی سخت مخالف تھا۔چند روز قبل افغان اور پاکستانی فورسز کے درمیان باڑ لگانے پر کشیدگی پیدا ہوئی تھی اور فائرنگ کا تبادلہ بھی ہوا تھا اور اس واقعے کے بعد چمن میں پاکستانی حکام نے باب دوستی کو بند کردیا تھا۔ افغان میڈیا کے مطابق جنرل رازق کے کہنے پر ہی افغان فورسز پاکستانی فورسز کو باڑ لگانے نہیں دے رہے تھے۔جنرل رازق طالبان کے دور میں ان کے قید میں بھی رہے، لیکن بعد میں ان کی قید سے بھاگ گئے تھے۔ ان کے والد اور چچا بھی طالبان کے حملوں میں ہلاک ہوئے تھے۔ وہ2001ءمیں صوبہ قندھار کے سرحدی پولیس کے ایک کمانڈر بننے کے کچھ سال بعد پولیس سربراہ بنے۔پولیس سربراہ بننے کے بعد انھوں نے قندھار پر طالبان کے کئی حملے پسپا کیے اور ان پر طالبان قیدیوں کے ساتھ انسانی حقوق کی پامالیوں کا بھی الزم تھا۔جنرل رازق پر الزام تھا کہ اس نے 2014ءمیں اپنے ساتھیوں کو خبردار کیا تھا کہ طالب قیدیوں کو ان کے سامنے زندہ پیش نہیں کیا جائے۔ جنرل رازق کے اس بیان پر انسانی حقوق کی تنظیموں نے تشویش کا اظہار کیا تھا۔ایک اطلاع کے مطابق افغان عوام نے جنرل عبدالرزاق کی ہلاکت پرسکھ کاسانس لیاہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں