ریلوے بحالی سمہ سٹہ تا ضلع بہاول نگر و فورٹ عباس۔۔۔ملک شاہد حنیف

 پاک بھارت کے سنگم پر واقع دفاعی باﺅنڈری لائن کو سیاست کی نذر کر کے بند کر دیا گیا۔ یہ کوئی 1997ءکی بات ہے کہ جب عین عصر کے وقت ٹرین کی سیٹی کی آواز سن کر لوگ ریل گاڑی کو دیکھنے کے لئے ریلوے لائن کی طرف جوق در جوق بھاگ کھڑے ہوئے تھے اور ان کے چہروں پر مسرت نظر آتی تھی اور بچے خوشی کے مارے اچھل اچھل کر لال ہو جاتے ۔21برس قبل وزیر اعظم نواز شریف نے ہماری قومی املاک اور دفاعی باﺅنڈری لائن جو کہ پاک بھارت بارڈر کے سنگم پر انتہائی اہمیت کی حامل ہے۔
چند ٹرانسپورٹ مافیا ءکو نوازنے کے لئے پاکستان ریلوے کی ٹرین کو بند کر دیا گیا۔ اس وقت ریلوے ٹریک ہر لحاظ سے مضبوط تھا اور ٹرین قومی خزانے کو فائدہ پہنچانے کے ساتھ ساتھ دفاعی ضروریات بھ یپوری کر رہی تھیں۔ ریلوے سیکشن سمہ سٹہ محترم ذوالفقار علی بھٹو نے منظور کیا تھا تاکہ جنوبی پنجاب کے پسماندہ علاقے کو صوبائی دارالحکومت اور جڑواں شہروں تک رسائی حاصل ہو سکے۔
لیکن جنرل ضیاءالحق صاحب کے دور میں اس پر کوئی پیش رفت نہ ہو سکی اور آج تک بااثر جاگیردار زمینوں کی قیمت وصول کرنے کے باوجود ریلوے کے رقبہ پر قابض ہیں اور کاشتکاری میں مصروف ہیں۔ 1997ءمیں ن لیگ کے دورِ حکومت میں ریلوے افسران ، عملے اور حکومتی ٹرانسپورٹ مافیا نے اسے بند کروانے میں کامیابی حاصل کر لی اور ہماری دفاعی باﺅنڈری جو ہمارے لئے شہہ رگ کی حیثیت رکھتی ہے اس کو ایک بڑے منصوبے کے تحت کھنڈرات میں تبدیل کرنے کی پالیسی پر عمل کیا جانے لگا۔
اس کے بعد ریلوے ٹریک پر پرائیویٹ کالونی مالکان کے آہستہ آہستہ غیر قانونی راستے بنانا شروع کر دیئے اور پھر مارکیٹس بننا شروع ہو گئیں اور پھر ان کو پلازہ میں تبدیل کیا جانے لگا۔حکومتیں تو بدلتی رہیں لیکن دفاعی باﺅنڈری لائن کی تقدیر نہ بدلی ۔ درد بڑھتا گیا ۔ جوں جوں دعا کے مصداق معاملہ بد سے برتر ہوتا گیا۔ ریلوے کی خوبصورتی کو بڑھانے کے لئے جو قدرتی لش گرین درخت ریلوے ٹریک کے دونوں جانب لگائے گئے تھے۔ جن کی بدولت ریلوے دلکش مناظر پیش کرتا تھا۔ ریلوے کے آفیسران نے ٹمبر مافیا سے مل کر ان کا صفایا کر دیا اور کروڑوں روپے کے قیمتی درخت تلف کر کے قومی خزانے کو بھاری نقصان پہنچایا ۔ جس کا شاید کبھی ازالہ نہ کیا جاسکے اور قدرتی حسن میں اضافہ کرنے والے کروڑوں پرندوں کے مساکن تباہ کر دیئے گئے جسکی تاریخ میں مثال نہیں ملتی اسی وجہ سے آج پرندے نایاب ہو گئے ہیں۔ کل تک جن پرندوں کی چہچہاہٹ سے زمانے کی رونقیں آباد تھیں ۔آج انہیں دیکھنے کے لئے آنکھیں پتھرا گئی ہیں۔
اب یہ ریلوے ٹریک موہنجو داڑو اور ہڑپہ کے کھنڈرات کا منظر پیش کر رہا ہے۔ ریلوے ٹریک کے نیچے بچھائے گئے لکڑی کے قیمتی تختے (سلیپر) اور دیگر میٹریل نشئی حضرات دھڑلے سے فروخت کر چکے ہیں اور بچی کھچی باقیات فروخت کر رہے ہیں۔ سونے پر سہاگہ 21 سال سے عملہ مفت کی تنخواہیں بھی وصول کر رہا ہے۔ ریلوے جنکشن سمہ سٹہ دفاعی لائن کے ساتھ ساتھ تجارتی اور صنعتی سیکشن بھی ہے دوسری طرف بہاول نگر تا فورٹ عباس سیکشن بھی ایک صنعتی اور زرعی سیکشن بھی ہے اِس سیکشن سے لاکھوں ٹن کپاس اور گندم ملک کے دوسرے شہروں میں پروسس کیلئے ٹرانسفر کی جاتی ہے اور زراعت کیلئے لاکھوں ٹن کھاد یہاں لائی جاتی ہے۔ سمہ سٹہ ، امروکہ سیکشن اور بہاول نگر ، فورٹ عباس سیکشن اگر بحال کر دیا جاتا ہے تو ایک طرف جنوبی پنجاب میں سڑکوں پر ٹریفک کا رش کم ہو جائے گا اور حادثات کم ہو جائیں گے۔
دوسرا چند سرمایہ داروں کی بجائے بیش بہا سرمایہ قومی خزانے میںشامل ہو گا۔ جنوبی پنجاب کے سمہ سٹہ امروکہ سیکشن بجلی عوام کا دیرینہ مطالعہ ہے ۔ یہ واحد سیکشن ہے کہ جہاں ریلوے کے ساتھ غلہ منڈی اور سبزی منڈی موجود ہیں اور تمام فیکٹریاں بھی ریلوے کے دونوں جانب ہیں اور ضلع بہاول نگر سے تقریباً 50 اے سی ، نان اے سی پرائیویٹ گاڑیاں کراچی اور صوبہ سندھ کے دوسرے شہروں کیلئے روانہ ہوتی ہیں اور 100 کے قریب اسلام آباد ، لاہور ، فیصل آباد ، ملتان اور دوسرے شہروں کو روانہ ہوتی ہیں اور ٹرانسپورٹ مافیا من چاہے کرایے وصول کرتے ہیں جن کو پوچھنے والا کوئی نہیں بلکہ یہ کہنا بے جا نہ ہو گا کہ اِس مافیا کو بھی حکومتی اہلکاروں کی پشت پناہی حاصل ہے۔
لیکن عمران خان وزیر اعظم پاکستان اور وزیرریلوے کی طرف سے100روزہ ریلوے بہتری پلان میں سمہ سٹہ جنکشن کو شامل کرنے پر خوشی کی لہر دوڑ گئی ہے سمہ سٹہ سے امروکہ جنکشن پر چلنے والی 5اکانومی کلاس اور ایک سامان والی بوگی شامل کرنے کا اعلان خوش آئندہ ہے اور اس تباہ شدہ لائن کی مرمت کیلئے پاک فوج سے مدد لے لی جائے تو زیادہ بہتر ہے ۔ کیونکہ پاک فوج کے جوان ایمان دار اور محنتی ہیں جو کہ سالوں کا کام مہینوں میں کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں اور سول ادارے ماسوائے کام لٹکانے کے کچھ نہیں کرتے ۔ کیونکہ ریلوے بحالی کیلئے سب سے پہلے ناجائز تجاوزات کو ہٹانا اور ٹریک مرمت کرنا ایک دیرپا اور محنت طلب کام ہے جو کہ سول اداروں کے بس کی بات نہیں ہے۔ ویسے بھی پاک فوج کے علاوہ کسی سول ادارے پر کوئی اعتماد کرنا حماقت سے کم نہ ہو گا اور اگر 21سال سے ریلوے افسران کا آڈٹ بھی کر لیا جائے اور آڈٹ کی ذمہ داری بھی پاک فوج کو سونپ دی جائے تو کوئی مبالغہ نہیں کہ تمام کے تمام مافیہ چند دنوں میں بے نقاب ہو جائیں گے اور وہ افسران اور سیاست دان جنہوں نے ٹرانسپورٹ مافیا گروپ کی ملی بھگت سے یہ ڈرامہ رچایا ہے۔ وہ خود بخود لوٹا ہوا مال سود سمیت واپس لوٹانے کو تیار ہو جائیں گے اور علاقہ ہذا کے تمام سیاست دانوں کو اسی بناءپر نااہل کیا جائے کہ وہ اپنی دفاعی باﺅنڈری لائن کی اہمیت سے ناواقف ہیں اور آئندہ ان جاگیرداروں اور سرمایہ داروں پر پابندی لگائی جائے۔
جو دفاعی اور قومی معاملات سے نابلد ہیں جو ملکی دفاع کی بجائے اسلام آباد اور لاہور میں دوستوں کے ساتھ گل چھرے اُڑا رہے ہیں اور ریلوے سیکشن سمہ سٹہ تا امروکہ ، بہاول نگر تا فورٹ عباس کا تمام تر نقصان ان سیاستدانوں اور افسروں سے وصول کر کے ریلوے سیکشنز بحال کئے جائیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں