اسلامیان پاکستان کے ایمانی جذبات پرکاری وار۔۔۔مولانا محمد جہان یعقوب

آسیہ مسیح کو توہین رسالت کے الزام میں 2010 میں لاہور کی ماتحت عدالت نے سزائے موت سنائی تھی، لاہور ہائی کورٹ نے بھی آسیہ کی سزائے موت کے خلاف اپیل خارج کر دی تھی، جس کے بعد ملزمہ نے عدالت عظمی میں درخواست دائر کی تھی۔چیف جسٹس کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے 8 اکتوبر 2018 کو آسیہ مسیح کی اپیل پر سماعت کے بعد فیصلہ محفوظ کیا تھا،جو بروز بدھ سنادیا گیا۔فیصلے کے مطابق معزز عدالت نے شک کا فائدہ دیتے ہوئے آسیہ مسیح زوجہ عاشق مسیح کو بری کردیا، عدالت نے اپنے ریمارکس میں کہا کہ آسیہ مسیح زوجہ عاشق مسیح کسی اورکیس میں مطلوب نہیں توفوری رہا کیا جائے۔سپریم کورٹ نے ٹرائل کورٹ اور لاہور ہائی کورٹ کے سزائے موت کے فیصلوںکو بھی کالعدم قرار دے دیا۔ 56 صفحات پر مشتمل فیصلہ خود چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے تحریر کیاہے،جس میں سینئر جج جسٹس آصف سعید کھوسہ کا نوٹ بھی شامل ہے۔
چیف جسٹس نے اپنے فیصلے میں لکھا:”یہ قانون کا ایک مسلمہ اصول ہے کہ جو شخص کوئی کلیم (دعویٰ) کرتا ہے تو اس کو ثابت کرنا بھی اسی کی ذمہ داری ہوتی ہے، پس یہ استغاثہ کی ذمہ داری ہوتی ہے کہ وہ تمام کارروائی میں ملزم کے ارتکاب جرم کو ہر قسم کے شک و شبہ سے بالاتر ثابت کرے، تمام کارروائی مقدمہ میں ملزم کے ساتھ بے گناہی کا قیاس ہمیشہ رہتا ہے، چہ جائیکہ استغاثہ شہادتوں کی بنیاد پر ہر طرح کے شک و شبہ سے بالاتر ہو کر ملزم کے خلاف جرم کا ارتکاب ثابت نہ کردے‘جہاں کہیں بھی استغاثہ کی کہانی میں کوئی جھول ہوتا ہے، اس کا فائدہ ملزم کو دیا جانا چاہیے، جو کہ فوجداری انصاف کی محفوظ فراہمی کے لیے انتہائی ضروری ہے‘متذکرہ بالا وجوہات کی بناپر یہ اپیل منظور کی جاتی ہے۔ عدالت عالیہ اور ابتدائی سماعت کی عدالت کے فیصلوں کو کالعدم قرار دیا جاتا ہے۔نتیجتا ًاپیل گزار کو دی گئی سزائے موت کو کالعدم قرار دیا جاتا ہے اور اس کو تمام الزامات سے بری کیا جاتا ہے۔ اگر کسی دیگر فوجداری مقدمے میں اس کو قید رکھنا مقصود نہیں تو اس کو فوری طور پر جیل سے رہا کیا جائے گا“۔
جسٹس آصف سعید کھوسہ نے اپنے نوٹ میں تحریر کیا:”مقدمہ ہذا میں ہر واقعاتی زاویئے کے متعلق استغاثہ کی جانب سے پیش کردہ شہادتوں میں واضح اور یقینی تضادات سے یہ افسوسناک اور ناقابلِ انکار تاثر قائم ہوتا ہے کہ ان تمام افراد، جن کے ذمہ شہادتیں اکٹھی کرنا اور تفتیش کرنے کا کام تھا، نے ملی بھگت سے یہ طے کیا ہوا تھا کہ وہ سچ نہیں بولیں گے یا کم از کم مکمل سچائی کو باہر نہیں آنے دیں گے۔ مقدمہ ہذا میں اپیل گزار کے خلاف عائد الزامات میں ذرہ بھر بھی سچائی ہے، تب بھی استغاثہ کی شہادتوں میں بیان کردہ سنگین تضادات واضح طور پر ظاہر کرتے ہیں کہ مقدمہ ہذا میں سچائی کو بہت سی ایسی باتوں سے گذمڈ کیا گیا ہے، جو سچ نہیں ہیں۔“دونوں معزز جج صاحبان کے الفاظ سے صاف ظاہر ہے کہ ملزمہ کو شک کافائدہ دیتے ہوئے تمام الزامات سے بری کیا گیا۔
صورت حال یہ ہے کہ پورا ملک ایک عجیب سے صدمے سے دوچار ہے۔اس صدمے کی وجہ یہ نہیں کہ کسی ملزم کو بری کیوں کیا گیا؟بلکہ اس کے محرکات میں مسلمانوں کے وہ حب رسول ﷺ کے جذبات سرِفہرست ہیں ،جن کی وجہ سے وہ کسی قسم کی گستاخی شانِ رسالت میں برداشت نہیں کرسکتے۔مسلمان اعمال واخلاق اور معاشرت کے حوالے سے تو کم زور ہوسکتا ہے،لیکن وہ تاج دار ختم نبوت ﷺ کی عزت وحرمت اورناموس ووقارکے معاملے میں کسی قسم کی کم زوری کا مظاہرہ نہیں کرسکتا۔اگر عدالت عظمیٰ کے فیصلے کے مندرجات کو تسلیم بھی کرلیاجائے ،کہ استغاثہ اپنادعویٰ ثابت کرنے میں ناکام رہا،شہادتوں میں واضح تضادات پائے گئے ،جن لوگوں کے ذمے شہادتیں اکٹھی کرنے کا کام تھا،انھوں نے جانب داری سے کام لیا….تب بھی یہ فیصلہ ایسا نہیں ،جسے اسلامیان ِپاکستان ٹھنڈے پیٹوں ہضم کرسکیں ۔
چیف جسٹس نے یہاں تو ملزمہ کو شک کامکمل فائدہ دیا،لیکن نواز شریف کیس میں وہ اس کلیے کو کیوں فراموش کربیٹھے تھے؟جسٹس کھوسہ کا اس بینچ میں شامل ہونا بھی اس فیصلے کو متنازع بناتاہے،کیوں کہ وہ اس سے قبل ممتاز قادریؒ کی سزائے موت کا فیصلہ سنا چکے تھے،جس سے ان کے رجحان کا بخوبی اندازہ ہوسکتاتھا،کہ وہ کیا فیصلہ دیں گے؟موصوف چند روز قبل وکیل استغاثہ کی طرف سے قرآنی آیات پیش کیے جانے پر بھی ایمان سوز ریمارکس دے چکے تھے کہ یہاں قرآن کو ڈسکس نہیں کیا جاسکتا۔معززجج صاحبان نے ایک اقراری مجرم کو شک کا فائدہ دے کر بری کرنے سے پہلے اس امکان کا جائزہ کیوں نہ لیا،کہ اس کیس کے حوالے سے یہ امکان بھی تو ہے کہ خود ریاست نے شواہد کو کم زور کردیاہو۔آخر یہ بات کیسے تسلیم کی جائے کہ جس ملزمہ کے خلاف اس قدر ٹھوس شواہد ہوں کہ دو عدالتیں ان کی بنیاد پر اسے سزائے موت سنائیں،اسی کیس میں شواہد اس قدر کم زور کیسے ہوگئے؟کیامحض شک کا فائدہ دینے اور شواہد کی غیر جانب دارانہ جانچ پرکھ نہ کرنے سے یہ دروازہ نہیں کھل جائے گا،کہ جس کو چاہے کلین چٹ دے دی جائے۔کیامعززجج صاحبان قوم کی امنگوں ،بلکہ اپنے اندر دبی حب رسول ﷺکی صداو¿ں کے زیراثراستغاثہ کو اپیل کاحق دیناپسند کریں گے؟اگر ّسیہ مسیح کو بیرون ملک فرار کرایا گیااور استغاثہ کو اپیل کاموقع نہ دیاگیا،تو قوم نہ صرف معززعدالت،بلکہ حکومت سے بھی بدظن ہوجائے گی۔
عمران احمد خان نیازی صاحب !شاید آپ کو اندازہ ہویانہ ہو،میاں نواز شریف قوم کی اخلاقی حمایت سے جس وجہ سے محروم ہوئے تھے،وہ ممتاز قادریؒ کی پھانسی کا فیصلہ تھا،حالاں کہ ممتاز قادریؒ کی پھانسی کا فیصلہ میاں صاحب یا ان کی حکومت نے نہیں لکھاتھا،لیکن چوں کہ یہ فیصلہ آیاان کی حکومت میں ،اور اس سلسلے میں انھوں نے قوم کے ایمانی جذبات کی پروانہ کی،اس لیے قوم نے انھیں ہی اس کا مجرم گردانا۔آپ کے ساتھ بھی ایسا ہوسکتاہے۔اس لیے محتاط رہیں ۔یہ ملک پُرامن ہے۔آسیہ مسیح کی جان لینی ہی ہوتی،تویہ مقدمہ عدالتوں میں نہ آتا۔اسے کوئی خطرہ نہیں، معاملے کے تمام پہلوو¿ں کے سامنے آنے اوراپیل کافیصلہ آنے تک آپ نے اسے بیرون ملک بھیج دیا،تویہ غیورقوم آپ کے ساتھ بھی وہی کرے گی،جو آپ کے پیش روو¿ں کے ساتھ ہوا۔

مولانا محمد جہان یعقوب
سینئر ریسرچ اسکالر،جامعہ بنوریہ عالمیہ،سائٹ کراچی

اپنا تبصرہ بھیجیں