مسلمان حکمران کے اوصاف۔۔۔ابوالہاشم ربانی

حضرت علی رضی اللہ عنہ کاکیاخوبصورت قول ہے ملک نظام کفرکے ساتھ قائم رہ سکتے ہیں لیکن جس ملک میں عدل وانصاف نہ ہووہ قائم نہیں رہ سکتا۔نیک اورعادل حکمران اپنے ملک کوعدل اورانصاف سے بھردیتاہے۔ وہی حکمران عدل وانصاف قائم کرسکتاہے جوخودعادل ہو،مسلمان ہو،نیک ہو،اس کے دل میں اللہ کاڈرہو۔عادل حکمران کی اللہ کے ہاں بہت قدرومنزلت ہے اس کے لیے بہت بڑا اجر ہے ۔عادل حکمران قیامت کے دن اللہ کے سائے میں ہوگا جس دن کسی کو سایہ نہیں ملے گا۔نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے سات قسم کے افراد قیامت کے دن اللہ کے عرش کے سائے میں ہوں گے۔ان میں سے ایک امام عادل ہے جو قیامت کے دن اللہ کے دائیں جانب نور کے منبر پر ہوں گے جو کہ اپنی حکومت اور گھر میں عدل وانصاف کرتے تھے ۔
اگر حکمران نیکی اورتقوی کے مطابق حکومت کرتا اور عدل قائم رکھتاہے تو اس کے لیے بہت بڑا اجر ہے۔ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے امام ڈھال ہے جس کی آڑ میں قتال کیا جاتا ہے اور دفاع ہوتا ہے اگر وہ تقوی اور عدل سے حکومت کرتا ہے تواس کے لیے اجر ہے اور اگر اس کے مطابق حکومت نہیں کرتا تو اس کے لیے عذاب ہے۔نیک حکمران قوموں اورملکوں کے لئے خیراوربرکت کاباعث ثابت ہوتے ہیں۔ان کی وجہ سے اللہ قوموں،ملکوں اورخطوں پراپنی رحمتیں اوربرکتیں نازل فرماتے ہیںجیساکہ رسول ﷺ کافرمان ہے امام عادل کی کوئی دعا ردّ نہیں ہوتی اس لیے کہ اللہ کے ہاں اس کی قدومنزلت اور عزت ہوتی ہے۔اسلام میں حکمرانی کامنصب جاہ وحشمت اورحصول منفعت کاباعث نہیں بلکہ کانٹوں کی سیج اوربھاری ذمہ داری ہے۔اسلام نے حکمران پرکچھ ذمہ داریاں عائدکی ہیں جنہیں پورا کرنا اس کے لیے لازم ہوتا ہے اس کے ذمہ رعایاکے حقوق ہیں جو اس نے اداکرنے ہوتے ہیں۔اسلام نے مسلمان حکمران پرجوذمہ داریاں عائدکی ہیں ان میں سے چندایک یہ ہیں۔
مسلمان حکمران کی پہلی ذمہ داری ہے حق اور عدل کا قیام ، لوگوں کے تنازعات معاملات انصاف کے ساتھ نمٹانا ،اللہ کی شریعت کو نافذ کرنا اور شرعی احکام کے مطابق حدود کا نفاذکرنا۔رسول ﷺ کافرمان ہے اللہ حاکم یا قاضی کے ساتھ ہوتا ہے جب تک وہ ظلم نہ کرے جب حکمران ظلم کرتاہے تو اللہ اس کو اس کے نفس کے حوالے کردیتا اورپھراللہ اس کے معاملات سے بری ہوجاتا ہے۔ابوذر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں میں نے ایک دن نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا آپ مجھے کیوں کسی سرکاری کام پر نہیں لگاتے ؟آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :ابوذر تم ایک کمزور آدمی ہواور یہ عہدے قیامت کے دن حسرت وندامت کا سبب ہوں گے سوائے اس کے جس نے اسے حق کے ساتھ لیا اور جوذمہ داریاں اس ڈالی گئی تھیں وہ اس نے ادا کردیں۔ہمارے اسلاف کایہی طریقہ تھاوہ سرکاری عہدوں سے بچاکرتے تھے۔ امام شافعی رحمہ اللہ نے مامون کے کہنے کے باوجود قاضی کا عہدہ نہیں لیا۔امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ نے منصور کی حکومت میں قاضی القضاةکا عہدہ قبول نہیں کیا اس طرح کے اور بھی بہت سے اکابر ہیں۔عوف بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے عہدے کا آغاز ملامت ، پھرندامت ،تیسردرجہ قیامت کے دن عذاب کاہے۔۔۔۔۔ الا یہ کہ عدل کیا جائے۔
ابن عمر رضی اللہ عنہماسے روایت ہے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ جس شخص کو بندوں پر حکمران مقرر فرمادے چاہے لوگ کم ہوں یا زیادہ قیامت کے دن اس سے پوچھاجاےت گا کہ ان میں اللہ کے احکام نافذ کیے یانہیں ؟یہاں تک کہ گھر والوں کے بارے میں بھی (یہی)سوال کیا جائے گا۔
انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ ہر اس آدمی سے جسے کسی کا نگہبان وحکمران مقرر کیا گیا یہ سوال کرے گا کہ اپنے ماتحتوں کا تحفظ کیا یا نہیں ؟یہاں تک کہ آدمی سے اس کے گھر کے بارے میں بھی سوال ہوگا۔
ابوامامہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں جوبھی آدمی دس یا ان سے زیادہ آدمیوں کاامیر بنتاہے قیامت کے دن اسے اس حال میں لایا جائے گا کہ اس کا ہاتھ اس کی گردن میں باندھا گیا ہوگایا اس کی نیکی اسے چھڑالے گی یا اس کا گناہ اس کو باندھ دے گا۔ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایاقیامت کے دن سب سے سخت عذاب ظالم حکمران کو ہوگا۔
مسلمان حکمران کی دوسری خوبی یہ ہے کہ اس کے اورعوام کے درمیان رکاوٹیں اور پردے حائل نہ ہوں بلکہ حکمران کے دروازے ہر وقت عوام کے لیے کھلے رہیں۔عمرو بن مرہ رضی اللہ عنہ نے معاویہ رضی اللہ عنہ سے کہا میں نے رسول اللہ سے صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے جو بھی امام ،حکمران ضرورت مندوں اور غریبوں کے لیے دروازے بند رکھتا ہے اللہ اس کے لیے آسمانوں کے دروازے بند کردیتا ہے۔
ابومریم ازدی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایااللہ جس کو مسلمانوں کے امور کا نگہبان بنادے اور وہ ان کی ضروریات وشکایات سننے کے بجائے درمیان میں رکاوٹیں کھڑی کردے اللہ اس کے لیے رکاوٹیں پیدا کردیتا ہے۔ایک روایت میں ہے اللہ جس کو مسلمانوں کا حاکم بنائے پھر وہ مظلوموں اورمساکین کے لیے دروازے بندکردے اللہ اس کے لیے اپنی رحمت کے دروازے بند کردیتا ہے ۔ہمارے لئے رسول اللہﷺ کی ذات گرامی اسوہ حسنہ ہے۔آپ اللہ کے نبی بھی تھے اورحکمران بھی تھے۔آپ خود عوام کے حالات کاجائزہ لیتے، مریضوں کی عیادت کرتے، جنازوں میں جاتے اور عام لوگوں کی دعوت قبول فرماتے تھے۔ ایک عورت نے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے کہامجھے آپ سے کچھ کام ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کسی بھی گلی کے ایک طرف بیٹھ جا میں بات کرلیتا ہوں۔اس نے ایسا ہی کیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی بات سنی جو اس کی ضرورت تھی وہ پوری کی۔
مسلمان حکمران کی تیسری ذمہ داری ہے عوام کے فائدے کے امور سرانجام دینا، ان سے نرمی وشفقت کرنا ان کی غلطیوں سے درگزرکرنا جوجس قسم کے فیصلے کا مستحق ہے عدل کے ساتھ وہ فیصلہ کرنا۔
یہ بات اس حدیث سے بھی ثابت ہے جس میں رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایاہے تم میں سے ہر شخص ذمہ دار ہے اور اپنی ذمہ داری کے لیے جوابدہ ہے۔امام اپنے عوام کے لیے ،آدمی اپنے گھر کے لیے اورنوکر مالک کے مال کے لیے جوابدہ ہے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم دعاکیاکرتے تھے اے اللہ جو شخص میری امت میں سے کسی معاملے کا نگہبان بنے اور وہ امت پر سختی کرے تو بھی اس پر سختی کر اور جو حکمران نرمی کرے اے اللہ توبھی اس کے ساتھ نرمی کر۔
حسن رحمہ اللہ کہتے ہیں معقل بن یسار tبیمار ہوئے ان کے پاس عبیداللہ بن زیادعیادت کے لئے آئے انہوں نے کہا میں رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی ہوئی حدیث تمہیں سنا رہا ہوں۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایاجو بھی شخص مسلمانوں کا حکمران بنتا ہے ان کے لیے کوشش نہیں کرتا ،خیرخواہی نہیں کرتا وہ جنت کی خوشبونہیں پائے گا حالانکہ وہ خوشبو سو سال کی مسافت تک آتی ہے۔
مسلمان حکمران کی پانچویںذمہ داری ہے مسلمانوں کے مال کا تحفظ اورعمالِ حکومت کا محاسبہ کرنا۔
اس ذمہ داری کی تائیداس حدیث سے ہوتی ہے جس میںعبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہماکہتے ہیں میں نے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا کہ تم میں سے ہرشخص ذمہ دار ہے اور اس سے اس کی ذمہ داری کے بارے میں سوال ہوگا ۔امام ذمہ دار ہے اس سے عوام کے بارے میں پوچھا جائے گا آدمی اپنے گھر میں ذمہ دار ہے اور اس کے لیے جواب دہ ہے۔ عورت اپنے گھر میںذمہ دار ہے اوراس کے لیے جواب دہ ہے ہر شخص ذمہ دار ہے اور ذمہ داری کے لیے جوابدہ ہے۔
مسلمان حکمران کی ساتویں ذمہ داری ہے ملک کی حفاظت ،دیار اسلام کا دفاع، مال وجان کا تحفظ اور امت کو خطرات سے محفوظ رکھنے کی کوششیں کرنا۔
انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں میں سب سے زیادہ بہادر اور سب سے زیادہ سخی تھے۔ ایک مرتبہ مدینہ والے رات کے وقت کسی آواز کو سن کر گھبراگئے اور آواز کی سمت چل پڑے تو آگے سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لارہے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم پہلے جاکرآوازکاسبب معلوم کرچکے تھے آپ گھوڑے کی ننگی پیٹھ پر تھے اورگلے میں تلوارلٹک رہی تھی۔ براءبن عازب رضی اللہ عنہ سے ایک آدمی نے پوچھا تم لوگ حنین والے دن بھاگ گئے تھے ؟براءنے کہا اللہ کی قسم رسول صلی اللہ علیہ وسلم نہیں بھاگے بلکہ جلد باز قسم کے لوگ بھاگے تھے اور قبیلہ بنوہوازن نے ان پر تیر برسائے تھے جبکہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم اپنے خچر پر(میدان میں ہی) تھے۔ ابوسفیان بن الحارث رضی اللہ عنہ نے خچرکی لگام پکڑرکھی تھی نبی صلی اللہ علیہ وسلم فرمارہے تھے میں نبی ہوں جھوٹا نہیں ہوں میں عبدالمطلب کی اولاد ہوں۔اس واقعہ سے واضح ہوتاہے کہ نبی ﷺ دنیاکے سب سے بہادرانسان تھے اپنی رعایاکاخیال رکھتے تھے۔لوگ سوئے ہوتے توآپ ان کی حفاظت ونگہبانی کیاکرتے تھے۔دعاہے اللہ ہمارے حکمرانوں کوبھی ان اوصاف سے متصف فرمادے۔آمین ثم آمین

اپنا تبصرہ بھیجیں