ایک عاشق رسول کا تعارف۔…تحریر :عبدالاحد سالار

غازی علم الدین کی پیدائش 4 دسمبر 1908 کو محلہ سر فروشاں لاہور میں ہوئی۔ ۔انکے والد لکڑی کا کام کرتے تھے ۔لاہور کا یہ جوان زیادہ پڑھا لکھا تونہیں تھا لیکن بہادری و شجاعت کی چمک اسکی آنکھوں میں نظر آتی تھی ۔ جب اس جوان نے احاطہ بلوغت میں قدم رکھا تھا کہ انہی دنوں ایک واقعہ پیش آیا ۔ہوا یوں کہ ایک انتہا پسند ہندو پرشاد پرتاب نے اپنے قلمی و خفیہ نام پنڈت چمپتی لال سے ایک گستاخانہ کتاب لکھی۔ اور یہ کتاب ایک ہندو پبلشر راج پال نے اپنے ذاتی پریس سے شائع کروائی۔ کتاب سے اشاعت تک کسی کو یہ معلوم نہ تھا کہ پنڈت چمپتی لال کون ہے؟ کیونکہ پرشاد پرتاب یعنی چمتی لال نے راج پال سے عہد لیا تھا کہ وہ کسی کو نہیں بتائے گا کہ یہ کتاب اسنے لکھی ہے لہذا راج پال نے کتاب میں مصنف کے نام والے خانے میں پرشاد پرتاب کا قلمی و خفیہ نام چمتی لال لکھا۔ چمپتی لال کا اصل نام تب سامنے آیا جب اس کتاب کی وجہ سے کشیدگی بڑھنے لگی۔
اس کتاب کی اشاعت کے بعد برصغیر کے مسلمانوں میں غم و غصے کی لہر دوڑ گئی۔ اور یہی غم و غصے کی لہر غازی علم و الدین کے جسم کے اندر بھی رواں ہوئی۔ اس کتاب کی اشاعت کے بعد مسلمانان برصغیر کی طرف سے جگہ جگہ احتجاجی مظاہرے ہوئے اور امت محمدیہ کے دلوں میں بدلے کی آگ اور گستاخ کو انجام تک پہنچانےکی آگ بھڑکنے لگی۔
مسلمانوں نے اپنے احتجاجات کے ذریعے اس کتاب پر پابندی کا مطالبہ کیا اور اسکے پبلشر کے خلاف عدالت میں مقدمہ دائر کیا۔ سیشن کورٹ نے راجپال کو مجرم قرار دیتے ہوئے سزا سنا دی اور مسلمان کے مشتعل ہوئے جذبات ذرا ٹھنڈے ہوئے لیکن ایک بار پھر قانون کی طرف سے مسلمانوں کے جذبات کو ٹھیس پہنچائی گئی۔ لاہور ہائیکورٹ نے راج پال کی سزا کے خلاف اپیل دائر کر دی تو سماعت میں مجرم راجپال کو اس وجہ سے رہا کر دیا گیا کہ اس وقت گستاخی مذہب کا کوئی قانون موجود نہیں تھا۔ ہائیکورٹ کے اس فیصلے سے ایک بار پھر مسلمان مشتعل ہوئے ۔ عاشقان رسول سڑکوں پر نکلنا شروع ہوئے ۔ کئی لوگ ہائیکورٹ سے اسکا فیصلہ واپس کروانے کی نیت سے گھر سے نکلے اور کئی تو راج پال کے قتل کا ارادہ لے کر گھر سے نکلے۔ مسلمانوں کے ڈر کی وجہ سے سرکار نے راجپال کو پولیس سیکیورٹی بھی فراہم کی۔
انہی دنوں میں جب احتجاجات جاری تھی توغازی علم الدین کسی کام سے بازار کی طرف جا رہے تھے۔ (راج پال کے متعلق انکا غصہ ابھی ٹھنڈا نہیں ہوا تھا)۔ تو انہیں لاہور کی تاریخی وزیر خان مسجد کے سامنے بھیڑ نظر آئی ۔ وہاں جا کر دیکھا تو وہ بھیڑ راجپال کے خلاف احتجاج کرنے کے لیے اکٹھی ہوئی تھی۔ بھیڑ کیا تھی جذبات کا ایک طلاتم تھا جو ہجوم کے نعروں کی گونج میں امڈ رہا تھا ۔اس ہجوم کی قیادت کرنے والے مقام مسجد کے امام صاحب نہایت غمزدہ لہجے میں بولے
“اوہ مسلمانوں شیطان راجپال نے ہمارے پیارے نبی صلی اللہ علیہ وآلہہ وسلم کی شان میں گستاخی کی ہے اور عدالت نے اس بری کر کے اسلام دشمنی کا کھلا ثبوت دیا ہے۔”
امام صاحب کے یہ الفاظ باقی لوگوں کے لیے تو شاید الفاظ تھے لیکن علم الدین کے لیے یہ ایک تیر کی طرح ثابت ہوئے جو سیدھا انکے دل پر جا کر لگے۔ احساس ندامت اور جذبہ بہادری کے ساتھ وہ وہاں سے چل پڑے۔ ندامت اسلیے تھی کہ ایک ہندو انکے نبی صلی اللہ علیہ وآلہہ وسلم کی شان میں گستاخی کر رہا ہے لیکن وہ کچھ نہ کر سکے۔ اور جذبہ بہادری اسلیے تھی کہ امام صاحب کے جملے سننے کے بعد اب وہ راجپال کے قتل کے لیے بہادری سے تیار تھے۔
وہ اپنے دوست رشید کے پاس پہنچے اور اسے ساری صورتحال سے آگاہ کیا اور راجپال کو واصل جہنم کرنے کی خواہش بھی ظاہر کی۔ رشید بھی راجپال کو اس گستاخانہ حرکت پر واصل جہنم کرنا چاہتے تھے لیکن قسمت نے راجپال کا قتل مرد مجاہد کے ہاتھ میں ہی لکھا تھا۔
دونوں دوستوں کو ایک دوسرے کی خواہش کا پتہ چلا تو ان دونوں نے قرعہ اندازی کی ۔ جسکے نام قرعہ نکلے گا وہی راجپال کو واصل جہنم کرے گا۔ پہلی بار قرعہ کیا گیا تو نام علم الدین کا نکلا۔ رشید کی خواہش پر دوبارہ قرعہ نکالا گیا تو نام علم الدین کا ہی نکلا۔ تیسری اور آخری بار قرعہ نکالا گیا تو بھی نام علم الدین کا ہی نکلا۔ یہ سب دیکھ کر رشید یہ سوچ کر کہ “شاید اللہ نے یہ سعادت علم الدین کے نصیب میں ہی لکھی ہے” تو علم الدین کے حق میں دستبردار ہو گیا۔
6 ستمبر 1929 کو علم الدین راجپال کو جہنم واصل کرنے کا ارادہ لیے گھر سے نکلے اور چھری چاقوں والے بازار میں جا پہنچے ۔وہاں انہوں نے ایک روپے کا ایک نوک دار خنجر خریدا اور اسے اپنی پتلون میں چھپا لیا۔ اور راج پال کے پریس آفس کی طرف عازم سفر ہوئے۔
جیسے جیسے انکے قدم راجپال کے دفتر کی طرف بڑھت جا رہے تھے عشق رسول انکی رگوں میں دوڑتا جا رہا تھا ۔ چہرے پر مسکان تھی کہ وہ آج گستاخی نبی کو اسکے منطقی انجام تک پہنچانے جا رہے ہیں۔
اسی اثناء میں غازی علم الدین راج پال کے دفتر جا پہنچے ۔ وہاں اسکے دو ملازم موجود تھے ۔ لیکن وہ خود موجود نہ تھا۔ پوچھنے پر پتہ چلا کہ راج پال باہر گیا ہے ابھی تھوڑی دیر تک آ جائے گا۔ غازی علم الدین پر ایک ایک سیکنڈ ایک صدی کی مانند گزر رہا تھا وہ جلد سے جلد شاتم رسول کو جہنم کی طرف عازم سفر کرنا چاہتے تھے۔ اتنے میں راج پال دفتر پہنچ گیا اور اپنی سیٹ پر بیٹھنے ہی لگا کہ غازی علم الدین نے پتلون میں چھپا خنجر نکالا اور پلک جھپکنے سے پہلے علم الدین راج پال پر جھپٹ پڑے اور اسکے سینے پر بیٹھ کر پے درپے اس پر خنجروں کے وار کر دیے۔ اتنا عظیم معرکہ انجام دینے کے بعد علم الدین نے بھاگنے کی بالکل کوشش نہیں کی بلکہ خود کو ملازموں کے حوالے کر دیا اور ملازموں نے پولیس کو بلایا تو پولیس علم الدین کو گرفتار کر کے لے گئی۔
پولیس نے ان پر قتل کا مقدمہ درج کیا اور عدالت میں کیس بھیج دیا۔ علامہ محمد اقبال کی درخواست پر انکا کیس قائداعظم نے لڑا۔ ہندو اخبارات نے اس وجہ سے قائداعظم پر کڑی تنقید کی لیکن انہوں نے تقنید کا رد کرتے ہوئے کہا ” کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات اقدس سے بڑھ کر کوئی چیز نہیں” اس جملے کے بعد انہوں نے علم الدین کا کیس اپنے ہاتھوں میں لے لیا۔ قائداعظم نے اپنی حکمت عملی کے تحت ایک موقع پر علم الدین سے کہا کہ وہ اپنے جرم کو قبول نہ کرے بلکہ صاف انکار کر دے۔ تو علم الدین نے قائداعظم کو دو ٹوک جواب دیا کہ میں یہ کیسے کہ دوں کہ یہ قتل میں نے نہیں کیا۔ مجھے اس قتل پر ندامت نہیں بلکہ فخر ہے۔ عدالت نے کیس کی سماعت کی اور علم الدین کو سزائے موت سنا دی۔ جب انہیں سزائے موت سنا دی گئی اور یہ کٹہرے سے باہر آںے لگے تو انہوں نے کمرہ عدالت میں بلند آواز سے کہا”
“کہ آپسے توہین عدالت برداشت نہیں ہوتی تو میں توہین رسالت کیسے برداشت کر لوں” اس جملے نے عدالت میں موجود اہل ایمان کے ایمان کو جھنجوڑ کے رکھ دیا۔ اور سب ہی خواہش کرنے لگے کہ کاش راج پال کے قتل کا شرف انہیں حاصل ہوتا لیکن قدرت نے یہ شرف کسی اور کے ہاتھ میں ہی لکھا تھا۔
پھر وہ دن بھی آ پہنچا جب عاشق رسول غازی علم الدین کو اپنے رہبر و راہنما صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا دفاع کرنے کے جرم میں تختہ دار پر لٹکایا جانا تھا۔ 31 اکتوبر 1929 کو علم الدین کی پھانسی کا دن تھا ۔ مجسٹریٹ نے انسے انکی آخری خواہش پوچھی تو انہوں نے کہا کہ میں دو رکعت نوافل ادا کرنا چاہتا ہوں۔ انہیں انکی خواہش کو پایہ تکمیل تک پہنچانے کی اجازت دے دی گئی ۔ بعد از ادائیگی نوافل انہیں تختہ دار پر لایا گیا۔ پھندا انکے گلے میں ڈالا گیا تو انہوں نے کہا” اے لوگوں گواہ رہنا میں نے راجپال کو گستاخی رسول کے جرم میں جہنم واصل کیا ۔ آج میں آپ سب کے سامنے کلمہ طیبہ پڑھتے ہوئے اپنی جان حرمت رسول صلی اللہ علیہ وآلیہ وسلم پر نچھاور کر رہا ہوں۔ وہاں موجود ہر شخص نے یہ نوٹ کیا کہ یہ جملے کہنے کے بعد علم الدین کے چہرے پر ایک الگ قسم کا اطمینان تھا۔ایک پر مسرت مسکان تھی۔ غازی علم الدین کو پھانسی کے بعد برطانوی حکومت نے انکی میت بغیر نماز جنازہ کے جیل کے قبرستان میں دفن کر دی۔اس انتہا پسندانہ عمل پر بھی مسلمان اپنے جذبات قابو میں نہ رکھ سکے اور انہوں نے شدید احتجاج کیا اور علامہ اقبال کی قیادت میں مہم چلائی ۔ بالآخر اقبال نے متعلہ افسر کو یقین دہانی کروائی کہ ” لاہور میں تدفین کے وقت کوئی ہنگامہ آرائی نہیں ہوگی” تو انگریز افسر نے قبر کشائی کر کے لاہور میں تدفین کرنے کی اجازت دے دی۔ شہادت سے پندرہ دن بعد جب انکی قبر کشائی کی گئی تو انکا جسد خاکی پہلے دن کی طرح تر و تازہ تھا اور کوئی بو وغیرہ نہ تھی۔ علم الدین شہید کے والد نے علامہ اقبال سے کہا کہ آپ علم الدین کی نماز جنازہ پڑھائیں تو اقبال نے معذرت کرتے ہوئے کہا کہ میں بہت بڑا گناہ گار ہوں میں اتنے بڑے عاشق رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی نماز جنازہ نہیں پڑھا سکتا۔ اسلیے کسی دوسرے مولوی نے انکی نماز جنازہ پڑھائی ۔ تاریخ لاہور کی یہ سب سے بڑی نماز جنازہ تھی جو چھ کلو میٹر لمبی تھی اور کم و بیش چھ لاکھ شرکاء پر مشتمل تھی۔ نماز جنازہ کے بعد ہر ایک کی خواہش تھی کہ وہ علم الدین کی میت کو کندھا دے مگر رش کے باعث لاکھوں لوگوں کی یہ خواہش پوری نہ ہو سکی البتہ علامہ اقبال نے شہید کی میت کو کندھا دیا اور اپنے ہاتھوں سے شہید کو لحد میں اتارا۔ لحد میں اتارتے ہوئے انہوں نے رنجیدہ لہجے میں کہا کہ “آج ایک ان پڑھ ہم پڑھے لکھوں پر بازی لے گیا اور ہم دیکھتے رہ گئے۔”
علم الدین کی شہادت کے بعد ایسے حالات پیدا ہو گئے کہ انگریزوں کو قوانین میں تبدیلی کرنا پڑی اور توہین مذاہب کا باقائدہ ایک قانون بنانا پڑا۔ بعد ازاں اس قانون کو پاکستان پینل کوڈ کا بھی حصہ بنایا گیا اور اس وقت کے حاکم جرنل ضیا الحق نے توہین قرآن کریم کی سزا عمر قید جبکہ توہین رسالت کی سزا سزائے موت قرار دی تھی۔اس طرح ایک 29 سالہ نوجوان کی شہادت ان قوانین میں تبدیلی کا پیش خیمہ بنی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں