حُب رسول صلی اللہ علیہ وسلم اور غازی علم الدین شہید رحمۃ اللہ

کسی بھی مسلمان کے لیے خاتم الاانبیاء، محبوب کبریاء، امام الرسل، سرور کائنات، محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت ایمان کی پہلی شرط ہے۔ عمل کے اعتبار سے کمزور ترین مسلمان کے دل کی اتھاہ گہرائیوں میں بھی حُب رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی چنگاری دہک رہی ہوتی ہے۔ نبی رحمت کی شان اقدس پر جب کوئی دشنام طرازی کرے تو وہ جوش پکڑتی ہے اور ہر شاتم رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو جلا کر بھسم کر دیتی ہے۔ عمیر بن عدی رضی اللہ عنہ سے، عبداللہ بن عتیق رضی اللہ عنہ تک، محمد بن مسلمہ رضی اللہ عنہ سے عامر چیمہ شہید رحمۃ اللہ تک اسلامی تاریخ ایسے سینکڑوں انمٹ اور ایمان افروز واقعات سے مزین ہے۔ برصغیر کی تاریخ میں ایسے عظیم انسانوں میں سے سب سے نمایاں نام غازی علم الدین شہید رحمۃ اللہ کا ہے۔
غازی علم الدین شہید رحمۃ اللہ گستاخوں کو جہنم واصل کر کے جنت ابدی پانے والے شہداء کے گلدستے میں وہ خوشبودار پھول ہیں جن کے ذِکر سے مسلمانوں کے ایمان آج بھی معطر ہو جاتے ہیں، جبکہ گستاخان رسول صلی اللہ علیہ وسلم پر ہیبت و لرزہ طاری ہو جاتا ہے۔
3 دسمبر 1908ء کو لاہور کے علاقے کوچہ چابک سواراں میں ایک بڑھئی “طالع مند” کے گھر آنکھ کھولنے والے “علم دین” نے ابتدائی تعلیم اپنے محلے کی مسجد اور بعد ازاں اندرون اکبری دروازہ ایک مدرسہ میں حاصل کی۔ تعلیم سے فراغت کے بعد اپنے آبائی پیشہ کو اختیار کرتے ہوئے، اپنے والد اور بڑے بھائی “میاں محمد امین” کی شاگردی میں، فن نجار میں مہارت حاصل کی۔ اور 1928ء میں خیبر پختونخواہ، کوہاٹ منتقل ہو کر بنوں بازار میں اپنا فرنیچر کا کام شروع کیا۔
1920ء کی دہائی میں ہندوؤں کی شروع کردہ شدھی اور سنگٹھن نامی تحریکوں نے مسلمانوں کے خلاف دل آزار لٹریچر شائع کرنے کا آغاز کیا، اسی سلسلے کی کڑی میں ،”رنگیلا رسول” نامی کتاب لکھی گئی جس کو “راج پال” نامی ملعون نے پبلش کیا تو مسلمانوں میں غم و غصہ کی لہر دوڑ گئی۔ مسلمانوں نے اس کتاب کو تلف کرنے کی درخواست کی۔ جس سے انکار پر مسلمانوں نے تحریک چلائی اور دفعہ 153الف کے تحت فرقہ وارانہ منافرت پھیلانے کے الزام میں مقدمہ دائر کیا۔ مجسٹریٹ نے ناشر کو 6 ماہ قید کی سزا دی۔ مگر مجرم کے ہائی کورٹ میں اپیل کرنے پر جسٹس “دلیپ سنگھ مسیح” نے اس کو رہا کردیا۔ اس سلسلے میں مسلمانوں نے متعدد جلسے جلوس نکالے لیکن حکومت نے دفعہ 144 نافذ کر کے اہم رہنماؤں کی گرفتاریاں کیں اور جیلوں میں قید کر دیا۔ فرنگی حکومت سے انصاف کے حصول میں مایوس ہونے کے بعد مسلمانوں نے اپنی قوت بازو سے کام لینے کا مصمم ارادہ کیا۔ چنانچہ راج پال کو ٹھکانے لگانے کے لئے سب سے پہلے ایک نوجوان غازی عبد العزیز کوہاٹ سے لاہور آیا۔ ڈھونڈتے پوچھتے ناشر کی دوکان پر جا پہنچا۔ اتفاق سے اس وقت دوکان پر راج پال نہیں تھا بلکہ اس کی جگہ اس کا ایک دوست “جتندر” موجود تھا، جو مارا گیا۔ فرنگی سرکار نے “عبدالعزیز” کو 14 سال قید کی سزا سُنا دی۔
حالات سے بےخبر “علم دین” ان دنوں لاہور موجود تھے کام سے واپسی پر ایک جلسہ میں نوجوان مقرر کو یہ واقعہ بیان کرتے سُنا، تو دل میں موجود حُب رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا ٹھاٹھیں مارتا سمندر سونامی میں تبدیل ہوا، کوئی نہیں جانتا تھا کہ “راج پال” نامی گستاخ عنقریب اس میں غرق ہو جائے گا۔ غازی علم الدین شہید رحمۃ اللہ نے “آتما رام” نامی کباڑیے کی دوکان سے اپنے مطلب کی چُھری خریدی اور ملعون پبلشر کی طرف چل دیے، 6 اپریل 1929ء کی دوپہر “راج پال” کو اس کے دفتر میں گھس کر للکارا اور چُھری کے وار سے جہنم واصل کر دیا۔ انگریز سرکار کو گرفتاری کے بعد تفتیش اور چالان میں کوئی دقت اس لیے بھی پیش نہ آئی کیونکہ ملزم خود اقبالی تھا۔ دفعہ 302 کی فرد جرم عائد کر کے، 10 اپریل سے شروع ہونے والی سماعت کے نتیجہ میں، 22 مئی 1929ء کو عدالت نے پھانسی کی سزا کا حکم سنایا۔ 30 مئی کو ہائی کورٹ میں اپیل دائر کی گئی۔ 15 جولائی کو قائداعظم محمد علی جناحؒ اس مقدمہ کی وکالت کے لیے ہائی کورٹ میں پیش ہوئے لیکن عدالت نے اپیل خارج کر دی اور 31 اکتوبر 1929ء کو 20 سال 10 ماہ 28 دن کی عمر میں میانوالی جیل کے اندر آپ کو پھانسی دے دی گئی۔ اور جسد خاکی کو جیل میں ہی بغیر جنازے دفن کر دیا۔ ملک بھر میں شدید ردعمل کے بعد انگریز حکومت شہید کے جسد اطہر کو کڑی شرائط کے ساتھ مسلمانوں کے حوالہ کرنے پر راضی ہو گئی۔
15 نومبر 1929ء کو نعش لاہور پہنچے کے بعد لاہور کی تاریخ کے سب سے بڑے جنازے میں 6 لاکھ سے زائد افراد نے شرکت کی۔ قاری شمس الدین، خطیب مسجد وزیر خان کی زیر امامت اس تاریخی اجتماع میں شامل “مولانا ظفر علی خان” نے کہا “کاش یہ مقام مجھے نصیب ہوتا” اور شہید کو اپنے ہاتھوں لحد میں اتارنے والے “علامہ محمد اقبال” نے فرمایا تھا “ترکھاناں دا مُنڈا بازی لے گیا”
پیغمبر امن، محسن انسانیت، رحمت اللعالمین، محمد کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی شان اقدس کی توہین و تکذیب وہی لوگ کرتے ہیں، جو دنیا میں نفرت پھیلا کر بدامنی اور دہشت گردی کا راج پورے شباب پر دیکھنا چاہتے ہیں۔ ماضی قریب میں ڈینش اخبار نے جناب محمد کریم صلی اﷲ علیہ کے گستاخانہ خاکے شائع کیے۔ 2012 ء میں امریکہ میں توہین آمیز فلم ریلیز ہوئی، چند ہفتے پہلے ہالینڈ کی اسلام دشمن جماعت فریڈم پارٹی کے سربراہ ملعون “گیرٹ ولڈرز” نے ایک بار پھر دنیا کا امن داؤ پر لگاتے ہوئے گستاخانہ خاکوں کی نمائش کا اعلان کیا تھا، جو بعد ازاں سیکیورٹی مسائل (یہی جذبہ علم الدین شہید) پوری مسلم دنیا، بالخصوص پاکستان اور نئی قائم ہونے والی “عمران خان” کی حکومت کے شدید ردعمل کے بعد ملتوی کر دیے گئے۔ آج کا دن ان سب گستاخوں کے لیے واضع پیغام ہے، حرمت رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے ہم سب علم الدین ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں