مطالعہ جامع ترمذی شریف…تحریر : میر افسر امان

صحاح ستہ حدیث کی چھ کتابوں کو کہتے ہیں۔ جس میں صحیح بخاری،صحیح مسلم،سنن ابن ماجہ،سنن ابو دئود، جامع ترمذی اورسننن نسائی شامل ہیں۔ میں ایک عام سا مسلمان ہوں مجھے دین سیکھنے کا شوق ہے۔ الحمداللہ میں نے ان چھ حدیث کی کتابوں میں سے پانچ کا مطالعہ مکمل کر لیا ہے۔اب میں نے صحاح ستہ کی آخری کتاب ،سنن نسائی کی تین جلدیں میں سے پہلی جلد کا مطالعہ شروع کر دیا ہے۔ میرا روزانہ کامعمول ہے کہ فجر کی نماز کے بعد پہلے قرآن شریف کے ایک رکوع کا بمعہ تفسیر مطالعہ کرتا ہوں۔ پھر حدیث کی کتاب میں سے ایک ورق یعنی دو صفحے پر جتنی بھی حدیثیں لکھی ہوتیں ہیں ان کا مطالعہ کرتا ہوں۔ میں نے ١٩٩٤ ء میں صحاح ستہ کی چھ کتابیں، جن کی کل سترہ جلدیں ہیں، ھدیہ کرا کر اپنی ذاتی لائبریری میں اضافہ کیا تھا۔ اسی وقت سے الحمد اللہ میں ان کا مطالعہ کر رہا ہوں۔ حسب معمول جب بھی کسی حدیث کی کتاب کا مطالعہ مکمل کرتا ہوں تو اس کتاب کے تعارف اور حاصل مطالعہ پر مضمون لکھ کر اخبارات میں اشاعت کے لیے ای میل کرتا رہا ہوں۔ پاکستان کی اخبارات اور رسائل نے ان مضامین کو شائع کیا ہے۔اس سے میرا مقصد یہ ہے کہ عام لوگوں میں قرآن کے ساتھ ساتھ حدیث کے مطالعہ کا شوق پید اہو۔ اخبارات میں اس سے قبل بخاری، مسلم، سنن ابن ماجہ اور سنن ابو دئود کے چار مضامین شائع ہو چکے ہیں۔آج میںصحاح ستہ کی پانچویں کتاب پر مضمون لکھ کر اخبارات کی نظر کر رہا ہوں۔ان مضامین سے میرا مطلب یہ ہوتا ہے کہ لوگوں کو ترغیب دلا نے کی کوشش کروں کہ جب الحمد اللہ، ہر مسلمان کے گھر میں قرآن شریف موجود ہیں تو قرآن کے ساتھ ساتھ حدیث کی کتابیں بھی ہونی چاہییں۔اچھا تو یہ ہے کہ جن حضرات کے گھروں میں ذاتی لائبریریاں ہیں ان میں صحاح ستہ بھی موجود ہوں۔

عام مسلمانوں کے گھروں میں صحاح ستہ ہونا اگر ممکن نہیں تو صحاح ستہ سے علماء حضرات نے ایک ایک جلد میں حدیثیں جمع کی گئیں وہ تو کم از کم موجود ہونی چاہییں۔ بہت عرصہ پہلے میں نے اسی طرح کی ایک کتاب جس کانام”ارشادات رسولۖ اکرام” ہے،ھدیہ کرائی تھی۔اس کتاب کے مولف مولانا حامد الرحمان صدیقی صاحب ہیں۔ یہ کتاب مدینہ پبلشنگ کمپنی ایم اے جناح روڈ کراچی نے ١٩٨٢ء میں شائع کی ہے۔ اللہ کرے یہ کتاب اب بھی مارکیٹ میں موجود ہو۔ میں اس سے قبل چھوٹی چھوٹی حدیث کی کتابوں جیسے، زادہ راہ، انتخاب حدیث اور راہ عمل وغیرہ کا مطالعہ کر چکا تھا۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ جب لوگ قرآن شریف کا مطالعہ کریں تو ساتھ حدیث کا بھی مطالعہ کریں۔ قرآن اللہ کا کلام ہے جو وحی کے ذریعہ ہمارے پیارے پیغمبرحضرت محمد صلی اللہ علیہ و سلم پر نازل ہوا۔ حدیث قرآن کی تشریح ہے جو رسول اللہۖ نے اپنے قول،فعل اور عمل سے کی ہے۔اس کا مطلب یہ ہوا کہ قرآن اور حدیث رسولۖاللہ لازم و ملظوم ہیں۔ قرآن کو حدیث اور حدیث کو قرآن سے سمجھا جا تا ہے۔ کیونکہ حدیث قرآن کی تشریع ہے۔

اب ہم صحاح ستہ کی پانچویں کتاب جامع ترمذی پر بات کرتے ہیں۔امام ترمذی کا اسم گرامی ابو عیسیٰ محمد بن عیسیٰ ترمذی ہے۔آپ ٢٠٩ھ میں مقام ترمذ میں پیدا ہوئے اور ٢٧٩ھ میںفوت ہوئے۔ علم کا بہت شوق تھا۔ جب ذرا ہوش سنبھالا تو تحصیل علم کے لیے کوفہ، بصرہ، واسط،رے، خراساں کے سفر کیے اور حجاز میں کافی وقت گزرا۔ مراتب صحاح ستہ میں جامع ترمذی کا پانچواں نمبر ہے۔اس کتا ب کی درجنوں اہل علم نے شروح لکھیں ہیں۔برصغیر میں صحاح ستہ کااردو ترجمہ سب سے پہلے علامہ نواب وحید الزمان نے کیاہے۔ جامع ترمذی کا ترجمہ ان کے بھائی علامہ بدیح الزامان نے کیا ہے۔ میرے مطالعہ میں جو کتاب ہے اس کو ضیاء احسان پبلشرز نے ١٩٨٨ء میں دو جلدوں میںشائع کیا۔ پہلی جلد میںابواب الطہارت سے ابواب الشہادت٣٣ ابواب ہیں۔ اس میں طہارت، نماز، وتر،،جمعہ، زکوة،صوم وغیرہ سے لے کر شہادت تک حدیثیں جمع کی ہیں۔ دوسری جلد ابواب الزّہد سے ابواب المناقب ١٣ ابواب پرمشتمل ہے۔ اس جلد میں زہد سے لے کرمناقب صحابہ کے معلق حدیثیں بیان کی ہیں۔ ہر حدیث تحریر کرنے کے بعد اس کوروایت کرنے والے پہلے شخص سے آخری تک سارے حضرات کا نام درج کیا ہے۔ یہ بھی لکھا کہ کس کا حافظہ کمزور تھا ، کس کا قوی تھااور کس قبیلہ سے اس کا تعلق تھا۔ تحقیق کر کے یہ بھی بتایا کہ یہ حدیث صحیح ہے، حسن ہے،یا غریب ہے۔ مطلب یہ رسولۖ اللہ کے ہر قول ،فعل اور عمل کو حدیثوں میں بیان کیا گیاہے۔مسلمان دنیا کی واحد قوم ہے جس نے علم لنساب ایجاد کیا ہے۔

حدیث بیان کرنے والے نے رسول ۖ اللہ کی بات خود سنی اور بیان کی۔ صحابہ نے حضورۖ سے کوئی بات سنی۔پھر کسی دوسرے صحابہ سے بیان کی۔ کچھ صحابہ ہر وقت رسولۖ اللہ کے پاس رہتے تھے۔سب سے زیادہ حدیثیں ابو ہریرہ نے بیان کیں ۔ اس لیے کہ وہ ہر وقت رسولۖ اللہ کے پاس رہتے تھے۔ کچھ اپنے دنیاوی کاموں میںلگے ہوتے تھے۔حاضر نے رسولۖاللہ کی بات سن کر جو غیر حاضر ہوتا تھا اس سے بیان کی۔صحابہ سے حدیثوں تابعین تک پہنچی پھر تبہ تابعین تک پہنچیں۔ پھرکسی نے اپنے والد سے حدیث سنی اور آگے کسی کو بیان کی۔ اس طرح بیچ میں کئی واسطے پیدا ہو گئے۔ صحاح ستہ کو ترتیب دینے والے حضرات نے حدیثیں بیان کرنے والوں کے متعلق مکمل چھان بین کر حدیثیں تحریر کیں۔حدیث بیان کرنے والے کے متعلق معلوم کیا کہ وہ کام کرتا ہے۔ صادق امین ہیں یا جھوٹ بولنے والا ہے۔ لین دین میں صحیح ہے یا غلط۔ کاروبار اللہ اور رسول ۖ کے احکامات کے مطابق کرتا ہے۔ کہاں کا رہنے والا ،کس قوم سے تعلق ہے وغیرہ۔ اس طرح حدیث بیان کرنے لاکھوں لوگوں کے حالات قلم بند کر دیے گئے جسے علم لنساب کہتے ہیں۔ معلومات کرنے کے بعدجو سچا تھا اس سے حدیث لی اور جو جھوٹا تھا اس سے حدیث نہیں لی۔ اگر لی بھی تو ساتھ لکھ دیا کہ ہم اس سے حدیث لے تو رہے ہیں مگر یہ شخص جھوٹا ہے۔ ایک شخص سے حدیث سننے کے بعد چار مذید لوگوں سے تصدیق کرنے کے بعد حدیث تحریر کی۔امام بخاری بیان کرتے ہیں کہ ایک شخص کے پاس حدیث لینے گیا تو وہ اپنی بکری کو اپنی جھولی میں ہاتھ مار مار کر پب پب کر کے اپنی طرف بلا رہا تھا۔ جب کہ اس کی جھولی میں بکری کا چارہ موجود نہیں تھا۔ امام بخاری نے اس سے حدیث نہیں لی اور کہا جو شخص جانور سے جھوٹ بول رہا ہے اس سے حدیث نہیں لوں گا۔

صاحبو! مسلمان دنیا کی خوش قسمت قوم ہے کہ اس کے پاس اللہ کاکلام اُسی صورت میںموجود ہے جس صورت میں ہمارے پیغمبر حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل ہوا تھا۔ اور اللہ کے آخری پیغمبرۖ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے قول، فعل اور عمل کو بھی صحابہ نے سنبھال کر ررکھا اور آگے بیان کیا۔ قربان جائیں پھر علماء اسلام پر کہ جنہوںنے اسے کتابوں کے اندر محفوظ کیا۔ جو امت مسلمہ کے اب بھی صحاح ستہ کی شکل میں موجود ہیں۔ جب تک مسلمان اللہ اور رسولۖ کی ان تعلیمات پر عمل کرتے رہے تو دنیا میںاُس وقت کے معلوم چار براعظموں میں سے پونے چار بر اعظموں پر اسلام کا جھنڈا لہرا دیا تھا۔ مسلمانوں نے ایک ہزار سال تک دنیا پر کامیابی سے حکومت کی۔ بقول شاعر اسلام علامہ اقبال:۔

دشت تو دشت ہیں،دریابھی نہ چھوڑے ہم نے

بحر ظلمات میں دوڑا دیے گھوڑے ہم نے

پھر مسلم حکمران دولت کی ہوس ،عیاشیوں میں مبتلا ہو کر موت سے خوف کھانے لگے۔ ایک حدیث کا مفہوم ہے کہ فرمایا رسولۖ اللہ نے کہ ایک و قت ایسا آئے گا کہ میری امت پر غیر قومیں اس طرح ٹوٹ پڑیں گے جیسے بھوکے کھانے پر ٹوٹ پڑھتے ہیں۔ صحابہ نے عرض کیا امت تعدادمیںکم ہو جائے گی ۔ فرمایا نے نہیں، بلکہ امت کو وہن کی بیماری لگ جائے گی۔ پوچھا کیا وہن کی بیماری کیا ہے،۔ فرمایا دولت سے محبت اور موت کا خوف۔کیا مسلم قوم کی آج کل ایسی ہی حالت نہیں ہو گئی ہے؟ یہ اس وجہ سے ہوئی کہ مسلم قوم نے قرآن اورحدیث پر عمل کرنا چھوڑدیا ہے۔ اس پر مسلم ارباب اقتدار کو غور و فکر کرنا چاہیے۔ اور انہی تعلیمات پر خود اور مسلم قوم کو عمل کرانا چاہیے۔ جیسے شروع میں مسلمانوں نے عمل کر کے دنیا پر ایک ہزار سال حکومت کی تھی۔ اسی میں مسلم قوم کی سرفرازی پنہاں ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں