انصاف جیت گیا،درندگی ہار گئی ۔۔۔مولانا محمد جہان یعقوب

زینب قتل کیس کے مجرم عمران کو کوٹ لکھپت جیل لاہور میں پھانسی دے دی گئی، مجرم پر 8 کم سن بچیوں سے زیادتی اور قتل کے الزامات ثابت ہوئے تھے۔مجرم عمران کو مجسٹریٹ غلام سرور کی موجودگی میں بدھ کی صبح ساڑھے پانچ بجے تختہ دار پر لٹکایا گیا، سزا پر عملدرآمد کے وقت کمسن زینب کے والد محمد امین بھی پھانسی گھاٹ پر موجود تھے۔اس موقع پر کوٹ لکھپت کے باہر سخت سیکورٹی انتظامات کیے گئے تھے۔بعدازاں مجرم عمران کی لاش ورثا کے حوالے کردی گئی۔پھانسی کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے زینب کے والد نے کہا کہ وہ اپنی آنکھوں سے مجرم کا انجام دیکھ کر آرہے ہیں، آج انصاف کے تقاضے پورے ہوئے، مجرم کو سزا پر مطمئن ہوں۔انہوں نے کہا کہ مجرم عمران بے خوف و خطر خود چل کر تختہ دار تک آیا، اس کے چہرے پر زرہ برابر بھی ندامت کے آثار نہیں تھے۔قبل ازیں کوٹ لکھپت جیل آمد پر زینب کے والد کا کہنا تھا کہ مجرم کو سرعام پھانسی دینی چاہیے تھی، اگر سرعام پھانسی نہیں دینی ہے تو اس قانون کو ہی ختم کردینا چاہئے۔قصور میں متعدد کم سن بچیوں کو زیادتی کے بعد قتل کرنے کے کئی واقعات رونما ہوئے لیکن مجرم قانون کی گرفت سے باہر تھا،4 جنوری 2018 کو 7سالہ زینب کی لاش ملنے کے بعد قانون نافذ کرنے والے ادارے حرکت میں آئے اور 19 دن بعد زینب کے گھر کی عقبی گلی کا رہائشی عمران پکڑا گیا۔عمران نے ابتدائی تفتیش میں ہی اعتراف جرم کر لیا تاہم جب ڈی این اے کرایا گیا تو وہ 8 بچیوں کا قاتل نکلا۔دوران تفتیش مجرم نے دل دہلا دینے والے انکشافات کیے۔ 24 سالہ عمران کے مطابق قصور کے ایک قحبہ خانے میں جانے اور غیراخلاقی فلمیں دیکھنے سے وحشت سوار ہو جاتی تھی، جس کے لئے وہ کم سن اور معصوم بچیوں کو ورغلا کر لے جاتا، پہلے زیادتی کا نشانہ بناتا اور پھر گلا دبا کر مار دیتا۔واضح رہے کہ17 فروری کو لاہور کی انسداد دہشت گردی کی خصوصی عدالت نے زینب سے زیادتی و قتل کے مجرم عمران کو 4 بار سزائے موت کا حکم سنایا، عدالت نے مجرم عمران کو 6 الزامات کے تحت سزائیں سنائی تھیں۔مجرم عمران کو ننھی زینب کے اغوا، زیادتی اور قتل کے ساتھ ساتھ انسداد دہشت گردی ایکٹ کی دفعہ 7کے تحت 4،4 مرتبہ سزائے موت سنائی گئی، عمرقید اور 10لاکھ روپے جرمانہ، لاش کو گندگی کے ڈھیر پر پھینکنے پر7سال قید اور 10 لاکھ جرمانے کی سزا بھی سنائی گئی تھی۔انسداد دہشت گردی عدالت نے معصوم بچیوں کے قتل کیسز میں مجرم کو مجموعی طور پر 21 بار سزائے موت کا حکم دیا۔عدالت نے کائنات بتول کیس میں بھی مجرم عمران کو 3 بار عمر قید اور23 سال مزید قید کی سزا سنائی، اس کے علاوہ مجرم کو 25 لاکھ روپے جرمانہ اور 20 لاکھ 55 ہزار روپے دیت ادا کرنے کا بھی حکم دیا تھا۔6 سالہ کائنات بتول کو 12 نومبر 2017 کو قصور گارڈن سے اغوا کیا گیا، درندہ صفت نے لکڑی کے ٹال میں رات گئے زیادتی کا نشانہ بنایا اور پھینک دیا۔پراسیکیوٹر عبدالروف وٹو کی جانب سے دائر استغاثہ کے مطابق سفاک قاتل عمران نے ننھی بچیوں کو زیادتی کے بعد قتل کردیا تھا، 7 سالہ نور فاطمہ کو عمران نے 11 اپریل 2017 کو قصور امین ٹاون سے اغوا کیا ،2 فرلانگ کے فاصلے پر زیر تعمیر مکان میں زیادتی کے بعد قتل کردیا، مجرم کیخلاف تھانہ صدر قصور میں مقدمہ درج ہوا۔7 سالہ نور فاطمہ کے ساتھ زیادتی اور قتل کیس میں بھی 4 بار سزائے موت 20 لاکھ جرمانہ اور 10 لاکھ روپے دیت کا حکم جاری کیا۔8 سالہ لائبہ کے ساتھ زیادتی اور قتل کیس میں 4 بار سزائے موت 20 لاکھ جرمانہ اور 10 لاکھ روپے دیت کا حکم جاری کیا، لائبہ عمر کو بستی خادم آباد سے 8 جولائی 2017 کو اغوا کیا، 500 میڑ فاصلے پر شاہ عنایت کے قریب زیر تعمیر مکان میں درندگی کا نشانہ بنایا اور قتل کیا۔کمسن عائشہ آصف 7 جنوری 2017 قصور بی ڈویژن سے اغوا کی گئی، معصوم کو سیٹھی کالونی کے قریب زیر تعمیر مکان میں درندگی کے بعد قتل کیا گیا۔عدالت نے عائشہ آصف کے ساتھ زیادتی اور قتل کیس میں 4 دفعہ سزائے موت، 20 لاکھ جرمانہ اور 10 لاکھ روپے دیت کا حکم جاری کیا۔8 سالہ نورین کو حیات آباد سے 9 جولائی 2017 کو اغوا کیا گیا اور اندرون موری گیٹ قصور کے قریب زیادتی کے بعد قتل کردیا گیا۔4سالہ ایمان فاطمہ کو سفاک قاتل نے 24 فروری 2017 کوقصور علی پارک سے اغوا کیا اور آدھا کلو میٹر کے فاصلے پر زیر تعمیر مکان میں زیادتی کا نشانہ بناکر قتل کرڈالا۔ان کیسز کی سماعت انسداددہشت گردی عدالت کے جج نے روزانہ کی بنیاد پر کوٹ لکھپت جیل میں کی۔قبل ازیںلاہور ہائیکورٹ نے زینب زیادتی و قتل کیس کے مجرم عمران کو سر عام پھانسی دینے کی استدعا مسترد کردی تھی،قصور میں زیادتی کے بعد قتل کی گئی 7 سالہ زینب کے والد امین انصاری نے عدالت عالیہ سے مجرم کو سر عام پھانسی دینے کی درخواست کی تھی۔لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس سردار شمیم احمد خان اور جسٹس شہباز علی رضوی پر مشتمل لاہور ہائیکورٹ کے بینچ نے مذکورہ درخواست پر سماعت کی۔درخواست میں ہوم سیکرٹری، آئی جی اور مجرم عمران کو فریق بنایا گیا۔ درخواست گزار امین انصاری نے موقف اختیار کرتے ہوئے کہا کہ مجرم عمران کی تمام اپیلیں مسترد ہوچکی ہیں،مجرم کے ڈیتھ وارنٹ جاری ہو چکے ہیں، سپریم کورٹ سے بھی مجرم عمران کی اپیل خارج ہو چکی ہے، انسداد دہشت گردی ایکٹ 1997 کے سیکشن 22 کے مجرم کو سر عام پھانسی دی جا سکتی ہے۔درخواست گزار نے عدالت سے استدعا کی کہ مجرم عمران کو سرعام پھانسی کی سزا دینے کا حکم جاری کرے۔عدالت نے ریمارکس دیئے کہ آپ سیکشن 22 پڑھیں، جس میں لکھا ہے کہ یہ حکومت کا کام ہے اور ہم حکومت نہیں۔اس کے ساتھ ہی عدالت عالیہ نے مجرم عمران کو سرعام پھانسی دینے سے متعلق مقتولہ زینب کے والد کی استدعا مسترد کردی۔معصوم زینب کے والد محمد امین کا کہنا ہے کہ مجرم عمران علی کو پھانسی دینا معمولی سزا ہے،مجرم کو سرعام پھانسی کامطالبہ کیا تھا۔کوٹ لکھپت جیل کے باہر میڈیا سے گفتگو میں زینب کے والد کا کہنا تھا کہ ہم نے مجرم کو سر عام پھانسی دینے کا مطالبہ کیا تھا، اگر سرعام پھانسی نہیں دینی ہے تو اس قانون کو ہی ختم کردینا چاہیے،مجرم کو سرعام پھانسی دی جاتی تو نشان عبرت بنتا۔صحافیوں کے ایک سوال کے جواب میں محمد امین کا کہنا تھا کہ مجرم کے گھر والوں نے ہم سے رابطہ نہیں کیا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں