جانثاران محمد…تحریر:محمد طاہر تنولی

اسلامی تاریخ کا ایک ایسا انسان .جس نے دنیا اسلام کی سب سے بڑی اسلامی سلطنت قاہم کی۔جس کی سلطنت میں دنیا کا سب سے بڑا شہر قاساریہ فتح ہوا۔جس کی سلطنت 64لاکھ مربع میل زمین کے علاقے پرپھیلی ہوئ تھی۔جس کی سلطنت چین سے لیکر پرتگال کے آخری کنارے تک پھیلی ہوئ تھی۔جس کے ایک شہر میں تین سو بازار تھے ۔اور ایک لاکھ فوجی رات کو اس شہر کا پہرہ دیاکرتے تھے۔اس شہر کو فتح کرنے والا وہ عظیم انسان امیر المؤمنین سیدنا امیر معاویہ ؓ بن ابو سفیان ؓ تھا۔جس امیر معاویہؓ کے بارے میں پیران پیر شیخ عبدالقادر جیلانی ؒ کایہ قول ہے کہ:اگر میں حضرت معاویہؓ کے راستے میں بیٹھا ہوں ۔اور وہاں سے حضرت معاویہؓ کی سواری گزرے ۔اوراس سواری کے پاؤں کی دھول اڑکر اگر میرے چہرے پر پڑجاے ۔تو میں سمجھوں گا کہ مجھے جنت مل گئ ہے۔حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی حیات کےدور میں ۔حضرت معاویہؓ ایک لمحے کے لئے بھی حضور صلی اللہ علیہ وسلم سےجدانہیں ہوے۔کبھی قرآن لکھتے ہیں۔کبھی خطوط لکھتے ہیں۔ایک مرتبہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم چلتے ہیں۔ اورحضرت معاویہؓ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے جارہے ہیں۔اورجب حضورصلی اللہ علیہ وسلم نے پیچھے لوٹ کر دیکھا کہ معاویہ ؓ تو میرے ساتھ ہی آرہے ہیں۔ہاتھوں میں لوٹا اٹھایا ہوا ہے پانی کا۔حضورصلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت کے لئے جارہے ہیں۔حضورصلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی چادر مبارک اتار کر معاویہؓ کے چہرے پر ڈال دی۔اور حضرت معاویہؓ وہ چادر لے کر گھر آگئے ۔اور اپنی بیوی سے کہنے لگے۔دیکھنا یہ چادر بڑی بابرکت ہے۔جب میں مرجاؤں تو میرےمرنے کے بعد میرے کفن میں یہ چادر رکھ دینا ۔تاکہ میری نجات ہوجاے ۔حضورصلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ اتنا عشق تھا۔
(خطبات فاروقی جلد دوم)
ایک مرتبہ حضرت امیر معاویہؓ حضورؐ کی خدمت میں بیٹھے ہیں، ایک شہزادہ آکر کہتا ہے یا رسول اللّٰہؐ! میں عیسائیوں کا شہزادہ ہوں، غسان کی ریاست سے آیا ہوں، میرا باپ بادشاہ ہے، میں نے تورات اور انجیل میں اپنے راہیوں اور پادریوں سے سنا ہے کہ آپ آخرالزمان نبی ہے، میں اسی علاقے میں آیا تھا تو میں زیارت کیلئے آگیا، وہ چلنے لگا تو کہنے لگا یا رسول اللّٰہؐ ! میں اگر تحفہ اور ہدیہ آپؐ کو دوں تو آپؐ قبول کرینگے ؟ حضورؐ نے فرمایا ضرور میں تیرا تحفہ قبول کرونگا۔ اب وہ رخصت ہوتا ہے تو کہتا ہے میرا سامان چھ میل کی فاصلے پر ایک جگہ پڑا ہے ، آپؐ کسی خادم کو میرے ساتھ بھیج دیں، جو ہدیہ لے آئےحضورؐ کے خصوصی خدام میں حضرت انسؓ کا نام مشہور ہے یا حضرت زیدؓ کا نام مشہور ہے۔ لیکن اس وقت ان دونوں میں کوئی نہیں تھا۔ حضرت معاویہؓ حضورؐ کی خدمت میں بیٹھے تھے اور ان کی عمر 24 سال تھی۔ حضورؐ نے فرمایا معاویہ! جاؤ ۔ اس عیسائ شہزادے کے ساتھ جاؤ ، جو چیز تمہیں دے لے آؤ ۔ حضرت معاویہؓ اس شہزادے کیساتھ چل پڑے ، یہ واقعہ تطہیرالجنان میں بڑی تفصیل کیساتھ لکھا ہے۔
حضرت معاویہؓ جب چلے حضورؐ کا حکم تھا کہ چلو ، وہ چل پڑے جوتا ان کا دوسری طرف پڑا تھا مسجد کے ، جوتا نہیں پہنا کہ حضورؐ کا حکم ہے چلو اور یہ شہزادہ جارہا ہے میں اس کے ساتھ چلوں۔ اب شہزادہ مسجد سے باہر نکلا ۔ حضرت معاویہؓ بھی نکلے عرب کی گرمی، دھوپ ہے، ریت ہے، صحرا ہے، جب باہر مدینہ سے نکلے، حضرت معاویہؓ کے پاؤں جلنے لگے تو حضرت معاویہؓ کے پاؤں جلنے لگے تو حضرت معاویہؓ نے اس شہزادے سے کہا کہ اپنا جوتا مجھے دےدو یا اپنی سواری پر سوار کرلو ۔ تو اس شہزادے نے کہا کہ تو کمی ہے، تو نوکر ہے، تو غلام ہے، میں شہزادہ ہوں۔ میں کمیوں کو اپنا جوتا کیسے دےدوں تو کمی اور نوکر ہے۔
دوستو! حضرت معاویہؓ تو مکہ کے سردار ابوسفیانؓ کے لڑکے تھے۔ لیکن آج تو حکم پیغمبرؐ کا تھا۔ حضرت معاویہؓ خاموش ہوگئے اور چھ میل تک اس گھوڑ سوار شہزادے کیساتھ عرب کی دھوپ اور ریت میں امیر معاویہؓ بھاگتے رہے۔ چھ میل بعد اس کا پڑاؤ آیا۔ اس نے حضرت معاویہؓ کو سامان دیا۔ حضرت معاویہؓ سامان لے کر واپس آئے۔
حضورؐ نے پوچھا معاویہؓ تم کیسے گئے اور کیسے آئے۔
حضرت معاویہؓ نے سارا واقعہ بیان کیا۔ حضورؐ بڑے خوش ہوئے کہ بغیر جوتے کے دھوپ میں گیا۔ تجھے اس نے کمی کہا تو تم واپس کیوں نہیں آئے ۔ حضرت معاویہؐ نے فرمایا یا رسول اللّٰہؐ حکم آپؐ کا تھا۔ میرے تو پاؤں جلتے ہیں میرا جسم بھی جل جاتا تو معاویہ واپس نہیں آتا۔ حضورؐ نے اس کے جواب میں فرمایا تھا کہ…..# احلممنامتی_معاویہ….. میرے امت کا سب سے بڑے حوصلے والا معاویہ بن ابی سفیان ہے. اگر بات صرف اتنی ہوتی تو میں شاید اس کا ذکر نہ کرتا، لیکن اس واقعے کے وقت حضرت معاویہؓ کی عمر 24 سال تھی۔ پورے 34 سال گزرجانے کے بعد جب حضرت معاویہؓ دمشق کے تخت پر خلیفہ بنے اور ساری دنیا کے نصف حصّے سے زیادہ پر حضرت معاویہؓ کو حکومت ملی اور تن تنہا دنیا میں اتنا بڑا اسلامی حکمران بنا، حضرت معاویہؓ کی فوجیں ملک غسان کو فتح کرنے گیئں، تین مہینے بعد فوج واپس آئی تو مبارک باد پیش کی گئی کہ امیرالمومنین! غسان فتح ہوگیا اور ہم چھ ہزار قیدی قید کرکے لائے ہیں (سپہ سالار نے کہا)۔ حضرت معاویہؓ کے دربار میں جب وہ چھ ہزار قیدی پیش کیے گئے، ان کے ہاتھ اور پاؤں رسیوں سے بندھے ہوئے تھے۔ حضرت معاویہؓ نے ان قیدیوں کو دیکھا تو سب سے آگے جو قیدی تھا وہی غسان کی ریاست کا شہزادہ تھا، جس شہزادہ نے معاویہؓ کو پہننے کیلئے جوتا نہیں دیا تھا اور حضرت معاویہؓ نے دیکھا کہ یہ وہی شہزادہ ہے، پہچان لیا حضرت معاویہؓ نے ۔ فرمایا ! شہزادے کو میرے مہمان خانے میں لے جاو ۔ ایک مہینہ تک حضرت معاویہؓ اپنے مہمان خانے میں اس کی میزبانی کرتے رہے۔ اس نے نہیں پہچانا کہ یہ امیرالمومنین ہے۔ یہ حضرت معاویہؓ وہی پیغمبرؐ کا غلام ہے جس کو میں نے کمی کہا تھا اس نے نہیں پہچانا، جب ایک مہینہ بعد وہ جانے لگا تو معاویہؓ نے فرمایا کہ میں نے تیری وجہ سے سارے قیدیوں کو رہا کردیا اور تجھے بھی رہا کیا اب وہ رخصت ہوتا ہے، دس ہزار درہم معاویہؓ نے اسے ہدیہ کے طور پر دییے تو وہ لوگوں سے پوچھتا ہے یہ کون ہے؟ انہوں نے بتایا کہ یہ امیر معاویہؓ بن ابوسفیان ہے۔ سفیان کا لڑکا ہے، رسول اللّٰہؐ کا غلام ہے، اب اس کے ذہن میں آیا کہ یہ تو وہی نوجوان ہے جس کو میں نے پہننے کیلیے جوتا نہیں دیا تھا۔ اور میں نے اس کو کہا تھا کہ تو “کمی” ہے۔ اب اس کی آنکھیں شرم سے جھک گئیں۔ حضرت معاویہؓ کے پاس آکر کہنے لگا امیرالمؤمنین! آپ وہی معاویہؓ ہے جو میرے ساتھ پیدل گئے تھے حضرت معاویہؓ نے فرمایا اے شہزادے! ہاں میں محمدؐ کا وہی کمی ہوں۔ میں محمدؐ کا وہی نوکر ہوں، اس نے کہا میں شرمندہ ہوں، حضرت معاویہؓ نے فرمایا میں نے تجھے پہلی مرتبہ ہی پہچان لیا تھا اور سب کچھ میں نے پہچاننے کے بعد کیا۔ تیرا اخلاق یہ تھا کہ تو نے مجھے جوتا نہ دیا شاید تیرے مذہب نے تجھے یہ اخلاق سکھایا ہو۔ اور میرا اخلاق یہ تھا کہ تجھے بتلایا بھی نہیں۔ میں نے تجھے پوچھا بھی نہیں، میں نے پہچان کر تیری رسیاں کھلوایئں، میں نے پہچان کر تیرے ہاتھ کھلوائے اور پہچان کر تجھے مہمان بنایا، پہچان کر تجھے دس ہزار درہم دیئے، وہ زارو قطار رونے لگا اور کہنے لگا امیرالمؤمنین! میں نے بڑے بڑے بادشاہوں کے دربار دیکھےتیرے سے زیادہ کوئی حوصلے والا نہیں دیکھا مجھے جلدی کلمہ پڑھا کر مسلمان کر دیجئے۔
اسی بات کو حضورؐ نے فرمایا تھا…..احلم منامتی_معاویہ….
میری امت کا سب سے بڑا حوصلے والا معاویہ بن ابی سفیان ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں