آئی ایم ایف کا سودی قرضہ اور حکومتی مجبوریاں…محمد نعیم شہزاد

معلم انسانیت صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیمات میں سے انتہائی اہم اور ہمارے حالات سے مطابقت رکھتا فرمان ہے “ما عال من اقتص
جس نے میانہ روی اختیار کی، کبھی تنگدست نہ ہو گا۔ مگر ہمارا المیہ ہے کہ ہم نے اسلام کی سیدھی، سچی اور آسانیاں پیدا کرنے والی تعلیمات سے پہلو تہی برتی اور اپنے اخراجات کو ہمیشہ دستیاب وسائل سے بڑھا کر رکھا۔ اور ہمارے سیاستدانوں کی بصیرت کے بھی کیا ہی کہنے کہ ایک شخص کا نجی کاروبار تو ترقی کی منازل طے کرتا رہے مگر جب ملک کی باگ ڈور اس کے ہاتھ آئے تو معیشت ناکارہ ہو جائے۔ گزشتہ حکومتوں کی شاہ خرچیوں، ناقص منصوبہ سازی اور عدم دلچسپی کے سبب ملکی معیشت تباہ حالی کا شکار ہے۔ اور اس مردہ معیشت کو کھڑا کرنے کے لیے مزید قرضے لیے جاتے ہیں۔
حکومت پاکستان نے تا دمِ تحریر آئی ایم ایف سے قرض لینے کا فیصلہ کیا ہے۔ جہاں اس فیصلے سے عوام نا خوش ہیں اور حکومت کو مختلف پلیٹ فارمز پر اپنا احتجاج ریکارڈ کروا رہے ہیں وہیں بعض اقتصادی ماہرین بھی اسے پاکستان کے لیے مفید قرار نہیں دے رہے۔ پھر اس میں کئی ایک قباحتیں ہیں جن کا ذکر بعد میں کیا جائے گا قبل اس کے یہ معلوم ہونا چاہیے اور پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین، وزیراعظم پاکستان جناب عمران خان صاحب کو اس بات کا ادراک و اعتراف کر لینا چاہیے کہ حکومتی معاملات، ملکی وسائل و مسائل اور درست لائحہ عمل کے انتخاب میں ان سے کچھ سنگین غلطیاں ہوئی ہیں۔ اسے انسانی اسکے غلطی پر محمول کیا جائے یا ناتجربہ کاری کہا جائے بہرحال اسے تسلیم کیے بغیر کوئی چارہ نہیں ہے۔ خان صاحب کے حواریوں کی miscalculation اور کج فہمی کا نتیجہ ہے کہ حکومت کو اپنے بیان کے مخالف عمل کرنا پڑتا ہے۔ اگر سنجیدگی سے معاملات کو دیکھا ہوتا اور جامع منصوبہ بندی کی ہوتی تو اپنے بیانات سے منحرف نہ ہونا پڑتا۔ اب بھی خان صاحب کو چاہیے کہ خوب گہری نظر سے حالات کا مطالعہ کریں اور قوم سے خطاب کر کے قوم کو اعتماد میں لیں تاکہ حکومت کے حوالے سے قائم ہونے والی بے یقینی کا خاتمہ ہو سکے۔
آئی ایم ایف سے قرضہ کی بات ہو تو اس کی تاریخ قریبا 38 برس ہے۔ ان برسوں میں واحد ضیاء الحق کا دور ایسا تھا کہ آئی ایم ایف سے قرض نہیں لیا گیا۔ یہ بات بھی واضح ہے کہ آئی ایم ایف سے قرض آسان شرائط پر تو ملے گا نہیں ملکی خودمختاری داؤ پر لگے گی قرض لے کر اپنے روپے کی قدر گرانا ہو گی وہی ڈالر جو وزیراعظم کے حلف سے پہلے 100 روپے کے قریب آنے کو تھا اب 150 ہر آنے کو تیار ہے۔ اور مشکل شرائط پر قرض لے کر مہنگائی کے عفریت کو کھلا چھوڑنا ہو گا۔ اور ملکی خودمختاری اور پر آئی ایم ایف کی ڈکٹیشن اور عملداری کی چھری چلانی پڑے گی۔ اقوام عالم جس قدر مبنی بر انصاف اقدام کرتی ہیں سب عیاں ہے۔ یعنی وہ جو وزیر خارجہ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں پر جوش خطابت کے جوہر دکھا آئے تھے اور بڑے بڑے دعوے کیے تھے وہ دھرے کے دھرے رہ جائیں گے۔ وسیع تر قومی مفاد میں بڑے فیصلے لینے کی ضرورت ہے۔
اب مشکل کے اس وقت میں آخر کیا کیا جائے؟
اس حوالے سے دو امور انتہائی اہمیت کے حامل ہیں۔ اپنے دوست ممالک سعودی عرب اور چین سے مالی معاونت لی جاۓ۔ ان ممالک سے قرضہ آسان شرائط اور عزت و خودمختاری کی ضمانت کے ساتھ مل سکتا ہے۔ پھر کیوں ہم آئی ایم ایف کے پنجہ استبداد کا خود شکار ہوں۔ بس ٹھان لیں کہ یہ قرضہ نہیں لینا کیونکہ یہ ملک و قوم کے اجتماعی مفادات سے متصادم ہے۔ اور کسی بھی صورت نہ تو سود مند ہے اور نہ ہمارا انتخاب۔ اب یکسوئی سے دستیاب آپشنز پر غور کریں۔ ایک حل تو یہ ہی ہے کہ بجائے آئی ایم ایف کے دوست ممالک سے قرض لیا جائے۔ جیسا کہ پنجابی زبان کی ایک کہاوت کا مطلب ہے کہ “اگر دوست مارے گا بھی تو سائے میں پھینکے گا۔” تو دوست قرض دے گا بھی تو نقصان پہنچانے کا خواہاں نہیں ہو گا۔ مزید براں قومی خزانے میں کرپشن کرنے والے حکمرانوں اور اعلی افسران سے لوٹی ہوئی دولت واپس لائی جائے۔ کفایت شعاری اپنانے کے لیے مہم سازی کی جائے اور اجتماعی توبہ و استغفار کی جائے۔ کیونکہ توبہ سے اللہ تعالی مال و دولت، انعام و وسائل اس قدر عطا فرما دیتے ہیں کہ انسان گمان بھی نہیں کر سکتا۔ پھر اللہ کے نزدیک کچھ بھی ممکن نہیں۔ اگر ایک کرپٹ سسٹم میں کرپشن ختم کرنے کے دعوی داروں کی حکومت بن سکتی ہے تو قرض میں ڈوبی ہوئی یہ قوم بھی عزت و وقار سے جی سکتی ہے۔ بجائے آئی ایم ایف کی شرائط ماننے کے رب العالمین کی مان لیں۔ دنیا بھی سنور جائے گی اور عقبی بھی۔ بے شک ابن آدم خطا کار ہے مگر بہترین خطا کار توبہ کرنے والا اور اصلاح کر لینے والا ہے۔ مالی بے ضابطگیاں دور کریں، کرپٹ افراد کا کڑا احتساب کریں اور دنیاوی طاقتوں اور اداروں کی بجائے صرف اپنے خالق و مالک کے حضور جھکیں وہ اپنے بندوں کو کبھی رسوا نہیں کرتا اور وہ اکیلا ہی مددگار کافی ہے۔

غیرتِ قومی دکھاؤ، عزت کا چن لو راستہ
توڑ دو کشکولِ ذلت، سود نہ ہم کو کھلا

ہے بغاوت یہ کھلی اللہ اور رسول کی
حاکم وقت ٹھہر جا، کچھ خوف تو اللہ کا کھا

مشکلوں کے گہرے بادل آپ ہی چھٹ جائیں گے
اپنی جبینِ نیاز کو بس اس کے در پر تو جھکا

اپنا تبصرہ بھیجیں