پاکستان کا المیہ، حاکمیت کا مستقل مسئلہ…اطهر مسعود واني

پاکستان کے قیام کو 72سال گزر جانے کے باوجو حاکمیت کا مسئلہ بدستور موجود ہے جس وجہ سے ملک اقتصادی بدحالی اور عدم استحکام کا شکار چلا آ رہا ہے۔پاکستان بننے سے پہلے انڈین کانگریس میں شامل اور اتحادی مسلمان رہنمائوں،مولانا عبدالکلام آزاد،خان عبدالغفار خان،شیخ عبداللہ کی طرف سے کہا جاتا تھا کہ پاکستان جاگیر داروں کی جاگیر ہو گا ۔اس بات کا اندازہ لگانا مشکل نہیں کہ برٹش حکومت کی طرف سے اس یقین دہانی ،کہ نئے ملک پاکستان کو آزاد کے بجائے قابو میں رکھا جائے گا اور یہی وہ یقین دہانی تھی جس بنیاد پر انڈین کانگریس پاکستان کے قیام پر رضامند ہوئی۔انگریزوں کی طرف سے کانگریس کو پاکستان کے مستقبل کے حوالے سے یقین دہانی کی اطلاع کی بنیاد پر ہی مولانا عبدالکلام آزاد،خان عبدالغفار خان اورشیخ عبداللہ پاکستان میں عوامی حاکمیت کے بجائے جاگیر داروں کی حاکمیت کا دعوے کرتے رہے۔ پاکستان کی تاریخ کے ستر سال اس بات کے گواہ ہیں کہ انگریزوں کا انتظام کمزور نہیں تھا،پہلے جاگیر دار وں، بیوروکریسی اور فوج کا ٹرائیکا سازشی حاکمیت قائم کرنے کی جستجو میں رہا اور بعد ازاں فوج کو ہی حاکمیت کے حوالے سے کلیت حاصل ہو گئی۔

بابائے قوم،بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح نے پاکستان کے پہلے گورنر جنرل کے طور پر ہی یہ بات محسوس کر لی تھی کہ بعض ادارے خود کو آئین و قانون کے پابند نہیں سمجھتے ۔اس حوالے سے کوئٹہ سٹاف کالج میں قائد اعظم کی تقریر ایک واضح ثبوت ہے۔11ستمبر1947کو قائد اعظم کی وفات کے تین سال بعد ملک کے پہلے وزیر اعظم نوابزادہ لیاقت علی خان کو ایک سازش کے مطابق راولپنڈی میں ایک جلسے سے خطاب کے دوران قتل کر دیا گیا ۔قائد اعظم کی وفات کے سر خواجہ ناظم الدین گورنر جنرل اور لیاقت علی خان کے قتل کے بعد وزیر اعظم بن گئے۔لیاقت علی خان کے قتل کے ساتھ ہی ملک میں اقتدار پر بالادستی کی سازشیں تیز ہو گئیں اور اس کے لئے سیاسی انتشار کا خوب اہتمام کیا گیا۔

1954میں ہونے والے بالواسطہ الیکشن میں مسلم لیگ کامیاب ہوئی۔خواجہناظم الدین کے وزیر اعظم بننے پرسرغلام محمد گورنر جنرل بنے اور1955میں ان کی بر خاستگی پر سکندر مرزاپہلے گورنر جنرل اور سات ماہ بعد ہی ملک کے پہلے صدر بنے۔خواجہ ناظم الدین ڈیڑھ سال ہی وزیر اعظم رہے اور ان کے بعدمحمد علی بوگرہ1953سے1955تک وزیر اعظم رہے۔اکتوبر 1955 میں مسلم لیگ سے الگ ہونے والے چند رہنمائوں نے فوجی اور سول سروس کے اہم افراد کی طرف سے پاکستان ریپبلکن پارٹی قائم کی جس کے صدر خان عبدالجبار خان المعروف خان صاحب( خان عبدالغفار خان کے بڑے بھائی) وزیر اعلی مغربی پاکستان اور مرکزی پارلیمانی لیڈر ملک فیروز خان نون جنہیں بعد میں (1957 – 1958) وزیر اعظم بنوایا گیا۔سیاسی انتشار کی سازشیں مزید تیز ہوتی گئیں۔

بوگرہ دو سال چار ماہ ہی وزیر اعظم رہے اور ان کے بعد 1955میںچودھری محمد علی 13ماہ وزیر اعظم رہے۔1956سے1957تک حسین شہید سہر وردی 13ماہ ، اس کے بعد ابراہیم اسماعیل چندریگر دوماہ اور پھرفیروز خان نون تقریبا نو ماہ ملک کے پہلے مارشل لاء تک وزیر اعظم رہے۔جنرل ایوب کے مارشل لاء کے بعد سکندر مرزا کو بھی صدر کے عہدے سے ہٹا دیا گیا۔1956میں پاکستان کا پہلا آئین تشکیل دیا گیا۔23مارچ 1956کو یوم جمہوریہ کے موقع پر منظور کئے جانے والے اس آئین میں ملک کو اسلامی جمہوریہ قرار دیا گیا اور اس کے لئے پارلیمانی نظام مہیا کیا گیا۔پارلیمانی نظام حکومت کے ساتھ وزیر اعظم کو حکومت کا سربراہ بنایا گیا۔قومی اسمبلی کے ممبران کی تعداد 300(150مغربی پاکستان،150مشرقی پاکستان)مسلمان صدر ،ریاست کے رسمی سربراہ اور اندرونی یا بیرونی خطرے کی صورت ملک میں ایمرجنسی کا اعلان کر نے کا اختیار،خود مختار عدلیہ،سپریم کورٹ اعلی عدالت،بنیادی حقوق آئین میں شامل ،قومی زبانیں انگریزی،اردو اور بنگالی۔سکندر مرزا نے صدر کی حیثیت سے آئین کی خلاف ورزی کرتے ہوئے قومی،حکومتی امور میں دخل اندازی کی اور دو سال میں چارمنتخب وزرائے اعظم کو برخاست کیا۔سکندر مرزا نے 1958 میںمارشل لاء کی حمایت میں آئین کو معطل کر دیا اور اس کے بعد جنرل ایوب خان نے سکندر مرزا کو معزول کیا اور خود کو صدر قرار دیا۔

جنرل ایوب کی حکومت کی سیاسی سازشوں سے1962میں مسلم لیگ کے ارکان کو توڑا گیا اور فوجی حکومت کی سرپرستی میں کنونشن مسلم لیگ قائم کی گئی۔جنرل ایوب حکومت کا بنایانیا آئین جون1962میں نافذ کیا گیا جو 1969میں جنرل یحیی کے مارشل لاء تک قائم رہا۔اس آئین کے ذریعے صدارتی طرز حکومت اور صدر کا انتخاب باواسطہ(بلدیاتی ممبران کے ذریعے) قائم کیا گیا ۔جنرل ایوب نے اپنے اسی آئین کے تحت 1965میں الیکشن کرائے جس میں فوج کی سرپرستی میں قائم کنونشن مسلم لیگ اور مادر ملت محترمہ فاطمہ جناح کی قیادت میں پانچ بڑی سیاسی جماعتوں کے اتحاد کے درمیان مقابلہ ہوا۔اس اپوزیشن اتحاد کے نو نکاتی ایجنڈے میں ،ملک میں پارلیمانی طرز حکومت کی بحالی،بالغ رائے دہی کی بنیاد پر براہ راست الیکشن کے امورشامل تھے۔جنرل ایوب کے اس الیکشن میں پہلے ایک ماہ الیکشن مہم کا وقت دیا گیا پھر اس میں بھی تخفیف کر کے اسے نو میٹنگز تک محدود کیا گیا۔جنرل ایوب حکومت کی طرف سے عوام کو فاطمہ جناح کے جلسوں میں شرکت سے روکتے ہوئے مادرملت کے خلاف کردار کشی کی بھر پور پروپیگنڈہ مہم بھی چلائی گئی۔تاریخی حقائق کے مطابق اس الیکشن میں محترمہ فاطمہ جناح کے حمایت یافتہ بلدیاتی ممبران اکثریت میں جیت گئے لیکن جنرل ایوب حکومت کی طرف سے فاطمہ جناح کے کامیاب امیدواروں کو جبر اور رشوت سے صدارتی الیکشن میں جنرل ایوب کو ووٹ دینے پر مجبور کیا گیا۔معتبر اطلاعات کے مطابق جنرل ایوب حکومت کی دھونس اور ہٹ دھرمی کے باوجود صدارتی الیکشن میں فاطمہ جناح کامیاب رہیں لیکن جنرل ایوب حکومت نے جنرل ایوب کو کامیاب قرار دے دیا۔الیکشن کمیشن سمیت تمام اداروں اور محکموں نے جنرل ایوب کی بھر پور مدد و معاونت کی۔پاکستان سے عوامی حاکمیت کو ختم کرنے اور غاصبانہ حاکمیت کو قائم رکھنے کے لئے اس وقت بھی” سب ایک پیج ” پہ تھے۔

جنرل ایوب حکومت کے خلاف بھرپورعوامی تحریک کی صورتحال میں جنرل ایوب نے اپنے آئین کے مطابق اقتدار سپیکر اسمبلی کے حوالے کرنے کے بجائے جنرل یحیی کو مارشل لاء لگاتے ہوئے اقتدار سنبھالنے کی دعوت دی۔جنرل یحیی کے1970کے الیکشن میں مغربی پاکستان سے ذولفقار علی بھٹو کی پیپلز پارٹی اور مشرقی پاکستان سے شیخ مجیب الرحمان کی عوامی لیگ نے کامیابی حاصل کی۔قومی اسمبلی کی300سیٹوں میں سے عوامی لیگ نے 160سیٹوں پر کامیابی حاصل کرتے ہوئے حکومت بنانے کا حق حاصل کیا لیکن 81سیٹیں حاصل کرنے والی پیپلز پارٹی کے سربراہ ذوالفقار علی بھٹو اور فوج کی ملی بھگت سے شیخ مجیب الرحمان کی عوامی لیگ کو اقتدار منتقل نہیں کیا گیا جس پر مشرقی پاکستان میں علم بغاوت بلند ہو گیا اور اس کا نتیجہ ہندوستانی فوج کشی کے ذریعے مشرقی پاکستان کے خاتمے اور بنگلہ دیش کے قیام پر منتج ہوا۔باقی ماندہ مغربی پاکستان کے نئے پاکستان میں جنرل یحیی نے چیف مارشل لاء ایڈ منسٹریٹر کی طور پر اقتدار بھٹو کے حوالے کیا اور بھٹو ملک کے وزیر اعظم بننے سے پہلے پاکستان کے چیف مارشل لاء ایڈ منسٹریٹر بنے۔1973میں پارلیمانی نظام حکومت پر مبنی نیا آئین دیا گیا۔1977ء میں وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو کے کرائے گئے دھاندلی زدہ الیکشن اور نو ا پوزیشن جماعتوں کے قومی اتحاد کی احتجاجی تحریک کے بعد 5جولائی1977کو جنرل ضیاء الحق نے اس وقت ملک میں مارشل لاء لگا دیا کہ جب حکومت اور اپوزیشن کے درمیان سمجھوتہ ہونے کو تھا۔بھٹو دور کے صدر چودھری فضل الہی کے بعد1978میں جنرل ضیا ء الحق خود صدر بن گئے۔جنرل ضیاء الحق نے ایک نام نہاد ریفرنڈم کراتے ہوئے خود کو مزید پانچ سال کے لئے صدر قرار دلا دیا۔جنرل ضیاء الحق نے آئین کو معطل کئے رکھا اور افغانستان میں روس کے خلاف امریکی جہاد کے تناظر میں ملک میں اسلامائیزیشن کا عمل شروع کیا ۔1985میں آئین بحال،ترامیم کے ساتھآٹھ ویں ترمیم کے ساتھ جس کے تحت پارلیمنٹ ،وزیر اعظم کے اختیارات صدر کو منتقل کئے، اس حوالے سے آئینی ترامیم بھی کرائی گئیں۔1985میں الیکشن کرانے کے بعد محمد خان جو نیجو کو وزیر اعظم بنوا دیا۔1988میں وزیر اعظم محمد خان جونیجو کو بر طرف کرنے کے بعد صدر جنرل ضیا ء الحق ایک قاتلانہ حملے میں،فوجی جہاز تباہ ہونے سے ہلاک ہو گئے۔اس کے بعد جنرل اسلم بیگ نے فوج کے سربراہ کی حیثیت سے ملک میں الیکشن کرائے جس کے ذریعے بینظیر بھٹو کی سربراہی میں پیپلز پارٹی کی حکومت قائم ہوئی۔

سیاسی انتشار کی سازشیں ختم نہیں ہوئیں ۔بینظیر بھٹو کی18ماہ کی حکومت کے بعد1990میں الیکشن ہوئے جس میں اپوزیشن جماعتوں کے اسلامی جمہوری اتحاد کے میاں محمد نواز شریف وزیر اعظم بنے اور نواز شریف کے دو سال آٹھ ماہ کے اقتدار کے بعد1993کے الیکشن میں کامیاب ہو کر بینظیر بھٹو دوبارہ وزیر اعظم بن گئیں اورتقریبا تین سال حکومت کے بعد 1997کے الیکشن میں مسلم لیگ (ن)میاں نواز شریف ایک بار پھر وزیر اعظم بن گئے۔وزیر اعظم نواز شریف کی طرف سے فوج کے سربراہ جنرل پرویز مشرف کو عہدے سے ہٹانے پر 12اکتوبر1999کو جنرل پرویز مشرف کی سربراہی میں فوجی بغاوت کے بعد ملک میں مارشل لاء لگا دیا گیا۔جنرل پرویز مشرف حکومت نے اپنی سرپرستی میں مسلم لیگ(ن)کے افراد کو توڑتے ہوئے اپنی سرپرستی میں مسلم لیگ(ق) بنوائی اور2002ء میں الیکشن کراتے ہوئے میر ظفر اللہ جمالی کو وزیر اعظم بنوا دیاتاہم19ماہ کے بعد جمالی کو ہٹا کر چودھری شجاعت حسین کو دو ماہ سے بھی کم عرصے کے لئے وزیر اعظم بنایا اور اس کے بعد 2004میں شوکت عزیز کو وزیر اعظم بنوایا جوتین سال سے زائد عرصہ وزیر اعظم کے عہدے پر رہے۔2004میںآئین کی 17ویں ترمیم میں بھی جنرل ضیاء الحق کی طرح پارلیمنٹ او ر وزیر اعظم کے اختیارات صدر کو ہی حاصل رہے۔

جنرل پرویز مشرف 2007تک فوج کے سربراہ کے ساتھ ملک کے صدر کے عہدے پر بھی براجمان رہے۔2007میں ریٹائرمنٹ قبول کرنے کے بعد تقریبا ایک سال ہی مزید (2008تک)صدر کے عہدے پر رہے۔پرویز مشرف کے دور حکومت میں ہی 2008کے الیکشن کی مہم کے دوران راولپنڈی کے اسی لیاقت باغ (پرانا نام کمپنی باغ)میں بینظیر بھٹو اسی طرح قتل کر دی گئیں جس طرح پراسرار طور پر سازش کے ذریعے وزیر اعظم لیاقت علی خان کو قتل کیا گیا تھا۔الیکشن کے نتیجے میں پیپلز پارٹی کی حکومت بنی ۔پیپلز پارٹی کے شریک چیئر مین آصف علی زرداری نے اپنے لئے صدر اور یوسف رضا گیلانی کے لئے وزیر اعظم کے عہدے کا انتخاب کیا ۔فوج کے ساتھ اتفاق اور اختلافات کے باوجود پیپلز پارٹی کی حکومت نے پانچ سال کی معیاد پوری کی ۔2010میں 18ویں ترمیم کے ذریعے صدر کے اختیارات کم کئے گئے اور پارلیمانی نظام قائم ،بحال کیا گیا۔معیاد حکومت پوری کرنے کے باوجود ایک مقدمے کے حوالے سے وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی کو تقریبا چارسال بعد وزیر اعظم کے عہدے سے ہٹایا گیا اور راجہ پرویز اشرف تقریبا نو ماہ کی بقایہ معیاد تک وزیر اعظم رہے۔2013کے الیکشن میں مسلم لیگ (ن) نے کامیابی حاصل کرتے ہوئے حکومت بنائی اور میاں محمد نواز شریف وزیر اعظم منتخب ہوئے۔پیپلز پارٹی کے دور حکومت کی طرح میاں محمد نواز شریف کو ایک مقدمے میں سپریم کورٹ کی طرف سے تحقیقات اور غیر صادق و غیر امین قرار دیتے ہوئے تقریبا چار سال بعد وزیر اعظم کے عہدے سے ہٹا دیا گیا اور بقیہ نو ماہ کی معیاد حکومت کے لئے شاہد خاقان عباسی مسلم لیگ (ن) حکومت کے وزیر اعظم رہے۔مسلم لیگ (ن) کے رہنمائوںکے خلاف مختلف نوعیت کی تادیبی کاروائیوں کا سلسلہ جاری رہا اور2018کے الیکشن سے پہلے ہی الیکشن میں مطلوبہ نتائج کی تیاری مکمل کی گئی ۔ملکی تاریخ کے 13ویںالیکشن میں ووٹوں کے ذریعے ” دشمن” کو شکست دینے کے لوازمات پورے کئے گئے اور فوج کی حمایت یافتہ پاکستان تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان کو ملک کا15واں وزیر اعظم بنوا دیا گیا۔یہ پہلا موقع تھا کہ جب فوج نے حکومت پر قبضے کئے بغیر ہی ،پس پردہ رہتے ہوئے اپنی پسند کی پارٹی کو مضبوط بنایا اور حکومت میں لانے کا اہتمام کیا۔اس تمام عمل میں فوج اور حکومت ہی نہیں بلکہ ملک کے دیگر ادارے بھی ” ایک پیج” پر اکٹھے کر دیئے گئے۔

ملک میں پارلیمنٹ اور فوج کے درمیان حاکمیت کی کشمکش نے ملک کے بر شعبے کو بری طرح متاثر کیا۔منظور نظر سیاسی جماعتیں بنانے،سیاسی جماعتوں کی سرپرستی کے چلن نے پاکستان کی سیاست کی دھجیاں بکھیر کر رکھ دیں اور اسی وجہ سے ملک میں سیاسی جماعتوں کی جگہ خاندانی ،علاقائی اور فرقہ وارانہ گروپوں کی سیاست کو فروغ ملا۔ظاہر ہے کہ منظور نظر سیاسی جماعتیں بنانے،ان کو مضبوط بنانے میں مفاد پرستی کے عناصر ہی استعمال ہوئے۔یعنی حقیقی سیاست کو خاتمے کی راہ دکھاتے ہوئے مفاد پرستی کی سیاست کو فروغ دیا گیا۔حکومت کے قیام کے لئے سیاسی گروپوں کے درمیان” میوزیکل چیئر” کے مقابلے بھی کرائے گئے اور سیاسی گروپوں کو ایک دوسرے کے خلاف استعمال کرنے کے طریقے جاری رکھے گئے۔اسی حوالے سے انسداد دہشت گردی اور احتساب کے قوانین متعارف کراتے ہوئے قائم کردہ خصوصی اداروں اور عدالتوں کا بھی ” ٹول ” کی طرح استعمال نمایاں چلا آ رہا ہے۔یعنی جنرل ایوب کے مارشل لاء کے ” ایبڈو” کی طرح احتساب کے نام پر سیاسی بنیادوں پر انتقامی کاروائیوں کا سلسلہ نام بدل کر جاری ہے۔

اقتدار کی اس کھینچا تانی،کشمکش سے ملک مسلسل عدم استحکام کا شکار چلا آ رہا ہے اور ترقی تو دور اقتصادی بدحالی کو اس ملک کا مقدر بنا دیا گیا ہے۔ملک میں طببقاتی نظام کو مضبوط سے مستحکم کیا گیا اور عوام کو دوسرے درجے کے شہری بناتے ہوئے عوام پر ناقابل برداشت معاشی بوجھ ڈالنے کا رواج بھی قائم رکھا گیا ہے۔فوج خود حکومت میں آنے،منظور نظر سیاسی گروپوں کی حکومتیں بنوانے کے باوجود ملک میں حاکمیت کا مسئلہ مستقل طور پر حل نہیں کر سکی ہے جس سے اس بات کو تقویت ملتی ہے کہ ملک میں حاکمیت کی کشمکش اور اس سے ملک کو پہنچنے والے بھیانک نقصانات کا سلسلہ جاری رہے گا۔ایک طرف غیر آئینی و غیر قانونی حاکمیت مضبوط سے مضبوط ہوتے ہوئے ناقابل چیلنج ہو چکی ہے وہاں ملک کی سیاسی قوتیں بھی اتنی کمزور ہو چکی ہیں کہ وہ پارلیمنٹ کی حقیقی بالادستی کے لئے کوئی چیلنج بننے کی پوزیشن میں نہیں ہیں۔ملک کی72سالہ تاریخ یہی بتاتی ہے کہ ملکی حاکمیت کے لئے ایک جیسے تجربات بار بار کئے جاتے ہیں اور ان کے ایک جیسے ہی نقصانات بار بار درپیش ہوتے ہیں۔مختصر یہ کہ اقتدار ،حاکمیت کی اسی کشمکش کی وجہ سے ملک کا نظام عوام کے مفاد میں ہونے اور مقاصد پاکستان کا تصور ہٹ دھرمی ،دھونس اور جبر کی تاریکیوں میں گم ہو چکا ہے ۔

اپنا تبصرہ بھیجیں