آئی ایم ایف ضرور مگر پہلی اور آخری بار…علی احمد ڈھلوں

دوسری جنگ عظیم کی وجہ سے سونے کی زبردست قلت کی بنا پر دوران جنگ دنیا کے بیشتر ممالک کو باہمی کرنسیوں کے تبادلے کی شرح کو متعین کرنے والے 1880 سے جاری گولڈ سٹینڈرڈ کے نظام کو خیرآباد کہنا پڑا۔ پھر فیصلہ ہوا کہ ایسا نظام وضع کیا جائے کہ جس سے بین الاقوامی تجارت سے صنعتی ترقی یافتہ ممالک کو مساوی فائدہ حاصل ہو اور وہ ترقی پذیر ممالک میں اپنی اشیاءبیچنے کیلئے قبضے کی جنگ میں ایک دوسرے کے ساتھ نہ الجھیں بلکہ مسابقت کی بنیاد پر ان ممالک کی منڈیوں میں اشیا بیچیں اور اس مقصد کیلئے وہ آئی ایم ایف اور ورلڈ بنک جیسے ادارے وجود میں لائے تاکہ قرضے فراہم کرکے ان ممالک کی معیشتوں میں قوت خرید بحال رکھی جائے۔ دنیا کے 44 ممالک کے نمائندوں کی منظوری سے آئی ایم ایف کا ادارہ قائم کیا گیا۔ یہ ایک خود مختار ادارے کے طور پر عمل میں لایا گیا اور اس کا الحاق اقوام متحدہ سے ہے۔ وہ تمام ممالک جو فنڈز آرٹیکل آف ایگریمنٹ کے تحت اس کیلئے رقم فراہم کرتے ہیں انہیں اسکی ممبر شپ آفر کی جاتی ہے۔ آج اسکے ممبرز ممالک کی تعداد 44 سے بڑھ کر 183 ہو چکی ہے۔
پاکستان 1952ءسے لیکر اب تک آئی ایم ایف سے 18 پروگرام لے چکا ہے جن میں سے محض 70 فیصد فنڈز استعمال ہوئے۔ 1988ءسے لیکر اب تک پاکستان نے سٹینڈ بائی ارینجمنٹ کے تحت قرضے کے 12 پروگرام حاصل کئے جن میں 11 درمیان میں ہی چھوڑ دئیے گئے۔ اور اب ایک بار پھر نہ چاہتے ہوئے بھی موجودہ حکومت آئی ایم ایف کے پاس جا رہی ہے۔ ستم ظریفی یہ ہے کہ پاکستان ایسا قدرتی وسائل سے مالا مال ملک محض سانس لینے اور دیوالیہ پن سے بچنے کی خاطر چند ارب کے لیے آئی ایم ایف سے رجوع کر رہا ہے۔ چند ایک دوست احباب اس پر بہت تنقید بھی کر رہے ہیں کہ اسد عمر اور اُن کی ٹیم کی جانب سے پہلے شور مچایا جارہا تھا کہ وہ آئی ایم ایف کے پاس نہیں جائیں گے مگر اب انہوں نے یو ٹرن لیا ہے اور انہیں آئی ایم ایف کے پاس جانا پڑ رہا ہے۔ سوال یہ ہے کہ موجودہ حکومت کے ناچاہنے کے باوجود اُسے جانا کیوں پڑ رہاہے؟ کیا کوئی دوسرا ملک پاکستان کی مدد کرنے کو تیار نہیں؟ اس سوال کے جواب سے پہلے قارئین کو یاد دلاتا چلوں کہ راقم نے گزشتہ سال انہی دنوں کہا تھا کہ ن لیگ کی حکومت کی غلط پالیسیوں کی وجہ سے ہم اس نہج پر پہنچے چکے ہیں کہ 2018ءمیں پاکستان کو 12سے 15ارب ڈالر کی ادائیگیاں کرنی ہیں۔ اور پھر قارئین کو یاد ہوگا کہ پاکستان کے سابق وزیراعظم کے مشیر برائے خزانہ امور مفتاح اسماعیل نے کہا تھا کہ پاکستانی معیشت کے حوالے سے آئی ایم ایف کے خدشات درست ہیں اور ہو سکتا ہے کہ آئندہ برسوں میں پاکستان پر قرض بڑھ جائے یا مزید قرض لینا پڑے۔ یعنی مفتاح اسماعیل نے اس بات کی نشاندہی رواں سال مارچ ہی میں کر دی تھی کہ آنے والی حکومت کے لیے ادائیگیاں کرنے میں مسئلہ ہوگا۔ اس لیے انہیں اربوں ڈالر درکار ہوں گے بقول شاعر
میں نکتہ چیں نہیں ہوں مگر یہ بتائیے
وہ کون تھے جو ہنس کے گلوں کو مسل گئے
حقیقت میں تازہ ترین اعداد و شمار کے مطابق حکومت کے خزانے میں 8.4 ارب ڈالرز موجود ہیں جو کہ 2 ماہ کی درامدات کیلئے بھی ناکافی ہیں۔ حکومت سنبھالنے کے بعد سے ہی پی ٹی آئی مختلف مالی آپشنز پر غور کررہی ہے، ان آپشنز میں چین اور سعودی عرب سے مالی امداد حاصل کرنا بھی شامل ہے، تاہم ہم اب بھی مالی سال کیلئے مطلوبہ ڈالرز پورا کرنے میں ناکام ثابت ہورہے ہیں۔ (ایک مالی سال کیلئے حکومت کو 12 ارب ڈالرز درکار ہوتے ہیں)۔اس معاشی چیلنج سے نبردآزما ہونے کیلئے حکومت نے مختلف اقدامات کئے ہیں جن میں درامدی اشیاءپر ڈیوٹی، گھریلو گیس کی قیمتوں اور مرکزی بینک کے شرح سود میں اضافہ شامل ہیں، جبکہ دسمبر سے ڈالر 18 فیصد مزید مہنگا ہوچکا ہے۔ حکومت بجلی کی قیمتوں میں بھی اضافے کا سوچ رہی ہے، تاہم اب تک اٹھائے گئے حکومتی اقدامات سے صورتحال میں ذرہ برابر بھی بہتری نہیں آئی ہے۔اگر ہم آئی ایم ایف کے حوالے سے ماضی کی بات کریں تو نواز شریف کے دوسرے دور ِاقتدار میں 20 اکتوبر 1997 کو آئی ایم ایف سے ایکسٹنڈڈ فنڈ اور ایکسٹنڈڈ کریٹ کی مد میں 1.13 ملین ڈالر کا قرضہ حاصل کیا۔سلم لیگ ن کے تیسرے دورِ اقتدار میں 4 ستمبر 2014 کو ایکسٹنڈڈ فنڈ کی مد میں 4.3 ملین ڈالر قرضہ حاصل کیا گیا۔ جو تمام کا تمام استعمال کیا گیا ہے۔ذوالفقارعلی بھٹو کے دور اقتدار میں 11 اگست 1973 کو 75ملین ڈالر کا قرضہ حاصل کیا گیا۔11 نومبر 1974 کو 75 ملین ڈالر کا ایک اور قرضہ حاصل کیا گیا۔ اسی دور حکومت میں 9 مارچ 1977 کو 80 ملین ڈالر کا ایک اور قرضہ حاصل کیا گیا تھا۔پیپلز پارٹی کے دوسرے دور ِ اقتدار میں جب ملک پر بے نظیر بھٹو حکمران تھیں ، کو اسٹینڈ بائی کی مد میں28دسمبر 1988 کو 273.1 ملین ڈالر کا قرضہ حاصل کیا گیا۔بے نظیر بھٹو کے دوسرے دورِ اقتدار میں 22 فروری 1994 کو آئی ایم ایف سے ایکسٹنڈڈ فنڈ اور ایکسٹنڈڈ کریٹ کی مد میں 985.7 ملین ڈالر کا قرضہ حاصل کیا گیا۔پرویز مشرف کی آمریت کے بعد جب پیپلز پارٹی ایک بار پھر اقتدار میں آئی تو 24 نومبر 2008کو آئی ایم ایف نے ایک بار پھر7.2 بلین ڈالر قرض کی صورت میں دیے۔جنرل پرویز مشرف کے دوراقتدار میں 29 نومبر 2000 کو پاکستان نے اسٹینڈ بائی کی مد میں 465 ملین ڈالر کا قرضہ حاصل کیا۔ اگلے ہی سال یعنی 6 دسمبر 2001 میں ایکسٹنڈڈ کریڈٹ کے تحت پاکستان نے ایک بلین ڈالر کا قرضہ حاصل کیا۔
آج صورتحال یہ ہے کہ حکومت کو چاہتے نہ چاہتے ہوئے بھی آئی ایم ایف کے پاس جانا پڑ رہا ہے۔ ملک اس وقت جس شدید معاشی بحران سے گزر رہا ہے اس پر حکومت سمیت ہر شخص متفکر ہے۔ زرمبادلہ کے ذخائر بہت کم رہ گئے ہیں جن سے بھاری غیر ملکی قرضوں کی اقساط اداکرنا بھی مشکل ہو رہا ہے۔ تجارتی اور مالیاتی خسارے نے معیشت کو بری طرح زیر بار کر رکھا ہے۔ پاور سیکٹر میں گردشی قرضے کھربوں روپے تک پہنچ گئے ہیں جسکی وجہ سے سینٹ کی خصوصی کمیٹی نے حکومت سے اس مسئلے کے حل کے لئے چارکھرب روپے دینے کی سفارش کی ہے۔ ترقیاتی سکیموں کے لئے خزانے میں پیسہ نہیں۔ سٹارک مارکیٹ زوال پذیر ہے حکومت اس صورت حال کو کنٹرول کرنے کیلئے ہنگامی اقدامات کر رہی ہے اس نے پٹرولیم، بجلی اور گیس کی قیمتیں بڑھادی ہیں۔ دوست ملکوں سے کہا ہے کہ وہ سٹیٹ بنک آف پاکستان میں اکاﺅنٹس کھولیں تاکہ ہمارے زرمبادلہ کے ذخائر بہتر بنائے جاسکیں۔ بیرونی ملکوں میں منتقل کی جانے والی کھربوں روپے کی لوٹی ہوئی دولت واپس لانے کے لئے کوششیں کی جارہی ہے اور ریکوری کے لئے ایک خصوصی یونٹ بنایا جا رہا ہے۔ وزیراعظم عمران خان نے اتوار کو ایک پریس کانفرنس میں عوام کو خبردار کیا کہ معاشی ابتری کا یہ دور ایک سال تک جاری رہ سکتا ہے انہوں نے کرپشن کو ملکی معیشت کی ابتری کی سب سے بڑی وجہ قرار دیا اورکہا کہ لٹیروں سے لوٹی ہوئی 9ارب ڈالر دولت کی پائی پائی وصول کی جائے گی۔کسی سے کوئی رعایت نہیں کی جائے گی اورکوئی این آر او نہیں کیا جائے گا۔ معاشی مشکلات پر قابو پانے کے لئے حکومت جواقدامات کررہی ہے ان میں بین الاقوامی مالیاتی اداروں سے رابطے بھی شامل ہیں جن کے مثبت نتائج سامنے آرہے ہیں۔
بہرکیف اگر آپ بیمار ہوں تو آپ کے پاس ڈاکٹر کے پاس جانے کے علاوہ کوئی اور آپشن نہیں ہوتا۔آئی ایم ایف سے جو پیسہ حاصل ہوگا وہ پاکستان کو غیرملکی قرضوں کی مد میں ڈیفالٹ ہونے سے بچانے کیلئے استعمال کیا جائے گا لیکن اس سے ملک میں مہنگائی اور بیروزگاری میں اضافہ ہوگا کیونکہ ملک میں معاشی سرگرمیاں سُست روی کا شکار ہیں۔گزشتہ مالی سال میں حکومت کے اخراجات آمدنی سے کہیں زیادہ تھے، جس کی وجہ سے 2.2 کھرب روپے کے خسارے کا سامنا کرنا پڑا، اس خسارے اور سرکاری ملازمین کی تنخواہوں، سیکیورٹی اخراجات اور ترقیاتی منصوبوں سمیت دوسرے اخراجات کو پورا کرنے کیلئے حکومت کو بینکوں سے پیسے ادھار لینا پڑتے ہیں۔دوسری طرف ماہانہ درآمدات ملکی برآمدات سے 2.7 ارب ڈالرز زیادہ ہیں جس کے باعث تیل، خام مال اور مشینری کی ضروری درآمدات کیلئے حکومت کے خزانے میں خاطر خواہ سرمایہ نہیں بچ پاتا، خزانے میں اتنے بھی پیسے نہیں بچتے کہ معیشت کے ضروری کام کیے جا سکیں اور غیرملکی قرضوں (90 ارب ڈالرز سے زائد) کی ادائیگی کی جاسکے۔اب ان ادائیگیوں کے بعد ملک کے بہت سے ایسے معاملات ہیں جن میں سب سے اہم مسئلہ ایکسپورٹ بل کو بڑھانا اور امپورٹ بل کو کم کرنا ہے، اور یہ تبھی ممکن ہے جب بہترین مینجمنٹ سسٹم کام کر رہا ہو۔ اس لیے اُمید کی جا سکتی ہے کہ نئی حکومت جس کے پاس خزانے خالی تھے، انہیں مستقبل میں ایسے اقدامات کرنے ہیں جس سے یہ ثابت کیا جاسکے کہ یہ آئی ایم ایف کا چوائس پہلی اور آخری مرتبہ ہی لیا گیا ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں