نال ساسولی آپس میں شیرو شکر ہو گئے …تحر یر؛ عنایت اللہ رگام

عطا شاد نے خوب کہا ہے
آس وتی گس وتی ،سنگ وتی سر وتی
زیمیں دل ء کجا براں تیر وتی جگر وتی
بلوچستان میں معمولی تنازعات کشت و خون میں بدل جاتے ہیں ایسی کشت و خون کو قبائلی تنازعات کا نام دے کر بھڑکایا جاتا ہے ماضی میں جتنے قبائل آپس میں دست و گریبان ہوئے ہیں حال میں جتنے تنازعہ چل رہے ہیں ایک ہی قبائل کے مختلف شاخوں میں یا ایک ہی قبائل کے اپنے ہی اندر ،زیادہ تر ایک ہی خاندان کے درمیان چل رہے ہیں جو آپس میں رشتہ دار ہیں محمد حسنی، لانگو برادری، سمالانی برادری، ساسولی برادری وغیرہ کے درمیان جتنے خون خرابے ہوئے ہیں ایک ہی گھر ایک ہی خاندان کے لوگ ایک دوسرے کے خلاف بر سرے پیکار ہو کر اپنے ہی بھائیوں کو اپنی جانی دشمن سمجھ کر اپنے راستے سے ہٹائے ہیں گھر کو آگ لگ گئی گھر کے چراغ کے مصداق، ایسے لڑائی جھگڑوں سے پورے علاقے کا امن وامان تہہ بالا ہوا ایک دوسرے کے گھروں کو اجھاڑنے سے سوچیں ہم کس کو نقصان پہنچا رہے ہیں اپنے ہی بازو کاٹ رہے ہیں اپنے ہی بہن، بیٹیوں کے سہاگ اجاڑے ہیں ہاں ایسے لڑائی جھگڑوں سے کسی فریق فاتح نہیں ہوگا شکست دونوں فریقین کی ہوتی ہے ایسی لڑائی، جھگڑوں کا کیا فائدہ اس کا انجام شکست پشمانی سے ختم ہو
میرا موضوع نال میں ساسولی برادری کے تصفیہ آپس میں شیروشکر ہونے کی ہے ویسے دیکھا جائے نال مختلف قبائل کا گلدستہ رہا ہے مختلف قبائل بزنجو، لانگو، سمالانی، سرمستانی، ساجدی، قمبرانی وغیرہ سینکڑوں کے حساب سے نہیں بلکہ ہزاروں کے حساب سے صدیوں سے نال میں آباد بھائیوں کی طرح رہ رہے ہیں ایک دوسرے کے دکھ سکھ میں شامل رہے ہیں پرامن طریقے سے آباد رہے ہیں کسی کے ساتھ کوئی سانحہ پیش آتا ایک دوسرے کے دکھ سکھ کو اپنا سمجھ کر ایک دوسرے کے ساتھ کھڑے رہے ہیں کیا زمانہ آگیا پرامن قبائل پرامن لوگ آپس میں دست و گریبان رہے اہل نال متاثر رہے، شاباش ہے علاقے کے تمام سفید پوش معتبرین، علما کرام نے اہم کردار اد کرتے رہے ہیں عام عوام نے ان کی صلح، شیروشکر ہونے کیلئے اللہ تعالیٰ کے حضور دعا گوہ رہے ہیں دعائیوں کی مقبولیت ہیں اپنے رنجشوں ختم کر رہے ہیں اپنے ہی پیاروں کے خون معاف کرکے ایک بار پھر بھائی بھائی بن رہے ہیں ساسولی بھائیوں کی تصفیہ کی خبر جنگل میں لگی آگ کی طرح ہر سو پھیل گئی جہاں بھی دو آدمی آپس میں ملتے اس فیصلے سے خوشی کا اظہار کرتے، جب یہ خبر سوشل میڈیا میں وائرل ہوئی فیس بک میں لگی پوسٹ کو لائیک اور کمنٹس دے رہے ہیں دعا بھی کر رہے ہیں ایسے قبائلی جھگڑوں سے ہزاروں کے حساب سے اپنے گھر بار چھوڑ کر غیروں کے علاقوں میں بحالت مجبوری آباد ہو کر اپنوں سے دور رہے ہیں کوئی بھی نہیں چاہتا ہے میں اپنوں سے دور رہوں اپنے آباؤ اجداد کی زمین کو چھوڑ کر دوسروں کے ہاں پناہ گزینوں کی طرح زندگی گزارنا مجبوری کے سوا کچھ نہیں بلوچی میں کہاوت ہے وائے وطن ھشکیں دار جہاں انسان کی پیدائش ہوتی ہے وہ علاقہ انسان کو سب سے زیادہ پیارا ہوتا ہے جب ہمارے نبی محمد صلی الله عليه وسلم نے مکہ سے مدینہ ہجرت کرکے مدینہ چلے گئے اپنے ہی صحابہ کے سامنے مکہ کی بار بار ذکر کرتا آبدیدہ ہو جاتا تھا ہمارے پیارے نبیۖ ہمیشہ عفو درگزر، معاف کرنے کی تلقین کرتا ہم بھی اسی عظیم شخصیت کے پیروکار ہیں اس عظیم ہستی نے اپنے محبوب چچا حضرت حمزہ کے قاتلوں کو جو ان کے عضاؤں کے کاٹنے والوں ابو سفیان کی بیوی ہندہ کو بھی معاف فرمایا جس نے حضرت حمزہ کی جگر کو چبا کر کھایا اسی کو معاف کردیا ہم بھی مسلمان حضرت محمد کے امتی ہے ہم بھی معاف کرنے والے بن جائے بلوچستان کے تمام قبائلی معتبرین، علما ء کرام سے اپیل کرتا ہوں وہ بیچ میں آکر جہاں قبائلی جھگڑے چل رہے ہیں ان کو آپس میں بھٹا کر شریعت، بلوچی رسم ورواج کے مطابق ان کے فیصلے کرنے میں کردار ادا کریں مزید ان کو ایک دوسرے کو نقصان پہنچانے سے بچائیں عام لوگوں سے دعا کرنے کی اپیل کرتا ہوں،
بلوچی میں کہتے ہیں

اپنا تبصرہ بھیجیں