حریک آزادی مقبوضہ جموں وکشمیر…تحریر: ملک سعادت نعمان

دنیامیں بہت سے علاقے آزادی کی تحریکوں کی وجہ سے مشہور ہیں۔ مگر کشمیر کو ایک نمایاں مقام حاصل ہےـ
مقبوضہ جموں کشمیر کے لوگ حوصلے اور شجاعت و جواں مردی میں اپنی مثال آپ ہیں.
میں وادی کشمیر کا مختصر تعارف آپکے سامنے رکھتا ہوں،
مقبوضہ جموں کشمیر 101387 مربع کلومیٹر پر واقع ایک خوبصورت جنت نظیر وادی ہے،
جو %70 مسلمان آبادی جبکہ بقیہ آبادی بدھ، ہندو، سکھ، شعیت، مرزایت اور دیگر مذاہب پر مشتمل ہےـ
اس وقت یہ خطہ تنازعات کی وجہ سے تین ممالک میں تقسیم ہےـ
پاکستان کے ساتھ شمال مغربی علاقے شمالی علاقہ جات اورآزاد کشمیر بھارت کے ساتھ وسطی اور مغربی علاقے جموں و کشمیر اور لداخ وغیرہ، جبک چین شمال مشرقی علاقوں اسکائی چین اور بالائے قراقرم کے علاقہ جات واقع ہیں۔
کشمیر ہندوستان اور پاکستان کے درمیان تنازعے کی اہم ترین وجہ ہےـ کیونکہ بھارت کشمیر کے وسائل لوٹنا چاہتا ہے قائد اعظم نے فرمایا تھا کہ کشمیر پاکستان کی شہ رگ ہے، جبکہ پاکستان کشمیر کی آزادی کا خواہاں ہے۔ اللہ پاک نے کشمیر کو بے بہا آبی وسائل اور اعلی قسم کے سیب اور دوسرے پھلوں سے نوازا ہےـ اور ان وسائل پر بھارت نے قبضہ کررکھا ہے کشمیر کے عوام اس ّخطے کی آزادی کیلئے اپنی جانیں قربان کررہے ہیں بھارت نے آزادی کی تحریک کو دبانے کیلئے آٹھ لاکھ فوج تعینات کررکھی ہےـ مقبوضہ کشمیر ایک فوجی چھاونی کا منظر پیش کرتا ہے۔ ہر گلی اور چوراہے پر فوجی کھڑے ہوتے ہیں، الغرض کشمیریوں کاعرصہ حیات تنگ کردیا گیا ہے۔ مقبوضہ جموں کشمیر میں بہت سی حریت پسند جماعتوں کے قائدین جن کو آئے روز تشدداور قید و بند کا سامنا ہے ـ ان میں محترمہ آسیہ اندرابی، سید علی گیلانی، شبیر شاہ، مسرت عالم بٹ، محمد قاسم فکتو اوریسین ملک وغیرہ جیسے بہت سے لیڈر شامل ہیں۔
آزادی کیلیے لاکھوں لوگ قربان ہو چکے ہیں اور ہزاروں خواتین کی عزتیں پامال ہوئی ہیں۔ کشمیر کے لوگ ہر قیمت پر آزادی چاہتے ہیں مگر بھارت کی غنڈا گردی دن بدن بڑھ رہی ہے کشمیر کے لوگ ہر طرح کی قربانیاں دےرہے ہیں، اور ان کی زبان پر یہ جملہ ہوتا ہے کہ کشمیر بنے گا پاکستان، ہم پاکستانی ہیں پاکستان ہمارا ہےـ
پاکستان کے عوام کشمیر کی جدوجہد آزادی میں ان کے ساتھ ہیں، گو کہ ہماری حکومت موثر خارجہ پالیسی نہ ہونے کی وجہ سے کشمیر کاز کی ترجمانی نہ کر سکی مگر پاکستانی قوم ہمیشہ ان کے ساتھ ہے۔ ہمارے دل کشمیری مسلمانوں کے ساتھ دھڑکتے ہیں، ہر سال 5 فروری کے دن سول سوسائٹی اور مذہبی جماعتوں اور تنظیموں کے پروگرامز منعقد ہوتے ہیں جسمیں کشمیر کے ساتھ اظہار یکجہتی کیا جاتا ہے۔ یوں توپاکستان میں بہت سی جماعتیں ہیں مگر ان سب میں مضبوط اور توانا آواز حافظ محمد سعید صاحب کی ہے جو جماعتہ الدعوہ کے سربراہ ہیں۔ حافظ صاحب کشمیری عوام کیلیے دل میں بہت درد رکھتے ہیں وہ مختلف فورمز پر بھارت کے ظالمانہ کردار کو سب کے سامنے پیش کرتے ہیں جس کی وجہ سے ان کو کئی بار قید و بند کی صوبتیں بھی برداشت کرنا پڑیں ـ 2016 میں جب برہان وانی کو شہید کیا گیا تو تحریک آزادی بام عروج پر تھی بھارتی فوج نے پیلٹ گن کا بے دریغ استعمال کیا جس کی وجہ سے ہزاروں لوگ متاثر ہوے محترم حافظ صاحب نےاس صورتحال کو دیکھتے ہوئے کشمیریوں سے یکجہتی کیلیے ایک کشمیر کارواں کا اعلان کیا جس میں محترم حافظ سعید صاحب نے خطاب کرتے ہوئے 2017 کو آزادی کشمیر کا سال قرار دیا اس پر مودی نواز پاکستانی حکومت نے حافظ صاحب کودس ماہ تک نظر بند رکھا اور انکی تنظیم فلاح انسانیت فاونڈیشن کو فلاحی کام سے روک دیا گیا کریک ڈاون کیے گئے یہ اقدامات بھارت خوشنودی کیلیے کیے گئے تھے۔ مگر حافظ صاحب نے سال 2018 کو بھی آزادی کشمیر کے نام سے موسوم کیا.
25 جولائی 2018 کےالیکشن کے بعد عمران خان کی حکومت بنی عوام بہت پرامید تھے کہ عمران خان صاحب نے جس منشور پر قوم سے ووٹ حاصل کئے وہ اس کی قدر کرتے ہوۓ پاکستان کو مضبوط اور مستحکم خارجہ پالیسی دینگے، اور کشمیری قوم کی آواز کو عالمی فورم پر پہنچائیں گےـ
وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے جنرل اسمبلی کے اجلاس میں مقبوضہ کشمیر پر مفصل بات کی اور بھارت کا بھیانک چہرہ بے نقاب کیا کلبھوشن یادیو کے کردار پر روشنی ڈالی اور پاکستانی قوم کے دل جیت لیے مگر ابھی میں سمجھتا ہوں کہ یہ سب کافی نہیں ہے ہمیں اقوام عالم کو باور کروانا ہے کہ کشمیر کے اس مسئلے کوجلد از جلد حل کرنا ہے تاکہ کشمیر میں جو کشت و خون کا بازار گرم ہے اس خطے کو پر امن بنایا جا سکے کیونکہ کشمیر کی آزادی سے خطے میں امن و استحکام کی فضا قائم ہوگی، اور جو ظلم روا رکھے گئے ہیں کشیریوں کو ان سے نجات حاصل ہوگی۔ میری دعا ہے کہ اللہ پاک کشمیری مسلمانو‍ ں کو جلد ازجلد آزدی جیسی نعمت عطاء فرمائے۔ آمین

اپنا تبصرہ بھیجیں