بلدیاتی نمائندے یا سیاسی رضاکار۔۔۔تحریر: محمد اقبال عباسی

دو سال پہلے مجھے بھی عوامی خدمت کا شوق چرایا اور میں نے سوچا کہ سیاست کے بحر بیکراں میں غوطہ زنی کی جائے تا کہ کم از کم کچھ شدھ بدھ تو ہو کہ سیاست، جس کو شطرنج کی چال کہا جاتا ہے ، کا باطن کیسا ہے ؟ پھر جو پہلا غوطہ لگایا تو پھر دوبارہ سطح آب پر آنا اور اس سمندر سے ابھی تک باہر نکلنا ہی نصیب نہیں ہوا بس یہی کوشش کی کہ کچھ نہ کچھ سیکھ لوں یا پھر خود غرض اور نام نہاد عوامی نمائندوں سے ہٹ کر انداز سیاست اختیار کر سکوں خوش قسمتی یہ کہ ساتھ بھی ایک منتخب چئیر مین یونین کونسل کا نصیب ہوا اور میں نے آغاز ہی نرسری سکول کے بچے کی طرح کیا اور کس حد تک کامیاب ہوا ہوں یہ تو اللہ کی ذات بہتر جانتی ہے لیکن ہمیشہ ایک خیال بھی سانپ کی طرح دل کو ڈستا ہے کہ سیاست کو عبادت کی طرح سمجھنے والے لوگ کس دیس کے باسی ہیں یہاں تو دور دور تک ایسے کوئی آثار نظر نہیں آ رہے، سب سے پہلا انکشاف جو مجھ پر ہوا کہ مقامی حکومتیں یا لوکل گورنمنٹ کسی بھی سیاسی نظام میں ایک پودوں کی نرسری یا نرسری سکول کا درجہ رکھتی ہے جہاں سیاست دانوں کی تربیت کے ساتھ ساتھ ان کو مستقبل کے درپیش چیلنج سے نمٹنے کے لئے تیار کیا جاتا ہے۔ اب یہ ہماری مرضی ہے کہ ہم مثبت انداز سیاست اختیار کریں یا منفی سیاست شروع کر دیں جس میں سب سے زیادہ نقصان ملک و قوم کو ہی پہنچتا ہے ۔
1965ءمیں ایوب خان کے دور سے شروع ہونے والا مقامی حکومت یا بی ڈی یعنی بنیادی جمہوریت کے نظام کے بارے میں یہ ایک ابدی حقیقت ہے کہ مقامی حکومتیں ہمیشہ سے اہل اقتدار کے دل میں کھٹکتی رہی ہیں اور بجائے اس نظام کی آبیاری کرنے کے بیخ کنی پرہی توجہ دی گئی ہے اور ہر آنے والی حکومت نے اس کو غریب کی جورو سب کی بھابھی جیسا سلوک کیا ہے کیونکہ اکثر سیاسی عمائدین مقامی نظام حکومت کو اپنا حلیف سمجھنے کے بجائے اپنا حریف سمجھتے ہیںبالخصوص ارکان قومی اور صوبائی اسمبلی تواس نظام کو اپنے لیے خطرہ اورمتبادل نظام سمجھتے ہیں اور یہی طبقہ اس نظام کو موثر بنانے میں سب سے زیادہ رکاوٹیں بھی پیدا کرتا ہے کیونکہ یہ لوگ سمجھتے ہیں کہ اگر ترقیاتی فنڈز مقامی نظام حکومت کے ماتحت ہونگے تو ان کی عملی طور پر اسمبلیوں اورمقامی سیاست میں افادیت ختم ہوجائے گی، جو ان کو قبول نہیں۔ موجودہ چئیرمین اور مئیر کارپوریشن کے اختیارا ت اور تفویض کار کو دیکھیں تو شہروں میں جتنے بھی مسائل کے انبار ہیں ان کا ذمہ دار مئیر کارپوریشن کو ہی ٹھہرایا جاتا ہے چاہے وہ صحت کا مسئلہ ہو یا تعلیم کا ، کسی علاقے کی بجلی نہ ہو یا گیس نہ آ رہی ہو سب سے پہلا نزلہ مئیر کارپوریشن یا چئیر مین یونین کونسل یا ڈسٹرکٹ کونسل پر ہی گرتا ہے حالانکہ مئیر کارپوریشن اور چئیرمین کو نتھ ڈالنے کے لئے ان کے اختیارا ت اور فنڈ اتنے محدود ہیں کہ عام آدمی ان کے بارے میں سوچ بھی نہیں سکتا ۔ صرف ایک چئیرمین یونین کونسل کے اختیارات کااندازہ اس بات سے لگالیں کہ پیدائش و اموات سرٹیفیکٹ ، نکاح و طلاق نامہ کے اجراءکے علاوہ صرف ڈومیسائل فارم پر دستخط کرنا ہی ان کے اختیارات ہیں اور جب کوئی بھی چئیرمین یونین کونسل اپنی مملکت کی حدود میں داخل ہوتا ہے تو اس کو سڑک پکی کروانے ، تھانیدار کو فون کرنے ، جج کو سفارش کرنے ، کوئی بجلی کا کھمبا راستے سے ہٹوانے یا گیس لگوانے جیسی درخواستیں موصول ہونا شروع ہو جاتی ہیں ۔ اگر اختیارا ت کی بات کی جائے تو اونٹ کے منہ میں زیرہ ،اور مسائل ایسے سننے اور دیکھنے کو ملتے ہیں کہ یوں محسوس ہوتا ہے کہ حکومت پاکستان کو وزارت گیس و بجلی اور مواصلات کے علاوہ محکمہ انصاف اور پولیس کو نتھ ڈالنے کے لئے محکمہ داخلہ بھی ایک چئیرمین کے سپرد کرنا پڑے گا جس کا بنیادی سبب یہ ہے کہ عوام کے لئے سب سے زیادہ قابل رسائی جنرل کونسلر اور چئیرمین ہی ہوتا ہے جہاں وہ ہر قسم کی شکایت لے کر پہنچتے ہیں لیکن اگر بجٹ کی بات کی جائے توکم از کم 20000کی آبادی والی یونین کونسل کے لئے ماہانہ ایک لاکھ روپے سے دو لاکھ روپے صرف ترقیاتی فنڈ ایسے دیا جاتا ہے جیسے اس پہ ایک بہت بڑا احسان کیا جا رہا ہے جبکہ خدمت کی سیاست کرنے والے ان چھوٹے سیاسی ورکر کا مشاہرہ صرف اور اعزازیہ ایک ہزار سے 1500روپے ماہانہ اس صورت میں ملتا ہے جب ایک ماہ میں دو اجلاس لازمی ہوں ۔ یہ سیاسی رضاکار اب تھانے کچہری میں بھی اپنی عوام کے ساتھ دھکے کھانے کے لئے اور اپنے مسائل کی شنوائی کے لئے مقامی ایم پی اے اور ایم این اے کے ڈیرے پر اپنی گاڑیوں میں ذاتی خرچے سے ایندھن ڈلوا کر حاضری دیں گے تا کہ اپنے علاقہ کے مسائل حل کر سکیں کیونکہ آنے والے الیکشن میں اپنے ایم پی اے اور ایم این اے کے لئے پھر ووٹ بھی لینا ہے آج عوام کے دکھ سکھ میں ان کے ساتھ ہوں گے تو کل کلاں کویہ عوام بھی ہمیں ووٹ دے گی ۔ کوئی ولیمہ ہو یا کوئی جنازہ یہ سیاسی رضاکار ہر فلاحی اور سماجی کاموں میں خدمت پر مامور ہوتے ہیں ۔ کچھ اس سے آگے بھی سن لیں کہ اکثر ہوتا یہ ہے کہ جیسے ہی کوئی مقامی کونسلر یا نمائندہ اپنا قد کاٹھ نکالتا ہے تو اس کے سینئیر اسے مستقبل میں اپنے لئے خطرہ گردانتے ہوئے اس کی جڑیں بھی کاٹنا شروع کر دیتے ہیں جنرل کونسلروں اور چئیرمین کے ساتھ جو افسر شاہی کر رہی اس کی ایک جھلک بھی دیکھتے چلیں کہ وہی سیاسی نمائندہ اگر افسروں کی خوشامد نہیں کرتا یا کلرکوں کو خوش نہیں کرتا تو اس کے ہر ترقیاتی اور اصلاحی کاموں میں روڑے اٹکانا افسر شاہی اپنا فرض اولین سمجھتی ہے ۔
اگر ماضی کا مشاہدہ کیا جائے تو پرویز مشرف دور میں لوکل گورنمنٹ آرڈیننس 2001ءکے تحت ضلع اور یونین کونسل کی سطح پر ناظمین اور کونسلر کا انتخاب ہوا جس میں پہلی بار کسان ، لیبر اور خواتین کونسلر کو بھی نمائندگی دی گئی اور حکمران جماعت نے واضح اکثریت حاصل کی جس کے ساتھ ہی تمام اختیارات ضلع ناظمین کو منتقل کر دئیے گئے جبکہ ایم پی اے اور ایم این اے حضرات کو ایک عضو معطل سمجھتے ہوئے کھڈے لائن لگا دیا گیا ۔ ضلع ناظم کو وسیع اختیارات سے یوں نوازا گیا کہ وہ ضلع کا وزیر اعلیٰ بن گیا یہاں تک ضلعی افسران کی اے سی آر کا اختیار بھی ضلع ناظم کو سونپ دیا گیا لیکن ابھی ان ناظمین کا دور حکومت باقی تھا اور اتنے وسیع اختیارات اور بھر پور انتظامیہ کے ساتھ پرویز مشرف کی جماعت جس نے 2002ءمیںقومی اسمبلی میں 126نشستیں حاصل کی تھیں وہ 2008ءکے الیکشن میں صرف 38نشستیں ہی جیتنے میں کامیاب ہو سکی اور 2013کے الیکشن میں اسے 2نشستوںپہ کامیابی مل سکی۔ پریز مشرف کی حمایت یافتہ جماعت کو مرکز اور صوبائی اسمبلی میں اکثریت نہ ملنے کی بنیادی وجہ بھی یہی تھی کہ اختیارات تو ناظمین کے پاس تھے جس کی وجہ سے حکمران جماعت کے امیدواران کو عوام میںوہ پذیرائی نہ مل سکی جس کے وہ خواہاں تھے لیکن دیکھا جائے تو محترمہ نے نظیر بھٹوکی شہادت بھی نتائج پر کافی اثر انداز ہوئی اور ضلعی و یونین کونسل ناظمین بے بس نظر آئے ۔ بعد میں آنے والی پاکستان پیپلز پارٹی کی حکومت نے اپنے پیش رو ذوالفقار علی بھٹو کی طرح ان اداروں کو عضو معطل بنا کے رکھ دیا جس کا خمیازہ ان کو الیکشن 2013ءمیں بھگتنا پڑا جس سے ایک نظریہ کو تقویت ملتی ہے مقامی طور پر فعال کونسلر اور چئیرمین مرکزی سیاست پر بہت حد تک اثر انداز ہوتے ہیں جس کا واضح ثبوت 2018ءکے الیکشن میں نواز لیگ کی نشستیں ہیں جن کو حاصل کرنے میں مقامی حکومتوں کے نمائندگا ن نے ایک فعال کردار ادا کیا ہے کیونکہ پانامہ اور توہین رسالت کیس کے بعد نواز لیگ کی عوام میں پذیرائی ممکن ہی نہیں تھی ۔
پاکستان کی گزشتہ حکومتوں نے بلدیاتی نظام کو لپیٹ کر اپنے تخت کے نیچے دفن کیے رکھا۔ پہلے تو بلدیاتی انتخابات نہیں کروائے اور جب بیرونی اور عدلیہ کے دباﺅ کے تحت انتخابات ہوئے بھی تومنتخب کردہ نمائندوں کو بے آسرا اور لا وارث چھوڑ دیا گیا اور ترقیاتی فنڈ کی بجائے صرف تھپکیاں اور دلاسے ملتے رہے بلکہ تمام ترقیاتی کام افسر شاہی کے زیر نگرانی کروائے گئے تا کہ وہ اپنا کمیشن کھرا کر سکیں۔ اب ہوتا یہ ہے کہ جس نے اپنی گلی کی نالی پکی کروانی ہو یا محلے میں سیوریج کا کھڑا پانی نکلوانا ہو تو اپنے علاقے کے ایم پی اے یا ایم این اے کو ڈھونڈتا ہے جو اسے انتخابات سے پہلے ملتا ہے کیونکہ الیکشن اور اپنے منتخب ہونے کے درمیانی عر صہ میں یا تو وہ اسلام آباد یا صوبائی دارالحکومت میں اجلاس میں مصروف ہوتا ہے یا پھر آرام میں ہوتا ہے اور عوام پورا دن دفاتر اور ڈیروں کے دھکے کھا کرشام کو گھر پہنچتی ہے
موجودہ حکومت کے مقامی حکومتوں کے بارے میں مجوزہ احسن اقدامات کا ذکر نہ کرناتو اب نا انصافی ہو گی اب تک روزانہ کی بنیاد پر جو کچھ سننے میں آ رہا ہے اس میں تعلیم کی شرط اور اختیارات کی بہترین تقسیم کا فارمولہ تحریک انصاف کا احسن اقدام ہے جس میں واضح طور پریہ بیانات دیئے جا رہے ہیں کہ کم از کم نو مختلف محکمے بلدیاتی حکومتیں کے ماتحت کئے جا رہے ہیں اس کے علاوہ ایک اہم نکتہ جس کابار بار یہ ذکر کیا جا رہا ہے کہ ایک ناظم(چئیرمین ) کے لئے بی اے اور ایک جنرل کونسلر کے لئے میٹر ک پاس ہونا لازمی ہوگا جس کا سب سے بڑا فائدہ یہ ہو گا کہ پرانے سیاستدان جن کی اکثریت جہاں دیدہ اور گھاگ سیاستدانوں پر مشتمل ہے ، کا خاتمہ ہو جائے گا اور بقول شخصے نوجوان نسل کو آگے آنے کا موقع بھی ملے گا لیکن ایک ماں کا وہ فقرہ میرے ذہن میں ہر وقت کلبلاتا رہتا ہے کہ “پتر!فکر نہ کر نمبردار مر وی گیا تے توں نمبردار نی بننا” یہی کچھ صورت حال یہاں بھی دیکھنے کو ملی گی کہ پرانے سیاستدانوں کا کوئی بیٹا ، چاچا، ماما اس موروثی سیاست کا امین ہو گا جس کا عملی مظاہرہ ہمیں ہر جگہ دیکھنے کو مل رہا ہے اس کے علاوہ چئیرمین اور جنرل کونسلر کے اختیارات کا دائرہ کار وسیع کرنے کا منصوبہ گو ایک بہت ہی احسن اقدام ہے اور قابل تعریف بھی لیکن موجودہ حکومت ابھی بھی ان معاملات پر صلاح مشورہ اور تذبذب کا شکار ہے کہ کہیں ایسا نہ ہو جائے کہیں ویسا نہ جائے ۔

اپنا تبصرہ بھیجیں