معمر لوگوں کا عالمی دن…محمد نعیم شہزاد

ایک معمر خاتون بھاری بھرکم گٹھڑ لیے کھڑی ہے۔ پریشانی اور بے چینی کے آثار اس کے چہرے سے نمایاں ہیں۔ ایک خوبرو، ذی وقار شخصیت کا گزر ہوتا ہے اور اس ناتواں بڑھیا کا بوجھ خود اٹھا لیتے ہیں اور اسے منزل تک پہنچا آتے ہیں۔
ایک اور بڑھیا ہے جو گھر پر تنہا ہے۔ بیمار اور لاچار ہے۔ کوئی اس کا پرسان حال نہیں اسی بستی میں محمد نام کا ایک شخص ہے جس سے دینی اختلاف کی وجہ سے یہ عورت اس کی مخالف اور دشمن ہے۔ آج جب اس شخص کو خبر ہوئی کہ وہ بڑھیا بیمار ہے تو اس کی تیمارداری کرتے ہیں اور اس کو دوا دیتے ہیں، اس کے گھر کا کام بھی کرتے ہیں۔
معمر اور ضعیف لوگوں کی اعانت اور ان کو معاشرے کا معزز رکن بنانا اسلام کی بنیادی تعلیمات میں سے ہے۔ اسلام دین فطرت ہے جو اپنے ماننے والوں کی مکمل اور مبنی بر فطرتِ انسانی رہنمائی کرتا ہے۔ اسلام کا ایک بڑا حصہ معاشرتی حقوق و فرائض کا تعین کرتا ہے۔
قریبا 28 برس قبل اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے بھی 14 دسمبر 1990 کے دن یکم اکتوبر کو معمر لوگوں کے عالمی دن کے طور پر منانے کے لیے ایک قرار داد منظور کی۔ اس دن کو منانے کا مقصد لوگوں کی توجہ معمر افراد کے حقوق کی طرف مبذول کرانا ہے۔
معمر افراد معاشرے کے اہم افراد اور اثاثہ ہیں ان کو معاشرے میں باعزت مقام دینا ہم سب کی ذمہ داری ہے۔ آج دنیا بھر میں معمر افراد بہت سے مسائل سے دوچار ہیں۔ جن میں سکونتی، و معاشی تحفظ بڑے مسائل ہیں۔ سر چھپانے کو چھت اور پیٹ بھرنے کو روٹی کم از کم بنیادی حقوق میں سے ہے جو معمر افراد کو باعزت طور پر حاصل ہونا چاہیے۔
معمر افراد کی مثال اس مالی کی سی ہے جو کسی باغ کو پروان چڑھاتا ہے اور اپنی زندگی کے قیمتی ایام اور اپنی توانائیاں نسل نو کی نگہداشت میں صرف کر دیتا ہے۔ اور اس کی زندگی بھر کی پونجی یہی باغ ہے۔ ایسے میں اگر کوئی دوسرا آ کر اپنا حق جتانے کی کوشش کرے اور اپنے شب و روز قربان کر دینے والے
اس باغباں کو بے دخل کر دے تو اس سے بڑا عدل و انصاف کا قاتل اور بھلا کون ہو سکتا ہے؟
برصغیر پاک و ہند میں مغرب سے درآمدہ بیماریوں میں سے ایک بیماری اولڈ ہوم کلچر بھی ہے۔ کس قدر ستم ظریفی کی بات ہے کہ وہ اولاد جس کے پیدا ہونے پر باپ خوشی سے پھولے نہ سماتا تھا، ماں کے قدم زمیں پر نہ ٹھہرتے تھے، آج ان بیچارے والدین پر زمیں کیوں تنگ کر دی گئی؟ اور ستم در ستم کہ یہ سب آنکھوں کے تارے اور راج دلارے کے ہاتھوں ملنے والا انعام ہے۔ اب گلہ کریں بھی تو کس سے؟ شکوہ کناں ہوں تو کس کے سامنے؟
بعض دوسرے لوگ جو اولڈ ہوم نہیں بھیجے جاتے وہ بھی کچھ کم اذیت کا شکار نہیں ہوتے۔ ان کے ساتھ اپنے گھر میں ایسا معاملہ برتا جاتا ہے جیسے کہ وہ اچھوت ہیں۔ ان کے برتن اور بستر الگ رکھے جاتے ہیں اور وہ ایک چھت کے نیچے رہ کر بھی اپنے گھر والوں سے دور ہوتے ہیں۔ نہ انھیں بہو، بیٹوں کی معیت ملتی ہے اور نہ ہی وہ پوتے پوتیوں پر اپنی محبت کے موتی نچھاور کر پاتے ہیں۔ کہیں اہل خانہ ان کی کھانسی سے تنگ ہیں تو کہیں ان سے میل ملاقات کے لیے آنے والوں سے۔
ایک تیسری قسم کے معمر وہ لوگ ہیں جس کا مشاہدہ حالیہ رمضان کے مہینہ میں ہوا۔ مسجد میں والدین کے حقوق و فرائض پر درس تھا۔ علامہ صاحب فرما رہے تھے کہ والدین اولاد کے لیے بد دعا نہ کریں۔ دریں اثنا حاضرین میں سے ایک صاحب کھڑے ہوئے اور روہانسی آواز میں سوال کرنے لگے کہ میرے اکلوتے بیٹے نے میرا کاروبار اور گھر بار سنبھالتے ہی مجھے گھر سے نکال دیا ہے۔ میں کس طرح اسے بد دعا نہ دوں۔ عجب چلن ہو گیا ہے ہمارے معاشرے کا کہ اپنے حق میں بہترین دعا کو تو بد دعا سے بدل لیا اور باقی ہر ملنے والے سے دعا کا کہہ دیا۔
کچھ ذکر دیگر معاشرتی معاملات کا ہو جائے تو وہاں بھی حالات چنداں بہتر نہیں ہیں۔ معاشرے میں کہیں سینئر سٹیزن کو کوئی امتیازی سہولت حاصل نہیں ہے۔ اور کسی شعبہ زندگی میں بھی کسی قسم کی رعایت حاصل نہیں ہے۔ حالانکہ ہمارا دین تو عمر رسیدہ لوگوں کا احترام سکھاتا ہے اور ایسا شخص جو اپنے سے بڑوں کا ادب نہیں کرتا اس وعید کا حق دار ہے کہ الہ کے رسول اس سے لا تعلقی کا اظہار کرتے ہیں۔
آخر میں ذکر ایک ایسے معمر شخص کا کہ جس کی عمر قید و بند کی صعوبتوں میں گزری مگر وہ کشمیر میں صبح آزادی دیکھنے کا آج بھی خواہاں ہے۔ اللہ تعالی بوڑھے علی گیلانی کا یہ خواب ضرور شرمندۂ تعبیر فرمائے۔ اس دن کی مناسبت سے آئیے ہم تجدید عہد کریں کہ نہ صرف اپنے گھر اور خاندان بلکہ معاشرے کے دیگر معمر افراد کے بنیادی حقوق کا تحفظ یقینی بنائیں گے اور اپنے معاشرے کو اقوام عالم کے لیے مثالی نمونہ بنائیں گے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں