جنتی نوجوانوں کے سردار۔۔۔تحریر:حافظ امیر حمزہ

دنیا میں بہت سے نامور انسان گزرے ہیں ،جنہوں نے اپنے کمال تجربوں کی بنا پر اپنا نام پیدا کیااور اس دنیا میں چھا گئے ۔لیکن تاریخ گواہ ہے کہ مخلوق خدا میں صحابہ کرامؓ سے بڑھ کر کوئی کسی کو مرتبہ مقام نہ مل سکا اور نہ قیامت تک مل سکے گا۔صحابہ کرام دنیا کائنات میں وہ ہستیاں ہیں کہ جن کے مرتبہ و مقام کو بعد میں آنے والا کوئی جتنی بھی کوشش کرلے نہیں پہنچ سکتا،کوئی انسان نیکی کا بڑے سے بڑا عمل بھی کرلے پھر بھی جو فضیلت اللہ تعالیٰ نے صحابہ کرامؓ کو دی ہے اس کا کوئی بھی مقابلہ نہیں کر سکتا۔نبی مکرم نے اپنے صحابہ کرامؓ کا دفاع اور ان کی عظمت و فضیلت کو بیان کرتے ہوئے فرمایا:”کہ میرے اصحاب کو برا بھلا مت کہنا اگر کوئی شخص(بعد میں آنے والا) احد پہاڑ کے برابر بھی سونااللہ تعالیٰ کے راستے میں خرچ کردے اور اس کے مقابلے میں میر اکوئی صحابی ایک مدیا آدھامد غلہ(مد دونوں ہتھیلیوں کے بھراﺅمیں جو کھانے کی جنس آئے اسے کہتے ہیں) خرچ کردے تو پھر بھی صحابی کے خرچ کیے ہوئے ایک مد یا آدھا مد غلہ کا مقابلہ نہیں کر سکتا ۔
اسی فضیلت کی ترجمانی کرتے ہوئے شاعر کہتا ہے:
لے شوق سے نام صحابہ کا
کر چرچا عام صحابہ کا
اگر طلب ہے تجھ کو جنت کی
تو پھر پلا تھام صحابہ کا
پیارے نبی مکرم نے اپنے صحابہ کرام ؓ کے بارے میں فرمایاہے کہ :”میرے صحابہ ستاروں کی طرح ہیں“ ۔جیسے ستارے چمکتے دمکتے ہیں ،ایسے ہی صحابہ کا ایمان چمکتا ہے کوئی ستارہ زیادہ چمکتا ہے اور کوئی کم ،لیکن ستاروں کا کام چمکنا ہی ہوتا ہے۔پیارے پیغمبر نے صحابہ کرام ؓ کو ستاروں کی مانند اس لئے کہا کہ میرے صحابہ کرام ؓکے بعد میں آنے والے انسانوں کو روشنی ملے گی ،ہدایت ملے گی۔ جس صحابی کی اطاعت کی جائے ہدایت ہی ملے گی۔سب صحابہ کرامؓ کا مرتبہ ومقام اپنی جگہ مسلم ہے لیکن آج میں جس عظیم صحابی کا تذکرہ کرنا چاہتا ہوں اس شخصیت کو سب مانتے ہیں لیکن ماننے کے انداز اور طور طریقے الگ ہیں ۔وہ ہستی جنتی نوجوانوں کے سردار،نوسہ رسول اللہ سیدنا حضرت حسین ؓہیں ۔
حضرت حذیفہؓ کی والدہ نے انہیں پوچھا کہ آپ نبی ﷺ کی باگاہ میں کب حاضر ہوتے ہو؟ انھوں نے جواب دیا کبھی کبھی حاضر ہوتا ہوں ،ان کی والدہ ان سے ناراض ہوئیں اور پھر حضرت حذیفہ ؓ فرماتے ہیں میں نبی ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوکر مغرب کی نماز اداکروں گا، ان کی والدہ فرماتی ہیں حاضر ہوکر میرے اور اپنے لئے مغفرت کی دعا کروانا، نبی مکرم اپنی نماز ادا کر کے گھر کی جانب جا رہے ہیں تو سیدناحذیفہ آپ کے پیچھے آرہے ہیں، آپ نے پوچھا : توں حذیفہ ہے ؟فرمایا جی ہاں ،آپ نے فرمایا :تیری کیا حاجت ہے اللہ تعالیٰ تجھے اور تیری والدہ کو معاف فرمائے اس کے بعد آپ پر فرشتہ آیا اور آپ کو بشارت دی کہ سیدہ حضرت فاطمةا لزہراہ ؓ جنتی عورتوں کی سردار ہیں اور سیدنا حضرت حسنؓ اور سیدناحضرت حسین ؓجنتی مردوں کے سردار ہیں“۔
حضرت لیلیٰ بن مرہؓ فرماتے ہیں کہ پیارے بنی نے مجھے فرمایا :”حسینؓ مجھ سے ہے اور میں حسینؓ سے ہوںجو حسین ؓسے محبت کرے گااللہ تعالیٰ اس سے محبت کرے گا“ ۔یہی وجہ تھی کہ صحابہ کرام ؓ اہل بیت سے بہت محبت کرتے تھے ۔سیدنا حضرت ابوبکر ؓ ایک دفعہ صحابہ کرامؓ کو مخاطب ہیں اور نصیحت کر رہے ہیں کہ ”تم محمد کے ان کے اہل بیت کے بارے میں خیال رکھو“۔سیدنا عمرو بن عاص ؓ ایک مرتبہ بیت اللہ شریف میں تشریف فرما ہیں اور اپنی محبت کا اظہار کرتے ہوئے کہہ رہے ہیں ”اہل زمین میں سے آسمان والوں کے ہاں سب سے زیادہ محبوب یہ حسین ؓہیں “۔اسی لئے سب صحابہ کرام ؓ اہل بیت سے محبت کرنے والے تھے لیکن محبت کا انداز وہی تھا جس میں غلو نہ ہو اور نہ پیارے نبی کی مخالفت ہوتی ہو ۔اللہ تعالیٰ ہمیں بھی تمام صحابہ کرامؓ اور خصوصا اہل بیتؓ سے محبت کرنے کی توفیق عطافرمائے آمین۔

اپنا تبصرہ بھیجیں