ہماری مسجدی ویران کیوں؟۔۔۔تحریر: علی جان

 خانہ کعبہ دنیا کی سب سے بڑی عبادت گاہ ہے جہاں پر 1350000(تیرالاکھ پچاس ہزار)نمازی ایک ہی وقت میں نمازاداکرتے ہیں اس کے بعدمسجدنبوی ﷺ ہے جس میں تقریباً798000(سات لاکھ اٹھانوے ہزار)بنمازی اللہ کے ہاں سربسجودہوتے ہیں جس میں یقیناًمردعورت کے ساتھ بچے بھی ہوتے ہیں جن کووہاں کوئی کچھ نہیں کہتا مگرہمارے گلی محلے کی مسجدیں جس میں سینکڑوں کی تعدادمیں نمازی کھڑے ہوسکتے ہیں اس میں لوگ بچوں کو آنے ہی نہیں دیتے حالانکہ بچے جب اپنی ماں کو یابہن کوگھرمیں نمازپڑھتے دیکھتے ہیں توان میں بھی نماز پڑھنے کی خواہش جنم لیتی ہے تووہ انہیں نقل کرکے رکوع وسجودکرتے ہیں اوراسی طرح سنجیدگی سے رکوع سجودکرتا ہے جیسے بڑے کرتے ہیں پھرجب وہ اپنے پاپا یابھائی کو مسجدمیں جاتے دیکھتا ہے تو وہ بھی کوشش کرتا ہے کہ میں بھی مسجدنماز پڑھنے جاﺅ دوچارمرتبہ منع کے بعدآخرکاراسے مسجدلے جایا جاتا ہے وہ دیکھنا چاہتا ہے کہ لوگ آخرمسجدمیں کرتے کیا ہیں ؟وہ وہاں جمع کیوں ہوتے ہیں؟وہ مسجدمیں آتوجاتاہے مگراسے آداب کا پتا نہ ہونے کی وجہ سے وہاں بھاگتادوڑتارہتا ہے شوراورشرارتیں کرتارہتا ہے کبھی دوسری صف میں بھاگ دوڑ شروع کردینی کبھی پہلی صف میں جاکراپنے کسی ساتھی کوآوازیںلگانا شروع کردینا۔مگراس سے پہلے جب ہم بڑے نماز کا وضوکررہے ہوتے ہیں توہمیں کاپی کرکے ہماری طرح وضوکرنےکی کوشش کرتاہے اسے جواچھالگتا ہے وہی کرتا ہے مثلاًباربار منہ یاپاﺅدھونا وغیرہ مگرہمارے لوگ آج کل کے بچوں کو مسجدمیں دیکھ کرآگ بگولا ہوجاتے ہیں جیسے مسلمان نہ ہوں غیرمسلم بچے مسجدمیں آگئے ہوں کبھی وضوکرتے پانی زیادہ کھولنے پر ڈانٹنا،کبھی مسجدمیں شورپر تھپڑرسیدکرنا،مسجدمیں بھاگ دوڑپر گالیاں دینابعض بزرگ تو ایسے بچوں کو گالیاں دے رہے ہوتے ہیں جیسے ان سے کوئی ذاتی دشمنی ہے ان کےساتھ سخصتی سے پیش آتے ہیں اور انکے پیچھے لگے رہتے ہیں جب تک وہ مسجدسے چلانہ جائے بعض بزرگ بازو سے پکڑکرمسجدسے ہی نکال دیتے ہیںاگر دوبچے آپس میں باتیں کررہے ہوں توانکو گالیاں دے دے کے ان کو ذلیل کرنا شروع کردیتے ہیں کہ یہ گھرنہیںمسجدہے کوئی بچہ غلطی سے اگرپہلی صف میں کھڑاہوجائے تو اسے پیچھلی صف میں گھسیٹ دیا جاتا ہے پھر دوسری سے تیسری اسی طرح اسے پیچھے کرتے جاتے ہیں آخرکاروہ مسجدسے ہی باہرنکل جاتا ہے کیونکہ بچے مسجدکا ماحول خراب کررہے تھے ۔حالانکہ حدیث مبارکہ ہے: اپنے بچوں کو نماز پڑھنے کا حکم دوجب وہ سات سال کے ہوجائیںجب وہ دس سال کے ہوجائیں انہیں مارواگرنمازچھوڑیںاورانکے بسترجداکردو(داﺅد،ترمذی،بخاری)اس حدیث سے واضع پتا چلتا ہے کہ ہمیں اپنے بچوں کو مسجدوں میں ساتھ لے جانا چاہیے جس سے ان کی اچھی تربیت ہوگی اورانہیں نماز کی اہمیت کا پتہ چلے گا۔مگرہمارے ہاں جب بچے مسجدمیں آتے ہیں اور قرآن پڑھنے کیلئے اٹھاتے ہیں کوئی نہ کوئی بزرگ ان سے قرآن پاک چھین کراس کو سب کے سامنے رسواکرتا ہے کہ بچہ ہے قرآن پاک پھاڑدے گالوگ ان بچوں کوگال گلوچ ذلیل کرتے رہتے ہیں یہ بھی نہیں سوچتے کہ ہم نے تو اپنا وقت گزارلیاہے اب انہوں نے پختہ نمازی بن کرمسجدوں کوسنبھالنا ہے ۔ہمارے مولانا جو بچوں کو قرآن پاک پڑھاتے ہیں ان کاطریقہ بھی کما ل ہے کہ ایک تو بچے تعدادمیں قرآن پاک بہت کم پڑھنے آتے ہیں اور جو آتے ہیں ان کیلئے یہاں بھی نظم وضبط کا عظیم مسئلہ ہے کوئی غلطی ہوئی نہیں کہ استاد کاڈنڈا”ٹھا ٹھاٹھا“شروع ہوجاتا ہے جس کی وجہ سے وہ بچہ آہستہ آہستہ دورہوتاجاتا ہے آخرکارمسجدکا دربھول جاتا ہے جس کا کریڈٹ(گھناﺅنی غلطی)مسجدکے استاد کوجاتا ہے ۔میں نے ایک بچے سے پوچھا بیٹا مسجدقرآن کیلئے کیوں جاتے ہو تواس نے ناں میں جواب دیا میں نے وجہ پوچھی تو اس بچے نے کہا میں نے ایک بچے کی پٹائی ہوتی دیکھی اب مجھے مسجدسے ڈرلگتا ہے ۔بچے نے مولوی کا نہیں مسجدکا کہا کہ ڈرلگتا ہے میرے قارائین اب آپ اندازالگا سکتے ہیں وہ بچے کتنے وقت سے نماز پڑھنے بھی نہ گیا ہوگا۔حالانکہ یہ ہمارے لیے لمحہ فکریہ ہے کہ جنہوں نے آگے چل کرمسجدوں کوسنبھالنا ہے کسی نے امام بننا ہے تو کسی نے اذان دینی ہے ابھی مسجدمیں آئیں گے شورکریں گے کھیلیں گے،دوڑیں گے،شرارتیں کرے گے توآہستہ آہستہ آداب کا بھی پتاچل جائے گاآج کل ہماری مساجد میں قالین اور شیشے والی کھڑکی دروازوں کی وجہ سے مسجد انتظامیہ بچوں کے متعلق حساس ہوگئے ہیں مگرایک آدمی نے مسجدمیں پیشاب کردیا جسے آپ ﷺ نے برداشت کیااورصحابہ کرام کواسے مارنے سے روکا آپﷺ نے اسے سمجھایا کہ مساجد ان چیزوں کیلئے نہیں بلکہ عبادت کیلئے ہوتی ہے تو اس نے فوراًکلمہ پڑھ کے مسلمان ہوگیا مگرہمارے ہاں بچوں کو سختی کرکے دین سے دورکرنے کی کوشش کررہے ہیں۔حضرت ابوقتادہ سے مروی ہے کہ ایک بارہم مسجدمیں بیٹھے تھے توحضورپاک ﷺ اپنی نواسی کو مسجدمیں ہمارے پاس تشریف لے آئے(صحیح مسلم543)اس کا مطلب یہ ہے کہ حضورپاک نے کبھی منع نہیں کیا اگراس حدیث کو ہم یہ مان لیں کہ حضورپاک ﷺنے بچوں کو مسجدمیں لانے کی ترغیب دی توغلط نہ ہوگا۔ربیع بنت معوذ بن عفراؓ نے فرمایا: ہم خودبھی عاشورہ کا روزہ رکھتے اوراللہ چاہتا تو ہم اپنے بچوں کو بھی عاشورہ کا روزہ رکھواتے افطاری سے پہلے جب وہ رونے لگتے تو ہم اون کا کھلونا انہیں دے کرچپ کرادیتے(صحیح مسلم)اگرصحابہ کرام بھی بچے مسجد میں لے آتے تھے تواس کا مطلب حضورپاکﷺ بھی چاہتے تھے کہ بچے مسجد میں اآئیں ورنہ بچوں کے رونے پرآپ ﷺ صحابہ کرام کو روک نہ دیتے کہ بچوں کو نہ لائیں آج اگرکسی کو بات کرو تو کہتے ہیں کہ بچوں کے شور اورشرارتوں سے عبادات میں خلل پڑتا ہے ویسے کمال ہے ہماری عبادات صحابہ اور انبیاءسے اچھی ہے جس میں خلل پڑتا ہے ہم ہوتے تومسجدمیں ہیں مگرہمارا دماغ اپنے کاروبار پرہوتا ہے کبھی ہم پیسے گن رہے ہوتے ہیں تو کبھی سوچ رہے ہوتے ہیں نماز پڑھ کے کس سے ملنا ہے یا کس نے ملنے آنا ہے ؟مگرجب کوئی بچہ شورکرتا ہے تو ہمیں اپنی عبادت یاد آجاتی ہے صرف اتنا سوچیں آپ جس بچے کو مار کر مسجد سے باہرنکالتے ہیں وہ ہمیشہ کیلئے مسجد نہ آئے آپ جتنی بھی عبادت کریں وہ کسی کام کی نہیں کیونکہ اس بچے کی طرف سے آپکو گناہ جاریہ مل رہا ہے ہم درخت لگاتے ہیں کہ صدقہ جاریہ ہے ہم پانی کے نلکے لگواتے ہیں کیونکہ لوگ پانی پیتے رہیں گے توہمیں ثواب ملتا رہے گا کبھی ہم نے یہ سوچا ہے کہ ہم کسی کو نماز کا عادی کریں تو جب تک وہ نماز پڑھتا رہے گا اس کا اچرہمیں ملتارہے گا چاہے ہماری نماز قبول ہو یا نہ ہو جسے ہم نے نماز کا عادی کیا یا نماز کی دعوت دی اس کا ہمیں مقبول نماز کا ثواب مل گیا۔میں نے اپنے کالم میں بزرگوں کو اس وجہ سے باربار مخاطب کیا ہے کیونکہ میں نے افطاری کے وقت بزرگوں کو بچوں پرغصہ کرتے دیکھا ہے جمعہ کی نماز کے وقت بزرگوں کو ہی بچوں پرچلاتے دیکھا ہے نما ز کے اوقات میں بزرگوں کو ہی پانی زیادہ کھولنے کی وجہ سے بچوں کومارتے دیکھا ہے خدارا اپنی آخرت خراب نہ کریں اور ان بچوں کے ساتھ پیار کریں تاکہ یہ باربار مسجدکا رخ کریں جب کوئی بچہ شرارت کرے یاشور کرے اسے سمجھائیں ایک باردوبار آخروہ سمجھ جائے گا اور خود نماز کا پابندہوجائے گابچوں کو کچھ کہنے سے پہلے یہ یادکریں کہ آپ بھی کبھی بچے تھے اوربچوںکو شیطان نہ کہا کریں اسلیے کہہ یہ اللہ کی نشانیوں میں سے ہیں گناہوں سے پاک پرناتجربہ کارہوتے ہیں وہ ہمیں نکل کرکے کچھ سیکھنا چاہتے ہیں اگروہ مسجدمیں کامیاب ہوں گے تو آگے جاکے بھی کامیاب ہوں گے ورنہ احساس کمتری کا شکار ہوجائیں گے امام مساجدکااحترام کریں گے علماءکرام کو عزت دے گے اور خود بھی عالم دین بنیں گے جب وہ کچھ بڑے ہوتے ہیں انہیں خوداحساس ہوگا کہ ہم نے مسجد میں جوکیا غلط کیابچے کو ایک باردوبار بلکہ دس بار بھی سمجھانا کم ہوتا ہے انہیں اپنے ماحول اورعمل سے سمجھائیں تووہ ضرورسمجھنے لگیں گے ۔

اپنا تبصرہ بھیجیں