اسلامی ہجری تقویم کا پسِ منظر…مفتی محمد اظہر

لفظِ تاریخ ‘‘ اہل عرب کی لغت میں نیا لفظ تھاچونکہ یہ’’ ماہ روز‘‘ سے بدلا اور پھرا ہوا لفظ ہے حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اس کی اصل پہچاننے کا ارادہ فرمایا کہ اہل فارس کے ہاں یہ اصل میں کیا ہے ؟توانہوں نے فارس سے ھرمزان کو بلوایا اور پوچھا یہ لفظِ ’’تاریخ‘‘ کیا ہےاس نے کہا کہ ہم اس کے ذریعے حساب لگاتے ہیں اور ہم نے اس کا نام مامروز رکھاہوا ہے جس کا معنی بنتا ہے’’مہینوں اور دنوں کا حساب‘‘۔ اور عرب نے اس مامروز کومؤرخ کر کے پڑھا اسی سے تاریخ کا لفظ استعمال کرنا شروع ہوا جو آج تک مستعمل اور رائج ہے

البتہ سابقہ تواریخ میں گزشتہ امتوں نے عظیم واقعات اور بادشاہوں کے عروج وزوال، اتار وچڑھاؤ کو تاریخ کا مدار اور معیار قرار دیا۔ سب سے پہلے حضرت آدم کے جنت سے اترنے کو پھر حضرت نوح کی بعثت کو پھرطوفان نوح کو اپنی تاریخ کا معیار قرار دیا۔ اور بنو اسحاق نے حضرت ابراہیم کے آتش نمرود میں ڈالے جانے کو معیار بنایا جو حضرت یوسف تک اور حضرت یوسف سے حضرت موسیٰ تک اور بالآخر حضرت سلیمان  تک چلتا رہا۔بنی اسرائیل حضرت موسی  کے فرعون سےبچ نکلنے کے دن کو اور بنی اسماعیل کعبہ کی تعمیر کے دن کو اور یونان اور فارسی اسکندر بادشاہ کے غلبہ کے دن کو اپنی تاریخوں کا مدار ٹھہراتے رہے ۔ آخر میں اہلِ عرب آئے جنہوں نے عام الفیل کو اپنی تاریخ کا معیار بنایایہ وہ سال تھا جس دن ابرہہ اپنے ہاتھیوں کے لشکر جرار کے ساتھ بیت اللہ پر قبضہ کے لیے آیا اور پھر ادنی سا وجود رکھنے والی مخلوق ابابیل کی کنکریوں سے زمیں پر ڈھیر ہوگئے۔ اس واقعہ کو بنیاد بنا کر اپنے مہینے اور دنوں کا حساب لگاتے رہے۔

خود رسالت پناہ حضرت محمد رسول اللہw نے بھی اسی واقعہ کو مدار بنائے رکھا۔ یہ سلسلہ یوں ہی دراز رہا حتی کہ حضرت عمر فاروق  کا دور خلافت آگیا۔ اسی دورِ خلافت میں حضرت ابو موسی اشعری  نے امیر المومنین حضرت عمر  کی طرف خط لکھا کہ ہمارے پاس امیر المومنین کی طرف سے خطوط آتے ہیں جن پر تاریخ لکھی ہوتی ہے ’’شعبان ‘‘ تو ہم اس کی وجہ سے تشویش میں مبتلا ہیں کہ اس سے کونسا شعبان مرادہے گذشتہ شعبان یا آنے والا شعبان ۔ تواس پر حضرت عمر فاروق h نے تاریخ لکھوانے کا ہتمام کروایا اور ساتھ ہی یہ مشاورت کی کہ کس واقعہ اور کس مہینہ کو تاریخ اسلامی کی بنیاد بنایا جائے۔

بعض صحابہ کرام کی رائے یہ تھی کہ اس کا معیار آپ  کے یومِ ولادت کو ٹھہرایا جائے، بعض نے کہا اس کی اساس آپ  کی بعثت کے دن کو قرار دیا جائے، کچھ نے کہا کہ حضور  کی وفات کے دن کو اپنی تاریخ کی بنیاد بنایا جائے۔دیگر صحابہ j نے فرمایا کہ تاریخ کا مدار آپd کی ہجرت کو قرار دیا جائے۔ان آراء کے ملنے کےبعد امیرا لمؤمنین حضرت عمر بن خطاب  نے فرمایا کہ تاریخ کا مدار آپ  کی ہجرت کور رکھا جائے۔چونکہ سابقہ تمام امتوں کی تاریخوں پر غور کیا جائے تو یہی بات معلوم ہوتی ہے کہ وہ تمام واقعات اور حوادثات انسانیت کے لیے ناقابلِ فراموش واقعات تھے جن کی حفاظت کے لیے ان کو معیار قرار دیا گیا۔ اور اسلامی کی تاریخ میں اگر غور کیا جائے تو ہجرت ایسا واقعہ تھا جو اسلام کی تبلیغ اور اشاعت کا سبب بنا بلکہ قبائل سے نکل کر بلادِ فارس وروم تک اس کی کرنوں کو منتشر ہونے کا دائمی موقع نصیب ہوا، اور یہی ہجرت تھی جس کے بعدمسلمانوں کو آزادانہ طور پر اپنی تبلیغ اور احکام خداوندی کو کونے کونے تک پہنچانے میں کامیابی حاصل ہوئی۔ اس واقعہ کو بنیاد بنا کر اسلامی تاریخ کی بنیاد ڈالی گئی ۔

اس سے یہ بات معلوم ہوئی کہ کسی بھی امت اور انسانی طبقہ فکر میں شخصیات کی قربانی بہت اہمیت کی حامل ہوتی ہیں لیکن ان تمام قربانیوں کو گہری نظر سےدیکھا جا ئے تو وہ سب کی سب کسی خاص مقصد اور مطلب کے حصول کے لیے دی جارہی ہوتی ہیں بعینہ یہ صورت حال اسلا م کے بچپن سے لے کر بلوغ تک کے واقعات میں نظرآتی ہے کہ بے شمار قربانیوں کے نذرانے پیش کئے گئے جن کو امت کا کوئی ادنی فرد بھی فراموش کرنے کا نہیں سوچ سکتا وہ بعثت نبوی کے وقت معصوم اور مقدس وجود پہ ابولہب جیسے آدمی سے پتھروں کا کھانا ، شعب ابی طالب میں فاقہ کشیاں اورمحبوسیت، وہ میدانِ احد کے کارزار میں جلیل القدر ساتھیوں کی شہادت اور خود کے دندان مبارک کا شہید ہونا وہ مکہ کی سرزمین پر طرح طرح کی آزمائشیں برداشت کرنا اور پھر اسی مکہ سے جو جائے ولادت تھی جس کو تاریخ کا معیار بنایا جاتا تو بجا طور پر خوشی اور مسرت کادن تھا لیکن نہیں بنایا گیا بلکہ جس دن مکہ کو چھوڑنا پڑا اور مدینہ کار خ کیا یہ ایسا واقعہ تھا کہ آج بظاہر مکہ سے بے یارومددگاری کی ہوائیں مقدس وجود کو جھلسا رہی تھیں لیکن دوسری طرف آج اُس مقصد اور منشور کے عروج کا آغاز ہواچاہ رہا تھاپیچھے جتنا کچھ قربان ہوچکا تھا آج اس مقصدکے تکمیل کی بشارتیں نظر آرہی تھیںاسی کو فراست عمر نے معیار قرار دیااور اس معیار کے قائم کرنے کے بعد پھر صاحب ہجرت کی زندگی کے ایک ایک گوشوارے کو امت تک باحسن انداز پہنچانے کے لیے آپ کی ولادت سے وفات تک تمام واقعات کی تاریخی نوعیت کو محفوظ کروایا۔

دوسرا مرحلہ اس اسلامی تقویم میں یہ تھاکہ اس کا آغاز کس مہینہ سے کیا جائے ۔تو بعض اکابر صحابہ کرام  کی رائے یہ تھی کہ رمضان سے اس سال کی ابتداء کی جائے لیکن پھرطے ہوا کہ محرم الحرام سے آغاز کیا جائے وجہ اس کی یہ تھی کہ یہ مہینہ حاجیوں کے حج سے واپس آنے کا موقع ہوتا ہے اور حضرت ابن عباس  فرماتے ہیں کہ والفجر ولیال عشر میں اللہ نے جو دس راتوں کی قسم کھائی ہے اس میں محرم سال کی فجر ہے۔ اور عبید بن عمیر فرماتے ہیںکہ محرم اللہ کا مہینہ ہے اورسال کا آغاز ہے بیت اللہ کا غلاف چڑھایا جاتا ہے اور اس سے لوگ اپنی تاریخ کو بیان کرتے ہیں۔

وأي الشهور نبدأ قالوا رمضان ثم قالوا المحرم فهو مصرف الناس من حجهم وهو شهر حرام فاجتمعوا على المحرم

أن ابن عباس كان يقول في قوله تعالى والفجر وليال عشر هو المحرم فجر السنة وروى عن عبيد بن عمير قال إن المحرم شهر الله وهو رأس السنة يكسى البيت ويؤرخ به الناس

اور ویسے بھی اس مہینے کے نام میں بھی حرمت کا ایک واضح مفہوم معلوم ہورہا تھا جو اس امت کا ایک خاص طرہ ٔ امتیاز رہا ہے اور در حقیقت یہ وہی حرمت تھی جس کو حجۃ الوداع کے موقع پر واشگاف الفاظ میں بیان فرمایا:

إن دمائكم واموالكم عليكم حرام كحرمة يومكم هذا في شهركم هذا في بلدكم هذا

کہ لوگو! تمہاری جانین تمہارا مال ایک دوسرے پر اس طرح حرام ہے جیسے آج کا دن(عرفہ کا دن تھا) اور جیسا یہ مہینہ محترم اور جیسے مکہ جیسا شہر محترم ہے۔

یہ اسلامی ہجری سال کی تقویم تھی جس نے اپنے اندر بے شمار خصوصیات اور امتیازات کو لیا ہوا ہے بلکہ اگر غور کیا جائے تو اکثر اقوامِ عالم کے کیلنڈر اور نقشہ میں وہ خصوصیات نظر نہیں آتیں جو اس نقشہ میں موجود ہیں۔اور ان کے اندر ۴ بنیادی نقائص موجود ہیں۔

۱۔ماہ وسال کی غیر فطری ترتیب۔

۲۔ مہینوں یادنوں کے ناموں کا بادشاہوں یا امراء اور بتوں کے نام سے منسوب ہونا۔

۳۔ یہ کیلنڈر جغرافیائی طور پر عالمی کے بجائے مقامی سہولیات کے اعتبار سےترتیب دیے جاتے رہے اس وجہ سے ان کو شمسی تقویم کہاجاتا ہے۔

۴۔ شمسی تقویم میں موسمی تبدیلی نہیں ہوتی۔ یعنی ہر مہینہ موسم کے ساتھ خاص ہے ۔

درج بالا نقائص کا اگر غور سے جائزہ لیا جائے تو پھر اسلام کے تجویز کردہ ایک ایک قانون کی فوقیت واضح ہو جاتی ہے ۔ صرف مہینے اور دنوں کے نامو ں کودیکھا جائے تو ان میں کس حد تک اغیار کی عدم ِ موافقت کا پاس رکھا گیا کوئی نام ایسا تجویز نہیں کیا گیا جس میں کسی رسم و رواج اور کسی طور ور طریقے کی بوآتی ہو بلکہ ہر ایک مہینہ محرم الحرام سے لیکر ذوالحجہ تک اپنے معانی میں ایک خاص سبق رکھتے ہیں ۔

اور ان نقائص کے حوالے سے اگر دیکھا جائے تو پہلی بات میں ہجری تقویم کو خاص امتیاز حاصل ہے کہ اس کی ترتیب فطری ہے غیر فطری نہیں یعنی رات دن کے شروع ہونے میں اور مہینہ کے آغازکے حوالے سے اصول سب فطری ہیں۔

کسی مہینے یا دن کا نام کسی بادشاہ یا بت کے نام کے ساتھ منسوب نہیںہے۔

ان کیلنڈرز کی ترتیب ہمیشہ مقامی صورتحال کو سامنے رکھ کر طے ہوتی رہی جب کہ اس کی ترتیب کو عالمی اصولوں کے تحت رواج دیا گیامثلاً چاند کے حوالے سے فرمایا : صوموا لرؤیتہ وافطرو ا لرؤیتہ ۔

آخر الذکر وہ خوبی ہے کہ اس کا مقابلہ کسی تقویم کے ساتھ مناسب معلوم نہ ہواکہ ہر کیلنڈر میں موسمی تبدیلی کا لحاظ نہیں ہوتا بلکہ موسم مہینوں کے ساتھ خاص ہے کہ فلاں مہینے میں سردی ہو گی فلاں میں گرمی ہو گی ، جب کہ اسلام کے ترتیب کردہ اس کیلنڈر میں ایک ایسی خصوصیت کو رکھ دیاگیا جو ہر ایمان والے کے لیے راحت اور خوشی کا سامان ہے مثلاً عبادات میں سے بہت سی عبادات ایسی تھیں جن کا تعلق خاص مہینوں سے تھا جیسے روزے رکھنا حج کرنا ۔ تو اس تقویم کی برکت سے عبادات کی ادائیگی کے لیے ہر موسم کی دستیابی کا انتظام فرمایاکہ روزہ و حج سخت گرمی میں اور سردی میں ادا کیے جا سکیں تاکہ ایمان والے کو یہ احسا س ہو کہ موسم خواہ کیسا ہی ہو انہیں اپنے خالق ومالک کی عبدیت کا حق ادا کرتے رہنا چاہیے اور یہی ایمان والے کاسرمایہ ہے

بہار ہو کہ خزاں لا الہ الا اللہ

بس انہی کفیات کو زندہ رکھنے کا سبب یہ ہجری سال بنا جس میں بندہ اپنی بندگی کا اظہار ہرموسم میں کرکے اپنے خالق کی محبت اور معرفت حاصل کرسکتا ہے جہاں اس عظیم کارنامے پر امیر المومنین حضرت عمر خراجِ تحسین کے مستحق ہیں وہیں ہر ایمان والے کے لیے ضروری ہے کہ اس تقویم کو یاد رکھے مہینوں کے ناموں سے لیکر ایام کی تاریخ تک اس کو یاد رکھنا مستحب ہے اور کارِ ثواب ہے اور اپنے معمولات میں اس تاریخ کو فوقیت دیتے ہوئے رائج کرے ۔

اپنا تبصرہ بھیجیں