موت کے فرشتے۔۔۔ ان کو سزائے موت کیوں نہیں؟…چودھری خادم حسین

صوبائی سطح پر تمام فوڈ کنٹرول اتھارٹی والے ہر روز کارروائی کرتے اور مختلف اضلاع سے مضر صحت اشیاء خوردنی اور مشروبات وغیرہ کا سراغ لگا کر جعلی فیکٹریاں سر بمہر کرتے ہیں،افسوسناک صورتِ حال یہ ہے کہ اس کارروائی کے نتیجے میں بہت ہی افسوس ناک اور دُکھ دینے والے حقائق منظر عام پر آئے ہیں، مشہور کمپنیوں کے جعلی مشروبات اور اول درجہ کمپنیوں کے شربت جعلی تیار کر کے فروخت کرنا بھی عام ہے،کسی بھی عام دکان سے خریداری مشکوک لگتی ہے۔ ابھی گزشتہ دِنوں ایک ایسی بھٹی یا فیکٹری پکڑی گئی،جہاں قربانی کے جانوروں کی آلائش سے تیل بنایا جا رہا تھا۔ معلوم ہوا کہ یہ حضرات اس میں استعمال شدہ تیل ملاتے اور فروخت کرتے تھے ان کے خریدار عام طور پر قصبوں، دیہات اور سڑک کنارے چھابڑی لگا کر سودا فروخت کرنے والے ہوتے ہیں جو چپس، سموسے اور شامی کباب تل کر فروخت کرتے ہیں۔ یوں عام لوگوں کی صحت سے کھیلتے ہیں۔

ایک دور تھا جب دیسی گھی استعمال ہوتا اور سستا بھی تھا، ان دِنوں وناسپتی گھی عیب گِنا جاتا اور جو بازار سے لے کر آتا اُسے چھپا کر لاتا تھا کہ ہمسایوں اور دوستوں کو معلوم نہ ہو جائے۔اُن دِنوں اس دیسی گھی میں اس وناسپتی گھی یا پھر چربی کی ملاوٹ کی جاتی۔ تاہم دکاندار اور خود کھانے اور استعمال کرنے والے ماہر تھے اور چکھ، سونگھ کر سراغ لگا لیتے تھے، تب میونسپل کمیٹی یا کارپوریشن والے کارروائی کرتے۔لاہور میں میونسپل کارپوریشن کی اپنی لیبارٹری تھی،جہاں نمونے تجزیہ کے لئے بھیجے جاتے اور پھر لیبارٹری کے نتیجے کے بعد کیس کا فیصلہ ہوتا، آج کل تو ایسے جدید آلات موجود ہیں ، جو موقع پر ہی تجزیہ کر دیتے ہیں۔
ضرور پڑھیں:”میں ایک لڑکی کے پاس ڈیٹ مارنے گیا تھا، گاڑی سے اترا تو دیکھ کر ہوش اڑ گئے کہ عمران خان کا گھر تھا اور۔۔۔“ پاکستانی نوجوان نے ایسی بات کہہ دی کہ ہنگامہ برپا ہو گیا

فوڈ اتھارٹی کی کارکردگی کافی بہتر ہے،لیکن حیرت اس پر ہے کہ مسلسل کارروائی کے باوجود جعل سازی کا یہ سلسلہ بند نہیں ہوا،حالانکہ شعبہ طب کے ماہرین کی طرف سے بار بار انتباہ کیا جاتا ہے کہ ان ملاوٹوں اور جعل سازی کی وجہ سے کینسر جیسے ناقابلِ علاج امراض پیدا ہوتے ہیں۔ یہ تو تیل بنانے کی بات ہے، دودھ میں جس نوعیت کی ملاوٹ ہوتی ہے اس سے تو اللہ کی پناہ اور یہ دودھ بڑے ہی نہیں شیر خوار بچے بھی پیتے ہیں۔اشیاء خوردنی کا سلسلہ اپنی جگہ یہاں تو زہر بھی خالص نہیں ملتا، دوسرے معنوں میں ادویات میں بھی ملاوٹ اور جعلی ادویات بنانے کا سلسلہ جاری ہے۔ یوں مریض کی صحت یابی کے لئے خریدی جانے والی دوا اس کی جان لے لیتی ہے۔ ڈرگ اتھارٹی کی طرف سے بھی کارروائی تو کی جاتی ہے،لیکن ملزموں کے مقدمات کا کیا بنا یہ پتہ نہیں چلتا۔ہم نے کئی افسانے اور ناول پڑھے ان میں مصنفین نے بڑی دردمندی سے جعلی ادویات اور اشیاء خوردنی کے جرائم کو انسانیت کے حوالے سے اُجاگر کیا،ان پر کئی فلمیں بنیں جن میں بتایا اور دکھایا گیا کہ جعلی ادویات بنانے والوں کی خود اپنی اولاد ان کی بنائی جعلی دوا سے مرتی ہے تو وہ ٹکریں مارتے ہیں۔

آسان منافع اور منافع خوری کے اس لالچ کی وجہ سے تو صابن کاسمیٹکس اور سگریٹ تک دو نمبر بنا کر بیچے جاتے ہیں۔لاہور کی شاہ عالم مارکیٹ اور لالہ موسیٰ کی شہرت تو عالمی سطح پر بھی ہے،بلکہ کہا جاتا ہے کہ یہ حضرات تو بندہ بھی دو نمبر بنانے کی اہلیت کے حامل ہیں۔دُکھ تو یہ بھی ہے کہ یہ حضرات جو پیسہ کمانے کی خاطر انسانی جانوں اور لوگوں کی صحت سے کھیلتے ہیں ان کو کوئی احساس بھی نہیں ہوتا۔ پکڑے جانے پر خبر بنتی اور تصاویر شائع ہوتی ہیں، بلکہ آج کل تو الیکٹرانک میڈیا کی بدولت ٹی وی سکرین پر شہرت ہوتی ہے۔ ان کو پھر بھی خیال نہیں آتا، اس امر کا تجزیہ کیا جائے تو احساس ہوتا ہے کہ مجموعی طور پر اس جرم کا جاری رہنا سزا نہ ملنے کے باعث ہے کہ قانون میں بہت خامیاں ہیں اور پھر سزا بھی بہت کم ہے،حالانکہ جو فعل بدیہ حضرات کرتے ہیں وہ طویل اور ناقابلِ علاج امراض کا باعث بننے کے علاوہ لوگوں کی موت کا ذریعہ بھی بنتا ہے، اس سلسلے میںیہ حضرات دین سے بھی ہدایت نہیں لیتے، حالانکہ واعظ حضرات بھی دینی لحاظ سے اس گناہ کے بارے میں آگاہ کرتے ہیں۔اگرچہ ان کو اور زیادہ شدت اور زور سے بتانا چاہئے۔

ہمارا تجربہ یہ ہے کہ ایسے لوگوں کے لئے سزائیں بہت کم ہیں اور پھر کرپشن کی وجہ سے بھی یہ لوگ چھوٹ جاتے ہیں،ضروری ہے کہ قوانین پر نظرثانی کی جائے اور ان کو کم از کم عمر قید اور زیادہ سے زیادہ موت کی سزا دی جائے۔ملائشیا جیسے مُلک میں بھینس، گائے کو ٹیکہ لگا کر دودھ لینا جرم اور اس کی سزا موت ہے، وہاں اب یہ جرم خال خال ہوتا ہے،لیکن ہمارے مُلک میں یہ وبا عام ہے اور دودھ خالص ملنا جوئے شیر لانے والی بات ہے، زیادہ قیمت ادا کر کے بھی خالص دودھ نہیں ملتا، اِس لئے بہتر عمل یہ ہو گا کہ ان تمام قوانین پر نظرثانی کی جائے۔اگر میڈیا کے لئے ایک قانون کی تجویز ہے تو اِس جان لیوا عمل کے لئے ایسا کیوں نہیں کیا جاتا۔ بہتر ہو گا کہ مثالی سزائیں نافذ کر دی جائیں اور مقدمات کے عمل کی شفافیت کا بھی اہتمام کیا جائے تاکہ یہ حضرات عام شہریوں کی زندگیوں سے نہ کھیل سکیں،جہاں اور بہت کچھ کرنا ہے وہاں یہ بھی ضروری ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں