جو عہد صحرائیوں سے باندھا گیا تھا پھر استوار ہوگااوری…ا مقبول جان

القاعدہ جس کا نام گیارہ ستمبر کے ورلڈ ٹریڈ سنٹر کے واقعہ کے بعد پوری دنیا میں ایک گالی بنا دیا گیا تھا ۔ اس دشنام اور ذرائع ابلاغ کے ذریعے پھیلائی گئی نفرت کی چھتری کے نیچے پناہ لے کر جس طرح گزشتہ سترہ سالوں میں مسلم اْمہ کے معصوم انسانوں کا خون بہایا گیا ہے، اس کی مثال انسانی تاریخ میں کم ہی ملتی ہے۔ یوں تو گذشتہ صرف ایک سو سال میں اس کرہ ارض پر جتنے انسان ہلاک ہوئے، جتنے شہر تباہ و برباد ہوئے اور جتنے گھرانے اجڑے، بے گھر ہوئے ان کی تعداد پوری اجتماعی انسانی تاریخ میں ہونے والے قتل و غارت سے زیادہ ہے۔ مذہب بیزار سیکولر، لبرل اور جمہوریت پرست جدید دنیا کا آغاز 1900 کے لگ بھگ ہوا ، جب مذہب کو ریاست کے کاروبار سے علیحدہ کرکے جدید قومی سیکولر ریاستوں کا جنم ہوا۔ اس کے بعد کی کہانی جنگ عظیم اول، جنگ عظیم دوئم، کوریا، ویت نام، انگولا، فلسطین، عراق، افغانستان کی جنگوں کی کہانی ہے۔ لیکن گیارہ ستمبر 2001 کے بعد یہ سب کے سب متحد ہو گئے، ایک ’’خوفناک‘‘ قرار دیے گئے دشمن کے خلاف، ایک ہولناک عفریت کے خلاف جس کا ٹھکانہ افغانستان کے بے سروسامان پہاڑوں میں تھا، نام تھا اس کا ’’القاعدہ‘‘اور اس سے خوفزدہ تھے۔ دنیا کی تمام عالمی طاقتیں گیارہ ستمبر کے بعد اس نام کو انسانی قتل عام کے لیے ہر جگہ استعمال کرنے لگیں۔ ڈیزی کٹر بم گرانے ہوں ، میزائل پھینکنے ہوں ، ڈرون حملہ کرنا ہو ، گوانتاناموبے اور بگرام کے اذیت ناک جیل خانے آباد کرنا ہوں ، فلوجہ اور موصل جیسے شہروں میں گھس کر عورتوں، بچوں اور بوڑھوں کو تشدد کا نشانہ بنانا ہو ، بس ایک نام کافی تھا کہ یہ سب القاعدہ کے ٹھکانے ہیں۔ یہ لوگ ان کے پشت پناہ ہیں، القاعدہ انہیں انسانی ڈھال کے طور پر استعمال کرتی ہے۔ لاکھوں مارے گئے، کروڑوں بے گھر ہوئے اور ہزاروں شہر برباد۔ اس تشدد کی کوکھ سے نئے نئے گروہ وجود میں آگئے۔ ہر ملک کا اپنا ایک مجاہد اعظم تھا اور ہر شہر کا ایک ہیرو۔ داعش نے تو زمین پر کھینچی ملکوں کی لکیریں تک ختم کر ڈالیں۔ گزشتہ پانچ سالوں میں اتنی جہادی تنظیمیں وجود میں آئیں اور اتنے گروہ میدان جنگ میں اترے ہیں کہ شمار ممکن نہیں۔ القاعدہ اس دوران پس منظر میں چلی گئی۔ اس کے ساتھ منسلک جنگجو دوسرے گروہوں میں جاتے رہے اور اپنے خواب ٹوٹنے پر واپس القاعدہ سے جڑتے رہے۔ گیارہ اگست 1988ء کو پشاور کے ایک چھوٹے سے مکان سے آغاز کرنے والی یہ تنظیم جو پندرہ سال تک عالمی طاقتوں کی آنکھوں میں کھٹکتی رہی، اپنی گذشتہ پانچ سالہ خاموشی کے بعد اب دوبارہ منظر عام پر آچکی ہے۔ القاعدہ کے ایمن الظواہری کی23 اگست 2018ء کو منظر عام پر آنے والی ویڈیو میں جو پیغام ہے اس میں آئندہ کا میدان جنگ بہت واضح نظر آتا ہے۔ نہ صرف میدان جنگ بلکہ اس کے ہیڈکوارٹر کی بھی نشاندہی کی گئی ہے جہاں سے ایک بار پھر یہ جنگ لڑی جائے گی۔ طالبان کی اسلامی اماراتِ افغانستان کو ظواہری نے جدید دور میں جہاد کے بہترین ماڈل کے طور پر پیش کیا ہے۔ اس نے کہا ہے کہ افغان مجاہدین کی خانہ جنگی کے خاتمے کیلئے ستمبر 1994 ء میں ابھرنے والی طالبان کی قوت نے افغانستان میں حکومت قائم کی،وہ حکومت 2001 ء میں امریکی حملے کے بعد بکھر گئی ۔ لیکن گزشتہ سترہ سالوں میں جس طرح طالبان نے صرف اور صرف افغانستان تک محدود رہ کر امریکہ اور نیٹو کے ممالک سے جہاد کیا ہے اور شاندار فتح حاصل کی ہے ، انکے اس تجربے نے جہاد کے ایک بہترین نمونے کو جنم دیا ہے۔ ظواہری کے پیغام کا آغاز خلافت عثمانیہ کے زوال کے تذکرے سے ہوتا ہے۔ وہ بتاتا ہے کہ اس زوال کے بعد کفر کی طاقتوں نے مسلمانوں کو ستاون ریاستوں میں تقسیم کرکے ان پر اپنے پٹھو بٹھا رکھے ہیں۔ فی الحال اس تقسیم کو چھیڑنے کی ضرورت نہیں، ورنہ سب کے سب آپ کے خلاف متحد ہو جائیں گے۔ اس تقسیم سے قائم جس ملک میں جو بھی شہری ہے وہ وہیں جہاد کرے تو کامیابی نصیب ہوگی۔ ظواہری کے نزدیک طالبان کے اس جہاد ماڈل نے دنیا کی سپرپاور کو بغیر کسی مدد کے صرف اللہ کے بھروسے پر شکست دی ہے۔ القاعدہ نے اسی ماڈل پر عملدرآمد کرتے ہوئے اب تمام ممالک جنہیں وہ ’’ولایت‘‘کہتے ہیں اپنی سرگرمیوں کا آغاز کر دیا ہے۔ القاعدہ نے اپنی گزشتہ تین دہائیوں کی حکمت عملی کو بدلا ہے۔ پہلے یہ ہوتا تھا کہ دنیا بھر کے جہادی ایک ملک میں جمع ہو جاتے ،جیسے افغانستان میں جمع ہوئے تھے۔ ایسا کرنے سے عالمی طاقتوں کو بھی حملہ آور ہونے کا بہانہ مل جاتا ہے اور سب نشانہ بنتے ہیں۔ ظواہری کے نزدیک جہاد کاجو بیج اسامہ بن لادن نے بویا تھا اس کی شاخیں اب دنیا بھر کے مسلمان ملکوں میں پھیل چکی ہیں، لیکن یہ شاخیں اب اپنے طور پر آزاد ہیں۔ ظواہری نے کہا کہ طالبان ماڈل کی ایک بات یہ ہے کہ مخلص علماء اور مجاہدین صرف جہادیوں میں نہیں بلکہ عوام میں بھی اتحاد کے بیج بوئیں اور مسلمانوں کو آپس میں ایک دوسرے کا خون بہانے سے روکیں۔ ان کے دلوں میں اتنے بڑے دشمن سے مقابلے کے لیے اکٹھا ہونے کی ہمت پیدا کریں۔ اتحاد امت ہی بنیادی ستون ہے جو طالبان کو افغانستان میں کامیاب کروا گیا۔ طالبان کے ساتھ شیعہ، سنی، ازبک، تاجک سب مل کر لڑ رہے ہیں۔ دشمنوں کے خلاف علیحدہ علیحدہ ملکوں میں علیحدہ جنگ ہونی چاہیے۔ اسی لئے ستمبر 2014 میں ’’القاعدہ بھارت ‘‘قائم کی گئی اور اس وقت سے لے کر اب تک القاعدہ نے کشمیر کی تحریک آزادی کو ایک نیا رخ دے دیا ہے۔ ظواہری نے کہا کہ ہم نے طالبان کے امیر ہیبت اللہ آخوندزادہ کی بیعت کی ہے۔ ایسے ہی تمام ممالک کی القاعدہ تنظیمیں پہلے اپنے مقامی امیر سے وفاداری کریں اور پھر ہیبت اللہ آخوندزادہ کی بحیثیت امت بیعت کا اعلان کریں۔ یہ بیعت فی الحال علامتی ہو گی ۔ جدوجہداور جہاد اپنے ملک میں ہی کرنا ہو گا اور اس ملک کو ہی ایک اسلامی ریاست میں تبدیل کرنا مقصد ہو گا۔ اسی طرح نئی اسلامی ریاستیں وجود میں آئیں گی جن کو بعد میں طالبان کی امارت کے پرچم تلے جمع کردیا جائے گا۔ اس وقت تقریبا 80 ممالک میں القاعدہ سے منسلک گروہ کام کر رہے ہیں جو مکمل خود مختاری کے ساتھ اپنی اپنی قومی ریاست کو اسلامی ریاست میں بدلنے کی جدوجہد اور جہاد میں مصروف ہیں۔ جاوید احمد غامدی صاحب کی ویڈیو جس میں یہ اعلان کیا گیا کہ اب مسلمانوں کی قیامت تک اقتدار کی باری نہیں آئے گی، اس سے جو مقصد وہ حاصل کرنا چاہتے تھے کہ اس امت کو غفلت کی نیند سلادیں، اس کے برعکس ایمن الظواہری افغانستان میں کامیاب ہوتے ہوئے طالبان کا جہاد ماڈل لے کر سامنے آگئے ہیں۔ غامدی صاحب قرآن پاک سے تو اپنا موقف ثابت نہ کر پائے اور حدیث کا تو انہوں نے ذکر تک نہیں کیا۔ لیکن اس وقت جو کچھ برپا ہے۔ عراق، شام، یمن میں جو ہو رہا ہے وہ بالکل ایسا ہی ہے جیسا رسول اکرم ﷺنے فرمایا۔ یہاں صرف افغانستان کی سرزمین کے بارے میں احادیث بیان کر رہا ہوں کہ آئندہ آنے والے دنوں کا منظر رسول مقبولﷺ کی پیشن گوئیوں کے مطابق کھل کر سامنے آجائے۔ افغانستان سارے کا سارا خراسان قدیمی ہے جبکہ ایران کا علاقہ مشہد اور پاکستان کے دریائے سندھ کے مغرب کی جانب کا علاقہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں خراسان کہلاتا تھا۔ آپؐنے فرمایا ’’جب تم دیکھو کالے جھنڈے خراسان کی طرف سے آئے ہیں تو ان میں شامل ہو جانا، کیونکہ ان میں اللہ کے خلیفہ مہدی ہوں گے‘‘ (مسند احمد، مشکوٰۃ)۔ دوسری روایت کے مطابق ’’جب کالے جھنڈے مشرق سے نکلیں گے تو ان کو کوئی چیز نہیں روک سکے گی حتیٰ کہ وہ ایلیا (بیت المقدس) میں نصب کر دیئے جائیں گے‘‘(مسند احمد)۔ جن کالے جھنڈوں کو امریکہ اور اس کے ساتھی اڑتالیس ممالک کی جدید ترین ٹیکنالوجی سے آراستہ افواج سترہ سال جنگ لڑ کر بھی شکست نہ دے سکیں، ان طالبان سے خوفزدہ مغرب، غامدی صاحب جیسے ہی مفکرین کی مدد لیتا ہے۔ ایسے مفکر جو مصلحت کی لوریاں دے کر امت کو سلاتے ہیں۔ لیکن یہاں تو میرے اللہ کا وعدہ برحق ہے اور رسول اکرمﷺ کی پیش گوئی ہے ،جسے اقبال نے یوں بیان کیا سنا دیا گوشِ منتظر کو حجاز کی خامشی نے آخر جو عہد صحرائیوں سے باندھا گیا تھا پھر استوار ہوگا نکل کے صحرا سے جس نے روما کی سلطنت کو الٹ دیا تھا سنا ہے یہ قدسیوں سے میں نے وہ شیر پھر ہوشیار ہوگا (ختم شد )

اپنا تبصرہ بھیجیں