میر قاسم علیؒ شہید، عظیم شخصیت!…حافظ محمد ادریس

میر قاسم علی شہید بنگلہ دیش میں دورِ طالب علمی سے لے کر آخر دم تک ایک معروف، ہر دلعزیز اور پر عزم شخصیت کے طور پر معروف تھے۔ وہ جماعت اسلامی بنگلہ دیش کے اہم ترین راہ نماو¿ں میں شمار ہوتے تھے اور طالب علمی میں اسلامی چھاترو شبر (اسلامی جمعیت طلبہ) کے ناظم اعلیٰ رہے۔ تعلیم سے فارغ ہونے کے بعد ذاتی کاروبار بھی کیا اور بہت سے رفاہی ادارے بھی قائم کیے۔ مرحوم نے ڈھاکہ یونیورسٹی سے ماسٹر ڈگری حاصل کی تھی۔ ان کو 3 ستمبر 2016کو پھانسی لگا دیا گیا۔ دو سال بیت گئے مگر شہید کی یادیں اب بھی دلوں میں زندہ ہیں۔
تعلیم سے فراغت کے بعد میر قاسم علی نے اپنا ذاتی کاروبار کیری لمیٹڈ (Kary Limited) کے نام سے شروع کر دیا تھا۔ یہ کاروبار رئیل اسٹیٹ سے تعلق رکھتا ہے اور بہت کامیاب ہے۔ اس میں شفافیت اور لوگوں کے اعتماد پر پورا اترنے کی وجہ سے پورے بنگلہ دیش میں اس کا نام معروف ہے۔ میر قاسم علی نے ایگرو انڈسٹریل ٹرسٹ بھی قائم کیا، جس کا صدر مقام غازی پور میں تھا۔ پولٹری اور فشریز کے فیلڈ میں اس ٹرسٹ کا بڑا حصہ ہے۔ بنگلہ دیش میں بے شمار لوگوں کی معیشت مرغیوں اور مچھلیوں سے وابستہ ہے۔ اس ادارے نے لوگوں کو اپنے پاو¿ں پر کھڑا کرنے کے لیے وسیع پیمانے پر کام کیا۔ ان کا دوسرا کاروبار رائل شپنگ لائن کے نام سے بحری جہازوں کے فیلڈ میں تھا۔ یہ بھی اگرچہ کامیاب تھا مگر اس میں بڑی مشکلات اور رکاوٹیں پیش آتی تھیں۔
”اسلامی بینک فاو¿نڈیشن“ کے تحت پورے ملک میں ہسپتالوں کا ایک جال پھیلا دیا گیا ہے۔ ان میں غربا کا علاج مفت کیاجاتا ہے، جس پر بینک زکوٰة اور عطیات کا پیسہ صرف کرتا ہے۔ جو لوگ استطاعت رکھتے ہیں، ان سے معمولی فیس وصول کی جاتی ہے اور بہترین علاج معالجے کی سہولیات ان کو حاصل ہیں۔ اسلامی بینک کے علاوہ ایک فلاحی ادارے” ابن سینا ٹرسٹ“ کے بانی بھی میر قاسم علی شہید تھے۔ اسلامی بینک کی طرح اس ٹرسٹ میں بھی انھوں نے ملک و قوم کی جو خدمت کی ہے، اس کا ایک زمانہ معترف ہے۔ بنگلہ دیش بن جانے کے بعد وہاں کے مزدور اور ہنر مند، نیم خواندہ اور اعلیٰ تعلیم یافتہ لوگوں نے مشرق وسطیٰ بالخصوص سعودی عرب میں ملازمتوں کے سلسلے میں جانا شروع کیا۔ حکومت سعودی عرب کی طرف سے ایسے افراد کے لیے لازمی شرط عائد ہوئی کہ ہر شخص کے پاس کسی ثقہ ہیلتھ ادارے کا سرٹیفکیٹ ہو جس میں تصدیق کی گئی ہو کہ متعلقہ شخص کو کوئی مہلک بیماری لاحق نہیں ہے۔
عام سرکاری ہسپتال ہزاروں ٹکا فیس اور اس سے بھی زیادہ رشوت لے کر ایسے سرٹیفکیٹ جاری کیا کرتے تھے۔ ابن سینا ٹرسٹ کے تحت ہیلتھ چیک اپ سنٹر اور بہترین ٹیسٹ لیبارٹری قائم کی گئی۔ مزدوروں کو سرٹیفکیٹ صرف تین سو ٹکا میں ملنے لگا۔ اتنی بڑی تعداد میں لوگ اس سنٹر کی طرف رجوع کرنے لگے کہ روزانہ سنٹر کی آمدنی لاکھوں ٹکے میں ہوگئی۔ بہترین ٹیسٹ لیبارٹری کو اتنی شہرت حاصل ہوئی کہ پورے بنگلہ دیش میں یہ مقبول ہوگئی۔ پروفیسر غلام اعظم صاحب کے چھوٹے بھائی ڈاکٹر غلام معظم جو معروف میڈیکل ڈاکٹر تھے اور بنگلہ دیش کے سب سے بہترین پیتھالوجسٹ شمار ہوتے تھے، اس سنٹر اور لیبارٹری میں اس شعبے کے سربراہ کے طور پر خدمات سرانجام دیتے رہے۔ ابن سینا میڈیکل کالج بھی بنگلہ دیش کے اعلیٰ ترین کالجوں میں شمار ہوتا ہے۔
میر قاسم علی نے مختلف ٹرسٹوں اور فلاحی اداروں کے علاوہ اپنے ذاتی کاروبار سے بھی جماعت اسلامی اور دیگر اسلامی تنظیموں کو دل کھول کر عطیات دیے اور مستحقین کی ہمیشہ خوش دلی سے معاونت کی۔ جماعت اسلامی بنگلہ دیش میں سب سے مال دار شخص یہی تھے، مگر ان کے اندر ذرا برابر تکبر اور رعونت نہیں تھی۔ تنظیم کے فیصلوں کو دل و جان سے قبول کرتے۔ وہ مرکزی شوریٰ اور مرکزی عاملہ جماعت اسلامی بنگلہ دیش کے سالہا سال سے رکن تھے۔ ان کی شہادت سے جماعت اسلامی کو جو نقصان پہنچا ہے، وہ اپنی جگہ مگر حقیقت میں پورے ملک و قوم کا ایک قیمتی اثاثہ ظالم و قاتل حسینہ نے نام نہاد جعلی جنگی ٹریبونل کے ذریعے چھین لیا ہے۔ میر قاسم علی کی جان بچانے کے لیے پوری دنیا میں لوگوں نے احتجاج کیا، مگر خود میر قاسم علی کے الفاظ میں ”انسان کی اجلِ مسمّٰی تو اللہ نے طے کر رکھی ہوتی ہے، وقت کے ظالم حکمران اپنے جرائم میں اضافہ کرنے کے لیے بندگانِ خدا کو موت کے گھاٹ اتارتے ہیں۔ “
میر قاسم علی کی اہلیہ عائشہ خاتون اور ان کے بچوں نے ان سے جو آخری ملاقات کی۔ اس ملاقات میں ان کے دونوں بیٹوں میں سے کوئی بھی موجود نہیں تھا۔ بڑے بیٹے ڈاکٹر میر محمد بن قاسم بزنس مین ہیں اور ملائشیا میں مقیم ہیں۔ دوسرے بیٹے بیرسٹر میر احمد بن قاسم المعروف ارمان قاسم ہیں، دونوں بھائی ہی ملاقات نہ کرسکے۔ تینوں بیٹیاں ( طیبہ قاسم، سمیّہ رابعہ اور طاہرہ تسنیم) اپنی والدہ کے ساتھ اپنے عظیم باپ سے آخری ملاقات کے لیے جیل گئیں۔ اس موقع پر خصوصی طور پر شہید میر قاسم علیؒ کے بیٹے بیرسٹر ارمان کا تذکرہ ہوا، جسے کئی ہفتے قبل حکومتی اداروں نے غائب کر دیا تھا۔ اب تک اس کا کوئی اتا پتا نہیں چل رہا۔ جب عائشہ خاتون نے اپنے بیٹے کی گمشدگی پر غم کا اظہار کیا تو میر قاسم علی صاحب نے فرمایا کہ بلاشبہ وہ ہمارا بیٹا ہے اور ہمیں اس کی گمشدگی کا بہت دکھ ہے۔ لیکن سوچو کہ وہ ہمارا بیٹا ہی نہیں اللہ کا بندہ بھی ہے۔ حدیث پاک کے مطابق اللہ تعالیٰ اپنے بندوں سے ستر ماو¿ں سے بھی زیادہ محبت کرتا ہے۔ وہ اس کی حفاظت فرمائے گا۔ اس موقع پر ان کا دوسرا بیٹا سلمان بھی موجود نہیں تھا، وہ ملائیشیا میں ہوتا ہے۔
آخری ملاقات میں اپنے پیش رو شہدا کی طرح میر قاسم علی شہیدؒ نے اپنے اہل خانہ (اہلیہ، تینوں بیٹیوں اور دیگر اعزہ) سے بڑی استقامت کے ساتھ یہ کہا کہ اللہ کے راستے میں شہادت ایک بہت بڑا اعزاز اور سعادت ہے۔ میری شہادت بالکل سامنے نظر آرہی ہے اور میں بے قرار ہوں کہ چند لمحات بعد اپنے رب سے جا کر ملاقات کروں گا۔ زندگی اللہ کی طرف سے متعین ہوتی ہے، ساری دنیا زور لگا لے تو ایک لمحہ کم نہیں ہوسکتا اور ساری دنیا جتن کرلے تو ایک لمحہ زائد نہیں ہوسکتا۔ اصل بات یہ ہے کہ کوئی شخص موت کی وادی میں کس طرح اترتا ہے۔ شہدا کی صف میں شامل ہونا کوئی کم اعزاز نہیں ہے۔ آپ لوگوں کو میں اللہ کے سپرد کرتا ہوں اور آپ بھی مجھے اللہ کی امان میں دیں۔ جتنا عرصہ اللہ نے چاہا ہم دنیا کی زندگی میں اکٹھے رہے اور اب یہ عارضی جدائی ہے اور مجھے اللہ کی رحمت سے امید ہے کہ ہم اس کی جنتوں میں پھر اکٹھے ہوں گے۔ آپ کو حوصلہ بلند رکھنا چاہیے اور اللہ سے اپنا تعلق مزید مضبوط کرنا چاہیے۔ ہمارے پاس جو کچھ ہے یہ سب اللہ کا دیا ہوا ہے۔ پھر مسکراتے ہوئے اپنی بچیوں کے ماتھے چومے، اہلیہ سے ہاتھ ملایا اور سب کو خدا حافظ کہا۔ اسی رات کو مسافر اپنی منزل سے ہمکنار ہوگیا۔ وہ کہاں مر سکتا ہے، جسے اللہ شہادت کا مرتبہ عطا فرمادے۔
اللہ کا ارشاد ہے: ”جو لوگ اللہ کی راہ میں قتل ہوئے ہیں انھیں مردہ نہ سمجھو، وہ تو حقیقت میں زندہ ہیں، اپنے رب کے پاس رزق پا رہے ہیں، جو کچھ اللہ نے اپنے فضل سے انھیں دیا ہے اس پر خوش و خرم ہیں، اور مطمئن ہیں کہ جو اہلِ ایمان ان کے پیچھے دنیا میں رہ گئے ہیں اور ابھی وہاں نہیں پہنچے ہیں ان کے لیے بھی (خوش خبریاں دیتے ہیں کہ ان کے لیے ) کسی خوف اور رنج کا موقع نہیں ہے۔ وہ اللہ کے انعام اور اس کے فضل پرشاداں و فرحاں ہیں اور ان کو معلوم ہوچکا ہے کہ اللہ مومنوں کے اجر کو ضائع نہیں کرتا۔ “ (آل عمران۳:۹۶۱تا ۱۷۱)
میر قاسم شہیدؒ جنت کی وسعتوں میں اپنے پسماندگان کے لیے خوشخبری دے رہا ہے۔ یہ قرآن کی گواہی ہے۔ وہ اللہ کے ساتھ عہد وفا باندھنے کے بعد نہ کبھی ڈگمگایا، نہ کسی مخمصے کا شکار ہوا۔ وہ سچا عاشق رسول اور بندہ¿ خدا تھا۔ اس نے عشق کی بازی میں ظالم قاتلہ کو مات دے دی ہے۔ یہ الگ بات کہ لوگوں کے سامنے اصل نتائج یہاں نہیں اگلے جہاں میں آئیں گے۔
….{….{….{….

اپنا تبصرہ بھیجیں