چھ ستمبر کو یوم شہدا منانے کا اعلان…اسد اللہ غالب

مسلح افواج کے ترجمان نے اعلان کیا ہے کہ اس سال چھ ستمبر کا دن شہدا کی یاد کے لئے وقف کیا گیا ہے۔ انہوں نے ایک فہرست بھی جاری کی جس میں قیام پاکستان سے لے کر آج تک کے شہدا کے نام درج کئے گئے ہیں،اس فہرست کے مطابق وطن عزیز کے چپے چپے اورہر خطے نے بیش بہا قربانیاں پیش کی ہیں، شہدا کی کل تعداد اکیس ہزار ہے جن میں پنجاب کو سب سے زیادہ قربانیاں پیش کرنے کاا عزا حاصل ہوا ہے۔ دوسرے نمبر پر آزاد کشمیر ، پھر سندھ، خیبر پی کے، گلگت اور فاٹا کی باری آتی ہے۔ان شہدا نے ا پناآج قوم کے کل کے لئے قربان کیا اور ملک کو غیر ملکی جارحیت اور دہشت گردی کے خلاف تحفظ فراہم کیا۔ انہی قربانیوںکے طفیل آج ملک میں سکون نظر آ رہا ہے اور خطرات کا دور دور تک نام و نشان باقی نہیں رہا۔
قربانیوں کا یہ سلسلہ قیام پاکستان کے ساتھ ہی شروع ہو گیا۔ بھارت نے پاکستان کو خدا نخواستہ مٹانے کے لئے پہلے دن سے جارحیت کا آغازکر دیا تھا اور حیدر آباد، جونا گڑھ منادرا ور کشمیر پر قبضہ جما لیا۔ پاک فوج نے مجاہدین کی مدد سے کشمیر میں بھارتی افواج کی جارحیت کا پانسہ پلٹ دیا۔ اور آزاد کشمیر کا علاقہ بھارتی چنگل سے چھڑا لیا۔ اس کے بعد سیز فائر ہو گیا۔ مگر سیز فائر یا کنٹرول لائن پر ہر لمحے قربانیوں کا نہ ختم ہونے والا سلسلہ دیکھنے میں آیا۔ پینسٹھ میں ایک بار پھر بھارت نے پاکستان کی بین الاقوامی سرحدوں پر چوری چھپے اور رات کے اندھیرے میں جارحیت کی۔ پاکستان کی افواج عددی اعتبار سے بھارت سے کم تھیں لیکن قوم نے اپنی مسلح افواج کو حوصلہ بخشا اور ان کے شانہ بشانہ دشمن کے خلاف دفاعی جنگ کا آغازکر دیا۔ اس بار بھی بھارتی عزائم کو شکست ہوئی کیونکہ اس کے جرنیل اعلان کر رہے تھے کہ وہ چھ ستمبر کی شام کو لاہور کے جم خانہ میں جام فتح نوش کریں گے مگر اگلے سترہ روز تک دشمن ہڈیارہ کے گندے نالے کے کناروں پر خوار و زبوں ہوتا رہا اور مسلح افواج کے جوان ا ور افسر اسکے سامنے سیسہ پلائی دیوار بن گئے۔
دشمن پاکستان کو زیرو زبر کرنا چاہتا تھا مگر غازیوں اور شہیدوں نے اس کے مذموم عزائم خاک میں ملا دیئے۔
اکہتر میں بھارتی افواج نے ہمارے اندرونی سیاسی خلفشار کا فائدہ ا ٹھانا چاہا، ہر ملک کو اندرونی انتشار کا سامنا کرنا پڑتا ہے مگر کوئی ہمسایہ اس کی کمزوری کا فائدہ ا ٹھا کر اس پر یلغار نہیں کر دیتا مگر ہمیں ایک ایسا ہمسایہ ملا تھا جسے اخلاقی حدودو قیود کا کوئی احساس تک نہ تھا اس نے الٹا ہمارے سیاسی خلفشار کو مزید ہوا دینے کے لئے اپنی سرحد پر دہشت گردی کے تربیتی کیمپ قائم کر دیئے۔ مجھے اس کے لئے مزید وضاحت کرنے کی اس لئے ضرورت نہیں کہ موجودہ بھارتی وزیر اعظم مودی خود مان گئے ہیں کہ اکہتر میں ہر بھارتی نے بنگلہ دیش بنانے میں کردارا دا کی۔ اکہتر میں اندرا گاندھی وزیر اعظم تھیں، انہوںنے کہا کہ دو قومی نظریہ خلیج بنگال میں ڈبو دیا گیا ہے۔ بھارت کی اس قدر ننگی جارحیت کو روکنے کے لئے مسلح افواج نے کسی قربانی سے دریغ نہیں کیا۔
خون کی لکیر لمبی ہوتی چلی گئی۔ چھیا سی میں بھارتی افواج نے مکاری کے ساتھ سیاچین پر قبضہ جما لیا۔ دنیا کے اس بلند ترین محاذ جنگ پر پاک فوج کے کیا جوان ا ور کیا افسر مسلسل لہو بہا رہے ہیں۔
کارگل کا معرکہ درپیش ہوا تو ایک بار پھر ہماری افواج نے دلیرانہ کردار ادا کیا اور بڑھ چڑھ کر قربانیاں پیش کیں۔
جب دشمن کو احساس ہوا کہ وہ ہمیں مسلح جارحیت کے ذریعے زیر نہیں کر سکتا تو اس نے ہمیں اندر سے زخم لگانے کا مکروہ منصوبہ بنایا اور بھارتی خفیہ تنظیم را نے دہشت گردوں کو اپنے اور افغان علاقے میںتربیت دے کر پاکستان میں داخل کرنا شروع کر دیا، انہوں نے وہ خون بہایا کہ خدا کی پناہ۔ ہر لمحے بم دھماکے ا ور خود کش حملے ہو رہے تھے۔ پاک فوج نے دہشت گردی کے اس طوفان بد تمیزی کو روکنے کے لئے کئی آپریشن کئے اور بالآ خر ملک سے دہشت گردی کے اڈوں کو تہس نہس کر دیا۔ اس جنگ میں ہمارے جرنیل اور دیگر اعلیٰ افسروں کے ساتھ جوانوں نے بھی جام شہادت نوش کیا مگر اپنا خون دے کر انہوںنے ملک سے مزید خونریزی کا خاتمہ کر دیا، آج پاکستانی چین کی نیند سوتے ہیں ، بلا خو ف و خطر بچے سکول جاتے ہیں۔ بازار وںمیں وہی رش نظر آتا ہے۔ دفتروں میں چہل پہل ہے۔ اور راوی ہر سو چین لکھتا ہے۔ مسلح افواج نے قربانیاں دے کر اقوام عالم کو بھی دہشت گردی کے خطرے سے محفوظ کر دیا ہے۔ پاکستان کی ان بیش بہا قربانیوں کو ہر کوئی مانتا ہے اور ہر کوئی ان پر خراج تحسین پیش کرنے پر مجبور ہے۔
اتبی بڑی قربانیاں دنیا کی کسی قوم نے پیش نہیں کیں۔ ہمارے پڑوس میں افغانستان میں امریکی اور اتحادی افواج نے ڈیرے ڈال رکھے ہیں مگر وہ اپنی چھائونیوں کی حد تک سکڑے ہوئے ہیں۔جبکہ افغانستان کے بڑے حصے پر مجاہدین کا راج قائم ہے۔ یہ غیر ملکی افواج قربانی دینے سے گھبراتی ہیں، قربانی دیں بھی تو کس مقصد کے لئے ۔ افغانستان ان کے لئے ایک اجنبی سرزمین ہے۔ کوئی بھی فوج اپنی سرزمین کے دفاع میں تو لہو پیش کر سکتی ہے،پاک فوج کو یہی چیلنج درپیش تھا کہ مادر وطن کا کیسے دفاع کرنا ہے۔ اس نے ہر قیمت پر دفاع کر دکھایا اور دوست دشمن سے داد لی۔ اگر چہ امریکہ ڈو مور کا مطالبہ کرتا رہتا ہے مگر پاکستان نے واضح کیا ہے کہ وہ افغان لڑائی اپنی سرزمین پر نہیں لڑ سکتا۔ اس کے لئے افغان ، امریکی اور اتحادی افواج کو کردار ادا کرنا ہو گا جو اپنے مورچوں سے باہر جھانکنے کی ہمت نہیں رکھتیں مگرا س میں پاکستان کو کیا دوش دیا جا سکتا ہے۔
ہماری افواج کی بہادری بے مثل ہے۔ اس کے جذبے لائق داد ہیں۔ اس کی قربانیاںلازوال ہیں۔ پاکستان کو اپنے غازیوں اور شہدا پر ناز ہے۔
مسلح افواج کے ترجمان نے اس سال کے یوم چھ ستمبر کا بیانیہ یہ رکھا ہے کہ ہم میں سے ہر ایک کو چھ ستمبر کے روزا پنے ہمسائے میں شہید کے گھر جانا چاہئے۔ تاکہ شہدا کے ورثاء کو احساس ہو کہ وہ تنہا نہیں۔پوری قوم ان کے دکھ درد میں شریک ہے اور ان کے پیاروں کی قربانیوں کو سلام پیش کرتی ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں