جناب عثمان بزدار ! آپ جیسے لوگ آپ کی طرف دیکھ رہے ہیں…حافظ ذوہيب طيب

سوچتا ہوں کہ امید کی بات کروں ، مایوسیوں کے موسم میں یقین کی بات کروں ، چار سو پھلی نا امیدی کی خزاں میں امید بہار کی بات کر وں ۔ لیکن میری یہ تمام سوچیں اس وقت افسردگی میں تبدیل ہو جاتی ہیں جب میں اپنے ہی جیسے لوگوں کو اپنے ہی لوگوں کے ہاتھوں ذلیل ہو تا دیکھتا ہوں ۔ صرف ایک محکمہ ہی نہیں ،تمام محکموں کے ملازمین ، عام آدمی کو انسان سمجھنے سے بھی قاصر ہیں ۔ پولیس کا محکمہ ہو، عدالت ہو، جیل ہو،ہسپتال، ایمبولینس سروس سمیت جب عام آدمی کا کسی بھی محکمے سے پالا پڑتا ہے تو وہ کن مشکل ترین حالات سے گذرتا ہے ، اسے میں بخوبی جانتا ہوں ۔ بالخصوص شعبہ صحت کی بات کی جائے تو اس کی سنگینی کو دیکھتے ہوئے جناب چیف جسٹس ثاقب نثار نے ازخود نوٹس لیتے ہوئے ہسپتالوں کی ابتر صورتحال اور یہاں ذلیل ہوتے مریضوں کی حالت زار بہتر بنا نے کے لئے ہنگامی دوروں کا اہتمام کیا تھا لیکن یہاں بیٹھا مافیا جسے ’’سیسلین مافیا‘‘ کہا جائے تو غلط نہ ہو گا ۔ یہ اپنی ہوشیاری اور چالاکی سے چیف جسٹس کو بھی ماموں بنا گئے ہیں اور سب اچھا ہے کہ رپورٹ دیتے ہوئے عام آدمی کو ذلیل کر کے انجوائے کر رہے ہوتے ہیں ۔
قارئین !یہ عید کے دوسرے دن کی بات ہے کہ ایک مریضہ جو زندگی وموت کی کشمکش میں تھی جسے قریبی ہسپتال پہنچانے کے لئے پہلے تو 1122سے رابطہ کرتے رہے اور دو گھنٹوں تک وہ مزید دس منٹ انتظار کا کہہ کر فون کاٹ دیتے ، بالمجبور میں نے انہیں اپنا تعارف کرایا تو دو گھنٹوں اور بیس منٹ بعد ایمبولینس پہنچ گئی۔ مریض کو مئیو ہسپتال لے جایا گیا جہاں وہی پرانی روایت کے مطابق انتہائی جونئیرزڈاکٹرز بشمول طالبعلموں کے کوئی سینئیر ڈاکٹر دور دور تک دکھائی نہیں دے رہا تھا۔ ایمرجنسی میں نصب کمپئیوٹرائزڈبلڈ پریشر مشین اس قدر بوسیدہ ہو چکی ہے کہ 95فیصد مریضوں کا رزلٹ غلط آرہا تھا ۔ عملہ موبائل فون پر مصروف تھا اور مریض کبھی ادھر اور کبھی اُدھر دوڑتے نظر آرہے تھے ۔ طالبعلموں کو جو سمجھ آتا تھا وہ اپنی عقل کے مطابق علاج کر رہے تھے ۔ یہی وجہ ہے کہ تین گھنٹوں کے دوران کئی اموات ہو چکی تھیں جس میں ہماری عزیزہ مریض بھی شامل تھیں ۔ ڈیڈ باڈی کو ہسپتال سے گھر شفٹ کر نا بھی کسی عذاب سے کم نہ تھا ۔ 1122کو دوبارہ فون کیا تو انہوں نے جواب دیا کہ ہم ڈیڈ باڈی شفٹ نہیں کرتے آپ اید ھی والوں کو کال کریں ۔ایدھی کی ہیلپ لائن115پر کال کی تو انہوں نے بھی یہ کہہ کر جان چھڑا لی کہ ہم قربانی کی کھالیں جمع کر رہے ہیں لہذا ایمبولینس دستیاب نہیں ہے ۔
قارئین کرام !پروفیسرز اور سینئیر ڈاکٹرز انہی عام آدمی کے ٹیکسوں پر ماہانہ لاکھوں تنخواہیں وصول کرتے ہیں اور اپنی عیاشی کے اسباب پیدا کرتے ہیں لیکن ان کا اور ہسپتالوں کی مینجمنٹ میں براجمان سیسلین مافیا کا آپسی گٹھ جوڑ دیکھیں کہ آپ کسی بھی وقت کسی بھی سر کاری ہسپتال کی ایمرجنسی کا معائنہ کر لیں ۔یہاں آپ کو کوئی پروفیسر نظر نہیں آئے گا۔ جہاں تک معاملہ ہے 1122کا تو اس کی کارکردگی بھی سوالیہ نشان بنتی جا رہی ہے جس کے لئے ارباب اختیار کو ایکشن لینا ہو گا۔ عام عوام کی زکوۃ ، صدقات و خیرات پر چلنے والے خیراتی اداروں کا رویہ بھی قابل افسوس ہوتا جا رہا ہے ۔ ایدھی فاؤنڈیشن کی ہیلپ لائن پر بیٹھے آپریٹرز انتہائی ترش لہجے میں کسی بد معاش کی طرح بات کر رہے ہوتے ہیں اور جب ان سے ان کے روئیے کی شکایت فیصل اید ھی سے کرنے کا کہا جائے تو وہ مزید بہادر ہو کر یہ بات کرتے ہیں کہ جس مرضی کوکہہ دیں ۔ ایسے ہی ایک خیراتی ادارے شالیمار ہسپتال کی انتظامیہ کی ظلم و ستم کی کہانی سینئیر صحافی ذولفقار مہتو کے توسط سے سامنے آئی کہ غریبوں کے نام پر خیرات جمع کر نے والے اداروں میں غریبوں کا علاج بالکل نہیں ہوتا۔ یہ لوگ سر کاری ہسپتالوں کی انتظامیہ سے بھی بڑے فرعون ہیں جو صرف اپنے کاروباروں کے فروغ اور ٹیکسوں سے بچنے کے لئے غریبوں کے نام پر لوگوں کو بے وقو ف بنا رہے ہیں ۔
قارئین کرام !میں اپنے آج کے اس کالم کے توسط سے پنجاب کے وزیر اعلیٰ جناب عثمان بزدار صاحب جن کے بارے میں وزیر اعظم پاکستان جناب عمران خان نے یہ دعویٰ کیا ہے کہ یہ غریب گھرانے سے تعلق رکھتے ہیں اور ان کے گھر بجلی بھی میسر نہیں ، سے درخواست کرتا ہوں کہ آپ جیسے لاکھوں لوگ عزت کی زندگی جینے کے لئے آپ کی طرف دیکھ رہے ہیں ۔اب یہ آپ کا کام ہے کہ آپ کیسے اس سیسلین مافیا کی سب اچھا ہے کی رپورٹ کو جھوٹا قرار دیتے ہوئے ان غریبوں کے بہترین علاج و معالجہ سمیت تعلیم اور زندگی کی بنیادی سہولیات کو ان کی دہلیز تک پہنچا تے ہیں ۔ اگر تو100دنوں میں عثمان بزدار اپنے ہی جیسے لوگوں کو سہولیات پہنچانے میں کامیاب ہو گئے تو مجھے یقین ہے کہ رہتی دنیا تک ان کا نام روشن رہے گا اور خدانخواستہ یہ بھی چیف جسٹس کی طرح ان لوگوں کے ہاتھوں یر غمال بن گئے اور عام عوام کو ان کے سہارے چھوڑ دیا تو کچھ بعید نہیں کہ 100دن ان کے لئے زحمت بن جائیں گے۔اللہ کرے ایسا نہ ہو!!!

اپنا تبصرہ بھیجیں