خطہ سرائیکستان کی ترقی کے نام پر لوٹ مار۔۔۔تحریر :عمران ظفر بھٹی

چند دن دنوں سے میں خطہ سرائیکستان کی معاشی ترقی کے حوالے سے کچھ تحریر کرنا چاہتا تھا اور اسی سلسلے میں مجھ کچھ اعداد وشمار کی ضرورت پڑی تو میں نے انٹر نیٹ کا سہارا لیا اور گوگل کے ذریعے مختلف ویب سائٹوں اور اداروں کی رپورٹس کو پڑھنا شروع کر دیا ہر جگہ مجھے مختلف معلومات مل رہی تھی کسی ویب سائٹ پر تھا کہ کئی درگاہوں سے لاکھوں روپے کا چندہ گورنمنٹ کے فنڈز میں جاتا ہے۔ کپاس ، گنا، دال، چاول، چنا، انار، آم، کھجوریں اور سینکڑوں اجناس کا حوالہ ملا جس سے گورنمنٹ کو بلین روپوں کی رقم وصول ہو رہی تھی اسکے علاوہ کئی طرح کے ٹیکسز بھی لاگو ہیں۔ سردار کوڑے خان جتوئی کی ہزاروں کنال اراضی کا پیسہ، فورٹ منرو کا ریونیو وغیرہ کے بھی علاوہ فنڈز ہیںجنہیں ملا کر ان گنت فنڈز گورنمنٹ کے پاس جاتے ہیں یہ سب دیکھ کر میرے ذہن میں آیا کہ اتنے فنڈز گورنمنٹ کے پاس جاتے ہیں تو اس کے بدلے گورنمنٹ ہمارے خطہ سرائیکستان کیلئے کیا کر رہی تو میں نے دوبارہ گوگل بابا کا سہارا لیا ۔
جب میں گوگل بابا کے ذریعے مختلف اداروں کو دیکھ رہا تھا تو اس دوران مجھے پنجاب پلاننگ اینڈ ڈویلپمنٹ کی ویب سائٹ بھی نظر آئی تو میں نے اسے بھی دیکھا ۔ جب میں نے اس کے منصوبوں کو دیکھا تو میں ہکا بکا رہ گیا۔ کیونکہ مجھے گورنمنٹ کے کئی ایسے منصوبے نظر آئے جن کا ہمارے خطہ میں وجود ہی نہ تھا اور میرے وسیب کے ساتھ ایک اور فراڈ کیا جا رہا تھا یہ کوئی چھوٹا سا فراڈ نہ تھا اور نہ ہی کوئی فرد کر رہا تھا یہ فراڈ اس ملک کے اس صوبے کی حکومت ، ادارے اور حکمران ملکر کر رہے تھے ۔ میرے وسیب کے نام پر کاغذوں میں تو کئی منصوبے شروع کیے گئے مگر یہ تمام کے تمام منصوبے یا تو جھوٹ ہیں یا پھر نا مکمل ہیں کیونکہ ان منصوبوں کو صرف اخبارات کی حد تک رکھا گیا اور زمینی حقائق کچھ اور بتا رہے ہیں
مجھے اسی ریسرچ کے دوران گورنمنٹ کی ایک ویب سائٹ ملی جسے میں دیکھنے لگا۔ یہ ویب سائٹ گورنمنٹ پنجاب پلاننگ اینڈ دیویلپمنٹ کی تھی اس میں میرے خطہ کیلئے درجنوں منصوبے اور ان کے نام پرملین روپے مختص تھے ان منصوبوں میں خادم اعلیٰ صاف پانی پروگرام جس کی لاگت 25,000/- ملین بتائی گئی ہے۔ یہ منصوبہ کہاں لگا۔ اس پر کیا کام ہوا کسی کو کچھ معلوم نہیں آج تک کتنے واٹر پیوریفیکیشن پلانٹ لگے یا اس خطہ کو صاف پانی کہاں فراہم کیا گیا کوئی معلومات نہیں۔ یہ پروگرام افسر شاہی کی نظر ہوا۔ کمپنیاں پیسہ ہضم کر گئیں کچھ بھی کام نہ ہوا اور تنخواہیں نکلتی رہیں۔اسی طرح سیف سٹیز کے نام سے منصوبہ شروع ہوا جس کی لاگت 12,700/-ملین تھی یہ منصوبہ بھی کھاﺅ پیو موج اڑاﺅ ثابت ہوا۔تعلیمی سہولیات دینے کے نام پر بھی 5500/- ملین ڈکارے گئے۔ اتنے بڑے خطے کیلئے رورل روڈز پروگرام شروع کیا گیا جس کی لاگت صرف 11000/- ملین مختص ہوئی اس پروگرام میں بھی ہر کوئی جانتا ہے کہ کتنی کرپشن ہوئی۔ دیہی روڈز کے نام پر شروع ہونے والے یہ منصوبہ ہر علاقہ میں کرپشن کی داستانیں سنا رہا ہے جس علاقے میں جائیں روڈز نامکمل، آدھی بنی ہوئی یا ناقص میٹیریل کی وجہ سے ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہیں ۔ہسپتالوں میں بہتر اقدام کرنے کے نام پر بھی 5000/- ملین مختص ہوئے اور صحت کی سہولیات ہم سب کے سامنے ہے۔ہسپتالوں میں دوائیاں نہیں ملتیں مریضوں کو ادویات باہر سے خریدنی پڑتی ہیں۔ یا پھر وہی نیلی پیلی گولیوں پر ٹرخا دیا جاتا ہے۔اسکے علاوہ بھی صحت، تعلیم، سڑکات، نئی عمارات کی تعمیر، سی ڈی اے، ٹی اے ڈی پی، کینال، موبائل ہیلتھ،ہسپتالوں کی اپ گریڈیشن، یونیورسٹیز کے قیام،کیڈٹ کالجز،کڈنی سنٹرز،ایس پی پی اے پی کے نام پر23000/- ملین کے منصوبے بتائے جارہے ہیں مگر یہ منصوبے زمینی حقائق سے بہت دور نظر آتے ہیں۔
ان منصوبہ جات کے علاوہ نوجوانوں کیلئے بھی سابقہ گورنمنٹ نے بہت سارے منصوبے شروع کیے جن میں صرف لیپ ٹاپ ہی تقسیم ہوتے نظر آئے ۔جبکہ یوتھ اسکلز ڈویلپمنٹ کے نام7400/- ملین، سپورٹس ڈویلپمنٹ کے نام پر 8000 ملین،سیلف ایمپلائے منٹ کے نام پر 2000/-ملین، قابل طلباءو طالبات کیلئے ایجوکیشنل سکالر شپ کے نام پر 5000/- ملین،ای ایمپلائے منٹ کیلئے 500/- ملین مختص ہوئے جبکہ مختلف ایگری کلچرل سکیموں جن میں ایری گیشن سیکٹر ، ایگری کلچر اینڈ لائیو سٹاک، خادم پنجاب رورل روڈز پروگرام، خادم پنجاب کسان پیکج اور فارسٹری، فوڈ، فشریز اینڈ وائلڈ لائف کے نام پر 92650/- ملین ڈکارے جا چکے ہیں۔ اگر ان تمام اعداد کو جمع کریں تو یہ 212438/-ملین بنتی ہے اگر اس رقم کو روپوں میں دیکھیں تو یہ رقم کھربوں میں بنتی ہے۔ اتنی بڑی رقم اس علاقے کیلئے مختص کی گئی مگر آج بھی اس علاقے کی صورتحال نہ بدلی اس کا ذمہ دار کون ہے ۔ ظالم پنجاب کی یہی متعصبانہ پالیسی تھی جس کی وجہ سے اسے اس خطہ کے عوام نے عبرتناک شکست سے دو چار کیا۔
اتنے زیادہ فنڈز اس علاقہ کیلئے مختص کیے جاتے ہیں اور اگر اس خطہ میں احمد پور شرقیہ آئل ٹینکر جیسا واقعہ رونما ہو جائے تو یہاں برن یونٹ کے علاوہ کوئی صحت کی سہولت نہیں ہوتی اور تخت لہور کو اس خطہ سے کوئی غرض ہی نہیں ہوتی ۔ لوگوں سے کوئی غرض نہیں ہوتی کوئی مرتا ہے تو مرتا رہے ۔ میں تخت لہور پر قابضین سے پوچھنا چاہتا ہوں کہ کیا یہ علاقہ پاکستان سے باہر کا ہے۔ یا پھر پنجاب سے باہر ہے اگر ایسا نہیں تو پھر یہاں پر لوگوں کو صحت، تعلیم، روزگار، ترقی کے مواقع کیون نہیں دئیے جاتے۔ یہاں کی ثقافت کو کیوں پروان نہیں چڑھایا جاتا یہ بھی تو پاکستان کی ثقافت ہے۔ ظالم پنجاب جب جب اقتدار میں آیا اس نے خطہ سرائیکستان کے ساتھ ہمیشہ نا انصافی کی اور متعصبانہ رویہ اختیار کیے رکھا۔ اس خطہ کے فنڈز میں خرد برد کی، اس کی تازہ ترین مثال میٹرو بس منصوبہ ہے جس میں 500 کروڑ کے غبن کا انکشاف ہوا ہے۔ اسی طرح صاف پانی سکیم میں بھی کرپشن کی گئی جس کا کیس عدالت میں زیر سماعت ہے۔ میری رب کریم سے دعا ہے کہ وہ تخت لہور کے قابضین کو ہدایت دے اور میرے خطہ پر رحم فرمائے۔ میرے خطہ کے عوام کو شعور دے کہ وہ اپنے حقوق کیلئے اٹھ کھڑے ہوں ۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کا حامی وناصر ہو۔

اپنا تبصرہ بھیجیں