ہما را پیسہ کب وا پس آ ئے گا؟۔۔۔ڈاکٹر ابراہیم مغل

با و جو د اس امر کے کہ پاکستا نی ر و پئیہ ا مر یکی ڈا لر کے مقا بلے میں انتخا با ت کے و قت سے لیکر اب تک قد رے مضبو ظ ہوا ہے، مگر تلخ حقیقت یہ ہے کہ وطنِ عز یز میں زر ِ مبا دلہ کے ذخا ئر میں مسلسل کمی کا ر حجا ن جا ر ی ہے اور ا ب نو بت یہا ں تک پہنچ چکی ہے کہ یہ گھٹتے گھٹتے اب ستر ہ ا رب ڈا لر رہ گئے ہیں۔ ان مخد و ش حا لا ت میں چیف جسٹس آ ف سپر یم کو ر ٹ آ ف پا کستا ن جنا ب میا ں نثا ر ثا قب کا یہ کہنا کہ د ستیا ب معلو ما ت کے مطا بق پا کستا نیو ں کے ا یک ہز ا ر ارب رو پے بیر و نِ ملک پڑے ہیں۔ یہ کہ کو شش ہے کہ اس میں سے چھ سو ارب رو پے وا پس آ جا ئیں۔ بے شک یہ چیف جسٹس صا حب کی انتہا ئی نیک تمنا ہے۔ مگر انتہا ئی اد ب سے ہر پا کستا نی جوسوا ل دل میں لیئے بیٹھا ہے و ہ یہ ہے کہ یہ کب ہو گا اور اسے کو ن کر ے گا۔ در اصل چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے بیرونِ ملک پاکستانیوں کے اکاﺅنٹس اور جائیدادوں سے متعلق مقدمہ میں ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ درحقیقت عفریت نما ملکی اقتصادی اور مالیاتی نظام کو جڑ سے ہلا کر ر کھ دیا ہے۔ ا گر غو ر کیا جا ئے تو با ت کچھ یو ں سمجھ میں آ تی کہ ملک سے باہر جو پیسہ چلا گیا ہے اس کا پوچھنا عدا لتِ عا لیہ کے لیئے بھی مشکل ہو گیا ہے۔یہ حقیقت ہے کہ دنیا کی کوئی بھی معیشت، نظام تجارت و صنعت اور انتظامی و مالیاتی معاملات اگر اس قدر زوال پذیر معاشی در و بست سے جڑے ہوئے ہوں، سیاسی و جمہوری نظام بھی کرپٹ اکنامک سسٹم میں بے بس و یرغمال بنا ہو تو ایسی صورت حال میں چیف جسٹس کی فغاں بہرحال صد اب بے ا ثر ہرگز نہیں جانی چاہیے۔ مان لیا کہ کچھ تو جمود ٹوٹا ہے، ریاستی ڈھانچہ میں فرسودگی کے خلاف ایک نئی حکومت اقتدار کی غلام گردشوں میں آنے والی ہے، کرپشن جس کا ہدف تھا اور آئندہ بھی رہے گا۔ اس لیے ملک میں احتساب کی حرکیات نے زمینی تقاضوں اور معاشی چیلنجز کے باعث تیور بدلے ہیں جبکہ ماضی کے روایتی حکمرانی کے طرزِ عمل کو اوورہالنگ اور جمہوریت کی روح کوملکی معیشت اور انصاف و ریلیف کے اہداف سے مربوط کرنا آزاد عدلیہ کے ہمیشہ پیش نظر رہا ہے۔ منگل کو چیف جسٹس کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے کیس کی سماعت کی تو گورنر سٹیٹ بینک طارق باجوہ نے پیش ہوکر کہا کہ بیرونِ ملک پاکستانیوں کے بینک کھاتوں اور جائیدادوں کے بارے میں معلومات اکٹھی کی ہیں لیکن ان کو خفیہ رکھا جارہا ہے۔ طریقہ کار طے کیا جارہا ہے، کچھ وقت دیا جائے، لائحہ عمل دیں گے۔ چیف جسٹس نے کہا بہت زیادہ پیسہ باہر چلا گیا، پاکستانیوں نے دبئی، سوئٹزرلینڈ اور دیگر ممالک میں کاﺅنٹس اور جائیدادیں بنا رکھی ہیں۔
بے شک چیف جسٹس صا حب کے اقدا مات ہر قسم کے شبے سے پا ک ہیں مگر مضمو ن کی با ٹم لا ئن پہ عوا م اپنے خمو ش ہو نٹو ں سے سو ا ل پو چھ رہے ہیں کہ ستر بر س بیت گئے ہیں مگر کسی بھی لٹیر ے سے اس کی لو ٹی ہوئی دو لت اب تک کیو ں وا پس نہ لا ئی سکی۔ کو ن نہیں جا نتا کہ آ صف زر داری بہت بڑا لٹیرا ہے۔ اس سے کیو ں ایک بھی لو ٹا ہو ا رو پئیہ وا پس نہیں لا یا جا سکا؟ اسحق ڈار کب کا مجر م ثا بت ہو چکا،اسے اب تک کیو ں پا کستا ن وا پس نہیں لا یا جا رہا؟ جہا نگیر تر ین پا کستا ن کی دو لت لو ٹنے کا مجر م تھا، تب ہی تو اسے نا ا ہل قرا ر دیا گیا۔ اب قا نو ن اسے اس قدر جگہ کیو ں فرا ہم کر رہا ہے کہ وہ عمرا ن خا ن کی نئی بننے وا لی حکو مت کے لیئے کھلم کھلا لا بنگ کر تا پھر رہا ہے؟
چلئیے چھو ڑئیے میں بھی کیا عوا م کے دکھتے د لو ں کو اور بھی دکھا نے بیٹھ گیا۔ وا پس ’ پڑھے لکھو ں ‘ کی دنیا کی ’پڑھی لکھی ‘ با تیں کر نے کی کو شش کر تا ہو ں۔ ہا ں تو میں کہہ رہا تھا کہ جنا ب چیف جسٹس کے ان گنت ریمارکس، بلیغ اشارے، سرزنش، بیانات اور خطابات کا د ا ئر ہِ ا ثر اس حقیقت سے لا زم و ملز و م ہے کہ معیشت میں مضمر خرابیوں اور کرپشن کے ناسور کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنے کے لیے سسٹم میں انقلابی نوعیت کی اصلاحات ناگزیر ہیں۔ بلاشبہ لڑکھڑاتی اور آئی ایف ایف کی طرف دیکھنے پر مجبور معیشت ملک کا سب سے بنیادی اور اہم ترین ایشو ہے۔ آ ئند ہ کے ممکنہ و ز یرِ خز ا نہ اسد عمر کا کہنا ہے کہ 6 ماہ تکلیف دہ ہیں، عوامی توقعات پر راتوں رات پورا نہیں اتر سکتے۔ تاہم بنیادی سوال یہ ہے کہ کیوں پاکستانیوں کے اربوں روپے اور کھربوں کے اثاثے غیرقانونی طور پر کیو ں بیرون ملک میں پڑے ہیں؟ وجہ ملکی معیشت پر اعتباریت کے فقدان کی ہے یا کوئی اور بات ہے؟ ایمنسٹی سکیم بھی اسی سمت میں اٹھایا گیا ایک اقتصادی اقدام تھا جس کی پذیرائی اور فوائد کا انڈیکس قوم کے سامنے آنا چاہیے۔ ہزاروں اہل ثروت پاکستانی دیار غیر میں رہتے ہیں، ان کی صلاحیتوں سے وہاں کی حکومتیں مستفید ہوتی ہیں، انہیں گرین سگنل ملنا چاہیے کہ وہ وطن لوٹیں، یہاں سرمایہ کاری کریں، لیکن سرمایہ امن و تحفظ کی ضمانت سے مشروط ہے۔ سرمایہ دو ستا نہ ماحول اور اقتصادی استحکام کی کنجی ہوتا ہے، سارے پاکستانیوں کی دولت غیرقانونی نہیں ہوسکتی۔ لاکھوں اہل وطن نے اپنی محنت سے بیرونِ ملک وطن کا نام بلند رکھا ہے، مگر بدقسمتی ہے کہ تعمیر وطن میں ان کے لیے ویلکم کی فضا سازگار نہیں ہوئی۔ وہ بیوروکریسی کی کرپشن کے خوف سے وطن میں سرمایہ کاری سے ڈرتے ہیں۔ آج کرپشن معاشی نظام کو کھوکھلا کرچکی، میڈیا کے ریکارڈ کے مطابق سوئس بینک میں پاکستانیوں کے 200 بلین ڈالر کی گونج سابق اسحق ڈار کے دورِ وزارت میں سنی گئی، پھر دبئی میں 7000 پاکستانیوں کی کھربوں کی جائداد، بینک اکاﺅنٹس اور دیگر اثاثوں کی واپسی کے لیے ایف آئی اے اور نیب کی طرف سے تحقیقات کا ڈول ڈالا گیا، مگر کوئی ٹھوس پیش رفت نہ ہوسکی۔ اس تناظر میں دیکھا جائے تو چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے قوم کو ایک ویک اپ کال دی ہے جو صرف معیشت اور پاکستانیوں کی بیرونِ ملک غیرقانونی رقوم سے متعلق نہیں بلکہ اگلے روز الیکشن کمیشن اور چیف الیکشن کمشنر کے حوالے سے بھی انہوں نے سنجیدہ نوعیت کے سوالات اٹھاتے ہوئے جو آبزرویشن دی وہ بھی ایک سسٹم کی ناکامی پر ایک فغا ں کے مصداق تھی، جسے ملکی جمہوری، معاشی اور انتخابی نظام کا شہر آشوب کہنا چاہیے۔ سپریم کورٹ کے فل بینچ نے مخصوص نشستوں پر کاغذات نامزدگی مسترد ہونے کے خلاف اپیل کی سماعت کی، جس کے دوران چیف جسٹس نے غیرمعمولی ریمارکس دیئے کہ پتہ نہیں الیکشن کمیشن کیسے چل رہا ہے۔ اتنے پیسے لگا کر الیکشن کمیشن نے یہ سسٹم بنایا تھا لیکن الیکشن کی رات سسٹم بیٹھ گیا۔ بے شک چیف جسٹس صا حب کا یو ں متفکر ہو نا ان کا حا لا ت سے مکمل طور پر آ گا ہ ہو نا ثا بت کر تا ہے۔ لیکن پھر وہی عو ا م کی با ٹم لا ئن وا لی فکر کہ ان سب ا چھے ا قدا ما ت کے با وجو د کب ان کا لو ٹا ہوا پیسہ بیر ونی مما لک سے وا پس لا یا جا ئے گا©؟ آ خر کب؟

اپنا تبصرہ بھیجیں