آومحبتیں بانٹیں…تحریر: مدثر سبحانی

کسی نے بجلی ختم کرنے والوں کوووٹ دیا ، کسی نے کرپشن فری ملک بنانے والوں کو،کسی نے ملک خداد میں عوام کو علم کی دولت سے نوازنے والوں اورایک عام آدمی کا بازو بن کر عدالتوں سے انصاف دلوانے والوں کو، کسی نے روٹی ، کپڑا اور مکان کے نعرے لگانے والوں کو، کسی نے تبدیلی کے وعدے اورنیا پاکستان بنانے والوں کو،کسی نے ختم نبوت کے نام پر ووٹ مانگنے والوں کودیا یاپھر کسی نے کشمیر اور مسلم ممالک کے لیے ہر پلیٹ فارم پر آواز اٹھانے والوں کواقتدار کے ایوانوں تک پہنچانے اور ان کے ہاتھ مضبوط کرنے کے لیے ووٹ دیے۔ بچے سے لے کر ادھیڑ عمر تک ہر ایک نے اس الیکشن میں اپنی پسندیدہ پارٹی کی کمپین کے لیے داو¿ پیچ لڑائے،جگہ جگہ سیاسی میدان سجے، چوکوں اور کونوں کھدروں میں رونقیں ایک بار پھر دوبالا ہوئیں۔ ایک دوسرے پر سبقت لینے کے لیے کبھی سپیکر چلائے تو کبھی خود ایک دوسرے کی عزت کو لیرو لیر کیا۔ہر طرف نفرتیں، کدورتیں، چپقلشیں اور عداوتیں پنپتی رہی۔ انسان کا احترام انسان ہونے کی بنا پر نہیں کیا جاتا رہا بلکہ اس کی پارٹی اورمعاشرتی رتبے کو دیکھ کر اسکے مطابق عزت و توقیر دی جاتی رہی ہے۔انسان اشرف المخلوقات ہے۔ اﷲتعالیٰ نے انسان کو باقی تمام موجودات کے اوپر شرف و عزت کا اعلیٰ رتبہ اور مقام عطا کر کے پیدا کیا ہے ۔کوئی بھی انسان توقیر ذات کی نفی نہیں کر سکتا۔ ہر انسان چاہے کسی بھی سیاسی پارٹی کا ہو اپنی ذات کی بے توقیری یا عزت نفس کو مجروح ہوتا ہوانہیں دیکھ سکتا۔
آج ہم مشکل دور سے گزر رہے ہیں ، اپنوں سے دوری بڑھتی جا رہی ہے، معمولی سی بات، معمولی سے اختلاف، معمولی سی کج فہمی پر معاشرے کی رگوں میں نفرتیں ناممکن حد تک سرائیت کر چکی ہیں۔ برداشت نام کا مادہ ختم ہوچکا ہے۔ایک دوسرے کا احساس ختم ہوتا جا رہا ہے۔ تعصب کی عینک کسی طور اترتی ہی نہیں۔ دیکھئے اختلافات بجا ہیں۔ ہر شخص کی نظر، فکر جدا ہے۔ ہرانسان کے درمیان اختلافات ہوں گے اور ضرور ہیں لیکن ان اختلافات کو آپسی رنجشوںاورنفرتوں کا سبب تو نہ بنائیں۔
خوشی ایک ایسا لفظ ہے جس کو زبان سے ادا کرنے کے بعد ایک خوشگوار احساس جنم لیتا ہے۔ آنکھوں میں چمک اور دل میں رمق پیدا کرنے والا یہ لفظ ہماری زندگیوں میں بہت اہم کردار ادا کرتا ہے۔کبھی کسی کو مسکرا کر دیکھنے سے، کبھی کسی کا احساس کرنے سے، کبھی کسی کے غم کا مداوا کرنے سے، کسی کی کامیابی پر اس کی حوصلہ افزائی اور ستائشی کلمات سے نواز کرہم بہت ساری خوشیاں ہر طرف بکھیر سکتے ہیں۔ کئی دلوں کو موہ سکتے ہیں، کئی نفرتوں کو محبتوں کے پیراہن میں ڈھال سکتے ہیں۔اب یہ ہم پر منحصر ہے کہ ہم کیسے اپنے روٹھے ہوئے عزیزوں کو منائیں؟ خود سے خفا اپنے پیاروں کو کیسے اپنی زندگی میں واپس لائیں،کیسے ان کی بدگمانیوں اور ناراضگیوں کو ختم کرکے انہیں محبتوں کے تحفے پیش کریں؟کیسے ٹوٹے ہوئے دلوں کو جوڑکر اور اپنے ظرف کو بلند کرکے خالق کو بھی منائیں اور مخلوق میں بھی خوشیاں بانٹیں؟
تو پھر دیر کس بات کی؟ آپ ہی پہل کرلیجیے ناں!خوش رہیے خوشیاں بانٹیے۔ اس راہ نما اصول کو اپناکر آپ بعد از حیات بھی امر ہوسکتے ہیں۔ بس آپ کو پہلا قدم اٹھانا ہے۔آج ہی اپنے ان تمام پیاروں کو منالیجیے جو آپ کے ایک اشارے کے منتظر ہیں، یہ دوست اور اچھے پڑوسی ہمارے رب کا انعام ہیں، اگر یہ آپ سے یا آپ ان سے کسی بات پر ناراض ہیں، خفا ہیں ،تو لپک کر ان کو گلے لگالیجیے، ان سے مصافحہ کرکے اپنے دلوں کو ملالیجیے ، دلوں کے میل اور کینہ و کدورت کو خوشی کے دو بول بول کر صاف کرلیجیے۔ آو¿ سب مل کر محبت کا پیغام عام کریں۔ نفرتوں کی کشتیوں کو جلا کر خوشیاں بانٹیں۔ خود مسکرائیں اور دوسروں کے چہروں پر مسکراہٹ لائیں۔محبت میں ہی وہ طاقت ہے جو پہاڑوں کو چیر سکتی ہے، صحراو¿ں کو ننگے پاو¿ں پار کر سکتی ہے، سمندر کی موجوں کو شکست دے سکتی ہے۔ جو تعلق توڑ چکا ہے، اس سے جا کر تعلق جوڑ دیں۔ رسول نے فرمایا :”کسی مسلمان کے لیے جائز نہیں کہ وہ دوسرے مسلمان بھائی سے تین دن سے زائد قطع تعلق رکھے “۔
ایسی باتیں کرنے سے گریز کریں جن سے دوسرے کے دل کو ٹھیس پہنچے، معاشرے میں نفرت پیداہو ،نفرت سے ہم دوسروں کا ہی نقصان نہیں کرتے بلکہ خود اپنی شخصیت کی خوبصورتی کو بھی تہس نہس کر دیتے ہیں۔ معاشرے میں امن کی فضاءپیدا کریں بس یہی خیال رکھیں کہ اپنی ذات سے کسی کو بھی نقصان نہ پہنچائیں۔
دوسروں کے وقار کا خیال رکھنا اپنے مزاج کا حصہ بنائیں ۔ دوسروں کی عزت کرنا اپنے آپ پر لازم کرلیجئے ،اگر یہ نفرتیں ختم ہو جائیں تو کوئی شک نہیں یہ قوم ایک مٹھی کی صورت ہو گی اور دشمن اس کی صفوں میں دراڑ نہیں ڈال سکے گا۔ اب ہمیں اپنے اس ملک کی حفاظت کرنی ہے اور اپنے پرچم کو بلند کرنا ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں