ابہام۔۔۔تبصرہ نگار۔۔۔فلک زاہد

خوبصورت اور توانا لب و لہجے کے نوجوان شاعر بھاءوسیم سہیل نے جب محبت سے مجھے اپنی ساتویں کتاب پر تبصرہ کرنے کیلے کہا تو دل مارے خوشی کے اچھلنے لگا کہ کتاب کے مصنف خود مجھ سے درخواست کر رہے ہیں اس نیک کام کیلے مگر پھر اگلے ہی لمحے میرا ذہن سوچوں کی ا تھاہ گہرائیوں میں اترنے لگا کہ کیا میں تبصرہ کر سکتی ہوں؟کیوں کہ شاعری کبھی میرا میدان نہیں رہا.مگر یہ بھاری ذمہ داری تو اب نبھانی ہی تھی .میں نے کتاب پڑھنی شروع کی اور پڑھتی ہی چلی گئی


آج پہلی دفعہ جس کتاب نے مجھے اپنا پہلا تبصرہ کرنے پر مجبور کیا ہے وہ یہ کلام “ابہام” ہے جو خود میں ایک کائنات سموے ہوئے ہے…شاعری کی زیادہ سمجھ نہ ہونے کے باوجود اس کتاب نے اپنے شاندار آسان الفاظ اور گہری معنویت نے مجھے بے حد متاثر کیا ہے اور ایک ایسی دنیا سے روشناس کروایا ہے جہاں شاعر اپنے دل کی بات کو مختصر مگر جامع لفظوں میں پرو رہا تھا . کہیں کہیں تو مجھے یوں گماں ہونے لگا گویا میرے جذبات کی ہوبہو ترجمانی کی گئی ہے ۔جو بات مجھے سب سے زیادہ پسند آئی وہ شاعر کا وہ خیال ہے جس میں وہ محبت میں وصل کی بجائے یکطرفہ محبت میں اپنے محبوب کا خیال پیش کرتا ہے جیسا کہ
کاش کہ تم ہوتی میری
جاں جاناں
میری سانسوں کی
وہ ڈوبتی نیا جاناں
اک جھلک دیکھ کر تجھ کو
وہ کنارے آتی
وسیم سہیل ڈیرہ اسماعیل خان کے سب سے کم عمر شاعر ہیں جنکی پہلی کتاب محض چودہ سال کی عمر میں آئی .یہ انکی محنت اور صلاحیتوں کا منہ بولتا ثبوت ہی ہے کہ آج ہمارے سامنے انکی شاعری کی ساتویں کتاب موجود ہے جس میں انہوں نے بہت سے نئے تجربات بھی کیے ہیں جیسا کہ انکی کتاب میں موجود ایک نظم کی ہر سطر میں مکمل حروف تہجی کا نہایت خوب صورت استعمال ہے .جس سے اندازہ ہوتا ہے وہ کس قدر باصلاحیت ہیں اور اس نوعمری میں خود میں صدیوں پرانی روح لیے ہوئے ہیں.انکی بظاہر آسان نظر آنے والی شاعری خود میں بے پناہ گہرائی اور جاذبیت رکھتی ہے اس میں کوئی شبہ نہیں کہ انکی یہ کتاب بھی انکی پہلی کتابوں کی طرح شاعری کا شہکار اور اردو ادب میں ایک اچھا اضافہ ہے انکی شاعری میں اگرچہ زیادہ رومانیت نظر آتی ہے جہاں وہ ہجر و وصل کے سارے رنگ ہمیں دکھاتے ہیں تو وہیں ان کے اندر کا حساس شاعر سانحہ پشاور میں انسانیت کی موت پر آنسو بہاتا اور دل برداشتہ نظر آتا ہے. لیکن وہ پھر بھی امید کا دامن ہاتھ سے نہیں چھوڑتے .
وہ ہر موضوح کو اپنے قلم میں لانے کا ہنر جانتے ہیں…اتنی سی عمر میں یہ سب کر دکھانا ہر کسی کے بس کی بات نہیں .نوجوانی میں اس قدر معیاری کام کو پڑھ کر اندازہ ہوتا ہے .وقت اور تجربات کی بھٹی میں تپ کر یہ ایک دن کندن بنیں گے.آنے والے وقت میں ان کا کام اور بڑھے گا کیوں کہ ہمارا یہ شاعر آگے بڑھنے کا ہنر جانتا ہے .
انکی شاعری سے ہم انکی بے پناہ صلاحیتوں سے بہ خوبی اندازہ لگا سکتے ہیں کہ کیسے آسانی سے وہ اپنے پڑھنے والے کو جکڑ لیتے ہیں اور انسان کو شاعری میں اپنا ہی عکس دکھنے لگتا ہے . .
وہ شاعری میں دلچسپی رکھنے والوں کیلے ایک باکمال شاعر ہیں اور میرا مشورہ سب کو یہی ہے کہ اگر آپ اچھی اور معیاری نظمیں پڑھنا چاہتے ہیں، اگر آپ محبت پر یقین رکھتے ہیں .اگر آپ ایک خوش نما ماحول کا خب دیکھتے ہیں.آپ لفظوں کے سمندر میں ڈوب کر ایک نئی دنیا کو دیکھنا چاہتے ہیں .اگر آپ ایک حساس انسان ہیں .جو ہر ظلم کو جبر پر جلتا ہے تو “ابہام” ضرور پڑھیں.کیوں کہ یہ محبوب شاعر آپ کو اپنا ترجمان محسوس ہوگا .انکی شاعری میں آپ خود کو بہتا دیکھو گے .یہی ایک بڑے شاعر کی نشانی ہے کہ وہ اپنے زمانے کا ترجمان ہوتا ہے وہ حقیقت کی زبان میں بات کرتا ہے .
..اللہ انہیں مزید ترقی اور کامیابی دے اور انکے قلم سے ہمیں مزید کتابیں پڑھنے کو ملے آمین…

اپنا تبصرہ بھیجیں