سیاستدان کھرب پتی کیوں؟۔۔۔ تحریرعبدالوارث ساجد

ہزاروں جانوں کی قربانیوں کے نتیجے میں جنم لینے والے پاکستان کا پہلا دن ایسے ہی تھا جیسے کسی بے روزگار انسان کا ہوتا ہے جس کی جیب بھی خالی ہوتی ہے مگر چونکہ یہ وطن ایک نظریے کے تحت معرض وجود میں آیا تھا اس لیے اس کی عوام نے ناصرف جانوں کی قربانی دی بلکہ مال بھی لٹادیا اور اپنے سارے اثاثے چھوڑ کر پاکستان کی دھرتی پہ سکھ اورسکون سے رہنے کو ترجیح دی ۔
پاکستان اپنے وجود کے پہلے چار سال تھا اسی لاجواب اور لازوال جذبے کے تحت چلتا رہا اور پاکستان نے کسی بھی بڑی طاقت کے سامنے ہاتھ نہیں پھیلایا ۔ پاکستان اپنے پہلے سالوں میں عزت و وقار کے ساتھ پھل پھول رہا تھا اور ہر طرح کے قرض کے بوجھ سے آزاد تھا پھر قیام پاکستان کے چار سال بعد امریکی استعمار کا نمائندہ ،عالمی بینک آپہنچا۔ اس نے ترغیبات، ”لارے لپے“ دے کر اور سہانے خواب دکھا کر پاکستانی حکومت کو ابھارا کروہ قرضہ لے۔ پاکستانی حکومت دام میں پھنس گئی۔ چنانچہ عالمی بینک پاکستان کو ساڑھے تین کروڑ ڈالر بطور قرض دینے میں کامیاب ہو گیا۔ اس قرضے سے پاک ریلوے کا ایک منصوبہ شروع ہوا۔
عالمی بینک نے حکومت پاکستان کو یقین دلایا تھا کہ قرضوں کی رقم سے غربت ختم کرنے میں مدد ملے گی۔ حالانکہ انگریزوں کی مشہور ضرب المثل ہے: ”قرضہ ایک قسم کی بدترین غربت ہے۔“ بہرحال پاکستانی حکومت چھٹتی نہیں یہ کافر منہ کو لگی ہوئی کے مصداق پہلا قرضہ لینے کے بعد وطن میں غربت ختم کرنے کی خاطر عالمی مالیاتی اداروں اور مقامی بینکوں سے پے درپے قرضے لینے لگی۔ اس روش نے ممکن ہے پاکستان میں کچھ حد تک غربت کم کر دی ہو۔ مگر یہ سچائی اظہر من الشمس ہے کہ قرض خوری نے حکومت کے ایک طبقے کو امیر وبااثرضرور بنادیا۔ انہی قرضوں کے باعث وطن عزیز میں ”کمیشن“ ”کک بیکس“ اور ”خفیہ پے منٹس“ جیسی اصطلاحوں کا چلن شروع ہوا۔ قرضوں کی رقم سے جو سرکاری ترقیاتی منصوبے شروع ہوئے ، نجی شعبے کے کرپٹ طبقے نے بھی ان میں کرپشن کی اور مال بنا لیا۔ پاکستان کے حکمران طبقے کو رفتہ رفتہ قرضے لینے کی چاٹ پڑ گئی۔ اور آنے والی ہرحکومت سے زیادہ قرض لینا شروع کر دیا۔یوں نہ صرف انہیں اپنے اللّے تللّے پورے کرنے کے لیے وافررقم مل جاتی بلکہ وہ اپنے پیاروں کو بھی کھل کر نوازتے رہے۔ قرضوں کی رقم کا معمولی حصہ ترقیاتی منصوبوں پر بھی لگ جاتا تاکہ غریب پاکستانیوں کا بھی کچھ بھلا ہوتا رہے۔ اسی طرح عوام الناس انہیں اپنا نجات دہندہ بھی سمجھتے رہتے۔یوں قرض بڑھتا گیا غربت بھی بڑھتی گئی امیر اور امیر ہوتا چلا گیا اور پاکستان بدترین مقروض ہوتا چلا گیا۔
یوں طے شدہ منصوبے کے تحت پاکستان کو قرضوں کے بوجھ تلے دبایا جانے لگا ان قرضوں کا نقصان عوام بھگتنے لگے اور سیاستدان اور حکومتی نمائندے مزے لوٹنے لگے قرضے دینے والے ادارے پاکستانی اداروں کو بلڈنگیں قرضے کی گرنٹی میں گروی رکھنے لگے۔ عوام پر قرضوں کا بوجھ بڑھنے لگا اور مہنگائی نے پاکستان کا بھرکس نکال دیا۔ قرض کی زیادہ تر رقم حکومتوںمیں بیٹھے سیاستدانوں نے حاصل کیں اپنی ملیں لگائیں اور پھر قرض معاف بھی کروا لیے اور قرض بھی لاکھوں کڑوروں کی رقم نہیں بلکہ اربوں روپے کے معاف ہوئے اس خسارے کو پورا کرنے کے لیے غریب عوام کی بجلی مہنگی ہونے لگی اور بجلی کے بلوں میں طرح طرح کے ٹیکس لگا کر عوام کا خون نچوڑا جانے لگا یوں سیاستدانوں کے خاندان تو اربوں کے مالک بن گئے ان کے بچے لندن امریکہ میں رہائش پذیر ہو گئے اور جن لوگوں کے آبا¶ اجداد نے پاکستان کے لیے قربانیاں دیںتھیں ان بے چاروں کے بچے مہنگائی کے جن سے تنگ ہونے لگے اب صورتحال یوں ہے کہ آج پاکستان پر ”23کھرب ایک سو چالیس ارب روپے “ کا قرض چڑھ چکا ۔ اس قرض میں سے 7کھرب آٹھ سو ارب روپے عالمی مالیاتی اداروں اور غیر ملکی ممالک کے ہیں جبکہ بقیہ قرضے مقامی بینکوں اور مالیاتی اداروں نے دے رکھے ہیں۔ (یاد رہے، ایک کھرب روپے ایک ہزار رب روپے کے برابر ہے)حکومت پاکستان ہر سال اس دیوہیکل قرض کا سود بمشکل اربوں روپے کی صورت ادا کرتی ہے۔ حقیقتاً ہمارے سالانہ بجٹ کا بیشتر حصہ قرض اور سود کی ادائیگی پر خرچ ہو جاتا ہے۔ گویا عوام الناس کی تقدیر بدلنے و سنوارنے والے ترقیاتی منصوبے شروع کرنے کی خاطر بہت کم رقم بچتی ہے۔
پاکستان میں اتنا قرض پچھلے پینسٹھ سال میں نہ لیا گیا تھا جتنا قرض 2013ءمیں حکومت بنانے کے بعد نواز شریف حکومت نے لیا اس قرض سے پاکستان کا بچہ بچہ ایک لاکھ روپے کے قرض میں ڈوب گیا۔ تجربہ کار نواز شریف نے خود انحصاری کو ترجیح دینے کی بجائے 2013ءمیں اقتدار سنبھال کر بھی عالمی و ملکی مالیاتی اداروں سے قرضے لینے کی روش جاری رکھی۔ یہی وجہ ہے کہ پاکستان پر چڑھے قرضوں کا عدد مسلسل بڑھتا رہا ۔ گویا آج ہر نوزائیدہ پاکستانی بچہ ایک لاکھ پندرہ ہزار روپے کا مقروض ہے، تو مستقبل میں جنم لینے والے بچوں پر لاکھوں روپے کا قرض چڑھا ہو گا۔ آنے والی مقروض پاکستانی نسلیں اپنی حالت زار کا ذمہ دار حکمرانوں کو ہی قرار دیں گی۔ وطن عزیز کو مقروض کرنے میں کھاتے پیتے پاکستانیوں کا بھی اہم کردار ہے۔ کیونکہ سب سے زیادہ قرض انہیں لوگوں نے پاکستانی بینکوں سے لیا اور پھر معاف بھی کروا لیا۔ اگر ایسے لوگوں کے قرض معافی پر ایک نظر ڈالیں آنکھیں پھٹی کی پھٹی رہ جائیں گی۔ کہ روٹی پانی کو ترستی غربت عوام کے سیاسی نمائندے کیسے ان کے لیے لیا جانے والا قرض ہڑپ کرکے اربوں پتی بن گئے ہیں اور عوام اب بھی روٹی کو ترس رہی ہے۔
اسی نواز شریف کی حکومت کے دوران وفاقی حکومت نے گزشتہ 25 سالوں کے دوران مختلف مالیاتی اداروں سے قرضے معاف کرانے والی کمپنیوں اور افراد کی فہرست ایوان بالا میں پیش کی تھی جس میں انکشاف ہوا تھاہے کہ 1990سے لیکر 2015کے دوران 988 سے زائد کمپنیوں اور شخصیات نے 4کھرب 30 ارب اور 6 کروڑ روپے کے قرضے معاف کرائے ہیں، یہ اتنی رقم ہوتی ہے کہ پورے پاکستان کی عوام پیٹ بھر کر کھانا کھا سکتی ہے ۔ مگر یہ اس قدر پاکستانی روپیہ کروڑوں عوام میں جانے کی بجائے چند افراد کے قبضے میں ہے نتیجہ یہ ہے کہ غربت بڑھتی چلی جارہی ہے اور قرض معاف کروانے والے اربوں سے کھربوں میں کھیل رہے ہیں۔ معاف قرضوں کے حجم کے اعتبار ے عبداللہ پیپرز پرائیوٹ لمیٹڈ نے سب کو پیچھے چھوڑ دیا جس نے 2015 میں ایک کھرب54ارب ، 84 کروڑ اور 73لاکھ روپے کے قرضے معاف کرائے، رکسنز انجینئرنگ کے مالک اظہر علی نے 2015 میں 53ارب 66 کروڑ 75لاکھ روپے معاف کرا کر دوسرے جبکہ خیابان گھی ملز پرائیویٹ لمیٹڈ کے مالک چوہدری سجاد حسین اور چوہدری فلک شیر 2015 میں 52ارب 24کروڑ82 لاکھ روپے کے ساتھ تیسرے نمبر پر رہے۔ مہران بینک سکینڈل کے مرکزی کردار یونس حبیب نے 1997ءمیں دوارب 47 کروڑ روپے معاف کرائے۔ ریڈکوٹیکسٹائل کے مالک اور سابق چیئرمین احتساب بیور و سیف الرحمن خان نے 2006 میں ایک ارب 16 کروڑ 67 لاکھ روپے معاف کرائے، قرضہ معاف کرانے والوں میں فوجی سیمنٹ بھی شامل ہے جس نے 2004 میں پانچ کروڑ سے زائد کا قرضہ معاف کرایا ، کمپنی کے ذمہ داران میں سابق چیئرمین نیب لیفٹنینٹ جنرل (ر) سید امجد حسین ، میجر جنرل (ر) رحمت اللہ خان سمیت دیگر شامل تھے۔ ٹرانس موبائل لمیٹڈ کے سربراہ میجر جنرل (ر) امتیاز حسین کی جانب سے 11 کروڑ18 لاکھ روپے کا قرضہ معاف کرایا گیا۔ سپیرئیر ٹیکسٹائل ملز پرائیویٹ لمٹیڈ نے 24 کروڑ 75 لاکھ روپے معاف کرائے جس کے ذمہ داران میں پاکستان تحریک انصاف کے رہنما جہانگیر خان ترین اور مشرف دور کے وفاقی وزیر ہارون اختر بھی شامل ہیں۔ چوٹی ٹیکسٹائل ملز نے 2008 میں 30 کروڑروپے معاف کرائے مالکان میں سابق رکن قومی اسمبلی سردار جعفرخان لغاری شامل ہیں۔ قرضہ معاف کرنے والوں میں سابق سپیکر قومی اسمبلی فہمید مرزا کی مرزاشوگرمل لمیٹڈ بھی شامل ہے جس نے 2007 میں سات کروڑ روپے کا قرضہ معاف کرایا۔ 2002 میں صادق آباد ٹیکسٹائل ملز نے 5 کروڑ سے زائد مالیت کا قرضہ معاف کرایا، اس مل کی ذمہ داران میں تحریک انصاف کی رکن قومی اسمبلی ڈاکٹر شیریں مزاری بھی شامل ہیں۔ الٰہی سنز کی جانب سے 1999 میں 23 کروڑ 50 لاکھ روپے کا قرضہ معاف کرایا گیا۔ اس کمپنی کے ذمہ داران میں سابق چیئرمین سی ڈی اے امتیاز عنایت الٰہی بھی شامل ہیں۔ ایوان بالا میں پیش کی جانے والی فہرست کے مطابق ایک ارب سے زیادہ قرضے معاف کرانے والے افراد اور کمپنیوں کی تعداد 19 ہے جبکہ 969 کمپنیوں اور افراد کا معاف ہونے والے قرضوں کا حجم ایک ارب روپے سے کم رہا ہے۔ ایک ارب روپے سے زائد حجم والی کمپنیوں اور افراد میں موحب ٹیکسٹائل کمپنی نے 2002 میں ایک ارب 11 کروڑ74 لاکھ روپے سے زائد کے قرضے معاف کرائے جن کے مالکان کے نام آصف سہگل ، عارف سہگل ، عابد سہگل ، شہزاد سہگل ، شاہد سہگل اور شفیق سہگل شامل ہیں۔ سپننگ مشینری کمپنی آف پاکستان جس کی گارنٹی سٹیٹ انجینئرنگ کارپوریشن آف پاکستان نے دی نے 2003 میں ایک ارب 38 کروڑ 75 لاکھ روپے معاف کرائے۔ سعدی سیمنٹ نے 2004میں ایک ارب 26کروڑ56لاکھ روپے سے زائد کے قرضے معاف کرائے جس کے ذمہ داران میںظہیر مصطفی جلیل ، فرخ وقار الدین جنیدی، محمد حبیب، سید محسن عبداللہ علوی نقوی ، عزیز الحق، خورشید انور جمال، جاوید محمود ، خالد صدیقی ترمزی کے نام شامل ہیں۔ سراج سٹیل لمیٹڈ نے 2006میں ایک ارب 41 کروڑ 26 لاکھ روپے معاف کرائے جبکہ کمپنی کے ذمہ داران میں چوہدری محمد قاسم، سلامت قاسم، احمد نعیم قاسم اور چوہدری اکرم شامل ہیں۔ پاکستان نیشنل ٹیکسٹائل ملز نے 2008 میں ایک ارب 16 کروڑ 65 لاکھ روپے معاف کرائے جس کے عہد یداروں میں آغا تجمل حسین، آغا بابر حسین، نعیمہ فاطمہ، آغا طاہر حسین ، شفیق فاطمہ، آغا اطہر حسین بتائے گئے ہیں۔ عبداللہ ای الرجہی ای ایس ٹی نے 1996 میں ایک ارب 3کروڑ روپے معاف کرائے۔ کراچی پراپرٹیزانوسٹمنٹ نے 2004 میں ایک ارب سے زائد کی رقم معاف کرائی جس کے مالکان میں ایم منیر ، ڈی سی منوالہ، ذکی منیر، رافع منیر شامل ہیں۔ مرکری گارمنٹس انڈسٹریز نے 2006 میں ایک ارب 56 کروڑ 58 لاکھ روپے کا قرضہ معاف کرایا جس کے عہدیداروں میں محمد عارف ، محمد راضی، محمد صالح ، جاوید سلطان، بدر الزمان شامل ہیں۔ مہر دستگیر سپننگ ملزلمیٹڈ نے2005 میں ایک ارب16 کروڑ روپے کے قرضے معاف کرائے جس کے مالک کی فہرست میں فقط خواجہ یوسف کا نام درج ہے۔ یورو گلف انٹرپرائز کے مالک عبدالخاق چھا گلہ نے 2006 میں پانچ ارب 34 کروڑ 25 لاکھ روپے کے قرضے معاف کرائے۔ ایم ایس سی ٹیکسٹائل پرائیویٹ لمیٹڈ کے 1ارب 48 کروڑ 51 لاکھ روپے کے قرضے 2015 میں معاف کئے گئے جبکہ کمپنی کے ذمہ داران میں مشتاق علی چیمہ، ممتاز علی چیمہ، علی رضا چیمہ شامل ہیں ۔ کریسنٹ انڈسٹریل کیمیکلز لمیٹڈ نے 2013 میں ایک ارب 26 کروڑ 27 لاکھ روپے کے قرضے معاف کرائے جس کے ذمہ داران میں طارق شافی ، سلمان شافی، شوکت شافی، عثمان شافی وغیرہ شامل ہیں۔ چوہدری کیبل پرائیویٹ لمیٹڈ کے مالکان نے ایک ارب5 کروڑ روپے کے قرضے معاف کرائے جس کے تین مالکان ظاہر کئے گئے ہیں۔ یہ وہ لوگ ہیں جو پاکستان کا کھربوں روپیہ ہڑپ کر کے بیٹھے ہوئے ہیں ایسے ہی لوگ ہیں جن کی وجہ سے پاکستان قرضوں کے جال میں جھکڑا گیا ہے۔ ان لوگوں سے یہ سارا روپیہ سود سمیت واپس لینانہایت ضروری اور لازم ہے اس سے پاکستان کا قرض کم بھی ہو گا اور ایسے قرض نہاندہ عبرت کا نشان بھی بنیں گے۔ جب پاکستان کو لوٹنے والے ان لوگوں کی فہرست سامنے آئی تب وفاقی وزیر قانون زاہد حامد نے سینیٹ میں اعلان کیا کہ بینکوں سے قرضے معاف کرانے کا معاملہ پانامہ پیپرز کی تحقیقات کے لیے مجوزہ کمیشن کے ٹی آو آرز میںشامل کیا جا رہا ہے ، احتساب آرڈیننس کے تحت بینک قصداً نادہندہ کے خلاف قرض کی وصولی کے لیے فوجداری مقدمہ دائر کر سکتے ہیں۔ اس وقت مالیاتی اداروں کو ناقابل ادا قرضوں کی تیز وصولی کے لیے بینکاری عدالتوں میں مقدمات دائر کرنے کی اجازت ہے۔
ایسے لوگوں سے معاف کروایا ہوا پیسہ لینا سپریم کورٹ کے سواممکن نہیں ہے اور خوش آئند بات ہے کہ چیف جسٹس آف پاکستان چوہدری ثاقب نثار ایسا چاہتے بھی ہیں۔ سپریم کورٹ کے سوا کوئی اور ادارہ ایسا نہیں کر سکتا اگر ہم حکومت کا کہیں تو ہمیں پچھلے تمام ادوارکو مد نظر رکھتے ہوئے۔عیاں ہوتا ہے کہ یہ قرض لیے ہی اس لیے جاتے ہیں سیاستدانوں کو نوازا جائے انہیں حکومتوں کا حصہ بنانے کے لیے ان کی جیبیں بھرنا پڑتی ہیں اور پھر ان کو معافیاں بھی دینا ہوتی ہیں یہی خرچ پورے کرنے کے لیے نوازشریف حکومت نے صرف تین کے سال کے اندر پونے بیس ارب ڈالر کا قرض لیا۔ یہ قرضہ اسی لیے لیا جاتا ہے کہ سیاستدان قومی اسمبلی کے نمائندے حکومت سے جڑے رہیں اگر چہ نواز شریف حکومت کے وفاقی پارلیمانی سیکرٹری خزانہ رانا افضل خان نے قومی اسمبلی کو بتایا ہے کہ گزشتہ تین سال میں حکومت پاکستان کو 19ارب 72کرور39لاکھ ڈالر کا غیر ملکی قرضہ دیا گیا ۔ اس قرضہ میں سے 2ارب 7کروڑ 14لاکھ ڈالر صوبوں میں تقسیم کئے گئے، سوا 3ارب ڈالر کا قرض واپس بھی کیا گیا جبکہ گزشتہ برس2لاکھ ٹیکس چوروں کا سراغ بھی لگایا گیا۔سوال یہ ہے کہ اس سے عوام کو کیا ملا اس غرب کو کیا ملا جو روٹی کو ترس رہا ہے جس کے ووٹ سے یہ لوگ اسمبلی میں جاتے ہیں کیا قرضوں کا یہ سلسلہ یونہی چلتا جائے گا اور پاکستان مقروض ہوتا چلا جائے گا؟

اپنا تبصرہ بھیجیں