سزا کے بعد شریف خاندان اور جماعت۔۔۔تحریر حمید اللہ بھٹی

احتساب عدالت کی طرف سے سنائی گئی سزا غیر متوقع نہیں کیونکہ شریف خاندان نے اپنا مقدمہ قانونی نکات پر لڑا ہی نہیں وہ مقدمے کے زریعے سیاسی فوائد کی تلاش میں مصروف رہے جلسوں میں انتقامی کاروائیوں کی دہائیاں دیتے رہے یا پھر مشرف سمیت دیگر مخالف قوتوں سے نرمی برتنے پر اداروں کو ہدفِ تنقید بناتے رہے لیکن اپنی بے گناہی ثابت کرنے کے لیے شواہد پیش کر سکے مگر استغاثہ نے تمام الزامات ثابت کر دیے جواب میںقطری شہزادے کا خط پیش کرکے الگ جگ ہنسائی کرائی حالانکہ پانامہ ایشو کے آغاز پر قومی اسمبلی میں خطاب کرتے ہوئے نواز شریف نے کہا کہ آمدن کی ایک پائی پائی کا حساب موجود ہے جب تفصیلات طلب کی گئیں تو پتہ چلا محض دعویٰ تھا احتساب عدالت میں بیان ریکارڈ کراتے ہوئے میاں نواز شریف نے جب عدالت میں کہا کہ آمدن کے متعلق والد کو پتہ تھا جو فوت ہوگئے ہیں یا بیٹے جانتے ہیں مگر وہ بیرونِ ملک ہیں نے مقدمے کے نتائج عیاں کر دیے تھے کہ سزا سے کوئی معجزہ ہی بچا سکتا ہے صاف نظر آرہا تھا کہ بے گناہی ثابت کرنے کے لیے شریف خاندان کے پاس کچھ نہیں وگرنہ کیوں جھوٹی دستاویزات جمع کراتے ۔ وکیل بدلنے پر بھی یہی تاثر ابھرا کہ کوئی چارہ نہ پا کر اب وہ مقدمے کو طول دینا چاہتے ہیں آخر کار اہلیہ کی بیماری کی بنا پر فیصلہ ملتوی کرنے کے بھونڈے موقف سے بھی کچھ حاصل نہ ہوابلکہ غیر سنجیدگی مترشح ہوئی اسی لیے قانون آشنا کہتے ہیں کہ کیس میں کوئی قانونی سقم نہیں انصاف کے تقاضے پورے کیے گئے ہیں ۔
نواز شریف کو گیارہ ،مریم نواز آٹھ اور کیپٹن صفدر کو ایک سال قید با مشقت کی سزا سنائی گئی ہے اپیل کے لیے دس دن کا وقت دیا گیا ہے لیکن سوائے کیپٹن صفدر کے کوئی ایسی پوزیشن میں نہیں جو اپیل کا حق استعمال کرسکے کیونکہ نواز شریف اور مریم نواز دونوں بیرونِ ملک ہیں لیکن اپیل کے لیے خود حاضر ہونا پڑتا ہے اگر باپ بیٹی دس دن کے اند رواپس نہیں آتے توریلیف لینے میں مزید قانونی رکاوٹیں حائل ہو سکتی ہیں جس کی بنا پر بظاہر نوازشریف کا سیاسی سفر اختتام کو پہنچتا نظر آتا ہے نواز شریف نے فیصلے کے خلاف قوم سے سڑکوں پر نکلنے کی اپیل کی ہے لیکن پنجاب میں چند ایک جگہوں پر کچھ لوگ نکلے شدید ردِ عمل کے منتظر لوگ بھی جا گئے ہیں کہ مظاہروں کا ماحول نہیں بن پایا دیگر صوبوں میں ویسے ہی احتجاج کا امکان نہیں صورتحال کا عبرتناک پہلو یہ ہے کہ شہبازشریف جو نواز شریف کے بھائی اور سیاسی وارث ہیں نے فیصلے پر تنقید تو کی ہے لیکن سیاہ پٹی باندھنے سے گریز کیا ہے یہ دونوں بھائیوں میں پیدا ہونے والی دوری یا اختلاف ِرائے ہے یا انھوں نے قصداََ ایسا کرکے طاقت کے مراکز کو افہام و تفہیم کا پیغام دیا ہے جلد واضح ہو جائے گا۔
ایسی بات نہیں کہ نواز شریف اور مریم نواز کے پاس اپیل کا حق نہیں اور وہ قید بامشقت کی وجہ سے فوری دیگر قیدیوں کی طرح اپنے کام خود کرنے لگیں گے کھانا پکانے،کپڑے دھونے سے لیکر صفائی ستھرائی پر مجبور ہوجائیں گے بلکہ وہ ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ جا سکتے ہیں اگر وہ وقت پر ملک میں آجاتے ہیں اور اپیل میں جاکر بے گناہی میں کچھ شواہد پیش کر دیتے ہیں تو سزا میں تخفیف ممکن ہے یوں الیکشن میں پارٹی بچانے میں کامیاب ہوسکتے ہیں اگر ایسا نہیں ہوتا تو مسلم لیگ ن میں خلفشار بڑھ جائے گاکیونکہ نواز شریف اور مریم نواز کے بیانیے سے اتفاق کرنے والے احتجاج کا راستہ اختیار کر سکتے ہیں لیکن اِس طرح جماعت پرمزید ابتلا کا وقت بڑھ جائے گا قیادت کی سزا کے بعد ایسی صورتحال کارکنوں کو متنفر کر سکتی ہے اگر شہباز شریف مصالحتی سیاست کرتے ہیں تو بھی جماعت کا مستقبل روشن نظر نہیں آتا شکست وریخت کا امکان ہے۔ دونوں صورتوں میں الیکشن میں یہ جماعت خاص کامیابی حاصل کرتی دکھائی نہیں دیتی بلکہ مسلم لیگ ن طبعی عمر پوری کرنے کے بعد اختتام کی طرف بڑھتی نظر آرہی ہے وجہ یہ ہے کہ مسلم لیگ ن کی مقبولیت پنجاب میں ہے لیکن پنجابی ووٹر کبھی ایسی جماعت کو پسند نہیں کرتا جو اِداروں سے خار رکھے لیکن نواز شریف نے مسلسل انتقامی کاروائیوں کا واویلا کرکے ثابت کر دیا ہے کہ ملک کی طاقتورقوتیں اُن کے خلاف ہیں جس کی بنا پر عین ممکن ہے الیکشن میں یہ جماعت ووٹ حاصل کرنے میں ناکام رہے اور قابلِ زکر کارکردگی نہ دکھا سکے۔
باپ کے شانہ بشانہ بیٹی نے سیاسی سرگرمیوں میں بھرپور حصہ لیا اور کسی قسم کی کمزوری ظاہر نہیں کی لیکن سچ یہ بھی ہے باوجود کوشش کے وہ جماعت کی سربراہی حاصل نہیں کر سکیں سینئر مسلم لیگیوں کی بڑی تعداد اُن کے نام سے خار رکھتی ہے اسی لیے شہباز شریف کو جماعت کی صدارت دینے کے فیصلے پر اکتفاکرنا پڑا حالانکہ میاں نواز شریف اپنی سیاسی جانشینی مریم نواز کو سونپنے کے آرزومند تھے اہلِ دانش کہتے ہیں وقت کا پہیہ جب خلاف چلنے لگتا ہیں تو سب سے پہلے آرزﺅں کا قتل ہوتا ہے لیکن موجودہ صورتحال میں اگر باپ بیٹی جیل جاتے ہیں تو اکٹھے بھی نہیں رہ سکیں گے بلکہ الگ الگ رہنے پر مجبور ہوں گے قید بامشقت کی وجہ سے عام قیدیوں کی طرح رہیں گے اور انھیں کوئی اضافی سہولتیں نہیں مل سکیں گی کیسی عبرتناک صورتحال ہے۔
قیادت کوسزاہونے سے مسلم لیگ ن کا صرف کارکن ہی مایوس نہیں ہوا بلکہ امیدوار بھی شاک کی کیفیت میں ہیں یہ جماعت جو ہمیشہ اسٹیبلشمنٹ کی منظورِ نظر رہی آج کل جارحانہ موقف پر کاربند ہے اب دیکھنا یہ ہے کہ ن لیگی قیادت کا بیانیہ پزیرائی پاتا ہے یا یہ جماعت بھی داستان بن کر رہ جاتی ہے درپیش امتحان ہے بڑا ہی مشکل ۔اگر ماڈل ٹاﺅن کیس بھی کُھل جاتا ہے اور اصغر خان کیس پر بھی کاروائی شروع ہو جاتی ہے تو حالات مزید گھمبیر ہوسکتے ہیں۔تاریخی بات یہ ہے کہ زوالفقار علی بھٹو نے بھی اپنے کیس سے گلو خلاصی کی کوشش نہ کی رعونت کا مظاہر ہ کیا اور تختہ دار پر جھول گئے شریف خاندان بھی اُسی روش پر گامزن ہے دیکھتے ہیں قانونی جنگ میں غیر سنجیدگی سے کیا ظہور پذیر ہوتا ہے؟۔بظاہر حالات اچھے نظر نہیں آتے جماعت کے لیے بھی اور قیادت کے لیے بھی۔۔

اپنا تبصرہ بھیجیں