گداگری معاشرے کیلئے کینسر…تحریر:علی جان

پیشہ وربھکاری ہو یا مجبوری نے بھکاری بنایا ہو ہیں تو معاشرے کیلئے شرمندگی کا باعث شہرکی تپتی ہوئی سڑکوں پرمختلف چوراہوں پرخاص طورپرٹریفک سگنل کے آس پاس زندگی کے مارے ہوئے لوگ گاڑیوں کے شیشے کھٹکھٹاتے موٹرسائیکل سواروں کے جذبہ رحم کا امتحان لیتے ہوئے دن بھرطلوع سے غروب اور پھررات ڈھلنے تک ایک قابل توجہ مشقت میں مصروف رہتے ہیں زندگی کچھ لوگوں کیلئے کتنی حسین اور کچھ کیلئے کتنی دردناک ہوتی ہے جو ہرلطف زندگی سے محروم رہتے ہیں یہ مناظراسی محرومی کی عکاسی کرتے ہیں ہمارے ہاں ایک عرصہ سے یہ بحث چل رہی ہے کہ گداگروں کیلئے عافیت گھربنانے چاہیں تاکہ ایک طرف تو یہ لوگ دیکھنے والوں کیلئے اور خاص طور پر غیرملکیوں کی نظرمیں ہماری معاشرتی زندگی کا کوئی اچھاعکس پیدانہیں کرتے جس وجہ سے ہماراملک پوری دنیامیں گندی نگاہ سے دیکھاجاتا ہے عمرانیات کے ماہرین کاکہنا ہے کہ انسان ازل سے دوسرے انسان کا محتاج رہا ہے کسی کے پاس اناج ہے توکسی کے پاس تن ڈھانپنے کیلئے کپڑاکسی کے پاس سرچھپانے کیلئے چھت ہے تو کسی کے پاس جوتا تک نہیں مگرانسان نے ہمیشہ سے ہی محنت کے بل بوتے پراپنی زندگی میں ان ضروریات کو حاصل کرنا اپنا شعاربنایا اوریہی وہ عمل تھا جس کے بل بوتے پرآج دنیا کے ہرتمدنی معاشرے میں انسان عزت اور وقار کی زندگی گزاررہے ہیں اس کے ساتھ یہ حقیقت بھی قابل غور ہے کہ وہ لوگ جنہیں خدانے ان تمام صلاحیتوں سے نوازا ہے جن کی مدد سے وہ اپنی روزی پیداکرسکتا ہے زندگی اس بھاگ دوڑ میں اپنا کردارباآسانی اداکررہے ہیں مگروہ لوگ جن کے پاس ان میں سے کسی ایک یابہت سی صلاحیتوں کی کمی ہے تو وہ اپنا گزارا کیسے کرے گا ان کے پیٹ کی دوزخ کون بھرے گا کسی بھی فلاحی ریاست میں ذمہ داری بہرحال ریاست کی ہے مگرکاش!کبھی وہ ریاست قائم ہوجائے اس حوالے سے اہم پہلو یہ ہے اس ریلے میں زیادہ ترتعداد ان لوگوں کی ہے جن کو ہم پیشہ ور بھکاری کہتے ہیں مگرسوچنے کی بات یہ ہے کہ ان دونوں میں فرق کون دیکھے گا اور معاشرے کو اس گداگری کی لعنت سے کون نجات دلائے گا اگرپیشہ وربھکاری بھی ہے توکیا اس کی ضروریات نہیں؟کیا اس کے بچے نہیں؟کیا یہ ملک ان کا نہیں؟کیا اسلام کے مطابق وہ ہمارے بھائی نہیں؟کتنے سوال دل میں آتے آتے رک جاتے ہیں جب ایک مڈل کلاس آدمی ان کی ضروریات کے آگے چھوٹاپڑجاتا ہے بس وہ کسی مسیحا کی آس لیے بیٹھے ہیں کہ انکے بچوں کا مستقبل کیسا ہوگا اللہ پاک ہمارے ملک کی حفاظت فرمائے بہرحال جو بھی ہو حضورپاک کی حدیث مبارکہ ہے کسی سے سوال کرنے کی بجائے محنت کرکے کھانا افضل ہے مگر آج کے دور میں ایسے ایسے گداگردیکھنے کو ملتے ہیں کہ صحت مند ہونے کے باوجود وہ بھکاری بنے ہوتے ہیں اصل میں انکے پیچھے ٹھیکیدار نما لوگ ہوتے ہیں جو پہلے تو ان کو قرض یا نشہ میں مبتلاکرکے ان کو پیسے کا لالچ دیتے ہیں پھر پیسہ نہ ہونے کی وجہ سے بھکاری بنا کر بٹھا دیتے ہیں اور محنت کی بات کی جائے تو حضور پاک نے خود ایک صحابی کو رسی اورکلہاڑی دے کر حلال کمانے کا حکم دیا یقیناًہمارا مذہب اسلام ایک دوسرے کی مدد کا حکم دیتا ہے مگر ایسے گداگروں اور ٹھگ بازوں کیلئے سخت وعیدیں فرمائی ہیں مختصراًنے یہ کہ گداگری سے اجتماعی اور انفرادی برائیاں جنم لیتی ہیں جس میں بے حس ہونا،غیرت سے ہاتھ دھو بیٹھنا اور جب بھیک نہ ملے تو چوری کرناحکومت وقت کو چاہیے کہ مستحقین کو وظیفہ دیں اور پیشہ ور بھکاریوں کے خلاف سخت کروائی کریں تاکہ اس برائی سے ہمارا ملک پاک ہوسکے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں