امیروں کی دولت کا ناچ ، غریبوں کی بھوک کا ماتم…تحریر عبدالجبار خان دریشک

ماضی کی داستانوں میں دولت مندی کے حوالے قارون کے خزانوں کا ہم سب نے سن رکھا ہے جس کا ذکر قرآن پاک میں بھی آیا ہے ، قارون کے پاس اس قدر مال و دولت کے خزانے تھے کہ اس کے خزانے کی کنجیاں اٹھانے پر قوی مردوں کی ایک جماعت مقرر تھی، اس کے بہت سے خزانے اور ہر خزانے کی کنجی الگ تھی جو بالشت بھر کی تھی۔ قارون کی قوم کے بزرگوں نے قارون کو نصیحت کی کہ اتنا اکڑا مت، تو اس پر قارون نے جواب دیا کہ میں ایک عقلمند، زیرک اور اک دانا شخص ہوں ،اور اسے اللہ بھی جانتاہے،اسی لئے اس نے مجھے دولت دی ہے۔ قارون کا خزانہ اس کے تکبر اور اللہ کی راہ سے غافل ہونے سے زمین میں دھنس گیا تھا ، جس کے لیے حضرت موسی علیہ سلام نے اللہ پاک سے دعا کی تھی کہ زمین کو میری اطاعت میں دے دیا جائے حضرت موسی علیہ سلام سے پہلے قارون نے اللہ پاک سے دعاکی تھی جو قبول نہیں ہوئی تھی، لیکن حضرت موسی علیہ سلام کی دعا قبول ہوئی ، اس واقع کو گزرے کئی سو سال ہو چکے ہیں ، اس وقت دنیا میں انسانی آبادی نے ترقی بھی نہ کی تھی اور نہ ہی سائنس ٹیکنالوجی کادور تھا، پھر بھی قارون کے خزانے اس وقت دنیا میں سب سے زیادہ تصور کیے جاتے تھے

موجودہ دور میں سائنس کی ترقی و ایجادات نے انسانی زندگی کو آسان اور سہل بنایا ہے وہیں اسی دنیا میں افراد کے پاس دولت کی ریل پیل بھی زیادہ ہوئی ہے ، لیکن اس سب کے باوجود دنیا میں غربت میں بھی کمی نہیں ہورہی ہے لوگ پیٹ پالنے کی خاطر اپنے جسمانی عضاء سے لے کر اپنے بچوں تک کو فروخت کردیتے ہیں، بھوک سے تنگ آ کر اپنے اہل عیال سمیت خودکشی کر کے موت کو گلے لگا لیتے ہیں ، حال ہی میں برطانوی اخبار دا گارڈین کی ایک رپورٹ کے مطابق سن 2030 تک دنیا کی دو تہائی دولت دنیا میں موجود صرف ایک فیصد امیر ترین افراد کی تجوریوں میں چلی جائی گی۔ سن دو ہزار آٹھ کے بعد سے ان امیر ترین افراد کی دولت میں سالانہ چھ فیصد اضافہ ہو رہا ہے جبکہ دنیا کے باقی 99 فیصد افراد کی دولت میں اوسطاﹰ اضافے کی شرح تین فیصد سے بھی کم ہے۔ اگر یہ رجحان اسی طرح جاری رہا تو بارہ برس بعد امیر ترین ایک فیصد افراد کے پاس 305 ٹریلین ڈالر کے برابر دولت جمع ہو جائے گی ، جبکہ اس وقت ان ایک فیصد افراد کے پاس 140 ٹریلین کے برابر سرمایہ موجود ہے۔صرف 8 افراد کے پاس اس قدر دولت ہے جو دنیا کی نصف آبادی 3 ارب 60 کروڑ افراد کی مجموعی دولت کے برابر ہے۔ دنیا کی ایک فیصد آبادی کے پاس عالمی دولت کا 51فیصد ہے۔مزید10فیصد کے پاس38فیصد دولت جبکہ 89فیصدعالمی آبادی کی ملکیت میں صرف11فیصد دولت ہے۔

اس حیران کن رپورٹ کے بعد ماہرین کی طرف سے فوری اقدامات اٹھانے اور توازن قائم کرنے کے مطالبات سامنے آئے ہیں۔ تجزیہ کاروں نے عالمی رہنماؤں کو خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس طرح دولت کے صرف چند ہاتھوں میں محدود ہونے سے آئندہ عشروں کے دوران غریب افراد میں غصہ اور بداعتمادی بڑھ جائیں گی، جس سے معاشرے میں انتشار، تصادم ، اور عدم برداشت میں آضافہ ہو جائے گا۔

موجودہ صدی کے قارونوں کی دولت کے اعداد شمار کے بارے میں امریکی جریدے فوربز نے اپنی سالانہ رپورٹ جاری کی ہے جس کے مطابق ارب پتیوں کی تعداد دنیا میں 1125 ہوگئی ہے ، دنیا کی آبادی کا 50 فیصد تو خواتین پر مشتمل ہے لیکن 1125 افراد کی فہرست صرف 81 خواتین دنیا میں ارب پتی ہیں، روس کے شہر ماسکو میں سب سے سب سے زیادہ ارب پتی بستے ہیں جن کی تعداد 89 ہے جبکہ ممالک میں سب سے زیادہ امریکہ میں ارب پتی ہیں جن کی تعداد 495 ہے۔

دنیا میں امیر ترین افراد کی فہرست میں پہلے نمبر پر تو بل گیٹس ہے ، جو اپنی دولت میں سے سالانہ ایک ارب ڈالر اپنی والدہ کے نام سے خیراتی کاموں پر خرچ کرتا ہے لیکن اس کے برعکس فہرست میں چوتھے نمبر پر دنیا کا امیر ترین شخص وارن بفیٹ اپنی دولت کا 85 فیصد رفاعی کاموں پر خرچ کرتا ہے بل گیٹس کے پاس اتنی دولت ہے کہ امریکہ پر اس وقت 7.3 ٹریلین ڈالر کا قرض ہے اور اکیلا بل گیٹس امریکہ کا کل قرضہ دس سال میں آتار سکتا ہے ، اگر بل گیٹس کی دولت کو ایک ملک کی دولت تصور کر لیا جائے تو یہ ملک دنیا میں 35 ویں نمبر پر امیر ملک ہوگا ، اسی طرح بل گیٹس کی ساری دولت کو ڈالر میں تبدیل کر دیا جائے تو اسے دوسری جگہ شفٹ کرنے کے لیے 713 بوئنگ طیارے استعمال ہوں گے، جب کہ ان ڈالر کو لمبائی کے رخ میں رکھا جائے تو یہ زمین سے چاند کے درمیانی فاصلے سے 14 گناہ زیادہ ہوں گے

دولت کی غیر منصفانہ تقسیم کی وجہ سے امیروں نے اپنے خزانے اپنے نیچے دبا کر رکھے ہوئے ہیں ، پیسے کی گردش نہ ہونے کے سبب عام اور غریب افراد کی آمدان میں آضافے کی بجائے کمی ہو رہی ہے، ایک عالمی ادارے آکسفیم کی رپورٹ “اکنامیک فار دی99 پرسنٹ ” 2017کے مطابق دنیا میں غریب افراد کو پیچھے چھوڑا جا رہا ہے ، ان کی اجرت ابھی تک جمود کا شکار ہے۔ ان کی صحت اور تعلیم کی سہولتوں کو کم کیا جا رہا ہے۔اس کے مقابلے کارپوریٹ سیکٹر کے افراد لاکھوں ڈالر کے بونس لے جاتے ہیں۔

حکومتیں بڑے بزنس مین اور امیر ترین طبقہ کے مفادات کو تحفظ فراہم کرتی ہیں جبکہ عام اور غریب آدمی کی آواز کو دبایا جاتا ہے۔ یہ تمام صورتحال نا صرف معاشرے میں توڑ پھوڑ کا باعث بنتی ہے بلکہ اس سے جمہوریت کو بھی نقصان پہنچتا ہے۔ بڑے کاروباری اور انتہائی امیر ترین افرادٹیکس چوری کے باعث دنیا میں معاشی عدم مساوات بدامنی اور بحرانوں میں اضافہ کر رہے ہیں۔کالے دھن کو سرمائے میں لگانے اور ٹیکس بچانے کے لئے آف شور کمپنیاں بناکر کاوربار کیا جاتا ہے جس کے لیے پیسہ منی لانڈرنگ کے ذریعے ایک ملک سے دوسرے ملک میں منتقل کیا جا رہا ہے۔

دنیا میں ایک طرف امیر ترین افراد کو خزانے رکھنے کے لیے جگہ کم پڑ رہی ہے تو دوسری طرف بھوک کا شکار افراد بڑی تعداد میں موت کو گلے لگا رہے ہیں، عالمی ادارہ خوراک کے مطابق دنیا میں ہر سال بھوک اور مختلف مہلک وبائی امراض کی وجہ سے کئی گناہ زیادہ اموات ہوتی ہیں، ایک اندازے کے مطابق دنیا تقریباً 80 کروڑ افراد کو غذائی قلت کا سامنا ہے ، جبکہ ایک ارب افراد کو صحت مند خوراک تک رسائی حاصل نہیں ہے۔

دولت کے اس عدم توازن کے باعث ترقی پذیر ممالک کے ساتھ اب ترقی یافتہ ممالک کے افراد بھی خوراک کی کمی کا شکار ہیں، اسی طرح دنیا کا ہر تیسرا افراد غذائی کمی کا شکار ہے ،ایک سماجی تنظیم ، انٹرنیشنل فورڈ ریسرچ انسٹیٹوٹ کی جانب سے گلوبل ہنگر انڈکس کے مطابق جس کی درجہ بندی ترقی پذیر ممالک کو صفر سے 100 کے درمیان پوانٹس دیے گئے ان میں سے آٹھ ممالک ایسے ہیں جہاں صورت حال خوفناک ہے جنگ اور تصادم زدہ علاقوں میں سات سو ملین افراد تک خوراک نہیں پہنچ سکی ، اس انڈکس میں پاکستان کا نمبر گیارہ ہے بھارت 25 اور افغانستان جنگ زدہ شام یمن کی صورت حال تو مزید ابتر ہے جہاں دنیا کے دولت مندوں کے خزانے 2030 تک مزید بڑھیں گے وہیں غربت اور بھوک کے شکار افراد کی تعداد میں خطرناک حد تک آضافہ ہوگا۔

دولت کی غیر منصفانہ تقسیم کو روکنے کے لیے عالمی سطح پر منی لاڈرنگ اور غیر قانونی طریقے سے رقم کی نقل حرکت کو روکنا ہوگا ، کرپشن کی روک تھام کے لیے موثر قوانین کے ساتھ احتساب کے عمل کو تیز اور شفاف بنانا ہوگا ، ٹیکسوں کا دائرہ کار عوام اور غریب افراد کی بجائے دولت مندوں تک بڑھانا چاہیے ، کم آمدنی والے افراد سے ٹیکس وصولی کر کے انہیں مزید غریب بنا جارہا ہے جبکہ ایک امیر پاور میں ہونے کی وجہ سے ٹیکس ادا کرتا ہی نہیں ، ایسے میں غریب ، غریب تر اور امیر ، امیر ترین بن رہا ہے

اپنا تبصرہ بھیجیں