سیاسی مذہب اور اسلام۔۔۔۔تحریر ظفر اقبال ظفر

جسے اللہ عزت دے رہا ہو اسے ساری دنیا مل کر بھی زلیل نہیں کر سکتی اور جسے اللہ زلیل کر رہا ہو اسے ساری دنیا مل کر بھی عزت نہیں دے سکتی عزتوں زلتوں کا مالک اللہ ہے حکومتیں تقسیم کرنے والا بادشاہ ہے وہ۔وہی نوازتا اور چھےنتا ہے جسے اللہ نے اپنا بندہ بنا کر پیدا کیا ہو اور وہ سیاستدانوں پر ایمان رکھتا ہو تو اسے قدرت کے یہ قانون سمجھ نہیں آتے وہ اللہ کے مستحق انسانوں کی ترجمانی کی بجائے اپنے سیاسی لیڈر کی تبلیغ کو اپنی عبادت بنا لیتا ہے ان کے سیاسی مذہب میں اپنی اور دوسرے پاکستانیوں کی زندگی کی وسائل و حقوق کی کمی سے مطمن ہونا شامل ہوتا ہے ایسے انسانوں کے لیے سودی نظام کے قرضے کرپٹ اداروں کی کرپشن رشوت ناانصافی بے روزگاری جےسے مسائل بے معنی ہوتے ہیں یہ بس اپنے سیاسی لیڈر کو آقا کی طرح تصور کرکے اسی کی کہی ہوئی باتوں پہ ایمان رکھتے ہیں وہ سب کو نظر انداز کر کے اپنے قبلے کی طرف مگن رہتے ہیں وہ اپنے سیاسی لیڈر کی عزت اور دولت میں اضافہ چاہتے ہیں اور اسی کی محنت کرتے ہیں ان کی تمام دلیلیں اسی کے گرد کھومتی ہیں ان میں اتنی عقل اور ہمت نہیں ہوتی کہ وہ ملکی عوام کے لیے اپنے لیڈر سے جواب طلب کر سکیں بلکہ یہ غلاموں کی غلامی میں اپنی ترقی سمجھتے ہیںان کے سیاسی مریض ہونے کا ثبوت بھی یہی ہے جب کہ ان کے خون میں خودداری کے جراثیم ہوتے تو یہ مسلمان اور پاکستانی بن کر سیاست کو دیکھتے جو ملک کا مالک بن کر زندگی جینا سیکھاتا ہے جس کا معیار یہ ہے کہ ہر سیاست دان ان کے ووٹ اورنوٹ کا محتاج ہے اس حقیقت پر زہنی غلامی پردہ ڈال دیتی ہے یہ ہلکے لوگ سیاسی لیڈر کی عینک سے ملک اور عوام کو نا صرف دیکھتے ہیں ان پر اپنی سوچ بھی مسلط کرتے ہیں جبکہ ان کو غلامی جمہوریت سے زیادہ سمجھ آتی ہے تبی تو یہ دوسروں کو جمہوری حق نہیں دیتے اور اپنی پسند کو ترجع دیتے ہیں جمہوریت ان کی جہالت کی بولنے کی آزادی دیتی ہے مگر حق کو سننے کی نہیں ان کو یہ بھی نہ احساس نہیں ہوتا کہ اللہ نے ان کو سیاسی لیڈروں کی غلامی سے پاک پیدا فرمایا ہے اور وہ انہی کے جیسے انسان ہیں جو ان کی غلامی و جہالت سے ان ساروں سے اچھی اور مہنگی زندگی گزارتے ہیں بس اس میں عزت نہیں ہوتی اور وہ عزت ان کے غلام ان کو دیتے ہیں جس کا بدلا زلت نکلتا ہے مولانا عبید اللہ سندھی فرماتے ہیں غلام قوم کے معیار بھی عجیب ہوتے ہیں شریف کو بے وقوف مکار کو چالاک قاتل کو بہادر اور مالدار کو بڑا آدمی سمجھتے ہیں کیا یہ اللہ کا یہ احسان نہیں سمجھتے کہ ان کو اللہ نے اپنے نبی ﷺکی امت میں پیدا فرمایا ہے نبی ﷺ کے فرمان اور عملی شہادتوں سے صحابہ ؓنے دوہرا کر دیکھایا کہ عزت و کامیابی اسی طریقے میں ہے خود مالک دو جہاں نے قرآن پاک مےں واضع فرمایامگر یہ پھر بھی اپنے سیاسی لیڈر اور اس کے کہنے پر ٹکے ہوتے ہیں اور جو حق کے رستے پر ہورت ہیں ان سے اُلجھتے ہیں اور باضد ہوتے ہیں کہ ہم ہی درست ہیں بھلا تم اللہ اور اللہ کے پاک بندوں کی ترجمانی کے بغیرکیسے نجات پا سکتے ہو اسی کو نظر انداز کرنے پر تو یہ بھٹکے ہوتے ہیں جبکہ ان کا سیاسی لیڈر دنیا کی جو بھی طاقت بن جائے مگر قبر میں ان کے معاملات مےں مداخلت کی اوقات نہیں رکھتے اور ےہ تو ایسے بد قسمت ہیں وہ ان کی قبر پر آکر فاتحہ بھی نہیں پڑتے جبکہ یہ ان کے کلمے پڑھتے پڑھتے زمینی ترقی کو سوچ کے ساتھ دفن ہو جاتے ہیں پھر ان کے ساتھ جمہوریت نہیں شریعت کے سوال ہو رہے ہوتے ہیں جو اللہ کا بندہ ہوتا ہے اس کا ظرف اتنا کشادہ ہوتا ہے کہ وہ اللہ کے سارے بندوں کی فکر کرتا ہے اور جو سیاست دان کا بندہ ہوتا ہے وہ اتنا تنگ سوچ کا مالک ہوتا ہے کہ اسے اپنے لیڈر کی فیملی اور اپنے جیسے چھوٹے بڑے غلاموں کی ہی فکر ہوتی ہے پارٹی کے دائرے میں بنا زنجیر کا قیدی اور جہالت کی منزل کا مطمن مسافر ہوتا ہے کچھ پر اللہ کا کرم ہو بھی جاتا ہے ہدایت کی روشنی مل جاتی ہے تو وہ سیاست کا غلاف اتار کر حقوق العباد کے رستے آجاتے ہیں اور جن کے دل انا ضد اور گمراہی سے بندھا ہوتا ہے وہ شکست زلت سے لپٹے اسی گندگی میں پڑے رہتے ہیں کیونکہ ان کو اپنی سوچ اور فیصلہ درست لگتا ہے جو ان کو انسان سے اوپر فرشتہ بنا کر دیکھا رہا ہوتا ہے وہ اپنی ہی زات کی بات کو پکڑ کر تنہا ہوتا جاتا ہے لائن بنا کر کنوئیں میں گرنے والوں نے کبھی پہلی موت دیکھ کر اس کا منہ بند نہیں کیا ہوتا جب تک یہ گر نا جائیں مانتے ہی نہیں جبکہ گرنے والا پچھتا رہا ہوتا ہے اس کے باقی ساتھی اسے سیاسی شہید تصور کر کے اپنی جہالت پر اور پختہ ہو جاتے ہیں یہ سیاسی مذہب کے لوگ انسانیت اور مالک کائنات کے نظام سے ہٹ کر اسلام کے بندوں کے لیے عبرت اور ہدایت کے ساتھ اللہ اور اللہ کی مخلوق سے محبت سے جڑے رستوں کی وضاحت کرتے ہیں مگر خود بدلنے اور آزمانے کی کوشش نہیں کرتے

اپنا تبصرہ بھیجیں