اسلام ہی کیوں…تحریر : علی عبداللہ

مہدی رضا حسن ایک ہندوستانی نژاد برطانوی براڈ کاسٹر، صحافی اور مصنف ہیں جو کہ الجزیرہ چینل کے انگریزی پروگرام “دا کیفے”، “ہیڈ ٹو ہیڈ” اور “اپ فرنٹ” کے میزبان بھی ہیں – ان کو جنوری 2014 میں میڈیا کے لیے خدمات پر ایوارڈ بھی مل چکا ہے – حال ہی میں ان کی تازہ ترین ویڈیو جس کا عنوان “خلیفہ ڈونلڈ ٹرمپ اور صلیبی طالبان کا ارتقاء” تھا سامنے آئی جس میں وہ ان عیسائی دائیں بازو کے لوگوں کی بات کر رہے ہیں جو امریکی حکومت کے لیے اپنے گھٹنے ٹیک چکے ہیں – کہنے کو یہ ویڈیو ان صلیبیوں سے انتباہ کرنے کے بارے میں ہے لیکن اس میں حسن نے براہ راست اسلامی اصطلاحات کا طنزیہ استعمال کیا ہے اور تمام مذاہب کی شدت پسندی کے لیے اسلام کو سامنے رکھا ہے –

حسن وہ پہلا شخص نہیں جس نے دوسرے مذاہب میں بڑھتی شدت پسندی کے لیے اسلامی اصطلاحات کا سہارا لیا ہے – یہ بنیادی طور پر لبرل اور بائیں بازو کے نظریات رکھنے والے لوگوں کے اس گروپ سے تعلق رکھتا ہے جن کے خیال میں اسلام اور مسلمانوں کو دنیا بھر میں ہونے والی مذہبی شدت پسندی کے لیے بطور استعارہ استعمال کرنا نہایت سود مند ہے – اس موازنے سے ان لبرل اور اعتدال پسندوں کو متوجہ کرنا نہایت آسان ہے جو عموماً اس بات کے قائل ہیں کہ مذہبی شدت پسندی ہی تمام برائیوں کی جڑ ہے – اور یقیناً کوئی بھی مذہب، اپنے نام پر کسی بھی قسم کی شدت پسندی کا حکم نہیں دیتا لیکن مذہبی شدت پسند اپنے دعووں کو مختلف مقدس صحیفوں اور آیات کے ذریعے ثابت کرنے کی کوشش کرتے رہتے ہیں – حسن کی ویڈیو گو کہ صلیبی شدت پسندی کے بارے میں آگاہ کرنے کے لیے ہے لیکن اس میں اسلامی اصطلاحات کا مسلسل استعمال تباہ کن ہے۔

حسن نے ان تمام اصطلاحات کا منفی استعمال کیا جن کی حقیقی روح کو اجاگر کرنے کے لیے مسلمان رہنما اور دانشور سخت محنت کر رہے ہیں جو مذہبی شدت پسندی کی وجہ سے بگڑ چکی ہیں – جیسا کہ “ملا” یہ اس شخص کے لیے استعمال ہوتا ہے جو اسلامی قانون اور دیگر اسلامی شعائر سیکھتا ہے لیکن اب یہ “مذہبی شدت پسند” کے متبادل استعمال کیا جانے لگا ہے – “شریعت” جو کہ مسلمانوں کے لیے ایک راہ عمل ہے اسے “شریعہ لا” کہہ کر ہر عام و خاص کے حقوق کو مسترد کر دینے والا بنا دیا گیا ہے – اسی طرح “خلیفہ” اس شخص کو کہا جاتا تھا جو ریاستی اور مذہبی رہنما ہو لیکن اب یہ ایک فاشست حکمران کے متبادل استعمال کیا جانے لگا ہے – اور تو اور “اللہ اکبر” اللہ سب سے بڑا ہے جسے ہر مسلمان اپنی روزانہ کی عبادات میں دہراتا ہے اسے مذہبی شدت پسندوں کا نعرہ سمجھا جانے لگا ہے۔

یوں محسوس ہوتا ہے جیسے مذہبی شدت پسندی صرف مسلمانوں سے جڑی ہوئی ہے اور اسلام سے پہلے اس کا وجود ہی نہیں تھا – لیکن وہ کیوں یہ بھول گیا کہ بنیادپرست لفظ بیسویں صدی کے آغاز میں متعارف ہوا اور یہ خاص طور پر سخت عیسائی بنیاد پرستی اور عقائد کو بیان کرنے کے لیے استعمال کیا جاتا تھا – اب اسلام کے لیے عالمی سطح پر تعصب اس حد تک بڑھ چکا ہے کہ اس طرح کی اصطلاحات کا منفی استعمال کرنے پر کسی قسم کی قباحت نہیں سمجھی جاتی – امریکی معاشرتی تربیت کیسی بری ہے کہ معاشرتی مسائل کو اجاگر کرنے کے لیے اس کے پاس اسلام کو مجازی معنوں میں استعمال کرنے کے علاوہ اور کوئی راستہ نہیں ہے۔

ماضی میں “ہندو طالبان” کا لفظ استعمال کرنے پر ایک برطانوی مجسمہ ساز آنیش کپور کو ہندوستانیوں کی جانب سے سخت مذمت کا سامنا کرنا پڑا جس نے کہا تھا کہ” ہندوستان پر ہندو طالبان حکمرانی کر رہے ہیں” اور اس کالم کو شائع کرنے پر امریکی اخبار گارڈین پر بہت تنقید ہوئی جس کے بعد اخبار کو اس کالم پر نظر ثانی کرنا پڑی – ہندوستانی لوگ طالبان کو ہندومت کے لیے استعمال کرنا نہایت قبیح سمجھتے ہیں اور ایک کالم نگار نے لکھا تھا کہ” ہندومت ایک پرامن مذہب ہونے کے ناطے طالبان جیسا معاشرہ نہیں بن سکتا” – ہندوؤں کا کہنا تھا کہ ہندو مت ایک پرامن مذہب ہے اور اس کا اسلام جیسے شدت پسند مذہب سے موازنہ نامناسب ہے – درحقیقت مذہبی شدت پسندی کے اظہار کے لیے مسلمانوں کا حوالہ دینا ہے غلط ہے۔

موجودہ سیاسی صورت حال میں بجائے مدلل اور منصفانہ تنقید کے اگر ایسے ہی اسلامی اصطلاحات کا منفی استعمال ہوتا رہا تو ڈر ہے کہ عالمی دنیا اسلام کو فساد کا سبب قرار دے کر مکمل کنارہ کشی ہی اختیار نہ کر لے- گو کہ اسلام کسی دنیاوی سہاروں کا محتاج نہیں لیکن ہم بطور مسلمان اس چیز کو گوارا نہیں کر سکتے کہ عالمی سطح پر ہماری پہچان منفی ہو – ایسے حالات میں مسلمان دانشوروں اور مذہبی رہنماؤں پر بھاری ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ قوم کو انتشار کی بجائے ایک پلیٹ فارم پر یکجا کریں اور ان کی نظریاتی تربیت کے لیے حکومتی سطح پر اقدامات کریں تاکہ ہر عام و خاص مذہب پسند اور مذہبی شدت پسندی میں فرق واضح جان سکے اور لبرلز کی ابھرتی ہوئی سازشوں کا شکار نہ ہو سکے – اور عوام الناس کے لیے ضروری ہے کہ وہ مغربی میڈیا سے متاثر ہونے کی بجائے تحقیق کی جانب راغب ہوں اور مشتبہ نظریات اور مذہبی اختلافات کو ایک طرف رکھ کر علماء حق سے وابستگی رکھیں – اس کے ساتھ ساتھ میڈیا اور دیگر جدید ذرائع ابلاغ کا مثبت اور مؤثر استعمال جانا جائے تاکہ اپنا نکتہ نطر ہم بہترین طریقے سے عالمی سطح پر اجاگر کر سکیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں