ووٹ بعد میں ! فرمایئے کیسے آنا ہوا ؟۔۔۔تحریر : راﺅ عمران سلیمان

 ووٹ کے احترام کی سب سے بڑی ذمہ داری عوام پر نہیں بلکہ ان لوگوں پر عائد ہوتی ہے جو غریب عوام کے ووٹوں سے منتخب ہوکر اسمبلیوں تک پہنچتے ہیں،یہ کوئی ہار اور جیت کا کھیل نہیں ہے بلکہ اس میں ملکوں اور عوام کی تقدیر کا راز چھپا ہوتاہے ووٹ کے غلط استعمال نے اس ملک میں گزشتہ ستر سالو ں سے جو تباہی و بربادی پھیلارکھی ہے وہ آپ سب کے سامنے موجودہے آج اس ملک میں تمام تر ادارے موجود ہونے کے باوجود اس ملک کی عوام اس کے ثمرات سے صرف اس لیے ہی محروم ہے کہ ہم اپنے حلقوں سے ایسے شخص کا انتخاب کرتے ہیں جو کسی بھی لحاظ سے ایماندار یا دیانتدار نہیں ہوتااور یہ ہی شخص کامیاب ہو کر آگے چل کر اپنے ہی جیسے لوگوں کا انتخاب کرتاہے جو اس ملک کے مختلف عوامی اداروں میں بیٹھ کر عوام کا خون چوستے ہیں ،اور یہ تمام تر تباہی اس وقت ہی شروع ہوتی ہے جب ہم کسی نااہل آدمی کو اپنا قیمتی ووٹ سونپ بیٹھتے ہیں،جودینی اور دنیاوی دونوں ہی لحاظ سے سخت گناہ بھی ہے کہ ہم بغیر کوئی سوچے سمجھے اور کسی غفلت کے تحت اس عظیم گناہ کو کربیٹھتے ہیں جس کے برے اثرات ہمارے گھروں اور نسلوں کو بھگتنا پڑتے ہیں ،بھلا ہم امن کے دشمنوں سے امن کس طرح سے مانگ سکتے ہیں ؟،ہم کس طرح سے لوٹ مار کے شوقین افراد سے اپنی اور اس ملک کی خوشحالی کی توقع کرسکتے ہیں؟ ہم کس طرح سے ان بے رحم حکمرانوں سے یہ توقع کرلیں کہ یہ لوگ ہمارے بچوں کے مستقبل کے لیے اچھا سوچ سکتے ہیں؟ ،اس ملک کی وہ سیاسی جماعتیں جنھوں نے ماضی میں اکیلے یا مختلف جماعتوں کے اتحاد سے حکمرانیاں کی وہ سب کی سب اس ملک کی تباہی و بربادی کی ذمہ دار ہیں مگر اس کا شریک اس ملک کا وہ ووٹر بھی ہے جس نے اپنا ووٹ دیکر اسے کامیاب کروایا تھا۔ پاکستان پیپلزپارٹی نے روٹی کپڑااور مکان کا نعرہ لگاکر عوام کے سروں سے چھت اور ان کے جسموں سے کپڑے تک نوچ ڈالے مسلم لیگ نواز نے ہر دور میں اپنوں کو نوازا اور ہر دور میں اپنوں سے ہی چوٹ کھائی ان تمام تر صورتحال میں نقصان صرف اور صرف غریب عوام کا ہو اور یہ لوگ آج پھر سے ووٹ کو عزت دو کا نعرلگاکر یہ تاثر پھیلارہے ہیں کہ غریب عوام کے ساتھ ہونے والی زیادتی صرف اس وجہ سے ہے کہ ان کی حکومتوں کے ساتھ انصاف نہیں ہوا،اس طرح یہ لوگ ایک سازش کے تحت ایک طرف عوام کو اداروں سے ٹکرانے کا مشورہ دے رہے ہیں تو دوسری جانب ایک بار پھر سے انتخابات میںعوام سے ووٹ لینے کی جانب اس نعرے کو انتخابی مہم کے لیے استعمال کررہے ہیں ۔اس ملک میں چاروں طرف پریشانیوں کے ڈیرے ہیں اگر خوشحالی ہے تو ان لوگوں کے گھروں میں جو یا تو حکمران ہیں یا پھر ان کے چمچے ہیںاس تمام تر صورتحا ل میں آج ہم دیکھتے ہیں کہ کوئی بھی جماعت خود کوکسی سے کم سمجھنے کو تیار نہیں،اور حکمران جماعت کے نمائندوں کا تو خیال ہے کہ قائد اعظم نے توانہیں ایک آزاد ملک ہی دیا تھا مگر ہم نے تو اس ملک میں دودھ کی نہریں بہادی ہیں ۔ عوام کی خدمت کے دعوے دار آج بازاروں اور گلیوں میں عوام کے مسائل معلوم کررہے ہیں، آج غریبوں سے ایک بار پھر سے بڑے بڑے وعدے کیئے جارہے ہیں کسی نے ہنس کر کہہ دیا کہ ووٹ آپ ہی کا ہے تو خوش ہوگئے ووٹوں کا سن کر خوش ہونے والے بہت سے امیدوار ایسے بھی ہیں جنھیں منتخب ایوانوں میں ایک پل کے لیے بھی اس عوام کی خوشی کا خیال نہیں آیا،آج یہ ایک عام آدمی کی حیثیت سے چھوٹے چھوٹے ڈھابوں پر غریب عوام کے ساتھ چائے کی باریک باریک چسکیاں لیتے دکھائی دے رہے ہیں ، وہ لوگ جو اپنے دور اقتدار میں گھر یا آفس کے باہر کھڑے میدے یاشیدے کا نام سن کر کہتے تھے کہ ان کو کہہ دو کہ میں گھر پر موجود نہیں ہوں !آج یہ ہی لوگ خود ان غریبوں کے گھرو ں پر تشریف فرما ہیں اور اس شیدے کے مسائل سنتے ہوئے اس قدر سنجیدہ ہوتے ہیں کہ ماتھے پر پڑے وٹ صاف دکھائی دیتے ہیں ، یہ اس ملک کے عوام کی بدقسمتی ہے کہ وہ ان نیوزچینلوں پرآنے والے امیدواروں کو انتخابات کے دنوں میں اپنے قریب پاکر سارے دکھوں کو بھول جاتے ہیں، اوریہ بھول جاتے ہیں کہ ان امیدواروں کے دور حکومت میں کس طرح سے اس کا بچہ ایمرجنسی کے باہر بروقت طبی امداد نہ ہونے پر دم توڑگیا تھا ،آخریہ عوام کیوں بھول جاتے ہیں کہ جس بیٹے کو انہوں نے اپنا خون پلاپلا کر پڑھایا لکھایاوہ نوکری نہ ملنے کے باعث آج سبزی کی ریڑھی لیے گلیوں میں آوازیں لگارہا ہے،آخر اس عوام کو کون سمجھائے کہ ان نام نہاد حکمرانوں کو پہچانے جن چہروں کے پیچھے کس کس رنگ کا فرعون چھپا بیٹھا ہواہے، ان غریبوں کی گفتگو سن کر پریشان ہونے والوں سے کیوں نہیں پوچھا جاتا کہ وہ ان کے پاس پانچ سال قبل بھی آئے تھے اور ان سے بہت سے وعدے بھی کیئے گئے تھے اور جاتے جاتے تو وہ اس کے ایم بی پاس بیٹے کی سی وی بھی ساتھ لے گئے تھے تو پھر کیا بنااس سی وی کا؟آخر کب وہ دن آئیگا جب اس ملک کی عوام کی مقدر میں صاف پانی ہوگا ایک اچھا روزگار ہوگا آخرکب وہ دن آئیگا جب ایک غریب اپنی معذور اور بیمار بیوی کو چارپائی پر گھسیٹ کر ہسپتال لیکر نہیں جائے گا،لیکن اس سے پہلے جانوروں کے گھاٹ پر پانی پینے والے غریبوںکو اپنے ووٹ کی طاقت کو سمجھنا ہوگا ، جب تک غریب عوام اپنے ووٹوں کی قدر کو نہیں سمجھے گی اس کی تقدیر کبھی نہیں بدلے گی ،ان غریبوں کو پانچ سال بعد ووٹ کے لیے پھر سے آنے والے بہروپیوں کو پہچاننا ہوگا کیونکہ یہ ہی تو وہ لوگ ہیں جو تمھارے بچوں کے قاتل ہیں جو ہردور میں دولت اور اقتدار کی ہوس میں دہشت گردوں کے ہاتھوں میں بکتے رہے یادکرواس ماں کو جس کا بچہ اس روز بغیر ناشتے کے اسکول چلاگیااور ماں نے اس دن اس لیے مزیدار کھانے بنائے کہ آج اس کے بیٹے نے اسکول جانے سے قبل کچھ نہ کھایا تھا، مگر یہ کیا اس ماں کا لخت جگر جب گھر کو لوٹا تو خون میں لت پت تھا ،اس کا لخت جگر اور اس کا قوم ہونہار طالب علم دہشت گردی کا نشانہ بن چکاتھا، پہچانوں ان حکمرانوں کو اور ان کے نام نہاد نمائندوں کو جو دولت اور اقتدار کی ہوس میں ہماری سرحدوں کو کمزور کرتے رہے جنھوں نے ہمیشہ دولت بنانے اور اپنی عیاشیوں پر توجہ دی جن کی بچے لندن اور امریکا کے اسکولوں میں پڑھتے رہے اوراس ملک میں غریب بچوں کا اسکول دہشت گردوں کے نشانہ بنتا رہا ،آخر کب پوچھو گے ان سے کہ تم نے ہمارے لیے کیا کیا؟ ۔ کیا اس عوام کو بھولنے کی بیماری ہے اگر نہیںتو اپنے زخموں کو تازہ کرلومت دو ایسے بے رحم امیدواروں کو اپنے قیمتی ووٹ، کیونکہ یہ لوگ پھر سے تمھارے ہنستے بستے گھروں کو اجاڑ دینگے۔ بلکہ تمھارے ارد گرد بہت سے ایسے لوگ بھی ہیں جو ایماندار بھی ہیں اور عوام کے لیے کچھ کرجانے کا جزبہ بھی رکھتے ہیں ہمیں ایسے لوگوں کو مظبوط کرنا ہوگا جن کے دلوں میں خوف خدا بھی ہے اور عوام سے محبت بھی ،اگر ہم ایماندار نوجوانوں کو ایوانوں میں لیکر آئینگے توہم اپنی نسلوں پراحسان کرینگے کیونکہ یہ ووٹ ایک امانت ہے جسکا اللہ کے ہاں ہمیں جواب دینا ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں