عید کی خوشیاں اور غریب کی حسرت بھری نگاہیں۔۔۔تحریر :عبدالغنی شہزاد

 محترم قارئین مصروفیات کے باعث کافی عرصہ سے کالم لکھنے اور مختلف امور پر تجزیہ و تبصرہ کا موقع میسر نہ ہوسکا لیکن عید کی خوشیوں کے جھرمٹ میں ان غریب اور لاچار انسانوں کی حسرت بھری نگاہوں کا تذکرہ نہ کرنا ایک باضمیر لکھاری کیلئے مشکل ہے پاکستان سمیت پوری دنیا میں ہزاروں تنظیمیں غربت کے خاتمے کے نام پر سٹارز ہوٹلوں میں عیاشیوں میں ڈوبی ہوئی ہیں اور غریب کے نحیف جسم پر پاوں رکھ کر اپنی معاشی زندگی کے محل تعمیر کرنے میں صرف کاغذی کارروائی اور فوٹو سیشن تک محدود ہیں۔ آج سے کئی سال قبل کی رپوٹ ہے ۔حکومت پاکستان کی جانب سے جاری اعداد و شمار کے مطابق پہلے ملک میں آبادی کے لحاظ سے ہر 10 میں سے ایک شخص غریب تھا اور اب یہ تعداد بڑھ کر 3 ہو چکی ہے۔ وزارت منصوبہ بندی اور مالیات کی جانب سے بین الاقوامی ترقیاتی اداروں کی موجودگی میں تیار کردہ رپورٹ کے مطابق پاکستان میں خط غربت سے نیچے رہنے والے افراد کی تعداد میں ایک دم حیران کن اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ ملک میں غریب افراد کی تعداد 2 کروڑ سے بڑھ کر 5 کروڑ 90 لاکھ تک پہنچ چکی ہے۔
آج پاکستان میں لاکھوں نہیں کروڑوں غریب، یتیم ،معصوم بچے سکول جانے اور کھیلنے گودنے کی عمر میں انتہائی سخت قسم کی مزدوری کرتے ہیں۔6 سے 14 سال کے یہ معصوم پھول ہوٹلوں ،ورکشاپوں ،شاپنگ پلازوں ،امرا کے گھروں ،سڑکوں ،زیرتعمیر عمارتوں پر مزدوری کرتے ہیں اور کئی لاکھ بچے بھیک بھی مانگتے ہیں۔حکمرانوں کے بلند و بانگ دعوے، بڑکیں اور بہت سی این جی اوز جو بچوں کے حقوق کی دعویدار ہیں نیند کی گولی کھاکر گہری نیند سوجاتے ہیں جبکہ یہ مزدور بچے کسی پارک یافٹ پاتھ پر بغیر نیند کی گولی کھائے مردوں کی طرح سوجاتے ہیں۔ لیکن کسی کو احساس تک نہیں ہے دوسری طرف پورے ملک میں عید کی خوشیاں منائی جارہی ہیں اور شاپنگ کے نام پر فضول خرچیوں کا بازار گرم ہے دوسری طرف ملک کے طول وعرض میں بہت بڑی تعداد ان غرباءکی ہے جن کی پریشانی بڑھ رہی ہے کیونکہ عید ان کو ستانے آرہی ہے .اس موقع پرہماری کیا ذمہ داری بنتی ہے ؟اسلامی تعلیمات کیا ہیں ؟ اس سلسلے میں قارئین کرام چند باتیں ضرور ملاحظہ فرمائیں !اللہ تعالیٰ نے آپ کو مال دیا ہے تو اس کی اتنی نمائش نہ کریں کہ غریبوں کے لئے زندہ رہنا مشکل ہوجائے۔ بہت قیمتی چیزیں اپنے بچوں پر نہ لا دیں۔ بانٹ کر کھائیں اور ارد گرد کے ماحول پر نظر رکھیں اور تو اور کسی غریب کے گھر کے سامنے گوشت کی ہڈیاں اور پھلوں کے چھلکے تک نہ ڈالیں کہیں ایسا نہ ہو کہ اس کے بچے بھی گوشت اور پھل مانگنے لگیں اور وہ بے چارہ غم کے آنسو پی کر جلتا رہے۔اللہ تعالیٰ نے جن کو غریب بنایا ہے وہ مالداروں سے افضل ہیں وہ مالداروں سے پہلے جنت میں داخل ہوں گے اور وہ انبیائ علیہم السلام کے طریقے پر ہیں وہ اپنی آنکھوں میں لالچ، محرومی اور سوال کی ذلت نہ بھریں۔ اپنے سر پر قناعت کا تاج رکھیں عید کے دن نئے کپڑے بالکل ضروری نہیں ہیں۔ بچوں کے لئے نئے جوتے ہرگز ہرگز ضروری نہیں ہیں اس لیے ان چیزوں کا غم نہ کھائیں اور نہ اپنے دل میں اللہ تعالیٰ سے شکوہ لائیں۔ پیوند لگے کپڑوں میں جو عزت اور شان ہے وہ ریشم کے لباس میں نہیں ہے کسی کو اس بات پر نہ کوسیں کہ وہ ہمیں کیوں نہیں دیتا اور نہ اپنے بیوی بچوں کو کسی کے مال پر نظر کرنے دیں۔ قناعت اور استغنا کا تاج پہنیں اور قبر کی مٹی کو یاد رکھیں۔ رب کعبہ کی قسم دنیا انہیں لوگوں کو ستاتی ہے جو موت اور قبر کو بھول جاتے ہیں اور جو لوگ موت اور قبر کو یاد رکھتے ہیں یہ دنیا ان کے قدموں پر گرتی ہے۔ عید کا ایک دن بھی گزر جائے گا چاروں طرف دنیا کے میلے دیکھ کر اپنی غریبی اور فقیری کو داغدار نہ ہونے دیں۔
ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ عید کے دن نبی کریم ﷺمسجد جارہے تھے کہ راستے میں کچھ ایسے بچوں کوکھیلتے دیکھا جنہوں نے اچھے کپڑے پہنے ہوئے تھے۔بچوں سے سلام دعاکے بعدآپﷺآگے تشریف لے گئے تووہاں ایک بچے کواداس بیٹھے دیکھا۔آپﷺ نے اس کے قریب جا کرپوچھا تم کیوں اداس اور پریشان ہو؟اس نے روتے ہوئے جواب دیا۔اے اللہ کے رسولﷺمیں یتیم ہوں میراباپ نہیں ہے،جومیرے لئے نئے کپڑے خریدتا،میری ماں نہیں ہے جو مجھے نہلاکر نئے کپڑے پہنادیتی اس لئے میں یہاں اکیلا اداس بیٹھا ہوں۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم اسے لے کر اپنے گھر تشریف لے گئے اور ام المومنین سیدہ عائشہؓ سے فرمایا ”اس بچے کو نہلا دو”اتنے میں آپﷺ نے اپنی مبارک چادر کے دو ٹکڑے کردیے۔چادر کا ایک ٹکڑا شلوار کی طرح باندھ دیا اور دوسرا اس کے بدن پر لپیٹ دیاگیا۔بچہ جب نہلاکر نئے کپڑے پہن کر تیار ہوگیا تو آپﷺ نے بچے سے فرمایا آج تو پیدل چل کر مسجد نہیں جائے گابلکہ میرے کندھوں پرسوار ہوکر جائے گا،آپﷺ نے یتیم بچے کو اپنے کندھوں پر سوار کرلیا اور مسجد کی طرف روانہ ہوگئے راستے میں وہ مقام آیا جہاں بچے نئے کپڑے پہنے کھیل رہے تھے جب ان بچوں نے دیکھا وہ یتیم بچہ جو اکیلا اداس بیٹھا تھا رحمت دوعالم حضرت محمدﷺ کی کندھوں سوار ہے تو کچھ کے دلوں میں خیال گزرا کہ کاش وہ بھی یتیم ہوتے تو آج نبی کریمﷺ کے کندھوں کی سواری کرتے۔یہاں تک کہ سرکار دوعالمﷺ نے اس بچے کو اپنے ساتھ ممبر پر بٹھایا اور فرمایا جو شخص یتیم کی کفالت کرے گااور محبت سے اس کے سر پر ہاتھ پیرے گا،اس کے ہاتھ کے نیچے جتنے بال آئیں گے اللہ تعالیٰ اس کے نامہ اعمال میں میں اتنی ہی نیکیاں لکھ دے گا۔ہمیں بھی نبی کریمﷺ کی پیروی کرتے ہوئے عید کے موقع پر اپنے ارد گرد بسنے والے غریب،یتیم بچوں کے سر پر ہاتھ رکھنا چاہئے تاکہ ان کی بھی عید ہوجائے اور ہمیں کل روز قیامت آپﷺکے سامنے شرمندہ نہ ہونا پڑے آخر میں راقم کی طرف سے تمام اہل وطن کو دلی عید مبارک۔عید سب کے لئے خوشیوں کا پیغام لاتی ہے لیکن پاکستان کے غریب طبقے کے لئے ”خودکشیوں”کا پیغام ہوتا ہے۔مہنگائی نے غریبوں کے علاوہ سفید پوش یعنی مڈل کلاس طبقے کو بھی متاثر کردیا ہے اب عید کی شاپنگ متوسط طبقے کی دسترس سے بھی باہر ہوگئی ہے تو وہاں نچلے طبقے کے غریب کی حالت کیسی ہوگی۔ایگزیکٹو فیملیز تو محلات میں عید کی خوشیاں مناتے ہیں اور ساتھ میں عید کی عبادت کو غیر شرعی افعال کے ذریعے ضائع کردیتے ہیں اور لاکھوں روپے ضاو کرتے ہیں اگر ان پیسوں کو معاشرے میں استعمال کرتے تو غریبوں کے بچوں کو خوشیاں نصیب ہوجاتیں۔عید الفطر جہاں خوشیوں کا پیغام لاتی ہے اس کے ساتھ عید کے اصل مقاصد معاشرتی ہم آہنگی،رواداری اور غریب،امیر کے فرق کو ختم کرنا ہے لیکن ہم ان مقاصد کو بھول جاتے ہیں۔اس وقت وطن عزیز کی حالت ابتر ہوچکی ہے اور غریب،غریب تر ہوتا جا رہا ہے۔عید ہمارے سماجی فرق کو ختم کرنے کا بہترین ذریعہ ہے۔ ہمیں اپنے بچوں کے ساتھ ساتھ غریب کے بچوں اک بھی خاص خیال رکھنا ہوگا۔جہاں آپ اپنے پانچ بچوں کے لئے نئے سوٹ،شوز خرید تے ہیں اس کے ساتھ ایک غریب بچے کے لئے بھی وہی چیزیں خریدکے جائیں جس سے آپ کے بچوں کی بھی خوشی دوبالا ہوگی اور غریبوں کی دعاو?ں کے بھی مستحق ہونگے۔عید کی خوشی وہ اچھی لگتی ہے جب معاشرے میں سب انسان برابری کی بنیا دپر خوشیان منا رہے ہوں لیکن صرف اپنے بچوں کے لئے ہزاروں لاکھوں کی کی شاپنگ ہوجاتی ہے عید کے دن کافی ایسے غریب بچے نظر آرہے ہوتے ہیں جن کے پھٹے پرانے کپڑے ان کی غریبی کی داستان بیان کر رہے ہوتے ہیں۔ایک روایت سنیے حضرت وہب بن منبہ فرماتے ہیں کہ جب بھی عید آتی ہے تو شیطان چلا چلا کر روتا ہے اس کی بد حواسی اور آہ وزاری دیکھ دیگر شیطان اس کے ارد گرد جمع ہوکر اس کے رونے کا سبب پوچھتے ہیں تو وہ جواب دیتا ہے کہ افسوس آج کے دن اللہ نے امت محمدیہ کو بخش دیاہے۔ لہٰذا تم انہیں لغویات اور خرافات میں مشغول کردو۔ اس سے اندازہ لگائیے کہ عید الفطر جو حقیقت میں انعام الٰہی ہے اس پر ہم کو شکریہ ادا کرنا چاہیے اور لہو و لعب سے کو سوں دور رہنا چاہیے۔ عید الفطر کے دن غرباو مساکین کی امداد و تعاون کرنا، بیماروں کی مزاج پرسی کرنا، دوستوں سے اظہار محبت کرنا۔
اپنے سے کمتروں اور زیر دستوں کا خیال کرنا، بچوں سے شفقت و نرمی سے پیش آنا، بڑوں کی تعظیم کرنا، نرمی، رواداری اور بھائی چاری کا رویہ اپنا نا یہ سب ہماری دینی اور اخلاقی ذمے داریاں ہیں جن سے عہدہ برآہو کرہم اپنا دامن نہیں جھاڑ سکتے۔ عام طور سے مسلمان عید کی خوشی منانے کے لیے اپنے گھروالوں اور بچوں کے لیے طرح طرح کے سامان خرید تے ہیں بلاشبہ بچوں اور گھر والوں کو خوش رکھنا کار ثواب ہے مگر اکثر یہ بھی مشاہدے میں آیا ہے کہ یہ خرید اری فضول خرچی کے زمرے میں آجاتی ہے اگر ہم تھوڑی سی کفایت شعاری سے کام لیں۔اور غریب بچوں کو بھی اپنی اس خریداری میں شامل کرلیں اور ان کو اپنے بچے سمجھ کر ان کے لیے کچھ نہ کچھ خرید لیں تو یقینا یہ ایک بہت بڑا کار ثواب ہو گا یہ ایک عظیم دینی، سماجی اور اخلاقی ذمے داری کو پورا کرنا ہوگا۔ اس کے جو نتائج برآمد ہوں گے وہ معاشرے میں ایک مثبت اثر چھوڑیں گے۔ اجتماعی طور پر نہ ہوسکے تو انفرادی طور پر ہی سہی اگر مسلمان اس سمت کمر ہمت کس لیں تو معاشرے میں یقیناایک عظیم انقلاب برپا کیا جاسکے گا۔
دوسرے مذاہب یا دورِ جاہلیت کے تہوار اور مسلمانوں کی عید میں یہ ایک نمایاں فرق ہے کہ اسلام میں عید کا مطلب اللہ کی قربت، اس کا ذکر اور اس کی بڑائی بیان کرنا ہے۔ خدا نے ماہِ رمضان کے مبارک روزے رکھنے کے بعد عید جیسی عظیم خوشی عطا کی اس کے شکر میں دوگان عید ادا کرنا، نیز روزہ رکھنے پر اور اس بات پر کہ خدا نے اس لائق بنایا کہ میں عید کی اِس خوشی کو حاصل کرسکوں، خدا اور اس کے رسول کے حکم کو بجالاتے ہوئے کھلے دل کے ساتھ صدقہ فطر ادا کرنا، تاکہ دوسرے غریب ومسکین مسلمان بھی ہمارے ساتھ عید کی خوشیوں میں شریک ہوجائیں۔ عید کا مطلب ہی یہی ہے کہ ہمارے قلوب آپس میں ا±س کی برکت سے محبت کرنے لگیں، ہمارے درمیان جو جدائی اور دوری پیدا ہوگئی ہے وہ ختم ہوجائے، دل میں جو کدورت ہے، اس کا نام ونشان بھی باقی نہ رہے، نیز عید کی خوشی ہر گھر اور ہر کوچہ میں پہنچ جائے، اور ہر اہلِ خانہ پر اِس کی خوشی عام ہوجائے، اسی لیے اسلام میں اس موقع پر صدقہ فطر ادا کرنے کا بھی حکم ہے۔ اللہ تعالی ہم سب کو غریبوں کی مدد کرنے کی توفیق عطاءکرے آمین۔

اپنا تبصرہ بھیجیں