ایمان افروز معرکہ بدر…تحریر: رانا اعجاز حسین چوہان

حق و باطل کے درمیان ایمان افروز معرکہ بدر کی یاد آج صدیوں بعد بھی مسلمانوں کے ایمان کو تازہ کردیتی ہے، اس عظیم غزوہ کے ذریعے حق و باطل، کفر و شرک کے درمیان امتیاز واضع ہوا ، اور اس غزوہ نے دنیا پر ثابت کردیا کہ فتح و کامرانی کا راز سامان و وسائل کی فراوانی نہیں ،بلکہ جذبہ اور ایمان سب سے بڑی قوت ہے۔ بدر ایک بیضوی شکل کے میدان کا نام ہے جو پہاڑوں سے گھرا ہوا ہے۔ یہ میدان مدینہ منورہ سے اسّی میل کی دوری پر وادی یلیل میں ہے، اس کی لمبائی ساڑھے پانچ میل اور چوڑائی ساڑھے چار میل ہے۔ دور رسالت مآب صلی اللہ علیہ و سلم میں تجارتی شاہراہ اسی میدان سے ہوکر گزرتی ،مکہ اور مدینہ جانے کے راستے بھی اسی مقام پر ملتے تھے ۔ بحر احمر کا ساحل یہاں سے تقریباًدس میل کے فاصلہ پر ہے۔ اس میدان کے شمال اور جنوب میں دو سفیدی مائل پہاڑیاں ہیں ، جو ریت سے ڈھکی ہوئی ہیں۔ بدر کے اس مقام کو آج جو اہمیت حاصل ہے اس کی وجہ حق اور باطل کا وہ معرکہ ہے جو 02ھ میں رمضان المبارک کی سترہ تاریخ کوپیش آیا، جس میں حق کو بے مثال تاریخی فتح نصیب ہوئی اور باطل کو شرم ناک شکست کامنہ دیکھنا پڑا۔ اس معرکے ہی سے اسلام کی فتح و نصرت کا آغاز ہوا، اسلام پوری آب وتاب سے ظاہر ہونا شروع ہوا ۔اس طرح غزوہ بدرایک عظیم انقلاب کی بنیاد ثابت ہوا۔ اس غزوہ کے دن کو ”یوم الفرقان” بھی کہتے ہیں۔

غزوہ بدر کا پس منظر سمجھنے کے لیے ضروری ہے کہ تاریخ کے حوالے سے طلوعِ اسلام کی تحریک کا اجمالی جائزہ لیا جائے۔ جب نبی حق محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے ڈنکے کی چوٹ پر دین اسلام کی دعوت کا اعلان کیاتو مکہ میں دو گروہ پیدا ہوئے۔پہلی جماعت ان لوگوں کی تھی جنہون نے دین اسلام قبول کیا، یہ تعداد میں تھوڑے تھے۔ دوسرا گروپ ان لوگوں کا تھا جنہوں نے دین اسلام کو ماننے سے انکار کیا، یہ تعداد میں زیادہ تھے۔ یہ دین اسلام کی مخالفت پر کمر بستہ ہوگئے۔نتیجہ یہ نکلا کہ منکرین اسلام نے مسلمانوں پر جبر و تشدد اور ظلم وستم کے پہاڑ توڑنا شروع کیے۔ ایک طرف صبر و تحمل تھا اور دوسری طرف زور و جبر تھا۔یہ کشمکش تیرہ سال تک جاری رہی۔آخر کار مسلمانوں پر سرزمین مکہ تنگ سے تنگ تر ہوتی چلی گئی، تب وہ آہستہ آہستہ اور خاموشی سے مدینہ کی جانب ہجرت پر مجبور ہوئے، یہاں تک کہ آخر میں محمد رسول ا للہ صلی اللہ علیہ و سلم نے بھی حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے ہمراہ مکہ کو خیر باد کہا اور مدینے کو آباد کیا۔ مکہ کے قریشیوں نے اب خانماںبرباد تارکیں وطن کو مدینے میں بھی چین اور سکھ سے رہنے نہیں دیا۔ ہوا یوں کہ ہجرت کے دوسرے سال قریش کا ایک بہت بڑا تجارتی قافلہ شام سے مکہ کی طرف لوٹ رہا تھا ۔اس تجارتی قافلے کے ساتھ پچاس ہزار اشرفیوں کا مال و اسباب تھا۔ مکہ کے ہر فرد نے اور ہر عورت نے اس تجارت میں اپنا سرمایہ لگایا ہوا تھا۔

یہ تجارتی قافلہ اس راستے سے لوٹ رہا تھا،جو مدینہ کے پاس سے ہوکر گزرتا تھا۔ چونکہ مال و اسباب زیادہ تھا ، محافظ کم تھے اور اس وقت جو حالات رونما ہورہے تھے ، اس کے تحت قافلے کے لوگوں کو یہ ڈر تھا کہ مسلمان کہیں چھاپہ مار کر تجارتی مال واسباب لوٹ نہ لیں۔ ابوسفیان اس تجارتی قافلے کاسردار اور رہنما تھا جو مدینہ کے پاس سے گزر رہا تھا ، اس نے حکمت عملی سے کام لیتے ہوئے قافلے کو بدر کے درّے میںسے گزرنے سے پہلے ایک مقام پر ٹھہرادیا اور خود تن تنہا بدر کے شہر میں آیا، چونکہ وہ یہاں سے اکثر گزرا کرتا اس لیے وہ یہاں کے چپے چپے سے واقف تھا اور لوگوں کو بھی جانتا تھا۔ بدر کے شہر میں آکر وہ سب سے پہلے اس مقام پر پہنچا، جہاں ایک کنواں تھا۔ شہر کا کوئی نہ کوئی فرد ہر وقت وہاں موجود رہتا۔ وہاں موجود افراد سے معلوم کیا کہ شہر کا سردار اس وقت کہاں ملے گا،وہ سردار سے جاکر ملا،اس نے خبردی کہ ابھی کچھ دیر پہلے دو اونٹ سوار یہاں سے گزرے ، انہوں نے کنویں پر ٹھہرکر پانی پیا،اپنے اونٹوں کو بھی پلایا اور آگے بڑھ گئے۔ او سفیان اونٹوں کے قدموں کے نشان ڈھونڈتا ہوا آگے بڑھا۔ کچھ دور چلنے کے بعد اسے اونٹوں کی تازہ لید نظر آئی۔

اس نے لید کا ایک گولا اٹھایا ،اسے توڑا اس میں گھاس کی بجائے گھجو ر کی گٹھلیاں نظر آئیں۔ وہ سمجھ گیا کہ یہ اونٹ بدر کے نہیں بلکہ مدینہ کے ہیں، کیوں کہ مدینے والے اپنے اونٹوں کو گھاس کی بجائے کھجور کی گٹھلیاں کھلاتے ہیں۔اس نشاندہی پر وہ سمجھ گیاکہ مدینہ کے مسلم ان کے تعاقب میں ہیں، اور انہیں ڈھونڈ رہے ہیں۔ اس نے خطرے کی گھنٹی محسوس کی۔اور تیزی سے بھاگتا ہوا اپنے قافلے میں جا پہنچا۔ ایک برق رفتار سانڈنی بردار کو اُجرت دی،اسے مکہ کی طرف دوڑایا تاکہ اہل قریش مدد کو پہنچیں۔ ابو سفیان سانڈنی سوار کو مکہ کی طرف روانہ کرنے کے بعد قافلے کو بحر احمر کے کنارے کنارے ایک منزل کی بجائے دو منزل طے کرتا ہوا مکہ کی سمت کوچ کیا،اور اپنے تئیں قافلے کو مسلمانوں کی دسترس سے صاف نکال لایا۔ یہاں سانڈنی سوار نے مکہ پہنچتے ہی عرب کے قدیم دستور کے مطابق سانڈنی کے کان کاٹے، ناک چیری، کجاوا الٹا، اپنا کرتا اگے سے پھاڑا اور بین کرنے لگا ”اے قریش کے لوگو! اے مکہ کے باسیو! اپنے تجارتی قافلے کی خبر لو، تمہارا تجارتی قافلہ مال و اسباب جو ابو سفیان کے قیادت میں آرہا ہے مقام بدر پر مسلمانوں کی زد میں ہے۔ وہ کسی بھی وقت اسے لوٹ سکتے ہیں۔مجھے ڈر ہے کہ اس مال و اسباب میں سے تمہارے ہاتھ کچھ بھی نہ آئے۔”

پورے مکہ میں یہ خبر جنگل کی آگ کی طرح پھیلی، لہٰذا طے ہوا کہ جنگ کا طبل بجایا جائے اور اہل مسلمان کو ایسا سبق سکھایا جائے، جسے وہ زندگی بھر یاد رکھیں۔ لہٰذا ایک ہزاربہادروں کا لشکر تیار کیا گیا ،جس کا سپہ سالار عتبہ بن ربیع تھا ۔ اس فوج میں چھ سو افراد زرہ پوش تھے، سو واروں کا ایک رسالہ تھا یہ اسلحہ بند شتر سوار تھے۔ہتھیاروں سے لیس گھڑ سواروں کی تعداد دوسو تھی ۔اور ہتھیاروں سے لیس پیادہ فوج کی تعداد سو تھی۔ کھانے پینے کی وافر چیزیں ساتھ لی گئیں ۔ امرائے قریش میں سے عتبہ بن ربیع ، حارث بن عامر ،نصر بن الحارث،ابو جہل،امیہ بن خلف باری باری روزانہ دس دس اونٹ زبح کرتے اور اپنے ساتھیوں کی ضیافت کرتے۔دل بہلانے کا ساز و سامان ہمراہ تھا ۔ رات میں عیش و طرب کی محفلیں سجتیں ۔ غرض اہل قریش کا یہ لشکر بڑے طمطراق سے مدینہ کی طرف روانہ ہونے کے لیے تیار ہوا تاکہ تجارتی قافلے کو مسلمانوں سے بچا کر لایا جا سکے اورمسلمانوں سے دو دو ہاتھ بھی ہو جائیں اور انہیں سبق بھی سکھایا جائے۔فوج کی روانگی کے وقت دشمنان اسلام نے جن میں ابو جہل بھی تھا ، کعبے کی دیوار پر ہاتھ رکھ کر دعا مانگی کہ ”اے رب کعبہ…! دونوں میں سے جو دین تجھے زیادہ پسند ہو، دونوں لشکروں میں سے جو لشکر عالیٰ ہو ،دونوں جماعتوں میں سے جو جماعت ذیادہ تقوے والی ہو اور دونوں گروہوں میںسے جو گروہ ذیادہ معزز ہو ،فتح کا سہرا اس کے سر باندھنا۔” اہل قریش یہ دعا مانگتے وقت یہ جان رہے تھے کہ وہ حق پر ہیں اور آپ صلی اللہ علیہ و سلم اور صحابہ کرام(نعوذبا للہ) حق پر نہیں ہیں۔ جبکہ وہ خود کفر اور شرک ،فسق و فجور میں مبتلا تھے۔
دشمنان اسلام کا فوجی قافلہ مکہ سے بدر کی جانب روانہ ہوا۔ ابھی قریش کا لشکر راستہ ہی میں تھا کہ دوسرے قاصد نے آکر خبر دی کہ ابو سفیان اپنے قافلے کو خطرے سے باہر نکالنے میں کامیاب ہوا اور وہ عنقریب باحفاظت مکہ پہنچ رہا ہے۔اس خبر سے لشکر قریش میںاختلاف پیدا ہوا ۔ایک گروہ کہہ رہا تھا کہ اب لڑنے مرنے سے کوئی فائدہ نہیں ،مکہ واپس لوٹ چلو۔ مگر دوسرا گروہ واپس لوٹنا نہیں چاہتا تھا۔ اس کی خواہش تھی کہ ہر حال میں مسلمانوں کا مقابلہ کیا جائے۔ان میں ابو جہل پیش پیش تھا ۔اس اختلاف کی وجہ سے بنی زہرہ ،بنی احنس، بنی عدی بن کعب ، اور بنی ہاشم کے لوگ واپس لوٹ گئے۔ اور ابو جہل، عتبہ ، امیہ بن خلف ،اور ان کے ہم خیال افراد مدینے کے مہاجرین و انصار کا زور توڑنے کے لیے بدر کی جانب بڑھے، اب ان کی تعداد نو سو پچاس تھی۔

نبی برحق محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم حالات سے ہر وقت با خبر رہتے ۔ آپ صلی اللہ علیہ و سلم کے علم میں یہ بات آچکی تھی کہ ابو سفیان کا قافلہ مدینے کے پاس سے گزر رہا ہے ۔اور اس قافلے کی مدد کے لیے اہل قریش کی مسلح افواج مدینے کی طرف روانہ ہوچکی ہے۔ یہ مدافعت کاوقت تھا،اپنادفاع کرناتھا۔ مدینے کے لوگوں کی جان ،مال واسباب، عزت آبرو، کی حفاظت کرنی تھی۔ لہٰذا آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے مہاجرین اور انصار کو ایک جگہ جمع کیا اور ان کے سامنے صورتحال رکھی کہ ایک طرف اہل قریش کا تجارتی قافلہ ہے جس کے پاس کروڑہا روپے کا مال و اسباب ہے، جو مدینے کی راستے مکہ کی طرف جارہا ہے اور دوسری طرف دشمنان اسلام کی فوج جنوبی راستے سے مدینے کی طرف پیش قدمی کر رہی ہے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انصار اور مہاجرین سے مشورةً پوچھا کہ اس صورتحال سے ہمیں کس طرح نپٹنا چاہیے…؟

ایک گروہ کی رائے تھی کہ قافلے کے ساتھ کم لوگ ہیں ، مال واسباب زر کثیر کا ہے ،اس پر ہلّہ بول دیا جائے اور ان کا تجارتی مال واسباب لوٹا جائے۔ دوسرے گروہ کا خیا ل تھا کہ دشمنانِ اسلام کی فوج سے ٹکر لی جائے، ان کا زعم ہمیشہ ہمیشہ کے لیے خاک میں ملادیاجائے اور اس فتنے کو جڑ سے اکھاڑ کر پھینک دیا جائے ، آپ صلی اللہ علیہ و سلم کی بصیرت کا بھی یہی فیصلہ تھاکہ اہل مکہ کے کافروں اور مشرکوں سے جنگ کرکے ان کی طاقت توڑدی جائے اور سب سے بڑی اور اہم بات یہ تھی کہ اللہ تعالیٰ کی مشیت بھی یہی تھی کہ حق کوحق کے ساتھ ثابت کیا جائے اور اور کفر و شرک کو جڑ سے کاٹ کر پھینک دیا جائے تاکہ حق کی حقانیت ظاہر ہو اور باطل باطل کے ساتھ ثابت ہو جائے۔ لہٰذا اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم کے حتمی فیصلے اور دوسرے گروہ کے خیال کے مطابق اپنا دفاع کرنے کے لیے لگ بھگ تین سو مجاہدین کی فوج ترتیب دی گئی ۔ان میں سے صرف دو کے پاس گھوڑے تھے، کل ستر اونٹ تھے جن پر تین سو مجاہدین باری باری سوار ہوتے۔رسول اکرم محمد مصطفٰے صلی اللہ علیہ و سلم نے بذات خود اس فوج کی قیادت فرمائی۔ آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے اپنے جانثاروں کے ہمراہ رمضان کی سولہ تاریخ کو مدینہ منورہ سے بدر کی جانب کوچ فرمایا۔

دشمن آپ صلی اللہ علیہ و سلم سے پہلے وہاں پہنچ چکا تھا ۔ اس نے جگہ جگہ پڑاؤ ڈالا جو جنگی نقطہ نظر سے ذیادہ آہم تھی ، جہاں پانی کے کنوئیں تھے وہاں براجمان ہوگئے ۔ اس لیے آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے با حالت مجبوری کنوؤں کے شمال مشرقی سمت میں ایک اونچے ٹیلے پر قیام فرمایا۔ جانبازوں نے وہاں ایک جھونپڑی یاسائبان بنا دیا تاکہ آپ صلی اللہ علیہ و سلم بحیثیت سپہ سالار اعظم وہاں سے میدان جنگ کا مشاہدہ کرسکیں۔ حالات کا جائزہ لے سکیں اور وقتاً فوقتاً ہدایات جاری کر سکیں۔ سائبان کے پیچھے دو برق رفتار سانڈنیاں باندھی گئیں تاکہ خدانخواستہ میدان جنگ کا نقشہ پلٹ گیا تو اور اہل اسلام کو شکست کا منہ دیکھنا پڑا تو ایسے نازک موقع پر آپ صلی اللہ علیہ و سلم ان پر سوار ہوکر مدینہ منورہ مراجعت کرسکیں۔ سامنے نشیب میں کفاران مکہ، مشرکین قریش اور دشمنانِ اسلام کا پر شکوہ لشکر پڑاؤ ڈالے ہوئے تھا۔ ان کی تعداد ،جاہ و حشمت ، ساز وسامان دیکھ کر اور یہ دیکھ کر کہ پانی پر دشمنوں کا قبضہ ہے، یہ جان کر کہ زمین ریتلی ہے ، جس میں پاؤں دھنس دھنس جاتے ہیں ۔ یہ سوچ کر کہ دشمن کے پاس سواریاں ہیں اور اپنے پاس سواریاں ہیں مگر ناکافی،یہ سوچ کر کہ دشمن اسلحہ سے لیس ہے اور یہاںتلوار ہے تو ڈھال نہیں اور ڈھال ہے تو تلوار نہیں، ان عوامل کی وجہ سے مجاہدین کے حوصلے پست ہورہے تھے جو مدینہ منورہ سے نکلتے وقت یہ سوچ رہے تھے کہ انہیں زبر دستی موت کے منہ میں دھکیلا جا رہا ہے ۔ اب انہیں اپنی شکست اور موت اپنی آنکھوں کے سامنے دیکھائی دے رہی تھی۔ لہٰذا ان کی ڈھارس بندھانا ضروری تھا تاکہدشمن کا مقابلہ کرتے وقت وہ ثابت قدم رہیں۔نڈر اور بے خوف ہوکر دشمن کا مقابلہ کریں۔اللہ تعالیٰ نے ان کی ذہنی اور نفسیاتی کیفیت اس طرح تبدیل کی اور ان کی اس طرح اعانت فرمائی کہ اول رات میں بارش ہوئی ۔ اس سے فائدہ یہ ہوا کہ تمام مجاہدین نہائے دھوئے ، جس سے وہ چست، چاق وچوبند ہوئے۔ تھکن اور خوف کی وجہ سے ان پر کسل مندی طاری تھی وہ دھل گئی۔ بارش سے دوسرا فائدہ یہ ہوا کہ پانی کی قلت دور ہوئی۔مجاہدین نے چھوٹے چھوٹے حوض بنا کر بارش کا پانی جمع کیا تاکہ وقت ضرورت کام آئے۔ بارش سے تیسرا فائدہ یہ ہوا کہ ان کے پیروں کے نیچے کی ریت جم گئی ، جس سے ریت میں پیر دھنسنے کا خوف ان کے دلوں سے جاتا رہا۔ بارش سے چوتھا فائدہ یہ ہوا کہ دشمن نشیبی علاقے میں تھا ، اس لیے وہاں کیچڑ ہوگئی، جس سے ان کے سواروں اور سپاہیوں کے پاؤں زمین پر جم نہیں پارہے تھے۔ بارش سے پانچواں فائدہ یہ ہوا کہ مجاہدین رات میں بے خوف ہوکر سوگئے ،اور صبح جب نیند سے بیدار ہوئے تب ان کے قلوب پر سکون طاری تھا۔ بارش نے انہیں قلب کااطمنان بخشا۔اس کیفیت کی وجہ سے ان کے دلوں میںدشمنوں کاخوف جاتا رہا۔اس طرح یہ بارش مسلمانوں اور مومنوں کے لیے باعث رحمت اور کافروں کے لیے باعث زحمت ثابت ہوئی۔ غزوہ بدر میں اہل ایمان کی فتح کا ایک اہم ترین سبب یہ بارش تھی جس نے ان کے دلوں کے وسوسوں کو دھوڈالا، اس سے ان کی ہمتیں بندھیں اور دشمن کے مقابلے میں ثابت قدم رہے۔

اگر بدر میں بارش نہ ہوتی تو کیا ہوتا… ؟ تمام کرہ ارض کی ہدایت اور سعادت کا نقشہ الٹ جاتا…! جس کا اشارہ خاتم النبین حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا تھا کہ اللہ…!اگر خدام حق کی یہ چھوٹی سی جماعت ہلاک ہوگئی تو اس کراہ ارض پر تیرا سچا اطاعت گزار کوئی نہیں رہے گا۔ دراصل بدر میں جس رات بارش ہوئی اس سے پہلے سائباں میں اللہ کے رسول محمد صلی اللہ علیہ و سلم اللہ کے حضور سجدہ ریز ہوکر ، دین اسلام جو دین حق ہے ، کی بقاء کے لیے عجز و انکساری کے ساتھ گڑ گڑا کر ، رو رو کر دعا مانگ رہے تھے ، بہ وقت دعا محویت اور بے خودی کا یہ عالم تھا کہ کاندھوں پر سے چادر مبارک گرگر پڑتی اور آپ کو خبر تک نہ ہوتی۔آپ صلی اللہ علیہ و سلم کی اس دلی بے قراری پر یارِغار حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے دربار رسالت میں عرض کی یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم… ! اللہ تعالیٰ اپنا وعدہ وفا کر کے رہے گا، آپ خاطر جمع رکھیں ۔ اپنے بے قرار دل کو قرار دیں …!
آپ صلی اللہ علیہ و سلم دعا مانگ رہے تھے ” اے اللہ …! یہ قریش ، یہ با طلانِ حق کیل کانٹوں سے لیس ہوکر غرور و نخوت کے ساتھ یہاں آئے ہیں تاکہ تیرے رسول صلی اللہ علیہ و سلم کو جھوٹا ثابت کریں،اے اللہ …!تیری نام لیوا مٹھی بھر جماعت اگر اگر آج ہلاک ہوگئی تو روئے زمین پر تیرا اطاعت گزار اور عبادت گزار کوئی نہ ہوگا…!

اللہ تعالیٰ نے آپ صلی اللہ علیہ و سلم کی دعا کو اس طرح شرفِ قبولیت عطاء فرمایا کہ اس کے جواب میں بارش ہوئی جس نے فتح کو شکست میں اور شکست کو فتح میں تبدیل کیا۔اس کے علاوہ ایک ہزار ملکوتی طاقتیں بھیجنے کی بشارت دے کر مہاجرین اور انصار کی مٹھی بھر جماعت کی مدد کی۔ سورہ انفال کی آیت 65 میں اللہ تعالیٰ کا ارشاد گرامی ہے،اس کا اردو مفہوم یہ ہے کہ ”میدان جنگ میں اگر بیس مجاہدین ثابت قدم ہوں گے تو وہ دو سو کافروں پر غالب آسکتے ہیں۔” یعنی ایک مرد مجاہد تنہا بیس کافروں سے نبرد آزماہوسکتا ہے۔ غور کیجئے ، معلوم ہوگا کہ ثابت قدمی کا انحصار حوصلے پر ہے، حوصلے کا دارومدار طاقت پرہے اور قوت ایمانی وہ ملکوتی طاقت ہے جو جسم میں بجلی بھر دیتی ہے، حوصلہ بڑھاتی ہے ، ہمت بندھاتی ہے، جس میدا ن جنگ میں مرد مجاہد دشمن کے سامنے ڈٹ جاتاہے۔اس طرح ایک ایک مجاہد بیس بیس کافروں پر بھاری ہوتا ہے۔

اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ و سلم باہر تشریف لاتے ہیں فوج سے مخاطب ہوتے ہیں کہ تم اس وقت ساری دنیا میں اللہ تعالیٰ کی الوہیت اور اس کی وحدانیت کے ذمہ دار ہو ۔ آپ صلی اللہ علیہ و سلم کے اس خطاب سے ان کے دلوں میں ولولہ انگیز جذبہ پیدا ہوا کہ ہم ہی وہ واحد جماعت ہیں جو اس وقت اللہ تعالیٰ کی خاطر لڑ رہے ہیں ۔ باقی سب اللہ تعالیٰ کے دشمن ہیں ۔اس جوش اور ولولہ کے باعث ایک ایک آدمی کو ہزار ہزار آدمی کی قوت حاصل ہوئی اور وہ جان کی بازی لگانے پرآمادہ ہو گئے۔ ”

اس کی مثال غزوہ بدر کا ایک بے نظیر واقعہ ہے۔ ایک طرف طاقت اور قوت کا پہاڑ ابو جہل تھا، جس نے اپنے آپ کو زرّہ بکترمیںچھپا رکھا تھا۔ اس کی صرف دو آنکھیں نظر آتی تھیں۔ دوسری طرف عفرا کے دو کم عمر بیٹے معوذ اور معاذ تھے، جنہوں نے ابھی زندگی کی بہاریں نہیں دیکھی تھیں، جن کی مسیں ابھی بھیگی نہیں تھی۔ ابوجہل کے سامنے ان کی حیثیت بالکل ایسی تھی جیسے ہاتھی کے سامنے چیونٹی۔مگر ان دو کم عمر مجاہدین نے ابو جہل کی دونوںآنکھوں پر تاک کر ایسا نشانہ مارا کہ خاک و خون میں تڑپنے لگا۔ آخر کار عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اس کا سر تن سے جدا کیا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کے قدموں میں لاکر ڈالا۔ سوال یہ ہے کہ ان بچوں کے اندر نیزہ اٹھانے کی طاقت کہاں سے آئی…؟ ابو جہل کو جان سے مارنے کا حوصلہ کہاں سے آیا؟ دراصل یہ وہ ملکوتی توانائی ہے جو اللہ تعالیٰ نے ان کے اندر بجلی کی طرح بھر دی اور اسلام کے سب سے قوی ، جری اور ظالم دشمن کو بے بس اور ناتواں ہاتھوں سے ہلاک کروایا۔ اور جیسا کہ پہلے بیان کیا گیا آپ صلی اللہ علیہ و سلم اپنے جاں نثار صحابہ کے ہمراہ 02 ھ میں رمضان کی 16 تاریخ کو مدینے سے بدر کے لیے روانہ ہوئے، دوسرے روز یعنی17 رمضان کو حق و باطل کے درمیان فیصلہ کن جنگ ہوئی، جس میں اللہ تعالیٰ کی استعانت سے حق حق کے ساتھ اور باطل باطل کے ساتھ ثابت ہوا۔ حق کی جیت نے کفر اور شرک کو جڑ سے کاٹ کر پھینک دیا۔ غزوہ بدر تاریخ کی ایک سچائی ہے، جسے کوئی جھٹلا نہیں سکتا۔ اسلام کا حقیقی عروج اسی غزوہ سے شروع ہوا۔کیوں کہ حق و باطل کے اس معرکے میں کافروں اور مشرکوں کو شکست دینے کے بعد مسلمان محض جلاوطن اور خانماں برباد مہا جر نہیں تھے بلکہ ان کے پاس ایک آزاد ریاست تھی اور وہ ایک زندہ اور آزاد قوم کی مانند مدینے میں رہ رہے تھے۔ رمضان المبارک کی اہمیت کا اندازہ غزوہ بدر کے کے اس بے مثال تاریخی واقعے سے لگائیے کہ اللہ تعالیٰ نے اس ماہ مبارک میں نوع انسانی کے لیے صرف دستورِحیات ہی نازل نہیں فرمایا بلکہ اسی ماہ مکرم میں حق و باطل کے درمیان فرق کو بھی واضع کردیا۔ اور امت مسلمہ کو یہ پیغام دیا کہ فتح و کامرانی کے لئے سامان و وسائل نہیںبلکہ جذبہ ایمانی کا ہونا ضروری ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں