غزوہ بدر ،،،مفتی محمد ادریس المدنی

پیارے پیغمبر ﷺ اورصحابہ اکرا م ہجرت کر کے مدینہ شریف تشریف لے آئے تو مشرکین مکہ نے پیا رے پیغمبر ﷺ کا پیچھا نہ چھوڑا ۔کرز بن جا برمکہ سے آکرمدینہ میں مسلمانوں کی چراگاہ پر حملہ آور ہوااور مسلمانوں کے مال مویشی چورا کرلے گیا ۔مکہ والوں کی یہ ایک بہت بڑی جرا¿ت تھی کہ مسلمانوں تم ہم سے اتنی دور تین سومیل دور جاکر بیٹھ گے ہولیکن ہماری شرارتو ں سے محفوظ نہیں ہو ۔اُ ن کی اس کا ر وائی کا جو اب دینا ضروری تھا تاکہ وہ مزیدایسی شرارتوں سے باز رہیں ۔ آپ ﷺ کو خبر ملی کہ مشر کین مکہ کا ایک قافلہ شام گیا ہے جو واپس لوٹ رہا ہے۔آپ ﷺ کے حکم پرصحابہ مشرکین مکہ کے قافلہ کی خبر گیری کے لیے نکلے، ا بو سفیان اس قافلہ کاسردار تھااس نے خطرہ محسوس کرکے ایک تیز رفتار آدمی مکہ بھیج دیا کہ انہیں بتاﺅ کہ تمہارا قافلہ لٹنے والا ہے اسے بچانے نکلو،مشرکین مکہ نکل پڑے،ادھر سے ابو سفیا ن ساحل کے قریب قریب دوسراراستہ اختیارکرکے قافلہ لے کر نکل گیا۔ راستہ میںابو سفیان نے مشرکین مکہ کوپیغام بھیج دیاکہ قافلہ محفوظ نکل آیا ہے اب آپ واپس مکہ آجائیں ۔مشرکین نے مشاورت کی تو کچھ لوگ کہنے لگے کہ واپس چلے جا تے ہیں قافلہ بچ کے آگیا ہے لیکن ابو جہل کہنے لگا کہ نہیں ایسے نہیں بلکہ ہم تو بد رکے مقام پر جائیں گے وہا ں تین دن ٹھریںگے اُونٹوں کو ذبح کرکے ان کا گوشت کھائےں گے ،گانے والیوں کے گانے سنےں گے ،ناچ دیکھیں گے،شراب کے جا م اڑائیںگے اور پورے عرب کو بتادیں گے کہ اگرآئندہ کسی نے مکہ والوں کا قافلہ روکا توہم اس کا دفاع کر نا جا نتے ہیں۔
پیا رے پیغمبر ﷺکو بھی اس کی خبر ملی کہ مکہ والوںکا لشکر آرہاہے آپ ﷺ نے صحابہ سے مشاورت کی مہاجرین نے پورا پورا یقین دلایا کہ اللہ کے رسول آپ جو حکم کر یں گے ہم آپ کے حکم کے مطابق عمل کر تے ہوئے بہادری کے جوہر دکھائیں گے ہم آپ سے اس طرح نہیں کہیں گے جس طرح سے بنی اسرائیل نے موسیٰ علیہ اسلام سے کہاتھاکہ ”اے موسی آپ جائیں اورآپ کا رب جا کرقتال کریں ہم تو یہاں بیٹھے ہوئے ہیں۔“ بلکہ ہم آپ کے حکم پر چلیں گے لڑیں گے۔
نبی ﷺنے یہ باتیں سن کر مزید مشورہ طلب کیا حصرت سعد بن معاذؓ کھڑے ہوئے اور کہنے لگے کہ ”اے اللہ کے رسولﷺ شاید آپ ہماری(انصارکی) را ئے لینا چاہتے ہیں ،ہم نے آپ کی دعوت کو قبول کیا آپ کو نبی مان کرآپ پر ایمان لائے ہیں ،ان شااللہ آپ کے حکم کے مطابق عمل کریں گے ہم تلواروں کے جوہر دیکھائےں گے آپ کی آنکھوں کو ٹھندا کر دیں گے آپ کے حکم پر ہم پہاڑوں سے ٹکراجائےں گے سمندروں میں چھلانگیں لگادیں گے۔نبی اکرم ﷺ نے یہ سن کر صحابہ کومیدان بدر کی طرف چلنے کاحکم دیا۔ آپ ﷺ اور صحابہ کرام بدر کے مقام پر پہنچ گے مشرکین مکہ نے بھی میدان بدر میں آکر پڑاﺅ کر لیا۔صحابہ نے مکہ والوں کے دوآدمیوں کو گر فتارکرکے ان سے معلومات لیں کہ ”تمہارے لشکرکی تعدادکتنی ہے؟“ انہوں نے کہا کہ ”تعداد کا تو ہمیں علم نہیںہے۔“ پیا رے پیغمبرﷺ نے پوچھا کہ ”کتنے اونٹ ذبح کر تے ہو؟“انہوں نے کہا ”کبھی 9 ذبح کر تے ہیں یاکبھی10 کر تے ہیں۔“آپ ﷺنے فر مایا کہ یہ قوم 9سو سے لے کر ایک ہزار کے درمیان ہے۔
بدر میں صحابہ کرام نے ایک چھپر بنایاجہاں نبی اکرم ﷺ رات بھرکھڑے ہوکردعاکرتے رہے کہ”اے اللہ!تو ہمیں فتح عطافرما۔اے اللہ!جو تو نے ہم سے وعدہ کیا ہے وہ پو را فر ما۔اللہ رب العزت سے گریہ زاری سے دعا کر تے آپﷺ کے کندھے سے کپڑا گرگیاحضرت ابوبکر صدیقؓ نے وہ کپڑاٹھاکر آپﷺ کے کندھے پر رکھا اور فرمایا اللہ کے رسول بس بس اللہ تعالیٰ نے آپ کی دعا قبول فر ما لی ہے
آپ ﷺنے فر ما یا ابو بکرؓ یہ جبریل امین ہے اور اللہ رب العزت نے تمہاری مد د کے لیے یہ فرشتے نازل کر دیے ہیں۔
سترہ رمضان سنہ 2ہجری بدر کے مقام پر دونوں جماعتیں آمنے سامنے ہوئیں۔پہلی جنگوں کے اصول کے مطابق کفار کی صفوں سے عتبہ شیبہ اور ولید سامنے آئے،انہوں نے مسلمانوں کو مقابلے کے لئے للکارا توفوراََانصار کے تین جوان نکلے مکہ والے کہنے لگے ” تم کو ن ہو ؟“ تو انہوں کے کہا ”ہم انصاری جوان ہیں۔“ مکہ والے بڑے تکبروغرور میں تھے کہنے لگے ”ہمیں تمہا رے سا تھ مقابلے کی ضرورت نہیں اورکہنے لگے اے محمدﷺ ہمارے مقابلے کے لیے ہماری ہی قوم و قبیلے کے بندے جو ہمارے ہم پلہ ہو ان کو نکا لو“
آپ ﷺنے یہ بات سنتے ہی فر ما یا”حمزہؓ کھڑے ہوں علیؓاور عبیدہؓ آپ بھی کھڑے ہو جائےں یوںیہ تینوں اسلام کے جری جوان کھڑے ہوئے اور مید ان میں اترے مکہ والے ان کو جانتے تھے پھر بھی تکبر کے انداز میں پوچھا کہ تم کو ن ہو ؟انہوں نے اپنا تعا رف کر وا یا تو مکہ والے کہنے لگے کہ تم ہمارے ہم پلا ہوتمہارے ساتھ مقابلہ ہو گا مقابلہ شروع ہواتو لمحہ بھرمیں ہی مسلمانوں نے اپنے مدمقابل تینوں کافروںکی گردنیں اڑادیں۔
جب کافروں نے دیکھاکہ ہمارے تینوں جری جوان ڈھیڑ ہوگئے ہیں تو انہوں نے مسلمانوں پر یکبارگی حملہ کر دیا، ادھر اللہ کے بنی ﷺ نے بھی صحابہ کوحکم دے دیا کہ ان کا مقا بلہ کر و۔
مقابلہ شروع ہواشیطان جو سراقہ بن مالک مدلجی کی شکل میں آکرمشرکین مکہ کوکہہ رہا تھا کہ ”میں آپ کے ساتھ ہوں آج تم پر کو ئی غالب نہیںآسکتااس نے جب جبرئیل امین کودیکھاتو دوڑ لگادی حارث نے اسے پکڑا ور کہنے لگا ”او سراقہ! او سراقہ! کہاں جا رہے ہو؟“ شیطان کہنے لگا ” حارث! میں آج وہ دیکھ رہا ہوںجوتمہیں نظر نہیں آرہا“ اورساتھ ہی حارث کومکا مارکرخودکو چھڑوا کر بھاگ گیا اور جا کر اپنے آپ کو سمندر ڈال دیا۔
مکہ والوں نے یہ منظر دیکھاتو ابو جہل اور اسکے ساتھی کہنے لگے ”او مکہ والو! سراقہ مدلجی کا بھاگ جانا تم کو بزدل نہ بنادے یہ تو پہلے ہی محمد ﷺسے ملا ہوا تھا کہ میں ایسا کروں گااور مکہ والوں کے دل ٹوٹ جا ئیں گے“ تو تم ڈٹ کر مقابلہ کرو۔
نبی علیہ اسلام اپنے صحابہ کو لڑائی پرابھارتے ہوئے فرماتے ہیں”میرے صحابہ یہ سامنے جنت ہے جس کی چوڑائی زمین وآسمان کے برابرہے اسکی طر ف بڑھو۔حضرت عمیررضی اللہ تعالی عنہ یہ سن کر واہ واہ کہنے لگے نبی علیہ اسلام نے پوچھا اے عمیرآپ کو واہ واہ پر کس بات نے ابھارا ہے ۔انہوں نے کہا اللہ کے رسول ﷺ جنت کے شوق نے مجھے اس بات پر ابھاراہے تو انہوں نے اپنے پلو سے چند کھجورےں نکالی اورکھاناشروع کر دی پھر خیال آیا کہ میں یہ دنیاکی کھجوریں کھا تارہا تو جنت جانے سے لیٹ ہو جا ﺅں گا۔ کھجوریں اپنے دوستوں کی طر ف پھنکیں اورکہا یہ لو کھاﺅ اورخودکافروںکے ہجوم میں گھس کران کو قتل کر تے کر تے شھادت پاکر اللہ کی جنتوں کے مہمان بن گئے۔
عبدالرحمان بن عوفؓ بیان کر تے ہیں جب صفےں درست ہوئیں تومیں نے دیکھا میر ے دائیںاوربائیں دوبچے ہیں،جن کی عمریں پختہ نہیں ہیں میںنے سوچاکہ یہ بچے کیا لڑائی کریں گے کہ اتنے میں ایک بچے نے سرگوشی میں پوچھا”چاچا جی ابو جھل کہاں ہے؟“ میں نے پوچھا ابو جھل سے آپ کا کیا مقصد ہےِ؟ وہ بچہ کہنے لگا کہ ابو جہل ہمارے نبی ﷺ کا گستاخ ہے اور آپ ﷺ کو گالیاں دیتا ہے میں نے عزم کیا ہے کہ آج ابو جہل کو زندہ نہیں چھوڑںگا۔ عبدالرحمن بن عوفؓ کہتے ہیں میںنے ابھی اسے جو اب نہیں دیا تھا کہ دوسرے بچے نے بھی یہی سوال کیاکہ ”چاچاجی ابو جہل کہاں ہے؟“ ابو جہل کے سامنے آتے ہی میں نے دونوں کواشارہ کیاکہ بیٹا وہ ابو جہل ہے تو میر ے دیکھتے ہی دیکھتے آناََفاناََدونوں بچوں نے بھاگ کر اس پر یک بار حملہ کیا تو ابو جہل وہا ں ڈھیڑ ہوگیا۔پھریہ دونوں بچے پیا رے پیغمبر ﷺکے پا س آئے اور کہنے لگے اللہ کے رسول ﷺ ہم نے ابو جہل کو قتل کردیاہے۔آپ ﷺ نے پوچھا کہ کس نے قتل کیا ہے؟ ایک کہنے لگا اللہ کے رسولﷺ میں نے قتل کیاتودوسرا کہنے لگا اللہ کے رسول ﷺ میں نے قتل کیا ہے۔
پیا رے پیغمبر ﷺ پو چھتے ہےں کیا آ پ نے اپنے تلواروں کو دھویا تونہیں ؟کہنے لگے نہیں تو آپ ﷺ نے خود دیکھاتودونوں کی تلوارےں خون آلودتھی ۔آپ ﷺ دونوں بچو ں کا دل بڑھاتے ہیں اور کہتے ہیں”شاباش! آپ دونوں نے ہی ابوجہل کو قتل کیا ہے۔“
اللہ رب العزت نے بدر کے مقام پرکئی طرح سے مدد نازل کی صحابہ بیان کر تے ہیں کہ ”ہم ایک دشمن کو قتل کر نے کے لیے بھاگتے توعجب منظردیکھتے تھے کہ ہماری تلوار کافر کی گردن تک پہنچتی بھی نہیں تھی کہ وہ کا فر کٹ کرمرجاتاتھا۔ہم نے یہ واقعہ آپﷺ سے بیان فر مایا تو پیا رے پیغمبر ﷺ نے فرمایایہ وہ مددتھی جواللہ رب العزت نے آسمانوں سے نازل کی تھی۔
دوران جنگ عکاشہ بن محصن رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی تلوار ٹوٹ جا تی ہے وہ اللہ کے رسولﷺ سے کہتے ہیں کہ میری تلوار ٹوٹ گئی ہے۔ اللہ اکبر! مسلمانوں کی بے سامانی کا یہ حال کہ کوئی ایک تلوار بھی اضافی نہیں ہے جو نبی ﷺ اپنے صحابی کے ہا تھ میں تھمادےںکہ یہ لواس تلوارسے مقابلہ کر و۔آپ ﷺ اپنے صحابی کوایک چھڑی تھماتے ہیںکہ اے عکاشہؓ اس چھڑی سے کا فروں کا مقابلہ کرو۔ سیدناعکاشہ ؓیہ نہیں کہتے کہ اللہ کے رسول ﷺ ایک طرف نیزے ہیںتلواریں ہیں تیرہیں ہر طرف جنگی سامان ہے تو میں اس چھڑی سے ان کامقابلہ کیسے کر ونگا؟ بلکہ آپؓ اسی چھڑی کے ساتھ میدان جنگ میں کود گئے پھر عکاشہؓ بیان کر تے ہیں جب میںکافر کو مارنے لگا تو اللہ رب العزت نے اسی چھڑی کو لمبی تلور میں بدل دیااور میں اسی سے کا فروںکا مقابلہ کر تا رہاحتی کہ یہ تلوار سیدناعکا شہؓکے پاس ہمیشہ رہی اور وہ اسی تلوار کے ذرےعے لڑائی کرتے رہے۔
سیدنابلال رضی اللہ تعالیٰ عنہ پرامیہ بڑاظلم کیاکر تا تھا توآپ ؓ میدان جنگ میں امیہ کے پیچھے لگے ہوئے تھے بلالؓکہنے لگے اے انصار یہ امیہ ہے جو میر ے اوپربڑے ظلم وستم کر تا تھا اگر آج یہ زندہ رہ گیا تو بلال کا زندہ رہناکسی کام کا نہیں ہے۔آﺅ میر ی مد د کے لیے اس امیہ کو قتل کر ناہے سیدناعبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ اور امیہ کی دورجاہلیت میں دوستی تھی۔ سیدنا عبدالرحمن بن عوف ؓ بیان کر تے ہیں میںنے چاہا کہ میں امیہ کو قیدی بنالوں لیکن بلالؓ امیہ پر جھپٹے اور کہا عبدالرحمنؓ پیچھے ہٹ جاﺅ اللہ نے آج مو قعہ دیا ہے ہم اپنے سینوں کو ٹھنڈا کر لیں آج میں اسے زندہ نہیں چھوڑوںگا۔ عبدالرحمن بن عوف ؓامیہ کو بچانے کے لئے اس کے اوپرلیٹ گئے تو بلالؓنیچے سے امیہ کو تلواریں مارکرقتل کر دیتے ہیں۔
چند ہی لمحوں میں مشرکین مکہ میدان چھوڑ کربھاگ گئے ستر قتل ہوگئے اور ستر گرفتار کرلئے گئے اور14مسلمان شھید ہوئے یوں اللہ رب العزت نے مسلمانوں کو عظیم فتح عطا فرمائی۔
مشرکین مکہ نے جس طرح مسلمانوں پر ظلم وستم کے پہاڑ ڈھائے تھے آج اسی طرح ہندو مقبوضہ جموںکشمیر میں مسلمانوں پر ظلم و ستم کر رہے ہیں اور فلسطین میں یہودی مسلمانوں پر ظلم وستم کر رہے ہیں۔
اگرآج بھی ہمارے اندربدریوں جیسا ایمان آجائے تو یہ گائے کے پجاری کوئی چیز نہیں ہیں ۔جس طرح مسلمانوں نے بدر کے اندر کافر وں کو قتل کرکے اپنے دل ٹھندے کئے تھے ان شاءاللہ اب وقت آرہاہے کہ اسلام کو اللہ غلبہ عطاءفرمائے گااور موقع دے گاکہ مسلمان اسلام کے دشمنوں کو تباہ وبرباد کریں گے۔
اللہ کے حکم کے مطابق دشمنوں کی گر دنیں کا ٹیں گے ان کے جوڑ جوڑ کاٹےں گے۔پس ہمارا حق ہے کہ ہم اللہ کے راستے میں اس کے حکم کےمطابق ” تم ہلکے ہو بوجھل ہو تمہارے جو بھی حالات ہیں تم اللہ کے راستے میں میدانوں میں نکلو،جہاد کی تیاری کرو اللہ رب العزت ان شاءاللہ آپ کو غلبہ عطاءفرمائے گا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں