پانچ سالہ دور میں ووٹ کی عزت!۔۔۔الطاف شکور

 موجودہ قومی اورچاروں صوبائی اسمبلیاں اپنی مدت معیاد پوری کرچکی ہیں۔ ایسا پاکستان میں تیسری مرتبہ ہواہے جبکہ اسمبلیوں نے اپنی مدت معیاد پوری کی ہے جو کہ یقینا خوش آئند ہے ۔مگر سوال پیدا ہوتا ہے کہ تین مرتبہ اسمبلیوں کی مدت معیاد پوری ہونے سے عوام کو کیا ملا؟ ایک عام شہری کی زندگی میں کتنی آسانیاں پیدا ہوئیں؟ بدقسمتی سے کہنا پڑتا ہے کہ عام آدمی پہلے سے زیادہ ”عام آدمی“ بن گیا ! کیوں؟ تو اب اس کا جواب ”عام آدمی“ کو ہی تلاش کرنا ہے کہ اس نے 2002 ئ، 2008 ءاور 2013 ءکے اتنخابات میں جن سیاسی جماعتوں کے امیدواروں پر اعتماد کرکے انہیں اسمبلیوں میں اپنی نمائندگی کیلئے بھیجا تھا کیا انہوں نے ” پانچ سالہ دورحکومت میں ووٹ کی عزت“ کی ؟سابقہ حکومتوں کے کتنے وزراءملک سے فرار ہوچکے ہیں اور موجودہ حکومت کے کتنے لوگ احتساب کے عمل سے بچنے کیلئے مفرور ہیں؟
جمہوریت کا تسلسل آمریت کی راہ کو ہمیشہ کیلئے مسدود کرسکتا ہے لیکن اس کےلئے ضروری ہے کہ جمہوری حکومتیں عوام کو ریلیف فراہم کریں اور عوام سے کئے گئے وعدے پورے کریںمگر بدقسمتی سے گذشتہ 15 سالہ جمہوری دور میں ایسا نہیں ہوا ہے جس کی وجہ ملک میں احتساب کے عمل کا کمزورترہونا ہے۔جن پر ملک کے اربوں ڈالر لوٹنے کے الزامات ہیں وہ دھڑلے سے سیاست کررہے ہیںجبکہ عوام بے چینی سے نواز شریف کے بعد دیگر کرپٹ سیاستدانوں کے خلاف احتساب کا عمل شروع ہونے کے منتظر ہیں تاکہ آئندہ عام انتخابات کے نتیجے میں کرپٹ نہیں بلکہ دیانتدارامیدوار انتخابات میں حصہ لے سکیں اور عوام اپنا حق رائے دہی صحیح طریقہ سے استعمال کرسکیں۔
اگر ہم وفاقی اور صوبائی سطح پر حکومتوں کی پانچ سالہ کارکردگی کا جائزہ لیں تو ن لیگ یا نواز حکومت کی سب سے بڑی ناکامی قوم کی بیٹی ڈاکٹر عافیہ صدیقی کو ”100 دن“ میں وطن واپس لانے کا وعدہ پورا نہ کرنا ہے۔ مشرف نے بیٹی فروشی کا جو داغ اس قوم پر لگایا ہے ، آمریت کے اس شرمناک داغ کو پیپلزپارٹی کے جمہوری دور میں دھویا جانا ضروری تھا مگر بدقسمتی سے عافیہ کو ناانصافی پر مبنی 86 سالہ سزا پیپلزپارٹی کے دور حکومت میں ہی سنائی گئی تھی۔نوازشریف نے ڈاکٹر عافیہ کی والدہ سے 100دن میں ان کی بیٹی کو واپس لانے کا وعدہ کیا تھا۔ پاکستانی سیاست کی ڈھٹائی کی انتہا ہے کہ وہی نواز شریف 2013 ءکی انتخابی مہم کے وعدوں اور اپنی کرپشن کا حساب دینے کی بجائے قوم کو اگلے الیکشن میں ”ووٹ کو عزت دو“ کا نعرہ دے کردوبارہ ووٹ مانگ رہے ہیں۔اگر مسلم لیگ ن کے پانچ سالہ دور حکومت کا جائزہ لیا جائے تو بھاری مالیت کے بیرونی قرضوں ، آئی ایم ایف اور ورلڈ بینک سے لئے گئے قرضوں پر بھاری سود کی ادائیگی ن لیگ کی پانچ سالہ مدت پوری کرنے والی حکومت کی بدترین نااہلی ہے۔ حکمران عوام کو قرضوں کے بھاری بوجھ تلے دبا کر اب راہ فرار اختیار کررہے ہیں۔ 1947ءسے 2013ءتک 65برسوں میں سابقہ حکومتوں نے 40ارب ڈالر کے غیر ملکی قرضے لئے تھے جبکہ2013 ءسے 2018 ءتک ن لیگ کی حکومت نے 50ارب ڈالر کے قرضے لے کر ہر شہری کو لاکھوں روپے کا مقروض بنادیا ہے ۔ قرض اتارو ملک سنواروکے نام پر کھربوں روپے کی جمع کردہ رقم کہاں گئی ؟یہ جاننا عوام کا حق ہے۔
جب بھی احتساب کا عمل شروع کیا جاتا ہے۔کرپٹ سیاستدانوں کو جمہوریت خطرے میں نظر آنے لگتی ہے ۔ پاکستان کے گردشی قرضے بھی ایک کھرب روپے تک جا پہنچے ہیں۔ مگر حکمران ملکی خزانے سے چوری شدہ دولت واپس کرنے کو تیار نہیں اور احتساب کا عمل اس قدر سست رفتاری سے چل رہا ہے کہ اس کی کامیابی پر شکوک و شبہات جنم لینے لگے ہیں۔جن پر اربوں روپوں کی کرپشن کا الزام ہے کیا وہ 2018 ءکے الیکشن میں حصہ لے کر دوبارہ اسمبلیوں کا حصہ بن جائیں گے اور اتحاد بنا کر اقتدار کے مزے لوٹیں گے؟حکومتی اداروں نے اپنے وسائل میں اضافہ اور مزید آمدنی پیدا کرنے کے بجائے زیادہ سے زیادہ غیر ملکی قرضوں پر انحصار کیا ہے جو ملکی معیشت اور قوم کے مستقبل کے لئے تباہ کن ثابت ہورہی ہے ۔ غیر ملکی قرضوں سے عوام کو کوئی فائدہ نہیں پہنچا ہے بلکہ یہ زیادہ تر حکمرانوں کی سہولتوں اور عیاشیوں میں خرچ ہوئے ہیں ۔عوام پران بھاری قرضوں کی ایک پائی بھی خرچ نہیں کی گئی مگر ان قرضوں کی ادائیگی عوام پر بالواسطہ اور بلاواسطہ بھاری ٹیکسوں کی وصولی کے ذریعے جاری ہے۔
اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے مطابق پچھلے پانچ سالوں میں 44ارب ڈالر کے غیر ملکی قرضوں کے باوجود عام آدمی کی معاشی حالت میں کوئی بہتر ی نہیں آئی ۔ ملک کی معیشت بڑے شہروں کی ترقی سے پیوستہ ہے ۔کراچی اور لاہور دونوں ملک کے بڑے شہر ہیں۔ لاہور کے حکمران اپنا اور اپنے اہلخانہ کا علاج کرانے لندن اور اپنے بچوں کو تعلیم کیلئے یورپ اور امریکہ بھیجتے ہیں۔خود منرل واٹر پیتے ہیں مگر پینے کا صاف پانی اہل پنجاب کومیسر نہیں ہے۔ بجلی اور گیس کی لوڈشیڈنگ کا عذاب پورا پاکستان بھگت رہا ہے جبکہ حکمران لوڈ شیڈنگ ختم کرنے کے دعوے کرکے عوام کے ووٹوں کا مذاق اڑارہے ہیں ۔ لاہور کے حکمرانوں نے کچھ سڑکیں ، پل، میٹرو بسیں اور اورنج ٹرینیں چلا کر بظاہر ”ترقی کی تصویر“ فریم کرکے لٹکادی ہے مگر جدید شہری ترقی کے لحاظ سے سندھ کے حکمرانوں نے کراچی، حیدرآباد اور دیگر شہروں کو مسلسل نظر انداز کیا ہے ۔
کراچی اور سندھ کے دیگر بڑے شہر بدعنوانی اور لوٹ مار کلچر کی وجہ سے موہنجو ڈرو کا منظر پیش کررہے ہیں ۔پاسبان نے کراچی شہر کو میگا سٹی کا آئینی درجہ دینے کا مطالبہ کیا ہے،جبکہ کچھ لوگ نئے صوبے کی باتیں کررہے ہیں جس میں عوام کے جذبات سے کھیل کر ووٹ حاصل کرنے کے علاوہ کوئی اور مقصد کارفرما نظر نہیں آرہا ہے۔ کراچی کو میگا سٹی بنانے کے لئے آئینی ترمیم ضروری ہے لیکن وڈیرہ شاہی اور لٹیرا شاہی سے لبالب بھری ہوئی سیاسی جماعتوں کو عوام کے مفادات سے کوئی دلچسپی نہیں ۔کراچی میں عوام کے پاس نہ تو بنیادی حقوق ہیں اور نہ ہی تعلیم، صحت، ٹرانسپورٹ ،سڑکیں اور بجلی و پانی کی سہولتیں ۔ پنجاب کے حکمرانوں نے لاہور کو اپ گریڈ کیا ہے ، لاہور کے شہری گرین بسوں اور اورنج ٹرین سے لطف اندوز ہورہے ہیں جبکہ سندھ حکومت نے کراچی کے شہریوں کو ”چنگ چی رکشوں“ کا متبادل چھکڑا پبلک ٹرانسپورٹ سسٹم دیا ہے اور وہ ابھی تک کراچی سرکولر ریلوے کو بحال کرنے میں ناکام رہی ہے ۔ بڑے پیمانے پر بے روزگاری ختم کرنے کے لئے دہلی ،ممبئی صنعتی کوریڈور کی شکل پر کراچی ،حیدرآباد اقتصادی کوریڈور بنائے جانے کی ضرورت ہے اس کیلئے کراچی سے کیٹی بندر تک بڑی سڑک تعمیر کی جانی چاہئے ۔قدرت نے سندھ کو کراچی شہر ایک نعمت کے طور پر عطا کیا ہے جو کہ پاکستان کا معاشی حب ہے جس سے تینوں صوبے محروم ہیں۔اگر صوبائی حکومت ٹھوس کار کردگی دکھاتی تو صوبہ سندھ میں کوئی بھی شخص بے روزگا نہ رہتا۔کراچی کے ہر بڑے ٹاﺅن میں کم سے کم ایک یونیورسٹی اور ایک تدریسی ہسپتال ہونا چاہئے ۔کراچی میں حکومت کی آمدن کے بے شمار مواقع موجود ہیں مگر یہ تمام مواقع کرپٹ صوبائی اوربلدیاتی حکومتوں اور سرکاری افسران و ملازمین کی جیبیں بھرنے کا ذریعے بن جاتے ہیں اور عوام 70 سال کے بعد بھی بنیادی شہری سہولتوں اور حقوق سے محروم ہیں۔ میگا سٹی کے قیام سے نہ صرف کراچی کے شہریوں کی بہترین خدمت ہوسکے گی بلکہ بین الاقوامی سیاحت کو بھی فروغ ملے گا ۔2018 ءکے عام انتخابات دراصل پاکستان کے عوام کا امتحان ہے اور ان انتخابات کا سب اہم پہلو یہ ہے کہ ”کیا عوام نے گذشتہ تین ا نتخابات کے تجربہ سے اپنے ”ووٹ کی عزت“ کا اندازہ لگا لیا ہے یا نہیں؟ “۔

اپنا تبصرہ بھیجیں